استغفار

(Hafiza Ayesha, sahiwal)

ذکر اللہ میں استغفار کی بھی بڑی اہمیت ہے- اللہ تعالٰی سے گناہوں کی مغفرت چاہنے کو استغفار کہتے ہیں- اللہ جل شانہ نے اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو استغفار کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
“پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب کی تسبیح اور تحمید بیان کیجئے اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجئے بے شک وہ بڑا توبہ قبول فرمانے والا ہے“
اور عام مومنین کو استغفار کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
اور اللہ سے گناہ معاف کراتے رہو ، بے شک اللہ غفورورحیم ہے۔

حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ(جب) شیطان (مردود ہو گیا تو اس) نے کہا کہ اے رب! تیری عزت کی قسم ہے میں تیرے بندوں کو ہمشہ بہکاتا رہوں گا جب تک ان کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں گی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی اور اپنے رفعت مقام کی جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں ان کو بخشتا رہوں گا-

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی
“ اًسّتًغّفٍرّاللہً الًذٍیّ لًا اٍلٰہً اٍلًا ھُوً الّحًیُ الّقُوّمُ وًاًتُوّبُ اٍلُیّہٍ“
“کہے اس کی مغفرت کردی جائے گی اگرچہ میدان جہاد سے بھاگاہو“

ایک حدیث میں ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کو پسند ہو کہ اس کا نامہ اعمال اس کو خوش کرے تو چا ہئے کہ استغفار کی کثرت کرے-
مومن بندوں کو چاہئے کہ دیگر اذکارو اور ادکے ساتھ استغفار کی کثرت کو بھی معمول بنائیں- کم از کم صبح و شام سو سو مرتبہ تو استغفار پڑھ لیا کریں- اس کے علاوہ جس قدر ممکن ہو استغفار کی کثرت کریں-
جن الفاظ میں بھی اللہ پاک سے گناہوں کی مغفرت طلب کی جائے وہ سب استغفار ہے لیکن جو الفاظ حدیث شریفہ میں وارد ہوئے ہیں- ان کی ذریعے استغفار کرنا زیادہ افضل ہے- کیونکہ یہ وہ الفاظ مبارک ہیں جو رسالت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہیں-
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مجلس میں سو مرتبہ یہ کلمات پڑھتے تھے-
رًبٍ اغّفٍرّ لٍیّ وً تُبّ عًلًیًّ اٍ نًّکً اًنتً التًّوًّابُ الغًفُورُ۔
“اے میرے رب میری مغفرت فرما دے اور میری توبہ قبول فرما بے شک آپ بہت توبہ قبول فرمانے والے ہیں اور بخشش فرمانے والے ہیں“

“اے اللہ تو میرا رب ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھ کو پیدا فرمایا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد پر اور تیرے وعدہ پر قائم ہوں- جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں نے جو گناہ کئے ان کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ میں تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں‘ مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ہے“

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دن کو یقین کے ساتھ سید الاستغفار پڑھے اور شام سے پہلے مرجائے تو جنتی ہوگا اور جو شخص رات کو یقین کے ساتھ سید الاستغفار پڑھے اور صبح سے پہلے مر جائے تو جنتی ہوگا-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiza Ayesha

Read More Articles by Hafiza Ayesha: 18 Articles with 9010 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2018 Views: 772

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