لفظوں کو لکھنا نہیں تخلیق کرنا سیکھو

(Erum Shafiq, )

جشن آزادی کی آمد آمد تھی ہر طرف گہماگہمی تھی برقی قمقموں سے جھلملاتے مکانات خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھامے نوجوان گھروں کو سجانے میں مصروف تھے چاروں اطراف بھرپور چہل پہل اور خوب رونق تھی لیکن میں تو دنیا و مافیا سے بے خبر اپنے حجرے میں موجود گہرے مطالعے میں مشغول تھی کیا تحریر تھی۔کیا الفاظ کا چناو تھا؟الفاظ میں روانی ایسی کہ گویا تھم کہ ہی نہ دے اور ٹھہراو ، ایسا کہ جیسے سمندر کی سی گہری خاموشی وہ شخص کمال لکھتا تھا ہر ہر حرف جیسے اپنی الگ داستان رکھتا ہو الفاظ تو گویا موتیوں میں پروو ہوئے تھے اکثر جب میں اسے پڑھتی تو یہ ہی سوچا کرتی تھی کہ اسے سپاہی نہیں صرف لکھاری ہونا چاہیے تھا صرف لکھاری وہ جیسے لکھنے کیلئے ہی پیدا کیا گیا ہو مجھے عشق تھا اسکے لفظوں سے بلا کا عشق ،لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ہر کہانی کے پیچھے ایک درد بھری داستان چھپی ہوتی ہے ہاں اسکی بھی داستان کچھ ایسی ہی ہوگی کرب سے بھرپوردرد سے مزین اس بار اسکا کالم ہاتھوں میں لیے میں یہ ہی سوچ رہی تھی آخر یہ شخص سوچتا کیا ہے؟

کیا ہم ایک لکھاری کی سوچ کا تعاقب کرسکتے ہیں؟ کیا اسکے تخیل کہ قرب و جوار تک بھی ہماری رسائی ممکن ہے؟ کیا ہم تصور میں بھی یہ گمان کرسکتے ہیں کی ایک لکھاری جو لکھتا ہے کیا وہ اسی کہ جذبات ہیں؟ عشق کی داستان ہو یاکوئی ادبی مراسلہ۔ سیاسی افکار ہوں یا کوئی افسانوی داستان۔ کیا اسکا تعلق لکھاری کی نجی زندگی سے ہوتا ہے؟ضروری تو نہیں؟ میں سمجھتی ہوں ایک لکھاری کو ہر موضوع پر لکھنے کی دسترس حاصل ہونی چاہیے وہ جب کسی افسانوی داستان کو قلمبند کرے تو قاری اس کا مطالعہ کرتے ہوئے خود کو بھی اس افسانے کا کردار محسوس کرے وہ جب کوئی رومانوی داستان تحریر کرے تو اس داستان کا مطالعہ کرنے والی دوشیزہ خود کو بھی اسی داستان کی وہ ہی شہزادی تصور کرے جو اس داستان کا مرکزی کردار ہوا کرتی ہے اور جب کوئی تاریخی سفر نامے کو قلمبند کرے توسفر نامے کا مطالعہ کرنے والا قاری بھی خود کو اسی سفر نامے کا مسافر تصور کرے ایک قلم نگار ہمہ وقت ایک افسانہ نگار ٗ مضمون نویس ٗ تاریخ نگار اور ناول نگار ہونا چاہیے لیکن جس موصوف کا کالم میں ہاتھوں میں تھامے محو مطالعہ تھی وہ سچ میں ان تمام جہتوں سے ہم آہنگ تھا وہ بیک وقت ایک اچھا لکھاری ہی نہیں بلکہ ایک بہترین حکیم بھی تھا جو اپنی تحریری حکمتوں کو وقتاً فوقتاً اپنی تحریر میں جگہ دیتا تاکہ قاری نہ صرف ان حکمتوں کا مطالعہ کریں بلکہ اس سے مستفیدبھی ہوں وہ ایک جادو گر بھی تھا جسکی تحریر نے مجھے سچ میں اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا میں چاہ کر بھی اسکے لفظوں کہ سحر سے باہر نہ آسکی اور سچ تو یہ ہے مجھے تو اسکے لفظوں سے عشق ہے بلا کا عشق۔

میں بھی بلکل اسکی طرح لکھنا چاہتی تھی سچ کہوں تو آج تک میں نے اس شخص کا چہرہ تصویر کے علاوہ نہیں دیکھا کیوں کہ مجھے تو اسکے لفظوں سی عشق ہے اسکی تحریروں سے۔اسکی سبق آموذ داستانوں سے،اسکے انقلابی افسانوں سے ، ذہنوں کو بدل دینے والے اسکے حکیمانہ سطروں سے۔ عشق میں ناکام ہونے کہ باوجود بھی عشق کو امر کرتی اسکی رومانوی داستانوں سے شاہی محل میں راج کرتی اس حسین شہزادی کہ کردار سے جسے کہانی کہ اختتام تک اس شہزادے کا انتظار رہتا ہے جو اسے سفید گھوڑے پر بیٹھ کر پورے فیری لینڈ کی سیر کروائے مجھے ہر اس کردار سے محبت ہے جو اگرچہ من گھرٹ ہوں لیکن اس انداز میں قلمبند کیے گئے ہوں کہ پڑھنے والے پر حقیقت کا گمان ہو

