پکچر ابھی باقی ہے۔

(Amjad Siddique, Lahore)

پھر سے وہی گھن چکر شروع ہوتا محسوس ہورہا ہے جوہماری پہچان ہے۔ہماری ناکامیوں کا سبب ۔میڈیا میں تحریک انصاف کو جس طرح آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے۔وہ قابل افسوس ہے۔کچھ تو کوتاہیاں حکومتی لوگوں سے ہورہی ہیں مگر کچھ پراپیگنڈہ محض بال کی کھال کھینچنے جیسا ہے۔اپنے اناڑی پن کے سبب کچھ وزیر لوگ غیر ضروری باتیں کہہ جاتے ہیں۔مگر انہیں نیوکمرز ہونے کا ایڈوانٹج دیا جانا چاہیے جانے کیوں اہل قلم اور اہل مائیک وسعت قلبی کا مظاہرہ نہیں کرپارہے۔حکومت پہلے ہفتے ہیں غیر مقبول ہوگئی۔یہ تاریخ کی نالائق ترین حکومت ہے۔وغیرہ وغیرہ کے فکرے لکھنے یا بولنے مناسب نہ ہوگا۔شیخ رشید نے جو بدتمیز ی اپنے ریلوے سٹاف سے کی اس پر گلہ نہیں ۔ان کی کسی غلطی کی جواب دہی عمران خاں پرزیادہ واجب نہیں۔ان کی اصل ذمہ داری ان کی اپنی جماعت کے لوگوں سے متعلق ہے۔اگر وہ اپنے کھلاڑیوں کو سدھارنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کے اتحادیوں کی غلطیوں کو فراموش کیا جاسکتاہے۔

دو کام کرنا ہونگے۔اول تو اب مجموعی طورپر حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہوگا۔دو ملازموں اور تین کمرو ں میں گزارا کرنے کا غیر حقیقی دعوی کرنے کی نہ تو ضرورت ہے ۔نہ اس کا کچھ فائدہ ہوگا۔سرپر رکھی بھاری گٹھری میں سے کپڑا پھینک دینے سے وزن ہلکا نہیں ہوتا۔عمران خاں تو دو ملازموں اور تین کمروں میں گزار اکرنے کی بات کرتے ہیں۔اور ان کے کم تر عہدے داران ۔گورنرز ۔وزرائے اعلیٰ۔وزراء وغیر ہ بیسیوں ملازمین اور کنالوں کے گھروں کو آفس اور رہائش گاہیں بنائے رکھیں گے تو اچھ اتاثر نہ بنے گا۔عمر ان خاں سمیت تمام تحریک انصاف کے قائدین حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے ۔دوجا کام جو کرنے والا ہے وہ عمران خاں کے لیے اپنی اور اپنے دیگر حکومتی لوگوں کی ٹریننگ سے متعلق ہے۔یہ جو قدم قدم پر اناڑی پن کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔وہ مناسب نہیں ۔اگر ابتدائی کچھ ہفتے۔اپنی حکومتی سرگرمیاں محدود کرکے امور ممکت سے متعلق آگہی حاصل کرلی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔اب آپ لوگ اعلی ٰ حکومتی عہدوں پر فائض ہیں۔آپ کو اٹھنے بیٹھنے کاسلیقہ آنا لازمی ہے۔کون سی بات کس موقع پر کرنا ہے۔یہ آداب گفتگو سمجھناہونگے۔جائز پروٹوکول اور امتیاز آپ کا حق بھی ہے۔اور لازم بھی اب آپ کو دو ملازم اور تین کمروں کی جزباتیت ترک کرکے اپنے عہدے کے شایان شان رول پلے کرنا ہے۔

