گھریلو تشدد: پاکستانی خواتین کی خاموش چیخیں، قانونی خلا اور وجوہات و حل

"خاموش چیخیں، چھپے درد؛ خواتین کی آوازیں اکثر نظرانداز ہوتی ہیں۔"
گھریلو تشدد: پاکستانی خواتین کی خاموش چیخیں، قانونی خلا اور وجوہات و حل
ہمارے معاشرے میں عورتوں کے لیے سب سے خوفناک جیل ان کا اپنا گھر ہے، جسے ہم ان کے لیے محفوظ مقام سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں پاکستان میں کئی عورتوں کے لیے ان کا گھر کسی جیل سے کم نہیں ہے۔ ان گھروں میں ان کے ساتھ ہر قسم کا تشدد ہوتا ہے، جس میں جسمانی، ذہنی اور مالی تشدد شامل ہیں، اور یہ حقیقت ہماری سماجی ناکامی کی سب سے افسوسناک تصویر ہے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس، پاکستان (NCHR) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 47٪ خواتین گھریلو تشدد کا شکار رہی ہیں۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (PDHS) 2017-18 کے مطابق، 15 سے 49 سال کی خواتین میں تقریباً 28٪ جسمانی تشدد کا شکار رہی ہیں، جبکہ 34٪ خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں جسمانی، جنسی اور ذہنی تشدد کا شکار رہی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں اس ظلم کو روکنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں؛ بلکہ قانون اور اس میں سزا بھی موجود ہے، لیکن اداروں میں اس قانون پر عمل درآمد صفر ہے۔
پاکستان میں گھریلو تشدد کرنے والوں کے لیے سزا
سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد
سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں گھریلو تشدد کے خلاف قوانین موجود ہیں: سندھ 2013؛ پنجاب 2016؛ بلوچستان 2014؛ اسلام آباد 2019 (Domestic violence laws of Sindh, Punjab, Balochistan, and Islamabad: Sindh 2013; Punjab 2016; Balochistan 2014; Islamabad 2019)۔ مطابق قانون، اگر کوئی شخص اپنے گھر والے یا گھریلو رشتے دار پر کسی بھی قسم کا تشدد کرے تو اس مجرم کو 6 ماہ سے 3 سال تک قید اور 20,000 سے 100,000 روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ عدالتیں متاثرہ شخص کے لیے Protection Orders، Residence Orders، Compensation، Counseling یا Rehabilitation کے احکامات جاری کر سکتی ہیں تاکہ متاثرہ شخص کو تحفظ، گھر میں رہنے کا حق اور مناسب مدد فراہم کی جا سکے۔
خیبر پختونخوا
خیبر پختونخوا میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ Act 2021) کے مطابق، اگر کوئی شخص گھریلو تشدد جیسا جرم کرے تو اسے کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید ہو سکتی ہے، اور جرمانہ بھی لاگو ہوگا۔ جب متاثرہ شخص عدالت میں درخواست دائر کرتا ہے تو عدالت اسے Protection Order کے ذریعے تحفظ فراہم کرتی ہے، اور اگر ملزم اس آرڈر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے اضافی ایک سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ضلعی سطح پر Protection Committees قائم کی گئی ہیں، جو متاثرہ شخص کو طبی، قانونی مدد اور حفاظتی انتظامات فراہم کرتی ہیں، جبکہ متاثرہ شخص کو گھر میں رہنے کا حق بھی تحفظ میں دیا گیا ہے۔
گھریلو تشدد کے اعداد و شمار
گھریلو تشدد کے درج شدہ اعداد و شمار صرف ریکارڈ شدہ واقعات کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں پاکستان میں تقریباً 80٪ واقعات ریکارڈ ہی نہیں ہوتے، جس کی وجوہات سماجی رواداری، خوف، بدنام ہونے کا خدشہ اور قانونی سہولیات کی کمی ہیں۔
سندھ:
سَسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) کی رپورٹ Domestic Violence Factsheet, Sindh (January–June 2025) کے مطابق، سندھ میں 2025 کی پہلی چھ ماہ کے دوران 204 گھریلو تشدد کے کیسز ریکارڈ ہوئے، جن میں 150 کیس جسمانی تشدد، 50 کیس جنسی تشدد، اور 4 کیس نفسیاتی تشدد کے تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر کیسز ریکارڈ ہی نہیں ہوتے، اور جو رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں سے کسی کو بھی ابھی تک سزا نہیں ملی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں، لیکن کچھ سروے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گھریلو تشدد کی شرح بہت زیادہ ہے۔
🔹 کراچی کے شہری کم سوشیو-اقتصادی علاقوں میں 400 شادی شدہ خواتین پر کیے گئے سروے کے مطابق، گھریلو تشدد کی شرح بہت زیادہ ہے۔ سروے کے مطابق، شوہر کی جانب سے 97.5٪ زبانی بدسلوکی اور 80٪ جسمانی بدسلوکی رپورٹ کی گئی، جبکہ سسرال کی جانب سے 97٪ زبانی بدسلوکی اور 57.5٪ جسمانی بدسلوکی ریکارڈ کی گئی۔
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/18341191/
🔹 کراچی کے شہری علاقوں میں 759 شادی شدہ خواتین پر کیے گئے سروے کے مطابق، گھریلو شریک تشدد (Intimate Partner Violence – IPV) کی شرح بہت زیادہ ہے۔ زندگی میں جسمانی بدسلوکی کے لیے 57.6٪، جنسی بدسلوکی کے لیے 54.5٪، اور نفسیاتی بدسلوکی کے لیے 83.6٪ واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC3089428/
پنجاب:
پنجاب میں سرکاری پولیس کے ڈیٹا کے مطابق، 2024 میں 1,167 گھریلو تشدد کے کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں فیصلے کیے گئے کیسز بہت کم تھے۔ SSDO کی رپورٹ کے مطابق، 2025 کی جنوری سے جون تک تقریباً 4,320 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں لاہور میں 2,115 کیسز شامل ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ 24 گھریلو تشدد کے کیسز۔
🔹 لاہور کی لاخودیر دیہی کمیونٹی میں 150 شادی شدہ خواتین پر کیے گئے سروے کے مطابق، 65٪ خواتین جسمانی تشدد، 55٪ جنسی تشدد، اور 52٪ جذباتی زیادتی کا شکار ہیں۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ دیہی علاقوں میں گھریلو تشدد کا مسئلہ بہت عام ہے۔
https://bcsrj.com/ojs/index.php/bcsrj/article/view/445
خیبر پختونخوا:
2024 میں SSDO کی رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا میں 446 کیسز رپورٹ ہوئے، لیکن کسی کو بھی سزا نہیں ملی۔
اسی طرح، 2025 کی جنوری سے جون تک 234 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں بھی کسی کو سزا نہیں ملی۔
🔹 2024 میں خیبر پختونخوا میں 300 حاملہ خواتین پر کیے گئے کراس‑سیکشنل مطالعے کے مطابق، 56٪ خواتین جذباتی تشدد اور 39٪ خواتین جسمانی تشدد کا اپنے شریک حیات کی جانب سے شکار رہی ہیں۔
https://jptcp.com/index.php/jptcp/article/view/6046
بلوچستان:
بلوچستان میں SSDO کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں 160 گھریلو تشدد کے کیسز ریکارڈ ہوئے، جن میں سے 25 کو سزا ملی۔
🔹 سال 2024 میں بلوچستان کے ناصیرآباد ڈویژن کے پانچ اضلاع میں 300 خواتین پر کیے گئے سروے کے مطابق، 51٪ خواتین جسمانی تشدد کی شکار رہی ہیں، 57٪ خواتین کو جسمانی اور نفسیاتی تشدد دونوں کا تجربہ ہوا، 16٪ خواتین جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں، 22٪ خواتین کو جسمانی اور جنسی تشدد دونوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 45٪ خواتین اقتصادی تشدد کا شکار رہی ہیں۔
https://migrationletters.com/index.php/ml/article/download/11578/773u6/28015
گھریلو تشدد کے چند اسباب
1)پدرشاہی سماجی نظام اور مردانگی کے غلط تصورات
ہمارے معاشرے میں جس پدرشاہی نظام پر فخر کیا جاتا ہے، وہ حقیقت میں عورتوں پر بالادستی کا نظام ہے۔ اس نظام میں مرد خود کو عورتوں کا حکمران اور مالک سمجھتے ہیں۔ مردانگی کے غلط تصور کی وجہ سے طاقت، کنٹرول اور تشدد کو مرد ہونے سے جوڑا جاتا ہے، جس کا نتیجہ گھریلو تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔
