"دشت ظلمات اور ہاجرہ بے اماں "( چوتھی قسط )۔

(Mona Shehzad, Calgary)

ہم حویلی پہنچے تو رات ہوچکی تھی۔ طیب بھائی نے گھر کے بڑوں کو سجاول کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے آگاہ کیا ۔منجھلے ماموں اور ممانی تڑپ اٹھے، چھوٹے ماموں، ممانی، میری امی سب پریشان ہوگئے ۔بظاہر تو بڑے ماموں اور ممانی جان بھی بڑی فکرمندی کا مظاہرہ کررہے تھے، مگر نجانے کیوں مجھے ان کی آنکھیں اور لب ایک دوسرے سے میل کھاتے نہیں لگ رہے تھے۔ دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو بہت معنی خیز انداز میں دیکھا ،مجھے تو ان کے لب بھی ایک لحظہ کے لئے مسکراتے ہوئے لگے ، لیکن اگلے لمحے مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے سب سے زیادہ سجاول کی فکر انھیں ہی ہے۔ مجھے اپنے دماغی توازن پر شک ہورہا تھا میں نے مڑ کر دیکھا تو فیضان علی خان کو ہاجرہ کے بہت ہی قریب کھڑا پایا، وہ اس کو آہستہ آہستہ تسلی و تشفی دے رہا تھا۔فیضان علی خان کی نیلی آنکھوں میں حزن کا پہرہ تھا۔ ہاجرہ اس کے سائے میں کھڑی تھی۔ یکدم مجھے لگا کہ میں نے معمہ puzzle حل کرلیا ہے فیضان علی خان کے چہرے نے مجھے ایک انوکھے راز سے آگاہ کردیا تھا۔ فیضان علی خان بھی شہزادی پر فریفتہ تھا، مگر اس کی محبت میری جیسی تھی اس نے شہزادی کی محبت میں اپنی محبت تیاگ دی تھی۔ اچانک فیضان کی آنکھیں مجھ سے ملیں، وہ سچائی کے آشکار ہونے کا لمحہ تھا، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے فیضان کی سچائی پا لی تھی ،ایسے ہی میری حقیقت اس پر کھل گئی تھی۔ مجھے وہ تھکی تھکی بے لوث آنکھوں والا آج نجانے کیوں بہت اپنا سا محسوس ہوا۔ میں نے فورا اپنی آنکھیں اس کے چہرے سے ہٹا لیں ۔میں اپنے اوپر حیران تھی، میری کیفیت Alice کی مانند تھی ،جو کسی الوک نگری میں پھنس گئی تھی۔
میں اور ہاجرہ کمرے میں پہنچے تو ہاجرہ وضو کرکے جائے نماز پر بیٹھ گئی ، میں بھی نماز پڑھ کر لیٹ گئی ۔میں نے ہاجرہ کو آواز دی تو ہاجرہ مدہم آواز میں بولی:
بانو تم سو جاو، میں بس ابھی آتی ہوں۔
میں تھکی ہوئی تھی اس لیئے میری !آنکھ لگ گئی ۔میری رات کے کسی پہر نیند سے آنکھ کھولی تو میں نے دیکھا، کمرہ چاندنی سے بھرا ہوا تھا، ہاجرہ اب بھی سجدے میں پڑی سسک رہی تھی۔ میں بے اختیار اس کی آہ و زاری سنتی رہی۔وہ سجاول علی خان کی زندگی، صحت اس کی خوشیوں کی طلبگار تھی۔ مجھے سجاول پر رشک آنے لگا، کوئی کسی کو اتنا ٹوٹ کر بھی چاہ سکتا ہے ۔میں چاہتے ہوئے بھی اٹھ کر اس کے پاس نہ جاسکی۔ میں اس داستان عشق کے اس حیرت کدے میں حیران کھڑی تھی۔ کمرے کے کونے میں ہاجرہ ایک شمع کی طرح فروزاں تھی۔مجھے سجاول سے حسد محسوس ہونے لگا، میری شہزادی اس کے پریم میں جل رہی تھی ۔
صبح جب میں اٹھی تو ہاجرہ نکھری نکھری میرے سامنے تھی۔اس کا صبیح چہرہ ایسے ہی دھلا ہوا لگ رہا تھا ،،جیسے شبنم پھولوں کا منہ دھو دیتی ہے۔اس نے پیازی رنگ کا جوڑا پہنا ہوا تھا، اس کے لئے پیازی رنگ بنا تھا یا وہ پیازی رنگ کے لئے بنی تھی میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھی۔ میری ساحرہ نے مجھے اپنے سحر میں مکمل طور پر گرفتار کرلیا تھا۔
