نیکی کا صلہ

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: فری ناز خان
ہمارے گاؤں میں ایک لکڑہارا رہتا تھااس کا صرف ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام علی تھا۔ وہ لکڑہارا سارا دن جنگل میں لکڑیاں کاٹ کر لاتااور ان پر اپنی محنت سے کام کرتا۔ وہ ان لکڑیوں کی مدد سے دروازے اور کھڑکیاں اور بہت سے گھریلوں سامان بناتا تھا اور اپنے ہی گاؤں والوں کو نہایت ہی سستے داموں فروخت کرتے تھے۔اس طرح وہ اپنا گزر بسر کر رہے تھے۔ ایک دفعہ کافی دنوں تک علی کے ابو کو جنگل سے لکڑیاں نہیں مل سکیں جس کی وجہ سے گھر میں فاقوں کی نسبت آ گئی وہ انہی پریشانیوں کو سوچتے ہوئے جنگل کی طرف جارہے تھے کہ وہ چکر کھا کر گر پڑے اور بے ہوش ہوگئے۔

دور سے آتے ہوئے ایک شخص نے اسے دیکھ لیا تھا اور وہ اس کے گھر لے آیا۔ وہ لکڑہارا بہت بیمار ہو گیا تھا۔اس کے بیٹے علی نے پورے گاؤں والوں سے مدد مانگی مگر کوئی بھی ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوا۔ علی بہت اداس بیٹھا تھا کہ اس کے والد نے گاؤں والوں کو اپنی طرف سے نہایت ہی سستے داموں پر لکڑیوں کا کام کر کے دیا اور بدلے میں گاؤں والوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔وہ ابھی انہیں سوچوں میں گم تھا کہ وہی شخص علی کے قریب آیا اور اس سے پوچھنے لگا کہ وہ اتنا پریشان کیوں ہے تو علی نے اس شخص کو بتایا کہ وہ اس لکڑہارے کا بیٹا ہے اور اس کے والد کی طبیعت کافی عرصہ سے خراب ہے اور علی کے علاوہ گھر میں ان کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے اب اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کرے۔
 
اس شخص نے اسی وقت ڈاکٹر کو بلایا اور علی کے ابو کا علاج شروع کروایا اسی دوران اس شخص نے علی کے ابو کے کام کا بغور معائنہ کیا جو انھوں نے اپنے گھر کے دروازے اور کھڑکیوں اور دوسرے سامان پر کیا ہوا تھا۔وہ شخص روزانہ علی کے لیے بھی کچھ نہ کچھ لاتا اور اس کے ابو کا بھی علاج کروایا۔ جب علی کے ابو نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے تو اس نے بتایا کہ اس کا نام عامر ہے۔ وہ پاس ہی کے ایک گاؤں میں رہتا ہے اور وہ اکثر کام کے سلسلے میں شہر جاتا ہے۔ایک بار جب وہ کام سے فارغ ہو کر واپس آ رہا تھا تو راستے میں شام ہو گئی تھی اور اسے اسی جنگل سے گزر نا پڑتا ہے جہاں سے وہ لکڑہارا لکڑیاں کاٹتا ہے۔اس دن راستے میں کسی لٹیرے نے اس کاسارا سامان اور پیسے سب کچھ چھین لیا تھا۔وہ نہایت ہی مایوس ہو چکا تھا تب علی کے ابو نے اس کی مدد کی تھی اور اس وقت ان کے پاس جو بھی پیسے تھے وہ سارے اسے دے دیے تھے۔ میں جو کہ ایک انجان تھا پھر بھی بنا کچھ سوچے سمجھے میری مدد کی۔

اس کے بعد عامر نے ان کے کام کو بہت سراہا اور کہا کہ جب وہ بہتر ہو جائیں گے تو وہ اسے اپنے ساتھ اپنے گاؤں لیے جائے گا اور ان کے کام کو اچھے داموں میں فروخت کرواسکتا ہے۔کیوں کہ اس کے گاؤں کے لوگ اس کام کو بہت پسند کرتے ہیں۔اس طرح آپ کو آپ کی بنائی ہوئی چیزوں کی منہ مانگی قیمت بھی مل جائے گی۔کیوں کہ آپ کی بنائی ہوئی چیزیں بہت عمدہ اور خوبصورت ہیں یہ سن کر علی اور اس کے ابو بہت خوش ہوئے۔جوں ہی علی کے ابو کی طبیعت بہتر ہوئی تو وہ عامر کے بتائے ہوئے گاؤں چلے گئے ۔
وہاں پر ان کی ہاتھوں سے بنائی گئی چیزوں کو سب نے بہت پسند کیا اور گاؤں والوں نے علی کے ابو کی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا علی کے ابو نے جتنا سوچا تھا اس سے کہیں زیادہ ان کے بنائے ہوئے سامان کی قیمت ملی تب انہیں یہ احساس ہوا کہ ان کے گاؤں والے ان کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔علی کے ابو نے اﷲ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کی ایک چھوٹی سی نیکی کا کتنا بڑا صلہ دیا۔بے شک بلا غرض کسی کی مدد کرنے سے اﷲ پاک بہت خوش ہوتا ہے اور وہ اپنے بندوں کی نیکی کا بدلہ اس سے کئی گنا زیادہ دے کر ادا کرتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 516705 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2018 Views: 245

Comments

آپ کی رائے