کیا لاعلمی جرم ہے ؟

ازقلم: ذوالفقار علی بخاری

سوشل میڈیا نے ہرانسان کے حقیقی رنگ کو کچھ ایسے بے نقاب کیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔آپ جنھیں مہان قرار دیتے ہیں وہی غلاظت سے بھرپور نظر آتے ہیں۔ جن کا تعلق اہل قلم سے ہو، وہ تو بڑے معتبر ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر ماسوائے نفرت اوربعض کے اور کچھ نہیں ہوتا۔راقم الحروف کے تلخ تجربات ہیں کہ جب آپ کچھ اچھا کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں تو کہیں نہ کہیں کوئی راستے کی دیوار ضرور بنتا ہے یا پھر آپ کی لاعلمی نقصان دہ بنتی ہے۔
گزشتہ دنوں ایک ناول نگار کا آن لائن انٹرویو لینا تھا لیکن وہ عین وقت پر اپنی دستیابی کو یقینی نہ بنا سکے۔راقم کو شبہ ہوا کہ کہیں اور معاملہ نہ ہو۔
جب موصوف سے رابطہ کیا گیا تو علم ہوا کہ اُن کی زوجہ علیل تھیں جس کی وجہ سے وہ بروقت اطلاع نہ دے سکے۔پس ایک معاملہ جو سنگینی کی جانب بڑھ سکتا تھا اُسے باہمی گفتگو سے سلجھالیا گیا۔
ایک اورمعاملہ اُس سے بھی سنگین نوعیت کا ہے جسے سمجھنا بے حد ضروری ہے۔
ایک موصوف جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں۔اُنھوں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر کا سکرین شاٹ لیا اور اپنی فیس بک پر کچھ ایسے انداز میں پیش کیا جیسے ایک سنگین جرم سرزد کرلیا گیا ہو۔دل چسپ یہ ہے کہ وہ لاعلمی میں ایسے مواد کے ساتھ اپ لوڈ کر دی گئی جو کہ ادبی نوعیت کا تھا۔چوں کہ مذکورہ موصوف پہلے ہی راقم کی شخصیت سے نالاں تھے تو اُنھوں نے اُسے ایک ادیب کی نااہلی اور نالائقی تصور کی۔ایک ایسا شخص جو بچوں کے لیے لکھتا رہا ہو اور رسالے کی ادارت کو سنبھال چکا ہو،کیا اُسے ایسی حرکت کرنی چاہیے تھی؟ اہل قلم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کہیں کچھ پیش کریں تو پہلے تسلی کرلیں کہ کیا واقعی کسی سے کوئی جرم سزد ہوا ہے۔


جب آپ پہلے ہی خود جج بن کر فیصلے کرلیتے ہیں تو دوسروں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کر سکیں۔موصوف راقم کی ادبی محفل ”سرائے اردو“ پر بھی اعتراض جڑ چکے ہیں۔اِنھی کے قریبی ساتھی عالمی ادیب اطفال اردوڈائریکٹری کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں جو کہ راقم منظرعام پر لایا ہے۔موصوف نے تصویر کے ساتھ پیش کیے گئے مواد پر کوئی ”تبصرہ“ نہیں کیا لیکن مذکورہ تصویر کے ذریعے نشان عبرت بنانے کی کوشش کی ہے۔ مذکورہ تصویر ہم جنس پرستی کے مخصوص نشان(چند مخصوص رنگوں کا جھنڈا)کی حامل تھی۔ جس میں دو نونہالوں کے جذبات ایسے عیاں ہو رہے تھے جو ہم جنس پرستی کے زمرے میں آتی ہے۔جسے موصوف نے بہ خوبی پہچان لیا کہ وہ ہم جنس پرستی کے حوالے سے تحقیقات کر چکے ہوں گے۔چوں کہ راقم کا اِس حوالے سے کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی ہم جنس پرستوں سے روابط تھے تولاعلمی میں مذکورہ تصویر سوشل میڈیا اکاونٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی۔

کئی ماہ گزر جانے کے بعد مذکورہ دانشور نے جس انداز میں اُسے عیاں کیا وہ اُن کے باطن کو بہ خوبی عیاں کر گیا ہے کہ ایسے احباب جنھیں ہم جنس پرستی کے بارے میں علم نہیں تھا،وہ بے خبر جان گئے کہ مخصوص نشان اورہم جنس پرستی کیا ہے یعنی لاعلمی جرم کسی کے لیے تھی اورکچھ کے لیے باعث تعلیم۔ مذکورہ پوسٹ کی اشاعت کے بعد طویل عرصے تک کسی کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا اورنہ ہی راقم کو ازسرنو وہ مواد دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مذکورہ تصویر پر معتبر اہل قلم نے یوں اعتراض کیا ہے جیسے وہ خود دودھ کے دھلے ہیں۔


موصوف مذکورہ نے براہ راست رابطہ کرکے اصلاح کرنے کی بجائے تذلیل کی کوشش کی۔ کیاموصوف مذکورہ کا یہ فرض نہیں بنتا تھاکہ وہ اِس بابت پہلے تصدیق کرتے کہ کہ یہ دانستہ عمل کیا گیا ہے یا پھر لاعلمی میں ہوا ہے۔چوں کہ وہ اِس بابت مفصل معلومات رکھتے ہوں گے تب ہی وہ یہ سمجھ گئے اوراُسے راقم کے خلاف گھٹیا پروپیگنڈے کا سامان بنایا جو کہ ایک بدترین عمل ہے اورناقابل معافی ہے۔حالاں کہ جس طرح راقم نے ناول نگارکے حالات کو سمجھا اورمعاملہ سلجھا یہ بھی سدھر سکتا تھا۔ لیکن لاعلم شخص کب جانتے ہیں کہ وہ غلط کرکے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔دل چسپ بات یہ ہے کہ جس فیس بک پیج سے تصویر منتخب کرکے تذلیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اُس پر دو ہزار سے زائد تصاویر ایسی ہیں جو کہ قابل اعتراض نہیں ہیں۔ لیکن اُنھیں وہی پسند آئی جس پر اُنھیں راقم کو نیچا دکھانے کا موقع مل رہا تھا،جو کہ افسوس ناک رویہ ہے۔
اِس تجربے نے ثابت کیا ہے کہ چند لوگ آپ کی تاک میں رہتے ہیں اورآپ جسے اہم نہیں سمجھتے ہیں اُسے ہی خاص بنا کر اپنے مذہوم مقاصد کے حصول کو یقینی بناتے ہیں۔لاعلمی جرم نہیں ہے لیکن کبھی کبھی یہ مجرم بنا سکتی ہے، لہذا احتیاط کیجیے۔
Zulfiqar Ali Bukhari
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 414 Articles with 611377 views I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More