محمد صلاح الدین - ہفت روزہ تکبیر کے دلیر اور جرات مند صحافی

(Aslam Lodhi, Lahore)

 محمد صلاح الدین 5 جنوری 1935ء کو میرٹھ کے ایک محنت کش گھرانے میں پیدا ہوئے جس کا ذریعہ معاش تو دستکاری تھا لیکن حسن اتفاق سے اس محنت کش گھرانے میں علم کا بہت چرچا تھا۔ میرٹھ اس زمانے میں قینچیوں کے علاوہ لوہے‘ لکڑی اور بھاری مشینری کی صنعتوں کا مرکز تھا۔ مولانا صلاح الدین کے عزیز واقارب بھی اسی پیشے سے وابستہ تھے۔ جس گھر میں انہوں نے آنکھ کھولی اس کے کئی حصے تھے۔ یہ دو منزلہ مکان تھا۔ آپ کا خاندان اوپر رہتا تھا۔ ان کے بالکل برابر ان کے دادا کا مکان تھا جو مولانا تھانوی کے ہم مسلک تھے۔ صلاح الدین کا نام محلے کی مسجد کے پیش امام نے تجویز کیا تھا۔ صلاح الدین کے والد محترم شہاب الدین بڑے دین دار آدمی تھے۔ مہینے میں ایک دو مرتبہ ضرور وعظ کا اہتمام کرتے تھے اور بڑے بڑے عالم دین حضرات کو مدعو کرتے تھے۔ صلاح الدین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ ان کے والد نے ا نہیں قلم پکڑنا سکھایا۔ وہ اپنے وقت کے بہت اچھے خطاطوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ہاتھ پکڑ پکڑ کر صلاح الدین کو تختیاں لکھوائیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بچپن ہی سے ان کی لکھائی بہت اچھی ہو گئی۔

23 مارچ 1940ء کو جب لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تو اس وقت آپ اپنے نانا محمد ابراہیم کے ہاں پیلی بھت میں قیام پذیر تھے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً پانچ سال تھی۔ قیام پاکستان کے وقت آپ الٰہ آباد میں تھے۔ باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ کراچی آ کر شروع ہوا۔ چھٹی جماعت میں ماڈل ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ اسی دوران آپ کے والد شدید بیمار ہو گئے اور بیروزگاری اور مالی بحران نے بیک وقت آپ کے خاندان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ مولانا صلاح الدین اپنے والدین کی نرینہ اولاد تھے۔ ان کے علاوہ ان کی دو بہنیں تھیں جن میں سے ایک کا انتقال ہو گیا۔

ان دنوں کراچی میں آپ کا خاندان رنچھوڑ لائن میں واقع ایک کمرے کے چھوٹے سے فلیٹ میں رہتا تھا جو انہیں کسی نے امانتاً دیا تھا۔ صلاح الدین نے اپنی عملی زندگی کا آغاز رنچھوڑ لائن کے ایک فٹ پاتھ پر چادر بچھا کر چنے‘ مرمری اور سستی قسم کی مٹھائیاں بیچنے سے کیا۔ ان کے گاہک محلے کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے تھے۔ ان کے لئے یہ کاروبار بڑے ’’منافع‘‘ کا تھا کیونکہ اس زمانے میں ایک سیر بھنے ہوئے چنے ایک روپے میں ملا کرتے تھے اور پرچون میں چار روپے سیر بک جایا کرتے تھے۔ آپ نے اپنی بلڈنگ کے رہنے والوں کی سہولت کے لئے چوتھی منزل کے فلیٹ پر ان چیزوں کے علاوہ سستے قسم کے سگریٹ‘ ماچس اور بیڑیاں بھی رکھ لی تھیں۔ یہ آپ کی زندگی کی پہلی تجارت تھی۔

1948ء میں آپ نے پہلی ملازمت ایک موٹر ورکشاپ جان فلیمنگ کمپنی میں کی جہاں آپ کی تنخواوہ 45 روپے مقرر ہوئی۔ اس دوران آپ نے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ جاری کر لیا۔ 1950ء میں آپ کے اہل خانہ کو رنچھوڑ لائن کا فلیٹ خالی کرنا پڑا کیونکہ وہ جس کی امانت تھا وہ واپس آ گیا تھا۔ آپ لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ نہ ملی تو گولیمار کے علاقے میں بانسوں اور چٹائیوں کی جھگی ڈال کر اس میں رہنے لگے۔ یہ جھگی اکثر موسمی اثرات سے متاثر ہوتی رہتی تھی۔ اس علاقے میں پینے کے پانی کا بھی بڑا مسئلہ تھا لہٰذا صلاح الدین اپنے کندھے پر بانس رکھ کر دونوں سروں پر کنستر لٹکائے گاندھی گارڈن سے پانی لینے جاتے۔ انہیں دنوں آپ نے پلمبری کا کام سیکھا اور ہندوستانی سینٹری جوائن کر لی۔ 1954ء میں آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ انہی دنوں آپ کے میٹرک کے امتحانات بھی تھے۔ گویا یہ صدمہ بہت بڑا تھا لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری اور میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ پھر ٹیچر ٹریننگ سکول سے انٹر‘ ادیب عالم اور سی ٹی کے امتحانات بیک وقت پاس کئے۔ 1960ء میں آپ نے بی اے کیا۔ 1961ء میں جامعہ کراچی میں سوشیالوجی میں داخلہ لیا لیکن بوجہ علالت امتحان نہ دے سکے لہٰذا 1962ء میں بی ایڈ کر لیا اور ٹیچر ٹریننگ میں 1969ء تک بحیثیت استاد پڑھاتے رہے۔