اناڑی پن سے معاملات بگڑتے ہیں۔یہ بگاڑ معاشرے میں عدم توازن کو جنم دیتاہے۔افراتفری اور بے یقینی کا ماحول جنگل کا ایسا قانون متعارف کرواتاہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہو۔ہمارے ہاں کچھ لوگ جنگل کے قانون کے حامی ہیں۔یہ وہ طبقہ ہے جو دھکے شاہی سے وسائل پر قابض ہوچکاہے۔اسے خوف ہے کہ اگر پرامن حالات قائم ہوئے تو قانون اور ضابطے فعال ہوجائیں گے۔تب ان کی پرسش ہوگی۔ان کی دھکے شاہی بند ہوجانے کا امکان ہے۔یہ طبقہ پھر اناڑیوں کو سپورٹ کرتاہے۔نالائقوں کو ہلا شیری دیتاہے۔بے ایمانوں کے سر پر ہاتھ رکھتاہے۔اور بدکرداروں کو مضبوط کرتاہے۔یہ سارے لوگ اس طبقے کی سوچ کے مطابق حالات پیدا کرنے میں معاونت کرتے ہیں۔سابق وزیر اعظم نوازشریف پہلے آدمی ہیں جواس شیطانی کھیل کے آگے کھڑے ہوگئے۔انہیں اب یہ طبقہ نشان عبرت بنا رہاہے۔ان کی حکومت چھین لی۔ان سے پارٹی کی صدارت چھین لی۔انہیں اس قدر رسوا کیا گیا کہ آج تک کوئی لیڈر اتنارسو انہیں ہوا۔اس وقت جیل میں ہیں۔نیب میں کچھ کیسز ان کے خلاف چل رہے ہیں کئی دوسرے کیسز کھلنے کو تیار ۔انہیں الیکشن ہروادیاجاچکا۔ملک میں ایسا سیٹ اپ قائم کروادیا جاچکا کہ قانونی اور آئینی طور پر نوازشریف کو کہیں سے بھی ریلیف ملنے کا امکان نہ رہے۔اپنی طرف سے یہ لوگ نوازشریف کی کہانی ختم کیے بیٹھے ہیں۔سابق وزیر اعظم کو وہ اپنی طرف سے ماضی کی کوئی داستان بنائے بیٹھے ہیں۔جو اب کبھی لوٹ کر نہ آئے گی۔مگر قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔حالات بار بار سابق وزیر اعظم کے لیے آسانیاں ہموار کررہے ہیں۔ا ن احتساب عدالت میں روزانہ کی بنیادپر پیشی کے سبب وہ پھر سے میڈیا میں ان ہیں۔سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت ۔اس کے بعد جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران جو حالات سامنے آئے۔اس سے نوازشریف کو ہمدردی ملتی رہی ہے۔ججز اور جے آئی ٹی ممبران کی طرف سے بعض غیر زمہ دارانہ ریمارکس اور اقدامات نے نوازشریف کو کسی نہ کسی طرح گھیرنے کی کسی مہم جوئی کا اشارہ دیا۔اب جبکہ بہت کچھ واضح ہوچکانوازشریف ایک مظلوم اور سسٹم کے باغی قرار پاچکے ہیں۔ان کی کہانی ختم کیے جانے کے دعوے دارجو متبادل سیٹ اپ قوم پر مسلط کرچکے ہیں۔وہ اس قدر ناپائیدار ثابت ہورہاہے کہ شاید زیادہ دیرنہ قائم رہ پائے۔نوازشریف ابھی تک نہ صر ف بغاوت پر قائم ہیں۔بلکہ 4جولائی 2018سے جیل میں ہونے کے باوجود اور زیادہ پرعزم دکھائی دے رہے ہیں۔انہیں میڈیا میں بلیک آؤٹ کا سامنا ہے۔وہ اپنا مدعا بیان نہیں کرپارہے۔مگر ان کا غیر متزلزل عزم بتارہا ہے کہ کہانی ابھی پوری ختم نہیں ہوئی پکچر بھی باقی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65323 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Sep, 2018 Views: 397

Comments

آپ کی رائے