2)غربت اور مالی تنگدستی
ہمارے معاشرے میں غربت بھی گھریلو تشدد کا ایک اہم سبب ہے۔ جب گھر کے مرد مالی مشکلات سے گزرتے ہیں تو وہ ذہنی دباؤ، پریشانی یا ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی صبر کھو دیتے ہیں اور اپنی ناراضگی کا اظہار عورتوں پر ظلم کی صورت میں کرتے ہیں۔
3)اولاد نہ ہونے یا صرف بیٹے کی خواہش
ہمارے معاشرے میں اگر اولاد نہ ہو یا صرف بیٹے کی خواہش ہو اور بیٹا پیدا نہ ہو تو اکثر مرد اس کا ذمہ دار عورت کو سمجھتے ہیں، حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ رویہ اصل میں مردوں کی جہالت اور طبی معلومات کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس غلط سوچ کی وجہ سے بھی عورتوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔
4)قانون کی کمزور عملداری
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون موجود ہے، لیکن اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اس جرم میں ملوث کسی بھی مرد کو ایسی سزا نہیں ملتی جو دوسروں کے لیے عبرت کا سبب بنے، جس کی وجہ سے لوگ ایسے عمل کرنے سے نہیں ڈرتے۔
5)شادی میں زبردستی یا بغیر مرضی
ہمارے معاشرے میں والدین اکثر اپنی اولاد کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کرتے ہیں۔ ایسی زبردستی یا بغیر مرضی کی شادیاں بعد میں شدید مسائل پیدا کرتی ہیں، کیونکہ زوجین ایک دوسرے کو پسند ہی نہیں کرتے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی اپنے شریک حیات پر تشدد کرتے ہیں۔
گھریلو تشدد کو کیسے روکا جائے
قانون پر سختی سے عملدرآمد اور مؤثر سزا
ہمارے اداروں کو چاہیے کہ وہ قانون پر مکمل اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد کریں۔ گھریلو تشدد میں ملوث ہر شخص کو سخت اور فوری سزا دی جائے، تاکہ یہ دوسروں کے لیے عبرت بنے اور ایسے جرائم کرنے کی ہمت ٹوٹ جائے۔
ہیلپ لائنز اور شیلٹر ہومز کا قیام
ہماری حکومت کو چاہیے کہ خواتین کے لیے مؤثر ہیلپ لائنز قائم کی جائیں، تاکہ وہ بغیر دیر مدد کے لیے اپیل کر سکیں، اور ساتھ ہی ان کے لیے محفوظ شیلٹر ہومز بھی قائم کیے جائیں، جہاں انہیں تحفظ، سہارا اور عزت کے ساتھ رہائش فراہم کی جائے۔
اسکولوں میں جنسی تعلیم
ہمارے تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ بڑے کلاسوں کے بچوں کے لیے جنسی تعلیم کو ضروری قرار دیں، تاکہ انہیں خواتین کی جنسی اور ذہنی حقیقتوں کی صحیح معلومات حاصل ہوں، اور وہ اس غلط سوچ سے بچیں کہ بچے نہ ہونے کی ذمہ دار عورت ہے۔
میڈیا کے ذریعے شعور بڑھانا
اس دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور وسیلہ ہے، جسے مثبت مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ گھریلو تشدد کے خلاف میڈیا کے ذریعے شعوری مہمیں چلائی جائیں، ہم خواتین کو اس ظلم سے بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔
پدرشاہی سوچ کو ختم کرنا
ہمارے معاشرے میں پدرشاہی نظام، جس میں مرد خود کو گھر کی خواتین کا مالک سمجھتے ہیں، ابھی بھی موجود ہے۔ وہ اپنی طاقت کو کبھی ثقافت کی آڑ میں اور کبھی مذہب کی آڑ میں چھپاتے ہیں، لیکن حقیقت میں اس کا ہمارے ثقافت اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ اب ہمیں اس نظام کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
مصنف: علی رضا جمالي.
نیو سعیدآباد، ضلع مٹیاری، سندھ٥٥٥٥ 
Ali Raza Jamali
About the Author: Ali Raza Jamali Read More Articles by Ali Raza Jamali: 4 Articles with 311 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.