آج گھر کے بڑے سجاول کو دیکھنے گئے تھے ۔اگلے تین روز میں سجاول گھر آگیا۔ اس روز میں اس کی طبیعت پوچھنے اس کے کمرے میں گئی، تو کمرے سے آتی آوازوں نے میرے پاوں روک دئے ۔میں نے آہستگی سے کمرے کے اندر جھانکا، سجاول علی خان کے ہاتھوں میں ہاجرہ کا ہاتھ تھا، ہاجرہ اس سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ وہ اس کا ہاتھ چھوڑ دے ،کوئی دیکھ لیگا ۔
سجاول بے اختیار زور سے ہنسا اور بولا :
ہاجو! میں تو چاہتا ہوں کہ کوئی دیکھ لے اور تجھے میرے نام کردے۔
میرے دل کی دھڑکنیں تیز اور بے ترتیب ہونے لگیں، میری ہتھلیاں پسینے سے تر ہوگئیں، میرے دل نے دہائی ڈالی ہائے بانو کاش سجاول علی خان نے تجھے اس پیار سے مانگا ہوتا۔ میرا روم روم چیخا میں اپنا آپ اس پرنثار کردیتی ،میں اپنا آپ سنبھال کر مڑی تو میری زوردار ٹکر فیضی سے ہوگئی ۔فیضان علی خان کی نیلی آنکھوں میں دھند چھائی ہوئی تھی، اس نے بھی وہ منظر دیکھ لیا تھا جس کو میں دیکھ کر بھاگنا چاہتی تھی۔ وہ بے اختیار ہی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر دالان میں لے آیا۔ میں ایک معمول کی طرح اس کے ساتھ کھنچتی چلی آئی۔ وہ منقش جھولے پر گر سا پڑا۔ میں آہستگی سے اس کے قریب بیٹھ گئی ۔وہ لمبا چوڑا سجیلا شخص رو رہا تھا ۔وہ بے اختیار بولا:
"بانو میں اس سے زندگی سے زیادہ پیار کرتا ہوں ،مگر وہ مجھے نہیں اسے چاہتی ہے۔وہ ایک عاقبت نا اندیش شخص ہے ،وہ ہاجرہ کی قدر نہیں کرسکے گا۔مگر ہاجرہ اسی کے عشق میں پاگل ہے۔"
میں نے بے اختیار ہی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا،اس وقت وہ مجھے ایک چھوٹا سا ضدی سا بچہ لگ رہا تھا، جو اپنا کھلونا نہ ملنے پر شور کررہا تھا ۔
میں نے اس کو پکارا:
"فیضی! تم مجھے اہمیت دے کر ہاجرہ کو جیلس کرنا چاہ رہے تھے ۔"
فیضی نے آنکھیں اٹھائیں اور اثبات میں سر ہلایا ۔
میں نے اسے مخاطب کیا اور کھوئے کھوئے لہجے میں کہا :
"فیضی ! ضروری تو نہیں کہ ہم جس کی محبت میں گرفتار ہوں وہ ہم سے بھی محبت کرے۔"
فیضان علی خان بے اختیار ہی ہنس پڑا اور بولا :
"بانو بی بی تم بھی شہزادے کی وجاہت کے جال میں پھنس گئ، وہ شہزادہ نہیں ہے بانو !
وہ تو ظالم جادوگر ہے۔ میں بھی اس جادوگر کی دوستی کے جال میں پھنسا ہوا ہوں۔"
میری فیضی سے نظریں ملیں، تو نجانے کیوں مجھے اس کا اور اپنا غم مشترک لگا۔ مجھے ایسے لگا جیسے میری آنکھیں اس کی روح کے دریچے میں جھانکنے میں کامیاب ہوگئیں ہیں ۔ میں مسکرائی اور بولی :
"چلو ! فیضان علی خان ! محبت کے پرندے کو آزاد کردیتے ہیں ۔دیکھتے ہیں کہ یہ کس منڈیر پر جاکر بیٹھتا ہے ۔محبت کرنے پر کسی کا زور نہیں اور نہ کوئی کسی کو اپنی محبت قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔یہ تو رب کی عطا ہے ،رب کی مہر ہے۔تو چلو رب سے لو لگا کر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے پاس سے محبت کا تحفہ عطیہ کردے"
فیضان علی خان نے تعجب سے میری جانب دیکھا اور بولا:
"بانو جو محبت ہم نے ان سے کی ہے اس کا کیا؟"
میں بے خودی میں بولی:
"محبوب کی خوشی میں ہماری خوشی ہے۔ارے پاگل جس دل میں پہلے ہی دیہ جل رہا ہے وہاں دیہ جلانے کا فائدہ ۔ دیہ تو ادھر جلاو جدھر اماوس کی تاریکی ہے۔"
