مومن کی صفتِ عظیم غصہ کو پی جانا

(Pir Muhammad Tabasum, Narowal)

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اپنے جلال و جمال کا مظہر بنایا ہے ۔ دونوں صفات اعتدال پر ہوں تو انسان اشرف المخلوقات ورنہ جلال یعنی غصہ حد سے بڑھ جائے تو باعث ندامت بن جاتا ہے ۔ غصہ کے ہمیشہ انسان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ندامت و شرمندگی کا اس کو سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ افراد معاشرہ میں نفر ت جنم لیتی ہے ۔ جبکہ صبر و حلم اور غصہ کو پی جانا عزت ،اچھی شہرت اور نیک نامی کا باعث بنتا ہے ۔ آج کل معاشرہ کو غصہ عروج پر ہے اور ہر کوئی چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی شخص غصہ سے بھرا پڑا ہے ۔ معاف کرنا ،درگزر کرنا اور غصہ کا پی جانا جیسے ہمارے معاشرے سے اٹھالیا گیا ہو ۔انہی سخت حالت کے پیش نظر فقہیہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اﷲ علیہ کی مایہ ناز تصنیف تنبیہ الغافلین سے اکتباس فیض کر کے نظر قارئین یہ مضمون کیا جاتا ہے ۔

غصہ کا علاج اور اس کی رو سے بہترین اور بد ترین لوگ:فقیہ ابو للیث سمر قندی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔کہ ’’غصہ آگ کی چنگاری ہے ۔تم میں سے جو شخص اسے محسوس کرے اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے ۔‘‘

حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ ﷺ کا یہ ارشاد مبارک بھی نقل کرتے ہیں کہ :’’غصہ سے بہت بچتے رہو کہ وہ ابن آدم کے دل میں آگ پیدا کرتا ہے ۔‘‘کبھی دیکھا ہے کہ جب کسی کو غصہ آتا ہے تو اس کی آنکھیں کیسی سرخ ہو جاتی ہیں اور رگیں کیسے پھولنے لگتی ہیں؟ جب تم میں سے کسی کو یہ صورت پیش آئے تو اسے لیٹ جانا چاہیے اور مناسب ہے کہ زمین کے ساتھ چمٹ جائے ۔ نیز ارشاد فرمایا کہ تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو جلدی غضب ناک ہو جاتے ہیں اور جلدی ان کا غصہ فرو ہو جاتا ہے ۔یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کا بدل بن جاتی ہیں ۔اور کچھ لوگ ہیں جنہیں غصہ دیر سے آتا ہے مگر زائل بھی دیر ہی سے ہوتا ہے ۔یہاں بھی ایک با ت دوسری کا بدل بن گئی ۔اور تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جنہیں غصہ دیر سے آتا ہے مگر جلدی زائل ہو جاتا ہے اور بد ترین وہ لوگ ہیں جنہیں غصہ بہت جلد آتا ہے اور بہت دیر سے جاتا ہے ۔

غصہ کو پی لینے کی فضیلت اور اس کے واقعات :حضرت ابو امامہ باہلی رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غصہ کو پی جائے حالانکہ وہ اس کے تقاضے کو پورا کر سکتا تھا مگر پھر بھی دبا گیا تو اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رضا سے بھر دے گا۔

کہتے ہیں کہ انجیل میں یہ بات لکھی ہوئی ہے ’’اے ابن آدم! تو اپنے غصے کے وقت مجھے یاد کر، میں اپنے غصے کے وقت تجھے یاد کروں گا۔ اور تو اپنے لئے میری نصرت پر راضی ہو جا کہ یہ تیرے لئے تیری نصرت سے کہیں بہتر ہے ۔ منقول ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اﷲ علیہ نے ایک آدمی کو جس نے آپ کو ناراض کیا تھا یوں کہا کہ اگر تو نے مجھے غضب ناک نہ کیا ہوتا تو میں تجھے سزا دیتا ۔ اس قول میں والکاظمین الغیظ۔ کی طرف اشارہ ہے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے ایک مدہوش آدمی کو دیکھا ۔ارادہ کیا کہ اسے پکڑ کر نشہ پینے کی سزا دیں کہ اس نے آپ کو گالی دی ۔ آپ نے چھوڑ دیا ۔ عرض کیا گیا امیر المومنین کیا وجہ ہے کہ اس نے گالی دی اور آپ نے چھوڑ دیا ۔؟ فرمایا اس کی گالی پر مجھے غصہ آگیا ۔اب اگر میں اسے سزادوں گا تو میرے ذاتی غصہ کا دخل بھی اس میں شامل ہو گا اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کسی مسلمان کو اپنے ذاتی غصہ کی وجہ سے سزا دوں۔

