جو بویا وہی کاٹو گے

(Sami Ullah Malik, )

بھارتی معاشرے میں تشدد کا گراف بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف معاشرتی نوعیت کاتشدد ہے اوردوسری طرف مذہبی منافرت کی بنیادپرپھیلایا جانے والا تشدد کاوسیع ہوتاہوادائرہ اہلِ دانش کیلئے شدید پریشانی کا باعث ہے۔معاشرے کے سیاہ وسفید پرنظررکھنے والے حکومت پرزوردے رہے ہیں کہ وہ معاملات کوکنٹرول کرنے پرتوجہ دے اورایسے اقدامات کرے، جن سے تشدد کادائرہ محدود سے محدودتررکھنے میں مددملے۔ بھارت کے چیف جسٹس دیپک مشرانے حال ہی میں ایک انٹرویومیں کہا ہے کہ بھارت میں مذہب کی بنیادپرکسی کونشانہ بنانے کارجحان تیزی سے فروغ پارہاہے۔ ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنانے کی وارداتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ معاشرے میں غیرمعمولی عدم توازن پیداکرنے کاباعث ہے۔ انہوں نے حال ہی میں گائے کے تحفظ کے نام پر متعدد مسلمانوں کو تشدد کے ذریعے شہید کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ہجوم کی نفسیات کو بے قابو ہونے سے روکنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔

زیرنظراداریے میں انڈین ایکسپریس گروپ کے ہندی زبان کے اخبار’’جَن سَتّا‘‘نے معاشرے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے تشدد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس امرپرزوردیاہے کہ حکومت فوری اورخاطرخواہ اقدامات کے ذریعے معاملات درست کرے۔چندبرسوں کے دوران تشددکے واقعات میں تیزی،بہت سے سوال کھڑے کرچکی ہے۔ بڑوں کی دیکھادیکھی بچوں میں تشددکاپھیلتادائرہ معاشرے،انتظامیہ اورحکومت سبھی کیلئے بہت بڑاچیلنج ہے۔سوال یہ ہے کہ بچوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے ایسی شکل کس طوراختیارکرلیتے ہیں کہ نوبت چاقوبازی اورقتل تک جا پہنچے۔ یہ واقعات نئی نسل میں تیزی سے بڑھتی عدم برداشت اورعدم رواداری کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔

دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں3؍اگست کوصبح کی دعاکے وقت ایک طالب علم نے سب کے سامنے چاقونکال کرایک اور طالب علم پرپے درپے وارکرکے اُسے شدیدزخمی کردیا۔دونوں کاایک دن قبل جھگڑاہواتھا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس نوعیت کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ رواں سال کے دوران دہلی ہی کے علاقے کرول باغ کے ایک سرکاری اسکول میں چند طلبہ نے مل کر ایک ساتھی طالب علم کو قتل کردیا تھا۔ گزشتہ برس بھی دہلی کے ایک اسکول میں ایک طالب علم مارا گیا تھا۔ اسے بھی اس کے ساتھیوں ہی نے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ کچھ مدت پہلے ہریانہ کے ایک سرکاری اسکول میں طلبہ کے دو گروہوں کے درمیان جم کر چاقو بازی ہوئی تھی جس میں پانچ طلبہ شدید زخمی ہوئے تھے۔

چاقو بازی طلبہ کی باہمی لڑائیوں تک محدود نہیں۔ طلبہ میں تشدد پسندی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اگر انہیں اساتذہ سے بھی کوئی شکایت ہو تو بات کو دل میں رکھ لیتے ہیں اور پھر اساتذہ سے حساب چُکتا کرنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ گزشتہ برس دہلی کے نانگلوئی علاقے میں ایک سرکاری اسکول کے استاد پر دو طلبہ نے چاقو سے حملہ کردیا تھا۔بھارتی دانشورسرپکڑکربیٹھے یہ کہنے پرمجبورہوگئے ہیں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ معاشرہ کس سمت جارہا ہے۔ بچوں میں تشدد پسندی کا گراف بلند ہوتاجارہا ہے۔ نئی نسل اپنے آپ کو بہتر مستقبل کیلئے تیارکرنے اور اپنے ساتھ ساتھ ملک کیلئے کچھ کرنے کی تیاری کے بجائے غیر صحت مند سرگرمیوں میں گم ہوتی جارہی ہے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ آخر ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ نئی نسل میں بڑھتی ہوئی تشددپسندی اس امرکی طرف بھی واضح اشارہ کرتی ہے کہ ہم اُن کی تعلیم پر توجہ دے رہے ہیں نہ ہی اس بات کی کچھ فکر ہے کہ وہ مستقبل میں کیاکریں گے،کس طورزندگی بسر کریں گے اورگھربسانے کے بعداہل خانہ کوکیادے سکیں گے۔اہل خانہ اوراساتذہ دونوں ہی نے بچوں اور نوجوانوں کونظراندازکررکھاہے۔اس روش ہی کایہ نتیجہ برآمدہواہے کہ اب بچوں میں سنجیدگی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور وہ تشدد سمیت ہر منفی رجحان تیزی سے قبول کرکے اپنے امکانات کو مٹی میں ملاتے جارہے ہیں۔

سرکاری اور نجی اسکولوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیکورٹی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ اساتذہ بھی طلبہ کے جھمیلے میں پڑنے سے گریز کرتے ہیں۔ بچوں میں تشدد پسندی کا گراف نیچے لانے کیلئے والدین اور اساتذہ کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگالیکن بھارت میں بڑھتی ہوئی غربت،نسلی امتیازاورانسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے والی بی جے پی کی بے لگام پالیسیاں ملک کوبربادکررہی ہیں اورمودی سرکارکواس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ جوکچھ انہوں نے بویاہے اسی کوبالآخرکاٹنابھی توہے!

انڈیا کی ریاست تامل ناڈو میں پولیس نے کینیڈا میں زیرِ تعلیم ایک طالبہ لوئس صوفیا کومحض اس لئے گرفتارکرکے 15 دنوں کیلئے عدالتی تحویل میں دے دیا کہ اس نے انڈیا کے شہر چننئی سے ٹوٹی کورین کی ایک پرواز کے دوران اسی طیارے میں بی جے پی کی ریاستی صدر تمیلی سائی سوندا را کو دیکھ کر"فسطائی بی جے پی کی حکومت مردہ باد" کے نعرے لگائےاوراپنی مٹھیاں اٹھاتے ہوئے بی جے پی کے خلاف "فاشسٹ" لفظ کا استعمال کیا۔ صوفیا کی گرفتاری پر ردِّ عمل ظاہر کرتے ہوئے تامل ناڈو کے حزب اختلاف کے رہنما ایم کے سٹالن نے ریاستی حکومت پر الزام عائدکیا ہے کہ وہ اظہار ِآزادی کا گلا دبا رہی ہے۔انہوں نے ایک ٹویٹ پیغام میں صوفیا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا "اگر اختلاف کے اظہار پرحکومت لوگوں کو گرفتار کرے گی تو میں صوفیا کے نعرے کوبارباردہرائوں گا،بی جے پی کی فاشسٹ حکومت مردہ باد"۔صوفیا کی گرفتاری کے خلاف سوشل میڈیا پربھی زبردست ردِّعمل سامنے آیاہے۔انڈیا کے معروف صحافی راج دیپ سر دیسائی نے ایک ٹویٹ میں سوال کیاکہ"کسی حکومت کے خلاف نعرے لگاناکب سے جرم ہوگیا؟"

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 1241 Articles with 520325 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2018 Views: 328

Comments

آپ کی رائے