انہی دنوں ’’حریت‘‘ کے سب ایڈیٹر مولانا ظفر علی انصاری کے کہنے پر روزنامہ ’’حریت‘‘ جوائن کر لیا۔ پھر جب الطاف حسن قریشی نے ملتان سے ’’جسارت‘‘ نکالا تو وہ آپ کو اپنے ساتھ بحیثیت نیوز ایڈیٹر ملتان لے گئے۔ اپنی صحافتی زندگی کے دوران صلاح الدین کو کئی بار قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں لیکن آپ کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہ آئی۔

آپ کی ادارت میں ہفت روزہ "تکبیر" نے ایک جرات مند صحافت کی بنیاد رکھی جس کی اشاعت کراچی میں موجود دہشت گرد تنظیم کو ایک نظر نہ بھاتی تھی چنانچہ یہ جرات مندانہ صحافت آپ کی شہادت کا باعث کچھ اس طرح بن گئی ۔

4 دسمبر 1994ء کو کراچی میں شام سات بج کر 40 منٹ پر وہ اپنے ڈرائیور امجد کے ساتھ گاڑی میں بزنس روڈ کے موڑ پر ہی پہنچے تھے کہ گولیوں کی ایک باڑھ آئی اور وہ چھلنی ہوتے چلے گئے۔ گاڑی سامنے چائے کے کیبن سے جا ٹکرائی۔ صلاح الدین کا جسم بائیں دروازے کے بند شیشے سے جا ٹکرایا۔ ان کے منہ سے کلمہ جاری ہو گیا‘ لا الہ الا الہ محمد رسول اﷲ۔ ان کا دماغ زندہ تھا اور اﷲ کی کبریائی اور اس کے رسولؐ کی رسالت کا بزبان بلند اعلان کر رہا تھا۔ دہشت گرد نامکو سنٹر کے بالمقابل زیرتعمیر عمارت کے سامنے کھمبے کے پاس کھڑی سبزی مائل موٹرسائیکل پر آ بیٹھے اور فریئر روڈ کی طرف بھاگنے لگے۔ صلاح الدین کی گاڑی ریورس ہونے لگی۔ موٹر سائیکل کا دوسرا سوار تیزی سے اترا‘ بھاگتا ہوا گاڑی کی طرف آیا‘ دو فائر مولانا صلاح الدین کے سر پر نال رکھ کر کئے اور بھاگتا ہوا موٹرسائیکل پر جا بیٹھا اور پہلے سے سٹارٹ موٹرسائیکل فریئر روڈ کی تاریکی میں گم ہو گئی۔

’’اﷲ اکبر…… اﷲ اکبر……‘‘ گولیاں کھانے والا نحیف آواز میں اپنے آخری سہارے کو پکار رہا تھا۔ ڈرائیور نے اندھادھند گاڑی سول ہسپتال کی طرف دوڑا دی۔ انہیں سٹریچر پر ڈالا گیا تو وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے (انا ﷲ وانا الیہ راجعون)
*******
یہ حقیقت ہے کہ صلاح الدین موجودہ صحافت کے صلاح الدین ایوبی تھے۔ ان کی جراتوں کی کہانیاں پچھلے 45 سال تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جہاں حکومتوں نے دہشت گردوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے وہاں صلاح الدین ان سے اکیلے لڑتے نظر آئے۔ صحافت کی تاریخ میں آپ کا ذکر ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
آپ کا شمار ان جانباز صحافیوں میں ہوتا ہے جو اپنے مشن کو اپنی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں۔ صلاح الدین مرحوم جانتے تھے کہ قلم کی بدولت دنیا میں بڑے سے بڑا انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے اس لئے وہ برائیوں کے خاتمے کے لئے زندگی بھر کوشاں رہے لیکن ملک دشمن عناصر کو ان کے یہ نیک ارادے ایک نظر نہ بھائے اور نتیجتاً انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔اس کے باوجود کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں لیکن ان کی خدمات اور شعبہ صحافت کے لیے قربانیوں کا ذکر ہمیشہ کیاجاتارہے گا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 577 Articles with 298148 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Sep, 2018 Views: 550

Comments

آپ کی رائے