پروفیسر اعجاز حسین کی کتاب مختصر تاریخِ ادب اردو پر ایک نظر

(Ajai Malviya, India)

تاریخِ ادب اردو کی تحقیق، ترتیب اور تدوین کے ضمن میں کوئی حرفِ اوّل اور حرفِ آخر نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا کی بابت مزید نئی تحقیقات ہوتی رہتی ہیں اور اس کی انتہا کی بابت بھی نئی سے نئی تحقیقات ہوتی رہتی ہیں۔ اردو ادب کی تواریخ نویسی کے ضمن میں ڈاکٹر عبدالطیف صدیقی کی مختصر تواریخِ اردو انگریزی زبان میں سب سے پہلے 1920 میں دارالترجمہ جامعیہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآبادسے شائع ہوئی تھی۔ اس کے اردو میں کئی تراجم دستیاب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کی تاریخ ساز کتاب تاریخِ ادب اردو انگریزی زبان میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا اردو ترجمہ پٹنہ کے معتبر ترین مورّخ محمد حسن عسکری نے پہلی بار1929 میں ادارۂ کتاب الشفا، دریا گنج، دھلی سے شائع کیا تھا۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں دو جامع اور مانع ترین اردو ادب کی تواریخیں شائع ہو چکی ہیں، جو یادگارِ زمانہ ہیں۔ پہلی نایاب ترین کتاب کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نامور محقق و نقاد پروفیسر جمیل جالبی کی کتاب تاریخِ ادب اردو تین جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کتاب کی تیسری جلد 2007 میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دھلی سے شائع ہوئی ہے۔ جس کی قیمت آٹھ سو روپئے ہے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ قابلِ ذکر و فکر تواریخی کتاب پروفیسر وہاب اشرفی صاحب کی ہے۔ جو تین جلدوں میں شائع ہوئی ہے اور بیسویں صدی کے آخر سے لے کر اکیسویں صدی کی پہلی دہائی تک کے تمام تحقیقی، تنقیدی اور ادبی میلانات کا احاطہ کرتی ہے۔یہ سب سے زیادہupto date معارکہ آرأ ادبی تواریخ ہے۔

اس وسیع تر سیاق و سابق میں مختصر تاریخِ ادب اردو ایک قابلِِ مطالعہ کتاب ہے۔ یہ تحقیقی کتاب طلبہ اور اہلِ علم کے لیے افادی اور معلوماتی کتاب ہے۔ اس مختصر کوزے میں سمندر کو سمیٹ دیا گیا ہے۔ طلبہ کی ضرورت کے مدّ نظر پروفیسر اعجاز حسین صاحب نے اس علمی اور معلوماتی کاوش کو بخوبی انجام دیا ہے۔ اس کتاب کو سید محمد عقیل رضوی نے ترمیم و اضافے کے ساتھ 1984 الہ آباد سے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں اس کے بے شمار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اعجاز صاحب کی دانست میں اس کتاب کے گیارہ ایڈیشن شائع ہو چکے تھے۔ اس کا پہلا ایڈیشن تقریباً 1953 میں اعجاز حسین صاحب نے شائع کیا تھا۔ ’’ مختصر تاریخِ ادب اردو ‘‘ کا آخری ایڈیشن ادارہِ فروغ اردو لکھنؤ نے اعجاز حسین صاحب کی اجازت سے 1964 میں ترمیم کے ساتھ شائع کیا تھا۔ اعجاز حسین صاحب اس تعلیمی اور تدریسی کتاب کی خوبیوں اور برائیوں کے سلسلے میں ’’روداد‘‘ میں اپنے تاثرات اور معنی خیز خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ کوئی دس سال بعد یہ کتاب نئے ایڈیشن کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ اپنی خوبیوں اور خرابیوں کی
روشنی و تاریکی میں اس کی تاریخی و تنقیدی معلومات ردّ و قبول کی منزلیں طئے کرتی رہیں لیکن بحیثیت مجموعی
اس کی ہر دل عزیزی کا پلّہ ہمیشہ گراں ثابت ہوتا رہا۔ اس کی روز افزوں مقبولیت میں ناشروں کو ضرورت
ہی نہ محسوس ہوئی کہ نئے انکشافات اور جدید تخلیقات کو بھی اس میں جگہ دی جائے۔ طلبہ کو ان شاعروں اور
ادیبوں سے روشناس کرایا جائے جو اپنی گونا گوں صلاحیتوں کی وجہ سے ادب کی تدریجی ترقی میں زمانے کے
ساتھ ساتھ ایک تاریخی اہمیت کے مستحق ہوتے جاتے تھے۔ ایڈیشن پر ایڈیشن بغیر علم و اجازت کے چھپتے
رہے، غلطیاں برابر دہرائی جاتی رہیں۔ جو کمی دس سال پہلے تھی وہ اب تک قائم رہی۔ میں بحیثیت مصنف
صحیح معنوں میں اپنے کو بے چارہ سمجھ کر خاموش تھا۔ خدا بھلا کرے ادارہِ فروغ اردو لکھنؤ کا کہ اس نے
میری اجازت سے کتاب چھاپنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس طرح مجھے موقع ملا کہ حسب ضرورت و خواہش
مختصر تاریخِ ادب اردو پر نظر ثانی کر سکوں، چنانچہ میں نے خرابی و کمی دور اور پوری کرنے کی فکر کی لیکن پھر
بھی اعتراف و احساس ہے کی کتاب ویسی نہیں ہو سکی جیسی ہونی چاہئے۔‘‘

