مسلمانوں پر مظالم ۔۔۔ اقوام متحدہ، عالمی برادری، مسلم امہ کا کردار

(واجد نواز ڈھول , Bhakkar)
آئے روز مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستانیں سوئی ہوئی مسلم قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ کشمیر سے لے کر بوسنیا، عراق، شام ، روہنگیا ، چیچنیا ، فلسطین تک دشمن یہ نہیں دیکھ رہا کہ شہید ہونے والا کا تعلق کس مسلک ، کس علاقے سے ہے بلکہ وہ ’’ مسلمان ‘‘ ہونے کی پاداش میں بے گناہوں کے خون سے دریا بہارہا ہے۔ بربریت، دہشت ، وحشت اور درندگی کا شکار یہ مسلمان دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص مسلم حکمرانو ں کی طرف امداد طلب نظروں سے دیکھ رہے ہیں ،مالدیپ جیسا 4لاکھ آبادی والا ملک ان مسلمانوں سے کھل کر اظہار محبت کر رہا ہے مگر افسوس کے بڑی اسلامی طاقتیں خاموش دکھائی دے رہی ہیں۔

اجتماعی قبریں : مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا اندازہ آپ اس تصویر سے لگاسکتے ہیں

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
آئے روز مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستانیں سوئی ہوئی مسلم قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ کشمیر سے لے کر بوسنیا، عراق، شام ، روہنگیا ، چیچنیا ، فلسطین تک دشمن یہ نہیں دیکھ رہا کہ شہید ہونے والا کا تعلق کس مسلک ، کس علاقے سے ہے بلکہ وہ ’’ مسلمان ‘‘ ہونے کی پاداش میں بے گناہوں کے خون سے دریا بہارہا ہے۔ بربریت، دہشت ، وحشت اور درندگی کا شکار یہ مسلمان دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص مسلم حکمرانو ں کی طرف امداد طلب نظروں سے دیکھ رہے ہیں ،مالدیپ جیسا 4لاکھ آبادی والا ملک ان مسلمانوں سے کھل کر اظہار محبت کر رہا ہے مگر افسوس کے بڑی اسلامی طاقتیں خاموش دکھائی دے رہی ہیں۔
ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے

دنیا کے تقریبا ہر ملک میں ہی کوئی نہ کوئی بحران یا مسئلہ موجود ہے جس کی وجہ سے وہ ملک عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ کہیں اندرونی اختلافات ہیں تو کہیں سیاسی محاذ آرائیاں، کہیں جنگ کا میدان گرم ہے تو کسی خطے میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی نے اسے دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیاہے۔ کسی علاقے میں معاشی بحران ہے تو کچھ علاقے ظلم و ستم، انسانیت سوز سلوک اور صاحبان اقتدار کی شہے پر ہونے والی غنڈا گردی کی تصویر پیش کررہے ہیں۔

اگر صرف روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والی بربریت کا جائزہ لیں تو یہ بات پوری دنیا پر عیاں ہوچکی ہے کہ یہاں ظلم و تشدد کی انتہا ہو چکی کردی گئی ہے ، پچھلے کئی ماہ سے برما میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا گیا ، مسلمانوں کے گھر جلائے گئے ، سینکڑوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی ، ظلم کے اس آتش فشاں پہاڑ کو ڈھانے میں میانمر کی فوج قتل و غارت میں اقوام متحدہ سے ’’ امن ایوارڈ ‘‘ کی خواہاں ہے جس نے مسلمانوں کے بچوں کو بھی نہیں بخشا اور بچوں کو بھی قتل کردیا ۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ کے قریب مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے کے لیے آئے ہیں لیکن بنگلہ دیش کی حکومت بھی ان کو پناہ دینے پر دلی طور پر راضی نہیں ہے ، بھارت تو پہلے ہی ان کو پناہ دینے سے انکار کر چکا ہے ، اب تک لاکھوں روہنگیا مسلمان میانمر کے جنگلوں میں بٹک رہے ہیں اور ہزاروں سمندروں میں بٹک رہے ہیں ۔
ہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہو
کہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہے

مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے ظلم پر خاموش رہنے والی اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر بھی خاموش ہے ، روہنگیا میں مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے لیکن عالمی برادری اور اقوام متحدہ ستو پی کر سوئی ہوئی ہے ، ویسے تو کسی غیر مسلم کو کانٹا بھی چب جائے تو عالمی برادری جاگ اٹھتی ہے اور مظلوم کے حق میں آواز بلند کرتی ہے لیکن جہاں مسلمانوں کا سوا ل ہو وہاں عالمی برادری چپ رہ کر تماشا دیکھتی رہتی ہے ۔

اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والی عالمی طاقتیں بشمول اقوام متحدہ کے مشکوک کردار نے ایک بات تو واضح کردی ہے کہ ظلم فلسطین میں ہو یا کشمیر میں عالمی برادری نے آنکھوں پر سیاہ پٹی اور کانوں میں سیسہ ڈال رکھا ہے ۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ آپس میں دست و گریباں ہیں۔ مسلم طاقتیں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو رکوانے کی بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں ۔ ایک طرف سعودیہ ہے تو دوسری طرف ایران، دونوں طاقتیں بشمول پاکستان اپنے اپنے مفادات کے آڑے آنے کے خوف سے خون آلود شام میں شہنائی بجانے پر مجبور ہیں اور دشمن ہے کہ بلاتفریق رنگ و نسل اور مسلک خون پہ خون کیے جارہا ہے۔ کشمیر میں ہندئوں کا ظلم، فلسطین میں یہودی ہم پر حاوی، روہنگیا میں بدھ مت ، چیچنیا میں روسی، ۔۔۔۔۔ جہاں بھی مسلمانوں کا مفاد ہوگا ، یہ سب لوگ رکاوٹی دیوار بن کر اکٹھے ہوجائیں گے۔ ابھی بھی ہم یہ کہ رہے ہیں کہ فلاں علاقے میں مرنے والا شیعہ ہے یا پھر سنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس کا مقام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہی
ظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قوم

مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر جہاں ایک طرف اقوام متحدہ خاموش ہے وہی ان کے حق میں مسلمان ممالک بھی ’’ گونگے ‘‘ کا کردار ادا کررہے ہیں سوائے ترکی اور مالدیپ کے کسی بڑی طاقت نے اس ظلم و ستم کو رکوانے کے لیے موثر آواز نہیں اٹھائی اور نہ ہی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ’’ او آئی سی ‘‘ اس معاملہ میں اپنا کردار ادا کرسکی ہے۔ کاش کہ ہمارے مسلمان ممالک یہ سمجھ پاتے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہے
یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے
جو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کو
وہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطے

یوں تو عالمی طاقت امریکا ہر موقع پر سامنے آتی ہے ، امریکا نے کئی مسلم ممالک میں آ کر جنگ کی ہے کہ وہاں انسانوں کو حقوق نہیں مل رہے تو کیا امریکا کو میانمر، کشمیر، فلسطین میں مسلمانوں پر ظلم نظر نہیں آ تا ؟ یہ مجرمانہ خاموشی جان بوجھ کر اپنائی جارہی ہے کیوںکہ ظلم سہنے والے مسلمان ہیں ، اگر کسی یہودی کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا تو عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ آور ہو چکی ہوتی لیکن یہاں مسلمان پس رہے ہیں ، مسلمانوں کے حقوق کا خیال کوں اور کیوں کرے گا ؟

مقبوضہ کشمیر، مقبوضہ فلسطین تو دنیا بھر میں انتہائی حساس موضوع بنے ہوئے ہیں اور ان پر ہر بڑے عالمی پلیٹ فارم پر بات بھی ہوتی ہے لیکن میانمارکے روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت کا عالم یہ ہے کہ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن ان کے لیے آواز عالمی سطح پر اس طرح نہیں اٹھائی جارہی جس طرح اٹھائی جانی چاہیے۔ روہنگیا مسلمانوں کا سرکاری طور پر قتل عام کیا جارہا ہے لیکن عالمی برادری کو تو چھوڑیں مسلم امہ بھی اپنے اپنے مسائل میں اتنی پھنسی ہوئی ہے کہ وہ ان مظلوموں کے لیے صحیح طرح صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرپا رہی۔

اگر تمام اسلامی ممالک متحد ہوکر اقدامات کریں تو میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم اور زیادتیوں کا سلسلہ روک سکتی ہے ورنہ روہنگیا مسلمانوں کا ارزاں خون بہتا ہی رہے گا۔
دنیا کا ہر قانون اور ضابطہ انسانی قتل عام کی شدید مذمت کرتا ہے لیکن اس کے برعکس برما، کشمیر، فلسطین میں مسلمانوں کے قتل کے جو روح فرسا واقعات سامنے آرہے ہیں اس نے دنیا کے امن کو دا پر لگا دیا ہے۔ یہاں جاری بربریت انسانی تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔عدم تشدد کے پرچاری بدھ مت انتہا پسندوں کے ہاتھوں روہنگیائی مسلمانوں ، فلسطین میں یہودیوں کے ہاتھ اور کشمیر میں ہندئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے جو کہ ایک سنگین دہشت گردی سے کم نہیں ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ کئی عشروں سے ایسا ظلم وستم روار کھا جا رہا ہے کہ جسے ضبط تحریر کرتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے ۔
ظلم کے پاں سے جو پھول مسل جاتے ہیں
خار بن کر وہی پتھر پہ نکل آتے ہیں

فلسطین، کشمیر،شام،بوسنیا عراق ، میانمار اور دیگر اسلامی ممالک میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر اقوام متحدہ نے آنکھیں کیوں بند کر رکھی ہیں،اگر روانڈا میں قتل عام پر بین الاقوامی عدالت کو سودہ پر براہ راست بمباری کا حکم دے کر روانڈا کی فوج کے جرنیلوں کو سزائیں سناسکتی ہے تو برما، اسرائیل اور بھارت کے جرنیلوں کے خلاف مقدمات کیوں درج نہیں کئے جارہے، مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جہاں ایک طرف پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے تو وہیں دوسری طرف یو این او،او آئی سی، انسانی حقوق کی تنظیموں او ر عالمی طاقتوں کی خاموشی لمحہ فکریہ سے کم نہیں، صرف احتجاجی مظاہرے اس مرض کی دوا نہیں!

خون مسلم کی ارزنی پر دنیا کا ہر انسان دکھی ہے ۔ امت مسلمہ کے حکمرانوں کو مصلحتوں اور مفادات سے باہر نکل کربرما ، کشمیر، فلسطین، بوسنیا میں ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے
فرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بے داد پہ یا لاشہ بسمل پہ جمے
خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے
شعل تند ہے جو خرمن پہ لپک سکتا ہے
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کہ کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب
لے کہ ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کہ
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگنینوں سے
سر اٹھاتا ہے تو رکتا نہیں آئینوں سے
ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم پھر ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاو تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجاو تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباو تو دبائے نہ بنے
خون پھر خون ہے نکلے گا تو جم جائے گا

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 43394 views »
i like those who love humanity.. View More
05 Sep, 2018 Views: 1184

Comments

آپ کی رائے