صداقت حسین شہید ـؒ کے قاتل آزاد ہیں اب تلک۔۔۔۔۔۔۔

(MIAN ASHRAF ASMI ADVOCATE, Lahore)

عشق رسولﷺ کی سرخیل تنظیم انجمن طلبہ اسلام نے معاشرئے میں ایسے افراد پیدا کیے ہیں جو اِس سماج کے معاشی، عمرانی ،نفسیاتی، نظریاتی سرحدوں کے جانثار ہیں۔افتخار شہیدؒ جو کہ انجمن کے پہلے شہیدؒ ہیں اُن کی دھرتی بورئے والا ضلع وہاڑی میں ایک نوجوان صداقت حسین شہید ؒ کی بہادری کا چرچا زبان دو عام رہا ہے۔ سماجی برائیوں کے خلاف سینہ سپر ہوجانے والے اِس جانثار نے وطن عزیز کے تعلیمی اداروں میں مستقبل کے معماروں کی رگوں میں اندھیرا پھیلانے والے مفاد پرست وطن فروش غنڈہ عناصر کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔اِس نوجوان کی زندگی نبی پاک ﷺ کے عشق کی ترجمان بنی رہی۔ صداقت حسین شہید ؒ اپنے نام کی لاج رکھ گیا اور سچائی اور حق کی خاطر اپنی جان دے گیا۔بورے والا کی سرزمین کے اِس سپوت نے عشق رسول ﷺ کے مشن کے لیے اپنی تگ وتاز کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنایا ہوا تھا۔ لیکن غنڈہ گرد عناصر کے راستے میں چٹان بن جانیوالے صداقت حسین شہیدؒ نے حسنیت کے راستے پر چلتے ہوئے وطن عزیز کے نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کرنے والے غنڈہ گرد عناصر جن کو ایک حکومتی جماعت کی مکمل سپورٹ بھی حاصل ہے کے لیے خود کو اُنکے لیے حرفِ انکار بنا دیا۔ یہ سر زمین ابھی بنجر نہیں ہوئی ابھی بھی مائیں ایسے بچے جنم دئے رہی ہیں جن کے لیے پیسہ دولت شان وشوکت کچھ بھی نہیں اُن کی منزل عشق رسول ﷺ اور رضائے الہی کا حصول ہے۔

گذشتہ پچاس سالوں میں انجمن کے سابقین کی تعداد جو تعلیمی اداروں میں انجمن کے فعال رُکن تھے یا اہم عہدئے پر فائز رہے لاکھوں میں ہے۔تحریک ختم نبوت ، تحریک نظام مصطفےﷺ ، بنگلہ دیش نا منظور تحریک میں انجمن کے وبستگان نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔اِس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ انجمن طلبہ ء اسلام سے وابستگان معاشرئے کے فعال افراد ہیں۔ہر حکومت میں وزیر تک لیول کے سابقین ِ انجمن رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ انجمن طلبہء اسلام کے سابق مرکزی صدور اور صوبوں کے سابق ناظمین ہی اِس وقت معاشرئے میں فعالیت کے حامل ہیں۔شیطان کو جب رب پاک نے لعنتی قرار دے دیا تھا اُسی وقت سے بُرائی اور سچ کے پیمانے وجود میں آگئے تھے۔رب کریم نے حق کی آواز بلند کرنے کے لیے اپنے خاص مقرب بندوں کو بطور انبیاء اکرام دُنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ ان انبیاء اکرام نے اپنے اپنے دائرہ کار میں حق سچ کا پرچم بلند کیے رکھا اور دین حق کی تکمیل نبی پاک سرتاج ِ ختم نبوت حضرت محمدﷺ پر آکر ہوئی۔عشقِ ر سولﷺ ہمیشہ سے مسلمانانِ عالم کے ایمان کا حصہ ہے۔ اس لیے شیطانی قوتوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو للکارا ہے۔ اس حوالے سے کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ عشقِ رسولﷺ مسلمانوں کے لیے اپنی جان مال، اولاد سب سے زیادہ عزیز ہے۔ ایک بات کہنے میں مجھے تامل نہیں کہ مسلمان گرو ہوں میں سے ہی کئی گروہ یہودونصارہ کے اس سازش کا شکا ر ہو گئے معاذ اﷲ نبی پاک ﷺ عام انسان ہیں اس سازش کی وجہ سے چند گروہ تو ایسے وجود میں آ گئے کہ جنہوں نے پیغمبر پاکﷺ کی شانِ اقدس کو محبت کی بجائے عام انسانی سوچ کے سے ا نداز میں لینا شروع کردیا ااور یوں توحید کے اقرار کواُو ڑھنابچھونا سمجھ لیا اور آقا کریم ﷺ کی ذات بابرکات کو پس منظر میں لے جانے کہ صیہونی کوششوں کی انجانے میں مدد ہوتی چلی گئی۔ ان حالات میں برصغیرپاک و ہند میں بزرگانِ دین نے محبت رسولﷺ کے چراغ کی لو کو ٹمٹماتے رکھا اور عش نبیﷺ کو ایمان کی بنیاد قراردیا۔پاکستان بننے کے بعد بدقسمتی سے وہ مذہبی جماعتیں جو حضرتِ قائد اعظمؒ کو کافر کہتی تھیں اور پاکستان کی پ بھی بننے نہ دینے کے لیے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں وہی مذہبی جماعتیں پاکستا ن کی ٹھیکیدار بن کر پیٹرواسلام کی علمبردار بن گئیں۔ ان حالات میں تعلیمی اداروں میں خصوصی طور پر طلبہ کے اذہان کو توحید کے نام پر عشق رسولﷺ سے دور ہٹانے کی کوششیں یہ ہی نظریہ پاکستان کی اذلی دُشمن نام نہاد مذہبی جماعتیں کرنے لگیں۔ ان حا لات میں 1968 میں کراچی کے چند طلبہ نے عشقِ رسول ﷺ کے ماٹو کے ساتھ تعلیمی اداروں میں کام شروع کیا۔اور پوری قوم سے ایک ایسی فکر کی تجدید کروا ئی۔جس کے بغیر مسلما نیت نجدیت میں ڈھل جاتی ہے اور وہ سوچ تھی عشقِ مصطفے کریمﷺ۔سیدی مرشدی یانبیﷺ یانبیﷺ۔غلام ہیں غلام ہیں رسولﷺ کے غلام ہیں۔ غلامیِ رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے۔ تعلیمی اداروں میں تیزی سے مقبولیت کا سفر طے کرنے والی اس غیر سیاسی طلبہ تنظیم کا نام انجمن طلبہ ء اسلام ہے۔

