پھلدار پودوں کو کاٹ دینے کی ایک بری روایت

(Amjad Siddique, Lahore)

بھارت اور پاکستان کے درمیان یکا یکی جو محازآرائی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اس نے سرحد کے دونوں طرف کے عوام میں سخت تشویش پیداکردی ہے۔اگر چہاپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ،اس طرح کی صورت حال ہر دوسرے تیسرے سال پیدا ہوتی رہتی ہے اس کے باوجود جنگ کا لفظ ہی اتنا خوف ناک ہے کہ عام آدمی دہل کررہ جائے۔ان دنوں پھر سے جنگ کی باتیں ہورہی ہیں۔دونوں ممالک ایک دوسرے کو خرابیوں کا مرکز قراردے رہے ہیں۔دونوں طرف کے دفاعی ؂ادارے ایک دوسرے کو دھمکارہے ہیں۔اپنی اپنی برتری کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔میڈیا میں بیٹھے بات کرنے کے ڈھنگ سے آشنا لوگ بھرپور کاریگری کررہے ہیں۔صورت حال بڑی پریشان کن ہے۔مگراب تک کا حساب دیکھنے کے بعد خیال ہے کہ جلد ہی یہ مصنوعی بحران دم توڑ جائے گا۔کچھ دن جاری رہنے کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا حالات نارمل ہوجائیں گے اس سے پہلے بھی بارہا ایساہوتارہا ہے۔دسمبر 1971کے بعد سے کوئی باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی۔البتہ ان 47سالوں میں اس طرح کی زبانی جنگیں وقفے وقفے سے ہوتی رہی ہیں۔بات یہ ہے کہ دونوں طرف آپسی اختلافات کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے موجود ہیں۔جو شورشرابہ کرکے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔بھارت میں جب بھی الیکشن ہوئے۔یا کسی حکمران جماعت کو کوئی بحران درپیش ہوا۔اس نے یہ ہتھیار استعمال کیا۔پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کبھی ناکام نہیں ہوا۔الیکشن میں جس پارٹی نے پاکستان کو زیادہ بر ا بھلا کہا اسے پزیرائی ملی۔بھارتی عوام پاکستان سے متعلق منفی پراپیگنڈ ے پر خوش ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں بھی بھارت مخالفت پراپیگنڈے کی بڑی اہمیت ہے۔کچھ لوگ قصداً بھارت کو ہوابنا کرپیش کرتے رہتے ہیں۔منشاء یہی ہوتا ہے کہ بھارت سے متعلق عوام میں جس قدر زیادہ نفرت ممکن ہو پیدا کی جائے۔اس نفرت کی ؂آڑمیں کچھ لوگوں کی روٹی ووزی کا بہانہ نکل آتاہے۔ان کی اہمیت بڑھتی ہے۔اگر پاک بھارت تعلقات میں دوستانہ نہ سہی صرف نارمل تعلقات ہی قائم ہوجائیں تو سرحد کے دونوں طرف کے کچھ لوگوں کی من گھڑت کہانیوں کی سیل بالکل بند ہوجائے گی۔
ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم جیل سے رہا ہوچکے۔خیال کیا جارہا تھا کہ جیل سے باہر آتے ہی وہ کوئی زلزلہ لے آئیں گے۔حکومت پر اتنی چڑھائی ؂کی جائے گی کہ اس کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں۔خلائی مخلوق کو آڑے ہاتھ لیا جاائے گا۔وہ اپنے خلا ف کی گئی سازش کو بے نقاب کریں گے۔ایسا کچھ ہونہیں پایا۔وہ جیل سے باہر آنے کے بعد سے بالکل خاموش ہیں۔نہ کوئی زلزلہ آیانہ کوئی ہنگامہ برپا ہوسکا۔قوم میاں صاحب کی خاموشی سے مایوس ہے۔یہ خاموشی کچھ لوگوں کے منفی پراپیگنڈے کا سبب بھی بن رہی ہے ۔لیگی قیادت سے متعلق بدگمانیاں پیدا کی جارہی ہیں۔کہا جارہا ہے کہ ان کی زبان بندی کی گئی ہے یا یہ کہ وہ کسی ڈیل کے نتیجے میں جیل سے باہر آئے۔یہ شوشہ بھی چھوڑا جارہا ہے کہ وہ عن قریب وطن سے باہر چلے جائیں گے۔ملکی سیاست میں انہیں کوئی مؤثر رول ادا کرنے نہیں دیا جائے گا۔