کہتے ہیں کہ میمون بن مہران رحمۃ اﷲ علیہ کی باندی شور بالئے جا رہی تھی ۔پاؤں اکھڑ گیا اور شوربا میمون پر گرا ۔میمون نے اسے مارنا چاہا ۔ باندی نے عرض کیا آقا ! والکاظمین الغیظ پر عمل کیجئے ۔کہنے لگے بہت اچھا ۔باندی نے عرض کیا اور اس کے بعد والے کلمہ والعافین عن الناس پر بھی غور کیجئے ۔کہنے لگے بہت اچھا !میں نے معاف کر دیا ۔باندی پھر عرض کرنے لگی کہ حضور ! اس سے آگے واﷲ یحب المحسنین بھی تو ہے ۔ میمون نے کہا میں احسان بھی کرتا ہو ں ۔جا! تو اﷲ کیلئے آزاد ہے ۔
تین خصلتوں کے بغیر ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوتی:رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد عالی ہے جس میں تین خصلتیں نہیں وہ ایمان کی حلاوت نہیں پاسکتا۔ 1۔۔۔ایسی بردباری جس سے کسی کا علاج ہو سکے۔ 2۔۔۔ایسا تقویٰ جو اسے حرام سے روک سکے ۔
3۔۔۔ایسا خلق جس سے لوگوں کو گرویدہ کر سکے۔

صبر اور حلم کی فضیلت:بعض متقدمین میں سے ایک کا ذکر ہے کہ اس کے پاس ایک گھوڑا تھا جو اسے بہت پسند تھا۔ ایک دن آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھوڑا تین ٹانگوں پر کھڑا ہے ۔غلام سے پوچھا یہ کس کا کام ہے ۔اس نے جواب دیا کہ یہ میں نے ہی کیا ہے ۔پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا اس لئے کہ تجھے صدمہ اور تکلیف پہنچے۔ کہنے لگے بس! میں بھی اسے یعنی شیطان کو غم پہنچاؤں گا جس نے تجھے اس کام پر لگایا ۔جا ! تو آزاد ہے اور یہ گھوڑا بھی تیری ملک ہے ۔

صبر اور حلم کا ثمرہ:فقیہ ابو للیث سمرقندی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو حلم اور صبر والا ہونا چاہئے کہ یہ متقی لوگوں کی عادات میں سے ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلم والوں کی تعریف فرمائی ہیں ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جسے اپنانے والوں کو ثواب دیا جاتا ہے اور وہ اجر عظیم پاتے ہیں۔(القرآن)یہ صفت اختیار کرنے سے تیرا دشمن بھی قریبی دوست بن جائے گا۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مدح میں صفت حلم کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے :’’واقعی ابراہیم بڑے حلیم الطبع ،رحیم المزاج اور رقیق القلب تھے۔‘‘(القرآن)حلیم درگزر کرنے والے کو کہتے ہیں اور منیب وہ شخص ہے جو اﷲ تعالیٰ کی اطاعت پر لگا رہے ۔ اور اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کو بھی صبر اور حلم کی تلقین فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ انبیاء سابقین بھی اسی صفت پر قائم تھے آپ بھی اسی پر چلیں:’’کفار کی ایذا اور تکذیب پر اسی طرح سے صبر اختیار کیجئے جیسا کہ ان انبیاء کرام نے صبر کیا جنہیں کفار کے ساتھ جہاد کا حکم دیا گیا تھا۔‘‘(القرآن)

اولوالعزم ایسے لوگوں کو کہتے ہیں جو کسی بات پر ثابت قدم رہتے ہیں اور جم جاتے ہیں۔حسن رحمۃ اﷲ علیہ کہتے ہیں:’’اور جب جہلاء ان سے جہالت کی بات کرتے ہیں تو وہ رفع شر کی بات کرتے ہیں۔‘‘ ان کا یہ قول حلم کی وجہ سے ہے اور لوگ اگر ان کے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں تو وہ بردباری دکھاتے ہیں ۔

