قومی زبان اردوکا عدم نفاذ…… سامراجیت کا تسلسل ہے !

(Atta ur Rahman Chohan, Islamabad)

قومی زبان اردو کا نفاذ اس لیے مسلسل تاخیر کا شکار ہے کہ یہ حکمرانوں، نوکرشاہی اور مراعات یافتہ طبقے کے مفادات پر براہ راست اثرانداز ہو کر پاکستان کے عوام کو ان سے چھینا ہوا بنیادی حق دیتا ہے۔دستور پاکستان1973 کی شق 251 ریاست کو حکم دیتی ہے کہ اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا جائے اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیتی ہے کہ صوبائی زبانوں کو فروغ دینے کے اقدامات کریں۔ اس کی ذیلی شق نفاذ اردو کے لیے پندرہ سال کی مہلت دیتی ہے تاکہ اس دوران ریاست نظام مملکت انگریزی کے بجائے اردو میں چلانے کے اقدامات کرلے۔ انگریزی زبان صرف اس وقت تک سرکاری زبان کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے جب تک اردو کے نفاذ کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔ اس کی ذیلی شق صوبائی حکومتوں کو پابند کرتی ہے کہ قومی زبان پر اثرانداز ہوئے بغیر وہ صوبائی ،علاقائی زبانوں کو فروغ دیں اور تعلیم، تدریس کا ذریعہ بنائیں۔

جنرل ضیاء الحق کی ہدایات کی روشنی میں مقتدرہ قومی زبان نے اسی کی دہائی میں پورے نظام مملکت کو قومی زبان اردو میں منتقل کرنے کے تمام اقدامات کرلیے تھے۔ اس دور میں سرکاری اہل کاروں اور افسران کو اردو دفتری مراسلت کے کورس کروائے گئے جو آج تک اردو صلاحیت کا الاوئنس بھی لے رہے ہیں۔ یادرہے کہ اسی دور میں تمام نصابی کتب (طبی، انجنیئرنگ سمیت تمام شعبہ جات) کی تدریسی کتب کا اردو ترجمہ بھی تیار کرلیا گیا تھا۔ صدر مملکت نفاذ اردو کا رسمی حکم جاری کرنے والے تھے کہ ان کی اچانک حادثاتی موت کی وجہ سے قوم اس نعمت سے محروم رہ گئی۔ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اردو کو پس پشت ڈال دیا اور یہ طبقہ قومی زبان کو سرکاری زبان قرار دینے میں غیر ضروری تساہل اور ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ نوکر شاہی اور حکمران کبھی صدارتی آرڈیننس اور کبھی عدالتی مہلت کا سہارا لے کر قومی زبان کے نفاز کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ اردو کے محسن کوکب اقبال ایڈووکیٹ نے ۲۰۰۳سے ۲۰۱۵ تک مسلسل قانونی جنگ لڑی اور اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اس معاملے پر توجہ دی اور جنوری تا ستمبر ۲۰۱۵ تک پے درپے سماعتوں کے ذریعے ایک تاریخ ساز فیصلہ صادر فرمایا۔

عدالتی فیصلے میں فاضل چیف جسٹس نے بجا طور پر لکھا ہے کہ کئی دہائیوں کی کوشش کے باوجود سنیئر وکلاء اور جج حضرات انگریزی میں وہ مہارت حاصل نہیں کرپائے جو مطلوب ہے، جس کی وجہ سے وہ معمولی قانونی نکات کو گنجلک اور پیچیدہ بنا دیتے ہیں اور انصاف کے حصول میں رکاوٹ بنتے جارہے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں نفاذ اردو کو پاکستان کے شہریوں کا بنیادی حق اور عزت نفس سے تعبیر کرتے ہوئے بجا طور پر بیان کیا ہے کہ پاکستان کے عوام ایک غیر ملکی زبان میں دئیے گئے احکامات کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان پر لاگو کیے گئے قانون اور قاعدے ان کی اپنی زبان میں پیش کیے جائیں تاکہ وہ ان کی صحیح روح کے مطابق سمجھ سکیں۔