ان کی سیاست کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکاہے وغیرہ وغیرہ۔سوال یہ ہے کہ آخر اس بری پریکٹس کا انجام کیا ہوگا؟ ہم کب تک پھلدار پودوں کو کاٹتے رہیں گے؟ کب تک گھاس پھونس کی آبیاری کی جاتی رہے گی۔ نوازشریف ایک تجربہ کار ۔مقبول اور مخلص لیڈر ہیں۔انہیں سیاست سے زور وجبرکے ساتھ بے دخل کردیا جاتاہے تو یہ کہاں کی عقلمندی ؂ہوگی۔قومیں اپنے لیڈران کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں آسانیاں مہیا کرتے ہیں۔ان کا خیال رکھا جاتاہے۔ہم الٹا اپنی قیادت کا گلا گھونٹے کی بری پریکٹس اپنائے ہوئے ہیں۔نواز شریف ایک مخلص اور محب وطن لیڈر ہیں۔ان کی حکومت جب بھی آئی ملک میں میگا پراجیکٹس شروع ہوئے۔ٹیلی کمنی کیشن ہو یابجلی گیس کے منصوبے آپ کو نوازشریف دور میں زیادہ تیزی نظر آئے گی ۔سڑکوں ، پلوں۔اور موٹر ویز کا جال نوازشریف دور کی پہچان رہے ہیں۔ان کی قابلیت اور حب الوطنی کے سبب عالمی برادری ان کے دو رمیں پاکستان میں خصوصی توجہ دیتی ہے۔یہاں مثالی سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔آپ ایسے عظیم قائد کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کرکے ریاست سے زیادتی کرنا چاہتے ہیں۔آپ کا جبر اور زور مسلم ہے۔آپ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کردکھانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ نوازشریف کے معاملے میں یہ زور اپنا اثر دکھا چکا۔جس طرح ایک شخص کو پاکستان کا سب سے بڑا چور قراردے دیا گیا۔وہ آپ کی قدرت کا ثبوت ہے۔اگر آج اسلام آباد ہائی کورٹ سے وہ بریت پاچکے تو اس میں کسی کو حیرانگی نہیں ہورہی ۔جس بے ڈھنگے پن سے سارا ٹبر چو ر ہے کہ کھیل کھیلا گیا تھا۔اسکا انجام ایسا ہی ہونا تھا۔ کوئی بھی غیر جانبدار عدالت اس سزا کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں پھینک دیتی۔سوال یہ ہے کہ آخریہ بری پریکٹس آخر کب تک چلے گی؟۔ایک شخص کو آپ نے پہلے وزارت عظمیٰ سے نکالا ۔پھر اسے پارٹی سے آؤٹ کیا۔اسی پر بس نہیں کیااسے جیل میں ڈال دیاگیا، ایسے تمام جانثاران جو اس کے ہم خیال تھے ۔ چن چن کر زیر عتا ب لائے گئے۔کسی کو الیکشن میں ہروایاگیا۔کسی کو جیل بھجوایا گیا۔کوئی متواتر دھکایا جاتارہا۔آپ کا زور اور غلبے پر کسی کو شک نہیں۔ نوازشریف کو وطن سے باہر بھی بھجوایا جاسکتاہے اس کی زبان بندی بھی کوئی مشکل کام نہ ہوگا۔۔مگر یہ سب آخر کب تک چلے گا؟ بھار ت صد فی صد جھوٹا ہونے کے باوجود عالمی برادری کی آنکھ کا تارہ ہے ۔اور ہم اتنا کچھ کرنے کے باوجود غیر معتبر اور نکمے قرار پارہے ہیں۔لاقانونیت ار آئین شکنی کی پریکٹس ہمیں ایک غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دار قوم کا لیبل لگوارہی ہے۔دنیا ہم پر اعتبار نہیں کرتی ۔ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔اور ہم ہیں کہ اپنی اصلاح پر آما دہ نہیں۔ہم اپنے تجربہ کار اور اچھے لوگوں کا گلا گھونٹنے میں لگے ہیں۔ہمیں بے ایمان اور اناڑی زیادہ پسند ہیں۔یہ عجب منطق جگ ہنسائی کا سبب بن رہی ہے۔۔حقیقی اور مقبول قیادت کو جب تک ہم دیوار سے لگاتے رہیں گے۔اقوام عالم کی توجہ نہیں پاسکتے۔عالمی برادری سے شاکی رہنے کی بجائے بہتر ہوگاہم اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 66048 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Sep, 2018 Views: 235

Comments

آپ کی رائے