ہمیں پیار ہے پاکستان سے

(Sonia Ali, )

شرف الزمان

ہمیں پیار ہے پاکستان سے
افواج پاکستان کے زیر اہتمام یوم دفاع پاکستان انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں یوم دفاع پاکستان کے موقع پر 1965 اور 1971 کی جنگوں میں شہید ہونے والے بہادر فوجیوں کو قوم اور افواج پاکستان کی جانب سے خراج عقیدت و خراج تحسین پیس کیا جائیگا۔
ہم ISPR کے اس جذبے اور فیصلے کو سراہتے ہیں کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں پیار ہے پاکستان سے

دفاع کے حوالے سے ایک بھولی بسری عظیم قربانی قوم کو یاد دلانا چاہتا ہوں 1971میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے شر پسند غنڈوں کا دلیری سے مقابلہ کرنے اور شہادت پانے والے محب وطن پاکستانی بہاریوں کی خدمات اور قربانیوں کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ محب وطن پاکستانی اور ان کی اولادیں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد سے آج تک بنگلہ دیش کے کیمپوں میں محصور ہیں کیونکہ۔۔۔۔۔۔
ہمیں پیار ہے پاکستان سے

ان محب وطن پاکستانیوں نے ایک بار قیام پاکستان کے لئے دوسری بار دفاع پاکستان کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور گزشتہ نصف صدی سے بار ہا بنگلہ دیشی شہریت کے مواقع کو ٹھکراتے ہوئے پاکستانی پر چم اور پاکستانی شناخت کو یہ کہتے ہوئے مقدم رکھا کہ
ہمیں پیار ہے پاکستان سے

بنگلہ دیش کے کیمپوں میں محصور یہ ڈھائی لاکھ مسلمان پاکستانی جنہیں حرف عام میں بہاری کہا جاتا ہے نصف صدی بعدآج بھی 55 سے زائد اسلامی ممالک، امت مسلمہ اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان اور پاکستانی قوم کی توجہ کے منتظر ہیں کہ کب ان کو پاکستان واپس لایا جائیگا اور کیا وہ اپنے آزاد ملک میں آکر آزادی سے کہہ سکیں کہ۔۔۔
ہمیں پیار ہے پاکستان سے

گزشتہ حکومتوں نے ان محصور پاکستانیوں کو ان کی حب الوطنی کو ان کی قربانیوں کو تقریباً فراموش کردیاہے۔ لیکن آج 2018 کی نئی حکومت کے وزیر اعظم عمران خان چیف آف آرمی اسٹا ف جنرل قمر باجوہ اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقت نثار جیسے محب وطن اور ہمدردانِ قوم و ملت کے مضبوط ہاتھوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے اس کالم کے توسط سے ہم ان مندرجہ بالا صاحبان اقتدار سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر مشرقی پاکستان کا دفاع کرنے والے بہاری اور موجودہ بنگلہ دیش میں دفاع پاکستان کرنے والے کیمپوں میں محصور پاکستانیوں کو بھی یاد رکھا جائے کیونکہ ان محصورین کی زبان پر 47 برس بعد بھی ایک ہی نعرہ ہے۔
ہمیں پیار ہے پاکستان سے۔

بالکل اسی طرح جس طرح سپاہی مقبول حسین 40برس بھارت کی قیدمیں رہ کر فوت ہوکر امرہو گیا اس کا بھی یہی نعرہ تھا۔
ہمیں پیار ہے پاکستان سے

بالکل اسی طرح بنگلہ دیش کے کیمپوں میں 47 برسوں سے محصور ڈھائی لاکھ پاکستانی بہاری بھی نسل در نسل یہی نعرہ تو لگا رہے ہیں۔
ہمیں پیار ہے پاکستان سے

لیکن مصلحت پسند اور ہوس اقتدار میں مدہوش حکمران کانوں میں انگلیاں ڈالے اس جذباتی نعرے کی گونج سے دانستہ نا آشنائی کے فریب میں مبتلا رہے۔

مگر اب حالات بدل چکے ہیں چیف آف آرمی اسٹاف ، چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان نے ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اور اب امید ہے کہ کوئی بھی پاکستانی اب دیار غیر میں محصور نہیں رہے گا ۔ کیونکہ محصورین سمیت ہر پاکستانی کی زبان پر صرف اور صرف ایک ہی نعرہ ہے ۔
ہمیں پیار ہے پاکستان سے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sonia Ali

Read More Articles by Sonia Ali: 33 Articles with 15543 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Sep, 2018 Views: 314

Comments

آپ کی رائے