عدالت عظمیٰ کے تاریخی فیصلے کی تمہید میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ قدیم یورپ میں حکمرانوں نے لاطینی زبان کو لاگو کیے رکھا جو صرف پادریوں، بادشاہوں اور شہزادوں کی زبان تھی تاکہ عوا م الناس کے پلے کچھ نہ پڑے، اسی طرح برصغیر میں قدیم آریائی دور میں حکمرانوں نے سنسکرت نافذ کیے رکھا تاکہ براہمنوں ، شاستریوں ،پنڈتوں اور سادھوں کے سوا کسی کو قانون، قاعدوں اور نظام حکومت کے بارے میں کچھ بھی علم نہ ہوسکے۔مابعد برصغیر میں فارسی کا راج رہا جو بادشاہوں، رئیسوں اور قاضیوں کی زبان تو تھی لیکن عوام کا فارسی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ انگریزی کی آمد کے ساتھ ہی لارڈ میکالے کے فلسفے کے مطابق مقامی زبان کی تحقیر کے کئی پہلو نگالے گئے اور انگریزی زبان کو برصغیر کے عوام پر مسلط کیا گیا حالانکہ ننانوے عشاریہ ننانوے فیصد عوام انگریزی سے نابلد تھے۔فیصلے میں بجاطور پر کہا گیا ہے کہ "ایک غیر ملکی زبان میں عوام پر حکم صادر کرنا محض اتفاق نہیں بلکہ سامراجیت کا پرانا اور آزمودہ طریقہ ہے ، جو بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی جاری ہے"۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہماری پسند یا ناپسند کامعاملہ نہیں اور نہ تن آسانی کا ہے بلکہ یہ ایک آئینی حکم ہے کہ اردو کو سرکاری زبان قرار دیا جائے۔جبکہ حکومت پاکستان اسے بہت ہی سرسری اور غیر سنجیدہ انداز میں لے رہی ہے۔

امرواقع یہی ہے کہ ہماری کابینہ ، قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس، سپریم کورٹ سمیت تمام اعلیٰ سرکاری اجلاسوں کی کاروائی قومی زبان اردو میں چلائی جاتی ہے ، بس ان کی رودادیں ( منٹس) انگریزی زبان میں جاری ہوتے ہیں۔ اسی طرح پرائمری سے پی ایچ ڈی تک ہر شعبہ میں اساتذہ تعلیم و تفہیم اردو یا علاقائی زبانوں میں کرواتے ہیں تاہم لکھنا انگریزی میں پڑتا ہے۔ انگریزی کے تسلط نے ہماری اجتماعی ذہانت (ٹیلنٹ) کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ طلبہ رٹہ لگا کر امتحانات تو اچھے نمبروں میں پاس کرلیتے ہیں لیکن تخلیقی صلاحیتوں کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ ایران کو دیکھ لیں، جہاں تدریسی زبان فارسی ہے اور وہ ہر سال درجنوں سکالرز کو نوبل انعامات کے لیے پیش کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے شعبوں میں کمال مہارت کا مظاہرہ کیا ہوتا ہے اور نئی ایجادات کی ہیں جبکہ ہم انگریزی کے رٹے لگا لگا کر ایک بھی فرد کو نوبل انعام کے لیے نامزد نہیں کرسکے۔اسرائیل میں تدریسی زبان عبرانی ہے، جبکہ دنیا میں بڑے سائسنسدانوں کا تعلق اسرائیل سے ہے اور سب سے زیادہ نوبل انعام بھی اسرائیلی سکالرز نے حاصل کیے ہیں۔ چین، روس، جرمنی، فرانس، جاپان، متحدہ عرب امارات اور ترکی نے اپنی قومی زبانوں کو اختیار کیا اور بام عروج کو چھو لیا، ایک ہم ہیں کہ انگریزی سیکھتے سیکھتے اردو کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ سی ایس ایس کرنے والے قابلیت کے اعلیٰ معیار ٹھہرائے جاتے ہیں لیکن دفتر میں ایک خط جو سیکشن آفیسر تیار کرتا ہے، وہ ڈپٹی سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری اور سیکرٹری صاحب کی بار بار کی مشق اور کئی روز کی مشقت کے بعد تیار ہوتا ہے۔اگر یہی مراسلہ اردو میں تیار کرنا ہوتو ایف اے پاس نوجوان چند منٹوں میں تیار کرلیتا ہے۔

حکمران، نوکرشاہی اور اشرافیہ اپنے بچوں کو انگریزی میں مہارت کے لیے مخصوص تعلیمی اداروں پر اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ جہاں ائیرکنڈیشن ماحول میں تعلیم دی جاتی ہے۔ ایچیسن کالج ، لارنس کالج، کیڈٹ کالجوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے جہاں طبقہ اشرافیہ کے بچے قومی خرچ پر مراعات یافتہ تعلیم حاصل کررہے ہیں تاکہ ان کی نسلیں بھی صدیوں تک پاکستان کے حکمرانی کرتی رہیں۔ پاکستان میں انگریزی کے تسلط کا واحد مقصد مراعات یافتہ طبقے کی بالادستی قائم رکھنا ہے اور عوام کو ریاستی وسائل سے محروم رکھنے کی سامراجی چال ہے۔

