حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

حالیہ الیکشن میں میں عوام نے پاکستان تحریک انصاف پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے اس کو پاکستان میں حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا ہے صرف اس لیئے کہ ہمارے عوام کے دلوں میں پاکستان تحریک انصاف کا یہ نعرہ کہ نیا پاکستان بنائیں گئے گھر کر گیا تھا عوام اپنے زہنوں میں یہ محسوس کرنے لگ گئے تھے کہ اب ایسا پاکستان بننے جا رہا ہیجس میں ہم عوام سکھ کا سانس لیں گئے بے روزگاری کم ہو گی مہنگائی پر کنٹرول ہو گا ہر طرف انصاف کا بول بالا ہو گا تھانے کچہری کی صورتحال تبدیل ہو گی اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہو جائے گا ایسی ہی صورتحال کو سامنے رکھ کر عوام نے ن لیگ سمیت دیگربڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے پرانے اور جمے ہوئے برج الٹ دیئے اور پی ٹی آئی کو اپنے دکھوں کا مداوا جان کر اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ حکومت میں آ جائے اور اپنے وعدوں ،نعروں، اور دعووں کو سچ ثابت کر کے دکھائے اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کو حکومت سنبھالے ابھی ایک ماہ بھی نہیں گزرا ہے اتنی جلدی متوقع نتائج سامنے آنا نا ممکن ہیں لیکن حالات واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی حکومت عوامی توقعات پر پورا اتر سکے گی یا عوام کو ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا بے روزگاری کے خاتمے عدل و انصاف کے نظام کو سامنے لانے میں تھوڑا وقت درکار ہو گا لیکن عوام جس بات کا سب سے زیادہ رونا رو رہے ہیں وہ مہنگائی ہے جس پر قابو پانا شاید حکومت کی دسترس سے باہر ہے قابوپانا تو دور کی بات ہے موجودہ حکومت اس میں اضافے کا باعث بن رہی ہے روز مرہ استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہیں عام آدمی کی زندگی مزید مشکلات سے دوچار ہوتی جا رہی ہے منی بجٹ میں تیرہ سو اشیاء پر نئے ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں جن کا بوجھ براہ راست عوام پر ہی پڑے گا جب ٹیکس لگیں گئے تو مہنگائی ضرور ہو گی گھریلو استعمال کے سلنڈر تک مہنگے کر دیئے گئے ہیں کھادیں مہنگی کر دی گئی ہیں جس سے کاشتکاروں کو بھی سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا اور آٹا بھی مہنگا ہو جائے گا جس کے بغیر کسی بھی فرد کا گزارہ نہیں ہو سکتا ہے پالیسیاں نافذ کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے لیکن پالیسیاں بنانے مین زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنا حکوت کی پالیسیوں میں شامل ہی نہیں ہے اور نہ ہی مہنگائی روکنے میں دلچسپی لے رہی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جس وقت سے موجودہ حکومت معرض وجود میں آئی ہے مہنگائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ عوامی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی شروعات دکھائی دے رہی ہیں عوانم کو گورنر ہاوس دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی ایک عام آدمی کی سکت ہے کہ وہ گورنر ہاوس تک پہنچ سکے حکومت غریبوں کو ریلیف دے گی تو وہ اپنے گھروں کو ہی گورنر ہاوس سمجھنے لگ جائیں گئے ان کے دکھوں کا مداوا ان کو سہولیات فراہم کرنے سے ہی ہو گا حکومت تو ن لیگ بھی کر رہی تھی ان کی بے شمار پالیسیاں عوامی مفاد کی تھیں اس کے باوجود عوام نے حالیہ انتخابات میں اتنی بڑی سیاسی جماعت کو بری شکست سے دوچار کر ڈالا ہے صرف اس بنا پر کہ اب عوام تبدیلی چاہتے ہیں یہ بات قابل تسلیم ہے کہ حکومت سب سے پہلے ملک پر پڑے قرضوں کا بوجھ کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن ساتھ ساتھ حکومت کی یہ بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کرتے اور عوام دوست پالیسیاں اپنائے پی ٹی آئی کو کامیاب کروانے میں نوجوانوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے صرف اس لالچ میں کہ ان کو حکومت ان کو روزگار فراہم کرے گی اگر حکومت نے اس طرف بھی کو دھیان نہ دیا تو نوجوان بھی بہت جلد مایوسی کا شکار ہو جائیں گئے ہمارے عوام فوری نتائج کے عادی ہو چکے ہیں تاخیر ناقابل برداشت بن چکی ہے بلکہ تاخیر کو وہ اپنی توقعات کی نفی تصور کرتے ہیں اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے کہ ہمارے ملک کے سرکاری اداروں کے معاملات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ ان کو سدھارنا نہایت ہی مشکل نظر آ رہا ہے ایسے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلیے حکومت کو سکت فیصلے کرنا ہوں گئے جن کیلیئے زیادہ وقت درکار ہو گا خاص طور پر پولیس نطام میں بہت ساری ااصطلاحات کی ضرورت ہے تھانوں کا نظام جس طرح پہلے تھا اب بھی ویسا ہی ہے کوئی بھی نئی چیز دیکھنے کو نہیں ملی ہے حکومت کو مہنگائی کی جانب خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہو گی اگر ایسا نہ کیا گیا تو پی ٹی آئی کو یہ بات زہن نشین کر لینی چاہیے کہ اب عوام بہت با شعور ہو چکے ہیں اور بدلہ لینا بھی جان چکے ہیں اگر وہ ن لیگ کو بری طرح مسترد کر سکتے ہیں تو پاکستان تھریک انصاف کے ساتھ بھی ایسا کر سکتے ہیں -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 143 Articles with 45386 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2018 Views: 247

Comments

آپ کی رائے