ایک عابد کا قصہ:وہب بن منبہ رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا ۔شیطان نے اسے بہکانا چاہا مگر کامیاب نہ ہوا۔عابد ایک دن کہیں باہر گیا ۔شیطان بھی اس تاک میں اس کے ساتھ ہو لیا کہ شاید کوئی موقعہ ملے ۔چنانچہ شہوت اور غضب کے ذریعہ اسے بہکانا چاہا مگر ناکام رہا ۔پھر ڈرانے کی صورت اختیار کی اور پتھر کی ایک چٹان اس کے سر کے قریب کر دی ۔عابد نے اﷲ کا نام لیا وہ دور ہٹ گئی ۔ پھر یہ شیر اور درندوں کی شکلوں میں ظاہر ہونے لگامگر عابد اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں لگا رہا اور ادھر دھیان تک نہ کیا ۔ پھر اس نے ایک سانپ کی شکل بنائی ۔عابد نماز پڑھتا تھا یہ اس کے پاؤں سے لپٹنے لگا حتیٰ کہ جسم پر سے ہوتا ہوا سر تک پہنچ گیا ۔ وہ سجدہ کا ارادہ کرتا یہ اس کے چہرہ پر لپٹ جاتا ۔وہ سجدہ کیلئے سر جھکاتا یہ لقمہ بنانے کیلئے منہ کھول دیتا مگر وہ اسے ہٹا کر سجدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔نماز سے فار غ ہوا تو شیطان کہنے لگا کہ یہ سب حرکتیں تیرے ساتھ میں نے ہی کی ہیں مگر میں کسی میں بھی کامیاب نہ ہو سکا ۔ اب تو میرا ارادہ ہے کہ تیرے ساتھ دوستی لگالوں اور آج کے بعد تجھے بہکانے کا خیال تک بھی دل میں نہ لاؤں۔عابد نے کہا ہر گز نہیں ! اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ نہ تو پہلے تیرے ڈرانے پر مجھے کوئی خوف ہوا اور نہ ہی آج تیری دوستی کی مجھے حاجت ہے ۔شیطان کہنے لگا کہ اپنے اہل و عیال کا حال مجھ سے پوچھ کہ تیرے بعد ان پر کیا گزرے گی۔ عابد نے جواب دیا کہ میں تو اس وقت مر چکا ہوں گا۔ شیطان کہنے لگا کہ پھر یہی پوچھ لے کہ میں بنی آدم کو کیسے گمراہ کرتا ہوں؟عابد نے کہا یہ بتا دے کہ انہیں گمراہ کرنے میں تو کیسے کامیاب ہوتا ہے ؟ کہنے لگا تین چیزوں سے :بخل سے ،غصہ سے اور مدہوشی سے ۔ایک انسان جب بخیل ہو تا ہے تو ہم اس کا مال اس کی نگاہوں میں قلیل دکھاتے ہیں جس سے وہ حقوقِ واجبہ میں صرف کرنے سے رک جاتا ہے ۔اور لوگوں کے مال میں رغبت کرنے لگتا ہے اور جب کوئی آدمی غصہ کا مریض ہوتو ہم اسے اپنی جماعت میں یوں گھماتے اور چکر دیتے ہیں جیسے بچے کھیل کے دوران گیند کو ادھر ادھر پھینکتے اور گھماتے ہیں ۔ایسا شخص خواہ اپنی دعاؤں سے مردوں کو زندہ کرنا بھی جانتا ہو مگر ہم اس سے مایوس نہیں ہوتے ۔ وہ جو چاہے بنا لے ،ہم ایک ہی کلمہ سے اسے بگاڑ دیں گے اور جب کوئی شخص مدہوش ہوتا ہے تو ہم اسے ہر برائی کی طرح پکڑ کر یوں لے جاتے ہیں جیسے کوئی بکری کو کان سے پکڑ کر جہاں چاہے لے جائے۔

فائدہ:اس گفتگو میں شیطان نے یہ بات بتائی ہے کہ غضب ناک آدمی شیطان کے ہاتھ میں یوں ہوتا ہے جیسے گیند بچوں کے ہاتھ میں لہٰذا غصہ والے شخص کو چاہیے کہ صبر و تحمل سے کام لے تاکہ شیطان کے ہاتھوں اسیر نہ ہو اور وہ اس کے اعمال کو ضائع کر کے رکھ دے ۔