دستور کی شق 5 حکومت کو پابند کرتی ہے کہ آئین کی پابندی ہر شہری کا لازم اور بلا استثناء فرض ہے، اگر کوئی حکومت خود آئینی احکامات کی پابندی نہیں کرتی تو وہ قانونی طور پر عوام کو بھی قانون کی پابندی کرانے کا مجاز نہیں سمجھی جاسکتی۔ حکومت کی طرف سے دستور ی دفعات کی عدم پابندی ہمارے معاشرے میں لاقانونیت کو ہوا دینے کا باعث بنی ہے۔عدالتی فیصلے میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ دستور کی پابندی نہ کرنے کے نتیجے میں مراعات یافتہ طبقے اور عوام میں خلیج بڑھ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرہ شدت پسندی اور بغاوت کی طرف جارہا ہے۔ عدالتی فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر اور پوری قوت سے فورا نافذ کریں۔ اس آرٹیکل کے نفاذ کے اقدامات کے لیے حکومت نے خودجو معیاد مقرر کی ہے، اس کی ہرصورت پابندی کی جائے۔ قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔تین ماہ کے اندر اندر تمام وفاقی اور صوبائی قوانین کا ترجمہ قومی زبان میں مکمل کرلیا جائے۔ بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس آرٹیکل کا نفاذ یقینی بنائیں۔وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے حکومتی اداروں کی مندرجہ بالا سفارشات پر بلا تاخیر عمل کیا جائے۔ان عدالتی فیصلوں کو جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں ، جو آرٹیکل 251 کے اصول قانون کی وضاحت کرتے ہوں لازما اردو میں ترجمہ کروایا جائے۔ عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتمی الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہوسکیں کہ وہ موثر طریقے سے اپنے قانون نافذ کرواسکیں۔اس فیصلے کے اجراء کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہل کار آرٹیکل 251 کے خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان کا ضرر پہنچے گا ، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

حکومت نے عدالت عظمیٰ کو یقین دلایا تھا کہ وفاق کے زیر اہتمام کام کرنیو الے تمام ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) اپنی پالیسیوں اور قواعد و ضوابط کا تین ماہ کے اندر اردو ترجمہ شائع کریں گے۔ وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام والے ادارے (سرکاری ونیم سرکاری) ہر طرح کے فارم تین ماہ میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی فراہم کریں گے۔ تمام عوامی اہمیت کی جگہوں مثلا عدالتوں، تھانوں، ہسپتالوں، پارکوں ، تعلیمی اداروں ، بینکوں وغیرہ میں راہ نمائی کے لیے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بورڈ تین ماہ کے اندر آویزاں کیے جائیں گے۔ پاسپورٹ آفس، محکمہ انکم ٹیکس، اے جی پی آر، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، واپڈا، سوئی گیس، الیکشن کمیشن آف پاکستان، ڈرائیونگ لائسنس اور یوٹیلیٹی بلوں سمیت تمام دستاویزات تین ماہ میں اردو میں فراہم کریں گے، پاسپورٹ کے تمام اندراجات انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی منتقل کیے جائیں گے۔وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام والے ادارے (سرکاری ونیم سرکاری) اپنی ویب سائٹ تین ماہ کے اندراردومیں منتقل کریں گے۔ پورے ملک میں چھوٹی بڑی شاہراہوں کے کناروں پر راہ نمائی کی غرض سے نصب سائن بورڈ تین ماہ کے اندر انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی نصب کیے جائیں گے۔تمام سرکاری تقریبات /استقبالیوں کی کاروائی مرحلہ وار تین ماہ کے اندر اردو میں شروع کی جائے گی۔صدر مملکت، وزیر اعظم اور تمام وفاقی سرکاری نمائندے اور افسران ملک کے اندر اور باہر اردو میں تقاریر کریں گے اور اس کا م کا مرحلہ وار تین ماہ کے اندر آغاز کیا جائے گا۔اردوزبان کی ترویج کے سلسلے میں ادارہ فروغ اردوقومی زبان کو مرکزی حیثیت دی جائے گی تاکہ اس قومی مقصد کی بجا آوری کے راستے میں رکاوٹوں کو موثر طریقے سے جلد از جلد دور کیا جاسکے۔

حکومت نے سپریم کورٹ میں تحریری یقین دھانی کروانے کے باوجود ایک شق کے علاوہ کسی پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حکمران اور بیوروکریسی انگریزی زبان کا تسلط قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے حکمران اور نوکرشاہی کس ڈھٹائی اور بے شرمی سے دستور پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی مسلسل خلاف ورزی کرکے جہاں دستور شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں وہیں توہین عدالت کا ارتکاب بھی کررہے ہیں۔ اب سامراجیت کو تسلسل دینے کے تمام راستے سپریم کورٹ نے بند کردئیے ہیں۔ حکمران اس پر عمل درآمد کے پابند بنیں گئے تو حکمرانی کریں گے۔ اس تاریخ ساز فیصلے کے ابتدائیے میں بیان کیا گیا ہے کہ جو حکومت خود آئین کی پابندی نہیں کرتی اسے عوام سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 125 Articles with 64904 views »
عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More
06 Sep, 2018 Views: 341

Comments

آپ کی رائے