نبوت کا بیان

(Hafiza Ayesha, sahiwal)

مسلمان کے لیے جس طرح ذات و صفات الٰی کا جاننا ماننا اور ان پر ایمان لانا ضروری اور فرض عظیم ہے اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کون ہو سکتا ہے- نبی کے لیے کیا جائز ہے اور کیا واجب اور کیا محال؟ کہ کسی واجب کا انکار اور محال کا اقرار ، موجبٍ کفر ہے، کہیں اسے کافر نہ کر دے اور بہت ممکن ہے آدمی نادانی سے اسلامی عقائد کے برخلاف کوئی عقیدہ رکھے یا خلافٍ عقیدہ کوئی بات زبان سے نکالے اور ہلاک ہو جائے کہ نبوت بڑا عظیم، بہت بلند اور بڑا درجہ ہے-

اللہ عزوجل نے اپنے خاص فضل و کرم سے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے جن پاک بندوں کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے مبعوث فرمایا اور بھیجا انہیں نبی کہتے ہیں- یہ اللہ تعالٰی اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے ، جو لوگوں کو خدا تعالٰی کی طرف بلاتے ہیں-

نبی و رسول ، اللہ تعالٰی کے خاص اور معصوم بندے ہوتے ہیں- بڑی عزت ووجاہت والے ، ان کی نگرانی اور تربیت خود اللہ تعالٰی فرماتا ہے- صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بالکل پاک ہوتے ہیں- عالی نسب، عالی حسب ،انسانیت کے اعلٰی مرتبہ پر پہنچے ہوئے، خوبصورت ، نیک سیرت، عبادت گزار، پرہیزگار، تمام اخلاق حسنہ، نیک خصلتوں سے آراستہ اور ہر قسم کی برائی، بے حیائی، اور بے غیرتی کے کاموں سے دور رہنے والے، انہیں عقل کامل عطا کی جاتی ہے- اوروں کی عقل سے ہزار درجے زائد، کسی دانشوار، کسی فلسفی ، کسی سائنس دان کی فہم و فراست ، زیر کی و ذہانت ان کے لاکھوں حصے تک نہیں پہنچ سکتی-

اللہ کے نبی ، تمام مخلوق الٰی سے افضل و اعلٰی اور برتر و بالا ہوتے ہیں- فرشتوں میں بھی کوئی ان کا ہم مرتبہ نہیں بڑے سے بڑا ولی ، ان کے برابر نہیں ہو سکتا-نبی کی تظیم کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے بلکہ یہ فرض دوسرے تمام فرضوں سے بڑھ کر ہے- جو شخص کسی نبی کی شان میں کوئی ایسی بات کہے جس سے ان کی توہین ہو ، وہ مسلمان نہیں ہوسکتا ، کافر ہے اگرچہ اسلام کا نام لیتا ہو-نبوت بہت بڑا مرتبہ ہے ، کوئی بھی شخص عبادت کے ذریعے اسے حاصل نہیں کوسکتا- نبوت خداتعالٰی کا عطیہ ہے جسے چاہتا ہے ، اپنے فضل سے دیتا ہے- ہاں دیتا اسی کو ہے جسے اس کے قابل بناتا ہے- اللہ تعالٰی انبیائے کرام کو ہر ایسی بات سے دور اور پاک صاف رکھتا ہے جو لوکوں کے لیے نفرت کا باعث ہو- اسی لیے انبیاء کرام کے جسموں کا برص ( سفید داغ) جزام ( کوڑھ) وغیرہ ایسی بیماریوں سے پاک ہونا ضروری ہے جن سے لوگ گھن کریں اور دور بھاگیں-

انبیاء کرام علیہم السلام غیب کی باتوں کا خود بھی علم رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان کی خبر دیتے ہیں- حساب، کتاب، جنت ، دوزخ ، ثواب ،عذاب ، حشر ، نشراور فرشتے وغیرہ غیب نہیں تو اور کیا ہیں؟ یہ وہ کچھ بتاتے ہیں جس تک عقل کی رسائی نہیں مگر یہ علم غیب کہ ان کے لیے ہے اللہ تعالٰی کا عطیہ ، اللہ تعالٰی کے دئیے سے ہے- لٰہذا ان کا علم عطائی ہے- (خدا تعالٰی کا عطا کیا ہوا) اور خدائے تعالٰی کا علم ذاتی ہے- (اپنی صفات سے)

اللہ تعالٰی کا ہر نبی زندہ ہے، ان پر ایک آن کو محض قرآن وعدہ کی تصدیق کے لیے موت طاری ہوتی ہے- اس کے بعد پھر ان کو حقیقی زندگی عطا ہوتی ہے- اللہ تعالٰی نے انبیاء کرام پر، بندوں کے لیے جتنے احکام نازل فرمائے، انہوں نے وہ سب بندوں کو پہنچا دیئے- جو یہ کہے کہ کسی حکم کو کسی نبی نے چھپائے رکھا، یعنی خوف و تقیہ یا کسی اور وجہ سے نہ پہنچایا، وہ کافر ہے-

دنیا میں سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے- آپ سے پہلے زمین پر انسان کا وجود نہ تھا- سب انسان آپ ہی کی اولاد ہیں، اسی لیے نبی آدم یا آدمی کہلاتے ہیں، یعنی اولادٍ آدم- اور حضرت آدم علیہ السلام کو ابوالبشر کہتے ہیں، یعنی سب انسانوں کے باپ ، سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے انہیں اپنی قدرت کاملہ سے بے ماں باپ کے پیدا کیا اور اپنا خلیفہ بنایا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں- انبیاء اللہ کے مختلف درجے ہیں- بعضوں سے اعلٰی ہیں اور سب میں اکمل و افضل ، رتبے میں سب سے برتروبالا، ہمارے آقاومولٰی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، اسی لیے آپ کو سیدالانبیاء کہا جاتا ہے، یعنی سارے نبیوں کے سرور و سردار ، سب کے سر کے تاج صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم- اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا- حضور کے زمانہ میں یا بعد میں کوئی نیا نبی نہیں آسکتا، اور جو اس کے خلاف ہے، وہ یقیناًً کافر و مرتد ہے-

جو شخص نبی نہ ہو وہ نبوت کا دعویٰ کر کے کوئی محالٍ عادی اپنے دعوے کے مطابق ظاہر نہیں کر سکتا- اور کوئی جھوٹا نبی، نبوت کا دعویٰ کر کے ہر گز کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا- ورنہ سچے جھوٹے میں فرق نہ رہے گا- اسی طرح دونوں جہانوں کا پروردگار، نبی کے ہاتھوں ایسی محال و ناممکن باتوں کو ظاہر فرما دیتا ہے، جس سے بہت سوں کو تسکین ہو جاتی ہے- جھوٹے بھی ایسا کر گزریں تو پھر سچے اور جھوٹے میں کوئی امتیاز رہے گا-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiza Ayesha

Read More Articles by Hafiza Ayesha: 18 Articles with 9243 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2018 Views: 239

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