1975 میں اعجاز حسین صاحب کی وفات ہو گئی لیکن اس مشہور زمانہ تحقیقی کتاب ’’مختصر تاریخِ ادب اردو‘‘ کے چھپنے کا سلسلہ برابر جاری و ساری رہا ۔ اعجاز حسین صاحب کے انتقال کے بعد ان کے صاحب زادے آفتاب حسین صاحب چاہتے تھے کہ’’ مختصر تاریخِ ادب اردو‘‘ کو دوبارہ مکمل کی جائے اور اسے شائع کیاجائے۔ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ اس تحقیقی کتاب میں 1964 سے 1984تک کی ادبی تاریخ مکمل طور پر قاری کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس تحقیقی اور اہم کارنامے کو پورا کرنے کا بیڑا پروفیسر سید محمد عقیل رضوی صاحب نے اٹھایا اور انھوں نے بڑی محنت اور دلجمعی کے ساتھ اس کام کو بہ حسن و خوبی انجام دیا۔ اس تحقیقی، تاریخی و ادبی کتاب کی اہمیت، افادیت اور مسائل کے ضمن میں پروفیسر سید محمد عقیل رضوی صاحب ’’حرفِ آخر‘‘ کے صفحہ 545 میں رقمطراز ہیں:۔
’’اردو ادب کی اتنی طویل تاریخ کو اس کتاب میں مختصر طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم روز کچھ نہ کچھ تجربے
اردو کے ادیب ہر صنف میں کرتے رہتے ہیں۔ کچھ میلانات نئے ڈھنگ سے پیش ہوتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے
اس دور کے یہی تقاضے ہیں مگر کچھ دور جا کر وہ موضوعات اور میلانات باسی معلوم ہونے لگتے ہیں۔ پھر نئے لکھنے والے
اپنی نئی نئی ضرورتوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ تاریخ میں وہی میلانات اور ایسے ہی ادیب باقی رہ جاتے ہیں جنھوں نے
فکر و فن یا اسلوب و بیان کو اجاگر کیا ہو یا اس طرح اپنی طرز و فکر کو پیش کیا ہو جس کی گونج ادب کے ایوان میں میں باقی رہ
گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ادیب وقت کی گرد میں دب کر رہ جاتے ہیں، اگر چہ ایک خاص وقت میں ان کا خاص
شُہرہ ہوتا ہے۔ بہت سے مشاعرے باز شعرا جو کسی وقت میں مَلِکُ ا لشعرامعلوم ہوتے تھے، جن کے بغیر کوئی مشاعرہ
مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مشاعرے کے بعد ان کے اشعار بے وقعت ہو گئے۔ اس ماس میڈیا کے دور میں بھی ریڈیو،
ٹیلی ویژن ، انھیں بہت دور نہیں لے جا سکے کہ ادب کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں، جن میں شور و شغف نہیں ہوا کرتا۔ اس
کتاب میں بہت سے ایسے نام شامل نہیں ہو سکے جو کسی وقت اہم سمجھے جاتے رہے ہوں گے لیکن ادب میں ان کی کوئی
حیثیت باقی نہیں رہی۔ کچھ ایسے ادیب اور شاعر بھی ہیں جو ابھی ادب میں اعتبار حاصل کر رہے ہیں۔ خیال ہے کہ بہت
جلد ان کی حیثیت کا تعین ہو جائے گا اور تب ادب کی تاریخ میں ان کی مثال اور شمولیت، ایک درخشاں صورت اختیار
کرے گی۔ وقت ہی سب سے بڑا ناقد ہوتا ہے۔ اسی کے فیصلے سب سے صحیح فیصلے ہوتے ہیں۔‘‘