موسیٰ علیہ السلام سے ابلیس کی درخواست: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں ابلیس آکر کہنے لگا کہ آپ کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی رسالت کیلئے منتخب فرمایا ہے اور ہم کلامی کا شرف بخشا ہے اور میں بھی اﷲ تعالیٰ کی مخلوق کا ایک فرد ہوں تو بہ کا ارادہ رکھتا ہوں۔آپ اﷲ تعالیٰ سے درخواست کریں کہ وہ میری توبہ قبول فرمالے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت ہی خوش ہوئے ۔پانی منگوا کر وضو کیا ۔حسب توفیق کچھ نماز پڑھی پھر دعا کرنے لگے کہ یا اﷲ !ابلیس بھی تو تیری ہی مخلوق میں سے ہے ۔وہ توبہ کی درخواست کرتا ہے ،قبول فرما لے ۔جواب ملا اے موسیٰ! وہ تو بہ کرنے والا نہیں ۔عرض کی یا اﷲ ! وہ تو درخواست کرتا ہے ۔وحی آئی اے موسیٰ ! اسے کہو کہ آدم(علیہ السلام ) کی قبر کی طرف سجدہ کر دے ، اس کی توبہ قبول ہو جائے گی ۔ موسیٰ علیہ السلام خوش خوش واپس ہوئے اور ابلیس کو ماجرا سنایا ۔لعین سنتے ہی غضب ناک ہو گیا ۔ اکڑ کر کہنے لگا وہ زندہ تھا تو میں نے سجدہ نہ کیا ،اب جب کہ مرچکا ہے تو اس کی قبر کو سجدہ کیسے کروں؟ پھر کہنے لگا اے موسیٰ !چونکہ آ پ نے اپنے رب کے ہاں میری سفارش کی ہے ،اس کی حق ادائیگی کیلئے میں آپ کو تین باتوں کی تاکید کرتا ہوں،مجھے تین موقعوں پر یاد کر لیا کریں۔
۱۔ جب کبھی غصہ آئے تو مجھے یاد کریں۔میں آدمی کے قلب میں یوں گردش کرتا ہوں جیسے خون گردش کرتا ہے ۔۲۔ کبھی دشمن کی اکثریت سے سامنا ہو جائے تو مجھے یاد کریں۔میں ایسے وقت میں انسان کے پاس آکر بیوی ،بچے اور مال و دولت کی یاد دلاتا ہوں حتیٰ کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ۔
۳۔ ایسی عورت کے ساتھ علیحدگی کرنے سے بچو جو تمہاری محرم نہیں کیونکہ اس وقت میں دونوں کے درمیان قاصد بن جاتا ہوں۔(تنبیہ الغافلین)

آدمی کی پرکھ:جناب لقمان حکیم رحمۃ اﷲ علیہ سے منقول ہے کہ اے بیٹے!تین شخص تین موقعوں پر پرکھے جاتے ہیں،حلیم و بردبار آدمی غصہ کے وقت، بہادر آدمی لڑائی کے وقت اور بھائی احتیاج کے وقت ۔ روایات میں ہے کہ ایک تابعی کی ایک آدمی نے ان کے سامنے تعریف کی ۔یہ کہنے لگے اے اﷲ کے بندے ! تو نے میری تعریف کس وجہ سے کی ہے ؟ کیا تو نے مجھے غصہ کی حالت میں بردبار پایا ہے ؟ کہنے لگا نہیں ۔ کہا تو کیا تونے کسی سفر میں میرا تجربہ کیا ہے اور مجھے اچھے اخلاق والا دیکھا ہے ؟ وہ بولا نہیں ۔کہنے لگے تو کیا پھر کوئی امانت رکھ کر میرا تجربہ کیا ہے اور مجھے امین پایا ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا نہیں ۔فرمانے لگے پھر تو بہت افسوس کی بات ہے ۔کسی شخص کو دوسرے کی تعریف اس وقت تک زیبا نہیں جب تک ان تین باتوں میں اس کو پرکھ نہ لے ۔