اس تنظیم کے شاہین صفت نوجوانوں نے نتائج و عواقب کی پروا کیے بغیر اپنے سفر کو جاری رکھا اور طلبہ ء میں فروغ عشق رسولﷺ کے مشن میں پورے پاکستان میں طلبہء کو ایک ایسی سوچ سے پھر سے ہمکنار کیا جس کو بدعقیدگی کی لہر نے گہنا کر رکھ دیا تھا۔ انجمن طلبہء اسلام کے نوجوانوں پر پیٹرو اسلام کی حامل قوتوں نے فرقہ پرستی اور بدعتی ہونے کی چھاپ لگانے کی بھر پور کوششیں کی۔ میلاد کی محفلوں کو تعلیمی اداروں میں منعقد کروانے سے روکنے والی قوتیں جب عشقِ رسولﷺ کی قوت کا مقابلہ نہ کر سکیں تو وہی نام نہاد پیٹرو اسلام کی حامل جماعتیں بھی نہ صرف تعلیمی اداروں میں بلکہ عام لوگوں میں بھی نعت رسولﷺ کی محافل کروانے پر مجبور ہو گئیں۔ میرے رب پاک نے فرمایا تھا کہ اے میرے محبوب ﷺہم نے آپﷺ کے نام کو بلند فرمادیا ہے۔ کون ہے جو میرے رب پاک کے آگے ٹھر سکے۔ انجمن طلبہء اسلام کے ایک کارکن کی حیثیت سے راقم کو بھی سماج کی بدلتی ہوئی سوچوں سے آگاہی رہتی رہی ہے۔ لیکن عشقِ رسولﷺ کا یہ اعجاز ہے کہ جو لوگ دُشمن جانِ تھے وہ غمگسار ہوئے۔سیدی مرشدییانبیﷺیانبیﷺ۔ یہودیوں کے ان امریکی ایجنٹووں کو کیا خبر کے اس قوم میں غازی علم دین شھیدؒ، ممتا ز قادری شہید ؒ جسے لوگ موجود ہیں جن کی عشق نبی ﷺ میں موت نے انہیں حیات جاوداں کا جام پلا رکھا ہے۔

کالم کا آغاز شہید صداقت حسین ؒکے ذکر سے کیا تھا۔ اِس نوجوان کو غندہ گر د عناصر نے اگست کے آخر دنوں میں قاتلانہ حملے میں شدید زخمی کردیا اور یوں یہ نوجوان شہادت کا رتبہ پاء گیا۔ ابھی تک مجرموں کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ مجرمان بااثر ہیں اور حکومتی حواریوں کے ہرکارئے ہیں۔اِس لیے میری جناب چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ میری اِس درخواست پر غور فرمائیں جو اُن کی خدمت میں پہلے ہی پیش کی جاچکی ہے۔
 
بخدمت جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان انسانی حقوق سیل اسلام آباد جناب عالیٰ :گزارش ہے کہ ایک نوجوان صداقت حسین خان ساکن بورے والا ضلع وہاڑی کو غنڈہ گرد عناصر جن میں فضل عباس عرف سپنا بھنڈ ، ذیشان عرف شانی ڈوگر ،شبیر احمد عرف شبیری۔ نیاز جوئیہ و دیگر نے 28\29-08-2018 کی درمیانی شب تقریباً 12 بجے شدید زخمی کردیا تھا جو بعد ازا ں فوت ہو گیا ہے ۔ اس وقوعہ کی ایف آئی آر نمبر 325\18 تھانہ سٹی بورے والا ضلع وہاڑی میں درج ہے ۔شہید ہونے ولا نوجوان سچا عاشق رسولﷺ تھا اور انجمن طلبہء اسلام کا ملتان ڈویژن کا ناظم تھا ۔ نوجوان صداقت حسین کی شہادت کی وجہ سے پورئے پاکستان میں انتہائی افسوس کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔ تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ از خود نوٹس لے کر اِن ملزمان کو گرفتار کروائیں تاکہ اِن کو قرار واقعی سزا دی جاسکے۔درخواست گزار صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ،چیئرمین انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل، چیئرمین تحفظ ناموس رسالت ﷺ کمیٹی لاہور ہائی کوٹ بار لاہور۔ ارباب اختیار اِس نوجواں کے قاتلوں کو گرفتار کریں اور قرار واقعی سزا دلوائیں ورنہ انجمن طلبہء اسلام سے وابستہ لاکھوں نوجوان سراپا احتجاج بن جائیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 221023 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
02 Oct, 2018 Views: 245

Comments

آپ کی رائے