خود پر یقین کریں اور کامیاب ہو جائیں

(Prof Tanveer Ahmed, )

ہم میں سے ہر ایک شخص کامیاب ہونا چاہتاہے اور کامیابی کا راز جاننا چاہتاہے۔کامیابی حاصل کرنا کوئی ناممکن بات نہیں۔انسانی دماغ جو کچھ واضح طور پر سوچ سکتا ہے وہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔صرف کامیابی کی راہ میں حائل روکاوٹوں کو سمجھنااور ان کو دور کرناہی مشکل ہے ۔یاد رکھیں! ہر ناکامی ہمیشہ کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنے والے ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ آپ کی کامیابی آپ کے بہت قریب ہے۔ناکامیوں سے مت گھبرائے۔اپنی ہمت بڑھائیں اور تما م مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔انشاء اﷲ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ہم ہمیشہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرا کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ہماری ناکامیوں میں ہمارا اپنا سب سے بڑا ہاتھ ہو تا ہے۔ لیکن ہم یہ تسلیم کرنے کو کسی صورت تیا ر نہیں ۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرناسیکھیں۔ یقین کریں آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ہم دوسروں پر الزام لگاکر خو د احتسابی سے بچ جاتے ہیں اور ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ایک طالب علم کی مثال لے لیجیئے۔ اگر تو وہ پاس ہو جائے تو کامیابی کا ساراcreditوہ خود کو دیتاہے اور سمجھتاہے کہ اس سے محنتی اور قابل طالب علم کوئی نہیں۔ اس کامیابی میں وہ کسی کو شریک کرنا نہیں چاہتا۔چاہے وہ اس کے قابل اساتذہ ہوں،اس کے والدین ہوں، اس کے دوست ہوں یاعزیز رشتہ دار۔لیکن بد قسمتی سے اگر وہ ناکام ہو جائے تواس کا ذمہ دار وہ اساتذہ اور والدین کو ٹہر اتاہے۔حالانکہ اساتذہ نے ان بچوں کو بھی پڑھایا ہوتاہے جو پاس ہوئے ہوتے ہیں۔یقینا فیل ہونے والے بچوں نے کو ئی ایساکام یا نااہلی ضرور کی ہوتی ہے جس کے باعث وہ ناکام ہوا ہے۔ خود احتسابی سے ہی وہ اپنی ناکامی کی وجہ جان سکتاہے۔ناکامی کی کئی وجوہات ہوتی ہیں مثلاً پابندی وقت، جھوٹ بولنا، کام وقت پر نہ کرنا، کام سے جی چُرانا، ذمہ داری کا عدم احساس،دھوکہ دینا، غلط بیانی، وعدہ خلافی اور بڑوں کی بے ادبی کرنا۔ خود کا محاسبہ کریں اور ان بری عادات سے بچیں۔ یہ نہ سوچیں کہ سب لوگ یہ کام کر رہے ہیں تو میں کیوں نہ کروں۔ وہ لوگ اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں اور آپ کو اپنے اعمال کا خود جواب دینا پڑے گا۔ دوسروں کے پیچھے چلنا چھوڑ دیں ۔ خود کو اس قابل بنائیں کہ لوگ آپ کی پیروی کریں۔ایک بات ذہن نشین کر لیجیئے کہ کامیابی کے لیئے انتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیشہ محنت کریں۔ یادرکھیں! کامیابی کا کوئی shortcut نہیں۔ ہم ہمیشہ قلیل وقت اور بغیر محنت کے کامیابی چاہتے ہیں جو ناممکن ہے۔ کامیابی ہمیشہ جہدِ مسلسل سے ملتی ہے۔ اپنی منزل کا تعین کیجیئے اور نتائج کی پرواہ کیئے بغیر منزل کے حصول کے لیئے جاری رکھیں۔مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ وقتی مسائل سے نہ گھبرائیں بلکہ ان کا مقابلہ کریں۔ مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ کبھی بھی مسائل سے ڈر کر اپنی منزل کو تبدیل نہ کریں۔ منزل کو بار بار تبدیل کرنا آ پ کو کامیابی سے کوسوں دور لے جائے گا۔ہمیشہ حال میں رہ کر اچھے مستقبل کے لیئے کوشاں رہیے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہی مسائل آپ کی کامیابی کا زینہ بن جائیں گے۔
؂ تُندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ توچلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیئے

ہو سکتا ہے آپ کی ناکامی کا سبب آپ خود ہوں۔دوسروں کو موردِ الزارم لگانے سے پہلے اپنی غلطیوں کے بارے میں ضرور سوچیئے۔ اپنے آج کو گزشتہ کل سے بہتر کریں۔ اپنا مقابلہ دوسروں سے کرنے کی بجائے خود سے کریں۔ اپنی خامیوں اور کو تاہیوں کا پتہ چلائیں اور ان کے سدِباب کے لیئے کوشش کریں۔یادرکھیں ! کسی کی خامی آپ کی خوبی نہیں بن سکتی ۔ اپنی صلا حیتو ں میں اضافہ کریں۔ اپنے اند ر وہ خوبیاں پیدا کریں جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کریں۔ پھر آپ کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ ہر چیز کو تکمیل کے لیئے وقت اور موزوں حالات درکار ہوتے ہیں۔ اگر یہ چیز یں نہ ملے توتکمیل ممکن نہیں۔ اپنی کو شش کریں اور باقی سب اﷲ پر چھوڑ دیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے پانی فریزر میں رکھا ہے کہ اس سے برف بن جائے تو اسے مناسب وقت اور موزوں حالات ضرور دیں۔اگر آپ ہر منٹ کے بعد فریزر کھول کر دیکھیں گے کہ پانی برف بن گیا یا نہیں تو وہ کبھی بھی برف نہیں بنے گا اور اگر فریزر کا سوئچ اتاردیں تو بھی پانی کبھی برف نہ بن پائے گا۔ پانی تبھی برف بنے گا جب اس کو مناسب وقت اور حالات دستیاب ہونگے۔جب بھی کسی کام کو کرنے کا تہیہ کر لیں تو اسے تکمیل تک ضرور لے کر جائیں۔ثابت قدمی بہت ضروری ہے۔اپنے فیصلوں کو بار بار تبدیل نہ کریں وگرنہ کامیابی آپ سے کوسوں دور چلی جائے گی۔ فیصلہ چاہے جیسابھی ہو اس پر ڈٹ جائیں ۔ اچھے نتیجے کی آرزو کریں گے تو انشاء اﷲ اچھا نتیجہ نکلے گا۔ آپ جیسا سوچیں گے نتیجہ ویسا ہی ہو گا۔اس لیئے اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔ اچھا سو چیں گے تو اچھا نتیجہ نکلے گا۔ ہمیشہ کامیاب لوگوں سے مشورہ کریں۔ ناکام لوگ کبھی بھی آپ کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔جو اپنی فیلڈ میں ماہر ہے وہ آپ کو اچھا مشورہ دے گا۔اچھے لوگوں کی قدر کریں اور ان کا احترام کریں۔ اس دنیا میں اچھے لوگو ں کی بہت کمی ہے۔آپ خوش نصیب ہونگے اگر آپ کو ایسے لوگ مل جائیں جو آپ کی درست رہنمائی کر دیں اور آپ کو یہ یقین دلا دیں کہ آپ یہ کا م کر سکتے ہیں تو یہ آپ کی خوش نصیبی ہے۔اپنے اندر صبر پیدا کریں۔ صبرکر کے آپ کامیابی کے بہت قریب پہنچ سکتے ہیں۔ اچھے وقت کا انتظار کریں۔ گورنمنٹ ای لائبریری اوکاڑہ میں منعقدہ میرے ہفتہ وار ہونے والے ایک موٹیوشنل لیکچر کے بعد ایک طالب علم نے سوال کیاکہ سر! ہم اپنے اندر صبر کیسے پیدا کریں؟ صبر ہمیشہ جبر سے پیداہو سکتا ہے۔ خود پر جبر کریں اور بعد میں اس جبر کا انعام بھی خود کو دیں۔ اگر آپ نے اپنے آپ کو تبدیل کر لیا تو کامیاب ہونے سے کوئی آپ کو نہیں سکتا ۔ خود کو تبدیل کریں اور دوسروں کے لیئے مثال بنیں۔ انشاء اﷲ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Tanveer Ahmed

Read More Articles by Prof Tanveer Ahmed: 69 Articles with 40940 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Sep, 2018 Views: 1210

Comments

آپ کی رائے