یہ تمام خصوصیات اس شخص کی تحریر میں موجود تھی جب ہی تو مجھے اسکہ لفظوں سے عشق ہوا۔میں بھی تو بلکل اسکی طرح بننا چاہتی ہوں ایک اچھا ہی نہیں ایک سچا لکھاری جو اگر جھو ٹ بھی لکھے تو سچ کا گمان ہو میں جانتی ہوں لفظ صرف لکھے ہی نہیں جاتے تخلیق بھی کیے جاتے ہیں مجھے یاد ہے آج سے کچھ ماہ پہلے میں نے ایک کالم لکھا جسکا موضوع تھا عشق، میرے ایک قاری نے جو اس کالم کا مطالعہ کر چکے مجھ سے سوال کیا۔۔عنوان ہی عشق ہے تو ضرور زندگی میں کبھی تو آپ نے عشق بھی کیا ہوگا میں نے کہا ضروری نہیں کہ ایک لکھاری جس موضوع پر لکھے وہ اسکی آپ بیتی ہو محبت لکھ دینے سی ضروری تو نہیں کہ محبت ہو بھی جائے لیکن آپ نے اس انداز سے لکھا مجھے لگا یہ آپ کی اپنی داستان ہو گی۔ آخر ایک لکھاری جو سوچتاہے جو کچھ اس کہ قرب و جوار میں رونما ہوتا ہے وہ وہی تو وہ لکھتا ہے۔ میں نے کہا بلکل لیکن ضروری نہیں جو سوچا جائے اسکا تعلق قلمنگار کی نجی زندگی سے بھی ہو لیکن آپ نے جس انداز میں لکھا مجھے تو یہی لگا کہ یہ سب آپ کے ساتھ رونما ہوچکا وہ بضد تھے اپنی بات منوانے پر میں نے بھی کہ دیا ہاں یہ ہی تو میری کامیابی ہے۔ وہ کیسے؟ اسنے ایکبار پھر استفسار کیا، دیکھو ایک اچھا لکھاری جب کچھ لکھتا ہے تو اسے پڑھ کر قاری حقیقت کا گمان کرتے ہیں کہ اسکا کوئی تو تعلق ضرور ہے قلم نگار کی نجی زندگی سے تو بس یہی میری کامیابی ہے کہ میری وہ داستان جو عشق کہ نام سے شائع ہوئی اسکا میری نجی زندگی سے کوئی تعلق تو نہیں تھا ہاں لیکن پڑھنے والے مجھے اس داستان کا کردار تصور کرتے رہے میں نے لکھا عشق وہ سمجھے مجھے ہوگیامیں نے کہا نفرت ہے مجھے، انہیں لگا سچ میں،میں نے کہانی میں موجود شہزادی کہ کردار کو خوود سے تشبیہ دی وہ سمجھے میں سچ میں شہزادی ہو ں میں ایک معمولی عام سی شکل و صورت والی لڑکی بنے اپنی کہانی میں اپنے سلیقے اور شعار سے پورے گھر پر راج کرتی رہی یہ تھی میری تحریر کی خصوصیات میں ایک ایسی ہی لکھاری بننا چاہتی ہوں جو جب جیسا لکھے ویسا ہو بھی جائے کہا نہ میں ایک لکھاری ہوں میں لفظوں کو لکھتی نہیں تخلیق کرتی ہوں۔

آزادی کی آمد آمد ہے اس بار بھی میں کچھ ایسا لکھنا چاہتی ہوں جو سچ میں میری قوم کے نوجوانوں کے ذہنوں کو بدل دے وطن عزیز کا حصول جو ہزار قربانیوں کہ بعد ممکن ہوا خدا اسے ہر شر سے محفوظ فرمائے آج وطن عزیز کو ضرورت ہے ایسے ہی قلمنگاروں کی جو اقبال کہ افکار کہ حامل ہو ں جو صرف عشق ومحبت کی داستانوں کو قلمبند کرنے کی ہی نہیں بلکہ اقبال کی طرح جوانوں کے ذہنوں کو بدلنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہو ں،اچھا لکھنا بھی ایک جہاد ہے ہم بحیثیت کالم نگار نوجوانوں کہ ذہنوں کو بدل سکتے ہیں بس ضرورت اقبال کی طرح اپنی فکری اور اصلاحی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی ہے لفظوں کو لکھنا نہیں تخلیق کرنا سیکھو۔آو جشن آزادی کی مناسبت سے کچھ ایسا لکھیں کہ ذہن بدل جائیں غفلت میں سوئے ہوئی قوم پھر سے بیدار ہوجائے اقبال کہ افکار پھر سے زندہ ہوجائیں یہی قلم کاایک بہترین جہاد ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر لفظ بولتا ہے کیونکہ لفظ لکھے نہیں جاتے تخلیق کیے جاتے ہیں ں تو پھر آؤ ایک ایسی سوچ کو تخلیق کریں جو وطن عزیز کو اندھیروں کی مسافت سے نکال کر ایک ایسے سفرکی جانب روانہ کرے جہاں صرف امن ہو محبت ہو اور صرف محبت ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Erum Shafiq

Read More Articles by Erum Shafiq: 2 Articles with 817 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2018 Views: 466

Comments

آپ کی رائے