اہل جنت کے اخلاق:تین باتیں اہل جنت کے اخلاق میں سے ہیں اور کسی عظیم انسان میں ہی پائی جاتی ہیں۔کسی کے ظلم پر اس سے درگزر کرنا۔جو محروم رکھے اس کو عطا کرنا۔جو برائی کرے اس سے بھلائی کرنا۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے :’’سرسری برتاؤ قبول کر لیا کیجئے اور نیک کام کی تعلیم کر دیا کیجئے اور جاہلوں سے کنارے ہو جایا کیجئے۔‘‘(القرآن)حدیث شریف میں ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اﷲ ﷺ نے جبرئیل علیہ السلام سے اس کی تفسیر پوچھی ۔ وہ کہنے لگے پوچھ کر بتاؤں گا۔ چنانچہ کچھ وقفہ کے بعد آئے اور کہا کہ اے محمد (ﷺ)!اﷲ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ جو قطع تعلق کرے اس سے جوڑ پیدا کرو،جو تجھے محروم کرے اسے عطا کرو ،جو ظلم کرے اس سے درگزر کرو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ایک آدمی نے برا بھلا کہا ۔حضور اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ۔ چپ رہے اور ابو بکر رضی اﷲ عنہ اُٹھ کر چل دئیے ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو چپ تھا تو فرشتہ تیری طرف سے جواب دیتا تھا اور جب تو نے بولنا شروع کیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آبیٹھا اور مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ میں کسی مجلس میں شیطان کا ہم نشین بنوں ۔پھر آپ ﷺ نے ارشا د فرمایا کہ تین چیزیں بالکل بر حق ہیں۔
۱۔ جس بندے پر کوئی ظلم ہوتا ہے اور محض اﷲ کی رضا کیلئے معاف کر دیتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے باعث اس کی عزت بڑھادیتاہے۔
۲۔ اور جو بندہ مال اکٹھا کرنے کیلئے کو سوال کادروازہ کھولتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اسے اور زیادہ احتیاج میں مبتلا کر دیتا ہے۔
۳۔ جو بندہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کیلئے کوئی عطیہ دیتا ہے تو اﷲ اس کی برکت سے اسے کثرت (فراخی) عطا فرماتا ہے۔

بد ترین لوگ:حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں بد ترین لوگوں کی نشاندہی نہ کردوں؟صحابہ کرام علیم الرضوان نے عرض کیا ضرور کریں۔ارشاد فرمایا جو شخص اکیلا کھائے اور اپنی نفع رسانی کو روک لے اور اپنے غلام پر کوڑے برسائے ۔پھر ارشاد فرمایا کیا ان میں سے بھی بد ترین شخص بتاؤں؟ عرض کیا گیا ارشاد فرمائیے ۔ فرمایا وہ شخص جو لوگوں سے بغض رکھتا ہے اور لوگ اس سے بغض رکھتے ہیں۔پھر ارشاد فرمایا اس سے بھی بد ترین آدمی بتلاؤں؟ عرض کیا گیا بتلائیے ۔ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی کی لغزش کو معاف نہیں کرتا اور کوئی معذرت قبول نہیں کرتا اور کسی کو کوئی جرم نہیں بخشتا ۔پھر فرمایا اس سے بھی بد ترین آدمی بتاؤں عرض کیا گیا بتائیے ۔ارشاد فرمایا کہ جس شخص سے کسی خیر کی امید نہ ہو اور اس کے شر سے کسی کو امن نہ ہو ۔(تنبیہ الغافلین)

زہد کی صورتیں:کسی دانا کا قول ہے کہ دنیا سے بے رغبتی کی چار صورتیں ہیں۔ اول اﷲ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کے بارے میں جو وعدے فرمائے ہیں۔ان پر اعتماد و یقین پیدا کرنا۔ دوسرے یہ کہ لوگوں کی تعریف و تحسین اور مذمت و برائی یکساں محسوس ہونے لگے ۔تیسرے اپنے عمل میں اخلاص پیدا ہو جائے ۔چوتھے ظلم کرنے والوں سے درگزر کرنے لگے ،اپنے مملوک غلاموں پر غضب ناک نہ ہو اور صبر و حلم اختیار کرے۔

نافع کلمات:حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے انہیں کہا مجھے ایسے کلمات سکھائیے جن سے اﷲ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے ۔ابودرداء رضی اﷲ عنہ فرمانے لگے میں تجھے ایسے کلمات سکھاؤں گا کہ جو بھی ان پر عمل کرے گا ﷲ تعالیٰ ان کی برکت سے اس کے درجات بلند فرمائے گا۔
۱۔ ہمیشہ پاکیزہ مال کھائیں ۲۔ اﷲ تعالیٰ سے یومیہ رزق کی درخواست کرتے رہیں۔ ۳۔ اپنے آپ کو مردہ لوگوں میں شمار کریں۔
۴۔ اپنی عزت اﷲ تعالیٰ کیلئے وقف کردو۔جو برا بھلا کہے یا ایذا پہنچائے تو اس سے کہہ لوکہ میں اپنی عزت اﷲ تعالیٰ کیلئے وقف کر چکا ہوں۔
۵۔ اور جب کبھی کوئی برائی ہو جائے تو اﷲ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرو۔