میں اپنی بات سن کر خود حیران تھی،عشق کی الوک نگری نے بانو کو کیا سے کیا بنا دیا تھا۔میں پاکستان آتے وقت انیس سال کی ایک کھلنڈری، الھڑ دوشیزہ تھی اور اب میں کیا بن گئی تھی ۔میں نے دیکھا فیضان کے چہرے کا ملال ختم ہوگیا۔وہ ایک نئے عزم سے کھڑا ہوا اور بولا :
شکریہ! بانو تم نے مجھے بھٹکنے سے بچا لیا۔
آنے والے دنوں میں سجاول، امی ،فیضی اور میں واپس لاہور آگئے۔سجاول لاہور NCA سے ڈگری لے رہا تھا، جب کہ فیضان LUMS سے ایم بی اے کررہا تھا۔ ماموں اور ممانی جان اپنی سیاست میں گم تھے۔امی ماموں جان کے آس پاس گھر دیکھتی پھرتی تھیں ۔میں نے بھی NC A سے پینٹنگ ڈپلوما شروع کرلیا۔ اس دن میں کالج کی سیڑھیاں اتری تو مجھے سجاول علی خان کچھ لڑکیوں کے نرغے میں گھرا نظر آیا،اس کے ہاتھ ایک لڑکی کے کندھے پر تھا، مجھے بالکل اس کی یہ بے باکی پسند نہیں آئی۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ عقدہ کھلا کہ ہر چمکدار شئے سونا نہیں ہوتی۔ سجاول علی خان لڑکیوں کا شکاری تھا۔میں روز یونی میں اسے نت نئ لڑکیوں کے ساتھ گھومتے دیکھتی ،میرے پوچھنے پر وہ ان کو کلاس فیلو قرار دیتا۔
سردیوں کا آغاز تھا، ماموں، امی اور ممانی کو لے کر مری گئے ہوئے تھے ،میں اپنے پراجیکٹ کے باعث ان کے ساتھ نہ جا پائی ،اتفاق سے فیضان بھی ہاسٹل سے کچھ روز کے لئے ماموں کے گھر آیا ہوا تھا اس روز میں نماز کے لئے اٹھی ، میں اکثر باغ میں نماز پڑھتی تھی اب بھی اگرچہ ہلکی سی سردی شروع ہوگئی تھی مگر میں صبح کی نماز باہر ہی پڑھ رہی تھی اس روز جب ،میں نماز پڑھ کر گھر کے اندر داخل ہوئی اور راہداری میں پہنچی تو میں نے ٹینا کو سجاول علی خان کے بیڈ روم سے نازیبا کپڑوں میں ملبوس نکلتے دیکھا ،اس کی چال بتا رہی تھی کہ وہ نشے میں دھت ہے۔ اسی وقت میری نظر فیضی پر پڑی ،وہ شاید ابھی ابھی مسجد سے نماز پڑھ کر آیا تھا ۔میں نے دیکھا کہ اس کی نیلی آنکھوں میں ایک طوفان کروٹیں لے رہا تھا،اس نے اس زور سے دانت بھینچے ہوئے تھے کہ اس کی کنپٹی کی رگیں نیلی ہوکر ابھر آئی تھیں ۔وہ طیش میں سجاول علی خان کے کمرے کی طرف لپکا ،میں بھی اس کے پیچھے انجانے میں بھاگ پڑی ۔اس نے سجاول کے کمرے کا دروازہ کھولا اور دہاڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔میں اس کے پیچھے پیچھے لپکی، کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی بدبو کا بھبھکا میری سانسوں سے ٹکرایا۔ کمرے میں ام الخبائث کی بوتلیں بکھری پڑی تھیں، پلے بوائے اور دیگر میگزین کا ڈھیر تھا۔بستر پر سجاول ایک بدمست ہاتھی کی طرح پڑا ہوا تھا۔ٹی وی پر ایک انتہائی مخرب الاخلاق فلم چل رہی تھی۔اسی وقت باتھ روم سے ایک اور لڑکی ناگفتہ حالت میں برآمد ہوئی ۔فیضان کو جب احساس ہوا کہ میں اس کے پیچھے ہی کھڑی ہوں وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا مجھے باہر لے آیا۔ میری سانس رک سی گئی تھی، میری آنکھوں کے آگے نیلے ،پیلے دھبے ناچ رہے تھے ، میرا سر بری طرح چکرا رہا تھا۔میری ٹانگیں شل ہوچکی تھیں ۔مجھے نہیں پتا چلا کہ کب میں بھربھری مٹی کی طرح فرش پر ڈھیر ہوگئی۔میری بند آنکھوں نے فیضان کو میری جانب لپکتے دیکھا۔
آگے کیا ہوا، پڑھتے ہیں اگلی قسط میں ۔
(باقی آئندہ ☆☆☆)۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175561 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
24 Sep, 2018 Views: 388

Comments

آپ کی رائے