کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: فری ناز خان
تکبر صرف اﷲ تعالیٰ کے لیے ہی ہے چونکہ اﷲ تعالیٰ سے کوئی نہ برتر ہے نہ اس کی طرح پاک اور اعلیٰ ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا لہٰذا انسان یا جنات کا تکبر کرنا اﷲ تعالیٰ کو قطعاً پسند نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کی عاجزی کوبہت پسند فرماتا ہے۔ آدم علیہ السلام کو اﷲ نے معتدل اور توازن رکھنے والی صفات کے ساتھ تخلیق کیا تھا۔ مٹی کے اس پتلے میں بندگی اور سرکشی دونوں ہی شامل تھی۔ اسی بات کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں سورہ ’’التین‘‘ میں یوں ا رشاد فرمایا ہے، ’’انجیر کی قسم اورزیتون اور طور سینا اور اس امن والے شہر کی بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا، پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیر دیا مگر جو ایمان لائے اوراچھے کام کیے کہ انہیں بے حد ثواب ہے تو اب کیا چیز تجھے کے جھٹلانے پر باعث ہے ، کیا اﷲ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں‘‘۔

اﷲ تعالی نے انسان کوخاک سے بنایا اسی لیے خاک سے تخلیق کیے گئے انسان کو تکبر ہرگز زیبا نہیں ہے کہ بالآخر اس نے ایک دن مر کر مٹی میں مل جانا ہے۔ انسان کی جوانی، حسن، صحت اور دولت سب فانی ہے تو پھر غرور کس بات کا ہے؟ انسانی زندگی کا اصل مقصد اپنے رب کی بندگی اور اپنے جیسے دیگر انسانوں کی مدد کرنا ہے۔لہٰذا انسان بالخصوص مسلمانوں کو اپنے رب کی بندگی کے ساتھ اپنے بھائیوں کی دل جوئی کے ساتھ ان کی مشکلات کو جیسے بھی ممکن ہو کم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔

یاد رکھیے! اگر آپ آج کسی کی مدد کریں گے توکل ضرورت پڑنے پر کوئی آپ جیسا اﷲ کابندہ آپ کی مدد کرے گا یہی قانون قدرت ہے۔ وطن عزیز میں ہمارے ہم وطنوں کو جینے کے لیے بے حد مشکلات جھیلنا پڑتی ہیں۔ غربت، بیماری اور بے روزگاری، ناخواندگی جیسے مسائل سے ہماری قوم انتہائی اذیت میں گرفتار ہے۔ لہٰذا جو لوگ صاحب ثروت ہیں یا جن کا تعلق صحت کے شعبے سے ہے اور وہ اپنے پرائیویٹ کلینکس میں مریضوں کے معائنے کے لیے ہزاروں روپے فیس کی مد میں لیتے ہیں۔ اگریہ سب چند غریبوں کا مفت معائنہ اور علاج کردیں تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ جولوگ ان کے مفت علاج سے صحت یاب ہوں گے ان کی دعائیں انہیں اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کاباعث ہوگی۔

اسی طرح یہ صاحب ثروت حضرات چند غریب گھرانوں کے ماہانہ راشن کی ذمہ داری لے لیں تو انہیں اپنے رب کی رضا ملے گی جو آخرت میں بخشش کا ذریعہ بن جائے گی۔ اگر آپ تہی دست ہیں کچھ بھی امداد نہیں کرسکتے تو کسی یتیم کے سر پر دست شفقت ہی پھیردیں یہ بھی باعث رحمت ہے۔ کسی دکھی دل کا دکھ سن کر اس کی ہمت بندھانا، دل جوئی کرنا یہ بھی ثواب کا ہی ذریعہ ہے۔ اسی سے بندے کو رب مل جاتا ہے اورر ب تعالیٰ کی رضا کے ساتھ انسان کی دعائیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور یہی دعا بندے کو رب کی رضا دلوادیتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 502050 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Sep, 2018 Views: 211

Comments

آپ کی رائے