اعجاز حسین صاحب کی آخری ترمیم شدہ کتاب’’مختصر تاریخِ ادب اردو‘‘ میں دو حصّے ہیں۔ پہلا حصّہ نظم اور دوسرا حصّہ نثر ۔ پہلے حصّے میں کُل گیارہ ابواب ہیں۔ دوسرے حصّے میں کُل آٹھ ابواب ہیں۔ سید محمد عقیل رضوی صاحب نے اس کتاب میں ترمیم اور اضافے کے ساتھ 1984 میں نشیمن الہ آباد سے آخری بار شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں ’’حرفِ آخر‘‘ کے عنوان سے ایک نیا باب لکھا ہے۔ جس میں انھوں نے1964 کے بعد اردو میں آئی ادبی تبدیلیوں پر غور و فکر کی ہے اور خاص طور پر انھوں نے تحقیق و تنقید کے باب میں مزید روشنی ڈالی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی اردو شاعری میں ہو رہی تبدیلیوں کی آہٹوں کو پروفیسر سید محمد عقیل رضوی صاحب نے بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ محفوظ کیا ہے۔ اس ضمن میں صفحہ 564میں موصوف فرماتے ہیں:۔
’’اردو شاعری کی دنیا میں اس طرف بہت سے نئے تجربہ کیے گئے ہیں۔ ابہام اور علامت نگاری جس کی ابتدا
میرا ؔجی، راشد، یوسف ظفر، عبدلمجید بھٹّی اور مختار صدیقی وغیرہ نے کی تھی۔ اسے کے بعد 1965 خاصا فروغ
حاصل ہوا۔ ہندوستان میں جن شعرا نے اہمیت حاصل کر لی ہے ان کے نام اس تاریخ میں شامل ہیں۔ کچھ
کم اہم نام ہیں اور کچھ تجربات کی منزلوں سے گذر رہے ہیں۔ جن میں بلراج کومل، عمیق حنفی، مظہر امام، بانی،
شاذ تمکنت، شہاب جعفری، محمد علوی، عادل منصوری، ندا فاضلی، کمار پاشی، قاضی سلیم، راج نرائن رازؔ، عزیز قیسی،
بشر نواز، کرشن موہن، پریم دار، زبیر رضوی اورشمس الرحمٰن فاروقی خاص ہیں۔ کچھ بیچ کے شعرا بھی ہیں۔ جن میں
نشور واحدی، کمال احمد صدیقی، سلیمان اریبؔ، بیکل اُتساہی، فضا ابن فیضی اور حرمت الاکرام شامل ہیں۔۔۔
ادھر پاکستان کی شاعری میں بھی یہ سہل نگاری روز بروز تیزی پکڑ رہی ہے۔ اگر چہ ان کا سابقہ نہ ہندی سے ہے
نہ سنسکرت سے۔ مگر ابن انشا، ناصر شہزاد، ناصر کاظمی، فہمیدہ ریاض، وزیر آغا ، احمد فراز، ساقی فاروقی، عبّاس اطہر،
سلیم احمد، ظفر اقبال، پروین شاکر اور منیر نیازی وغیرہ، سب کے یہاں شعری انداز بدلتا جا رہا ہے۔‘‘

اسی طرح پروفیسر سید محمد عقیل رضوی صاحب نے فکشن کے ادب میں ہو رہی نت نئی تبدیلیوں کی آہٹ کو محسوس کیا ہے کہ نئی کہانی اور نیا ناول بھی اردو شاعری کی طرح اپنے پرانے راستوں سے الگ ہو گیا ہے۔ ان کی نظر میں نئے فکشن لکھنے والوں میں عابد سہیل، اقبال مجید، کلام حیدری، غیاث احم گدّی،ا لیاس احمد گدّی، انور عظیم، ستیش بترہ وغیرہ قابلِ ذکر و فکر ہیں۔ تحقیق و تنقید کے ضمن شارب رودولوی، وحید اختر، باقرمہدی، شمس الرحمٰن فاروقی، گوپی چند نارنگ، مغنی تبسم، سلیمان اطہر جاوید، وزیر آغا، جیلانی کامران، ریاض احمد، ممتاز شیریں، سلیم احمد، ممتاز حسین، مظفر علی سید، انور سدید اور وارث علوی وغیرہ پر سرسری گفتگو کی ہے۔

فی زمانہ پروفیسر اعجاز حسین صاحب کی اس کتاب پر پروفیسر سید محمد عقیل رضوی صاحب کے اضافے کے بعد بھی بہت ساری کمیاں اور خامیاں راہ پا گئی ہیں۔ خصوصی طور پر 1980کے بعد کے اہم میلانات جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کا کوئی بھی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ جس سے ہوش مند اور با ذوق قاری کو شدید ذہنی صدمہ پہنچتا ہے۔ آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں اعجاز حسین صاحب کی تحقیقی کتاب ’’مختصر تاریخِ ادب اردو‘‘ کو upto date کرنے کی بیحد ضرورت ہے تاکہ اس تواریخی کتاب کو مزید علمی، ادبی، تحقیقی و تنقیدی اعتبار ، وقار اور استناد حاصل ہو سکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajai Malviya

Read More Articles by Ajai Malviya: 33 Articles with 39115 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2018 Views: 1593

Comments

آپ کی رائے