دعا کی فضیلت و اہمیت

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: مغیثہ خالد، کراچی
حدیثِ مبارکہ ہے’’دعا عبادت کا مغز ہے‘‘۔ دعا کرنایعنی اپنے ہاتھ عاجزی سے اٹھانا اس رب کی بارگاہ میں جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کے تمام راز ہیں۔اس مالک کل سے مانگنا جو خوش ہوتا ہے جب کوئی بندہ اسے پکارتا ہے اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر عاجزی سے سوال کرتا ہے۔ اس کی قادر ہونے پر یقین رکھ کر جب کوئی اس کے آگے جھولی پھیلاتا ہے تو وہ مانگنے والے کواپنی شان کے مطابق عطا کرتا ہے۔

دعا کی قبولیت کے مختلف درجات ہیں۔ اﷲ بہتر جانتا ہے کہ اس کے بندے کے حق میں کس وقت کیا بہتر ہے۔ وہ اسے وہی عطا کرتا ہے جو بندے کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔دعا کبھی رد نہیں ہوتی یا تو بعینہ قبول ہو جاتی ہے ۔جو دعا مانگی جائے اﷲ عطا فرما دیتا ہے یا پھر اﷲ تبارک و تعالی اس کا کوئی نعم البدل عطا فرما دیتا ہے جو ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے یہ پہلا درجہ ہے۔پھر اگر ایسا نہ ہو تو اﷲ تبارک تعالی اس دعا کی برکت سے کوئی مصیبت پریشانی، آفت ہم سے ٹال دیتا ہے، یہ دوسرا درجہ ہے۔

اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو تیسرا درجہ ہوتا ہے جس کو اکثر لوگ سمجھ نہیں پاتے اور وہ ہے آخرت میں ذخیرہ یعنی جو دعائیں دنیا میں قبول نہیں ہوتی رب تبارک و تعالی اس ک اجر بندے کو بروز قیامت عطا فرمائے گا اور اس وقت بندہ یہ خواہش کرے گا کہ کاش! دنیا میں اس کی کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔

یہ اس رب العالمین کا ہم گناہگاروں پر فضل ہی تو ہے کہ اس نے ہمیں دعا مانگنے کا راستہ دکھایا، ہر مشکل گھڑہ میں جب انسان تنہا ہو تو وہ اسے پکار سکے اور وہ اپنے ہر پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتا ہے۔ اسے پسند ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے عاجزی سے مانگے، ہاتھ پھیلا کر، گڑگڑا کر روئے اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی سی خواہش اﷲ کی بارگاہ میں پیش کرے۔جب بندہ اپنے رب کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو رب تبارک و تعالی جو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے بندے کی جانب دو قدم بڑھاتا ہے، جب بندہ لڑکھڑاتا ہے تو وہ سنبھال لیتا ہے، جب گرتا ہے تو سہارا دیتا ہے غرض یہ کہ وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ آزماتا بھی ہے تو قدم قدم پر سہارا بھی دیتا ہے۔ مشکل حالات میں لڑنے کی ہمت بھی وہی عطا کرتا ہے۔
اے رب تو ہی تو ہے
زندگی کی ہر سانس میں
جو تو ہے تو سب کچھ ہے
ورنہ دنیا و آخرت کا خسارہ ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501220 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2018 Views: 263

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