لوگوں کو معاف کردینا :فقیہہ ابو للیث سمرقندی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں کہ جنگ احد میں جب رسول اﷲ ﷺ کا مبارک دانت شہید ہوا تو صحابہ کرام کو از حد شاق گزرا۔ بعض نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ ! آپ ان لوگوں کیلئے بد دعا کیجئے جنہوں نے آپ سے یہ معاملہ کیا ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں لعنت کرنے کو نہیں آیا میں تو رحمت بن کر آیا ہوں اور ان کے حق میں دعا کی کہ اے اﷲ ! میری قوم کو ہدایت فرما کہ وہ میری نبوت و رسالت سے نا آشنا ہیں۔رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی زبان کو لوگوں کی بے عزتی سے محفوظ رکھے گا اﷲ تعالیٰ قیامت کے روز اس سے اپنے غٖضب کو روک لے گا۔

مجاہد رحمۃ اﷲ علیہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ کچھ لوگوں پر سے گزرے جو قوت آزمائی کیلئے پتھر اُٹھارہے تھے ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ عرض کیا کہ یہ سخت اور قوی لوگوں کے اٹھان کا پتھر ہے ۔ارشاد فرمایا کیا میں اس سے بھی زیادہ سخت چیز کی خبر نہ دوں؟ عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ ! ضرورایسی خبر دیں۔فرمایا وہ شخص کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان ناچاقی ہو اور وہ اپنے شیطان پر اور اپنے ساتھی کے شیطان پر غلبہ پا لے اور اپنے بھائی کے پاس جا کر مصالحت کرلے ۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو پتھر اٹھانے کا مقابلہ کرتے تھے ۔آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تم لوگ پتھر اٹھا کر زور آزمائی کر رہے ہو؟ آؤ ! میں تم کو سب سے زیادہ قوی اور زور آور شخص کا پتہ بتاؤں ۔پھر فرمایا ایسا شخص وہ ہے جو غصہ سے بھرا ہوا ہو اور پھر صبر کرے۔

یحییٰ بن معاذ رحمۃ اﷲ علیہ سے روایت ہے کہ جس شخص نے اپنے ظالم پر بد دعا کی اس نے حضرت محمد ﷺ کو انبیاء کی جماعت میں غمگین کیا اور ابلیس لعین کو شیاطین اور کفار کے مجمع میں خوش کیا اور جس نے ظالم سے درگزر کی تو اس نے کفار اور شیاطین کے مجمع میں ابلیس ملعون کو غمگین کیا اور حضرت محمد ﷺ کو انبیاء اور صلحاء کے مجمع میں مسرت پہنچائی۔ رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک منادی پکارے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جن کے اجر اﷲ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھے ہیں؟ اس پر لوگوں کو معاف کر دینے والے اٹھیں گے اور جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔احنف بن قیس رحمۃ اﷲ علیہ سے کسی نے پوچھا انسانیت کیا ہے ؟فرمایا سرداری میں تواضع اختیار کرنا ،قدرت کے باوجود معاف کر دینا اور احسان جتائے بغیر بھلائی کرنا ۔حضرت عطیہ رحمۃ اﷲ علیہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک نقل فرماتے ہیں کہ مومن سلیم الطبع نرم خو ہونا چاہیے جیسے نکیل والا اونٹ لے کر چلیں تو ساتھ چل دیتا ہے ۔اگر بٹھا دیا جائے تو بیٹھ جاتا ہے ۔

جلد بازی اور صبر کا نتیجہ:فقیہ رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ غضب کے وقت حتیٰ الوسع صبر سے کام لو اور جلد بازی سے بہت بچو۔ جلد بازی اور صبر کا نتیجہ تین چیزوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔جلد بازی کی صورت میں انجام پر ندامت ہوتی ہے ۔ لوگوں میں ملامت ہونے لگتی ہے ۔اﷲ تعالیٰ کے ہاں سزا ہوتی ہے ،اور صبر کی صورت میں طبیعت از خود مسرت محسوس کرتی ہے ۔لوگوں میں تعریف ہوتی ہے اﷲ تعالیٰ کے ہاں ثواب ملتاہے ۔ یقینا حلم او ربردباری ابتداء میں کڑوی ہے مگر انجام میٹھا ہے جیسا کہ ایک شخص نے بھی کہا ہے کہ حلم کا ذائقہ گو شروع میں کڑوا ہے مگر آخر میں شہد سے بھی میٹھا ہے ۔اﷲ تعالیٰ ہمیں غصہ پینے اور صبر کرنے کی توفیق دے ۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pir Muhammad Tabasum

Read More Articles by Pir Muhammad Tabasum: 40 Articles with 28952 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2018 Views: 646

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