سات سہولتیں، دو پاکستان: جب بنیادی ضرورتیں عوام کے لیے عذاب اور اشرافیہ کے لیے مراعات بن جائیں

یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں زندگی کی سات بنیادی چیزیں عام آدمی کے لیے مسلسل مہنگی، مشکل اور بعض اوقات ناممکن بنتی جا رہی ہیں۔ یہ چیزیں کوئی آسائش نہیں، کوئی لگڑری برانڈ نہیں، بلکہ ایک باعزت زندگی کی بنیاد ہیں۔ بجلی، گیس، گاڑی، پٹرول، گھر، علاج اور سفر۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ یہ سب مہنگی ہو گئی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ یہی سات چیزیں اشرافیہ کے لیے تقریباً مفت ہیں، یا ایسی سہولتوں کے ساتھ دستیاب ہیں جن کا عام شہری صرف تصور ہی کر سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سے “دو پاکستان” کی بحث شروع ہوتی ہے۔ ایک پاکستان وہ ہے جہاں عوام بلوں، کرایوں، فیسوں اور علاج کے اخراجات میں پِس رہی ہے۔ دوسرا پاکستان وہ ہے جہاں طاقت، اختیار اور عہدے کے ساتھ ہر سہولت خود بخود میسر آ جاتی ہے۔بجلی: روشنی نہیں، خوف بن چکی ہے بجلی آج کے دور میں صرف پنکھا یا بلب جلانے کا ذریعہ نہیں رہی۔ یہ تعلیم، روزگار، کاروبار، علاج، سب کچھ ہے۔ مگر عام شہری کے لیے بجلی کا بل اب مہینے کے اختتام پر سب سے بڑا خوف بن چکا ہے۔ یونٹ کی قیمت، مختلف ٹیکس، سرچارج اور ایڈجسٹمنٹ مل کر بل کو اس حد تک بڑھا دیتے ہیں کہ متوسط طبقہ باقی اخراجات کا حساب لگانے سے پہلے ہی ہار مان لیتا ہے۔دوسری طرف اشرافیہ کی رہائش گاہیں، سرکاری بنگلے، فارم ہاو¿سز اور مخصوص ادارے یا تو بجلی کے بل سے آزاد ہیں یا انہیں ایسے طریقوں سے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے جن کا حساب عوام کو کبھی نہیں ملتا۔ لوڈشیڈنگ ہو یا قیمتوں میں اضافہ، اس کا اثر ہمیشہ نیچے تک جاتا ہے، اوپر کبھی نہیں۔

ہر سال سردیوں میں گیس بحران ایک معمول بن چکا ہے۔ چولہے ٹھنڈے، ہیٹر بند، بچے بغیر ناشتے کے اسکول جاتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے گیس کی عدم دستیابی ایک روزمرہ اذیت ہے۔ مگر یہ بحران سب کے لیے یکساں نہیں۔ مخصوص علاقوں، بڑے گھروں، کلبوں اور بااثر طبقات کے لیے گیس کی فراہمی برقرار رہتی ہے۔ پریشر کم نہیں ہوتا، سہولت ختم نہیں ہوتی۔ یہاں سوال گیس کی کمی کا نہیں، بلکہ تقسیم کے انصاف کا ہے۔

ایک وقت تھا جب گاڑی خریدنا متوسط طبقے کا خواب سمجھا جاتا تھا۔ آج وہ خواب بھی بہت مہنگا ہو چکا ہے۔ گاڑیوں کی قیمتیں، ٹیکس، رجسٹریشن اور انشورنس نے اس شوق کو عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے۔ اس کے برعکس اشرافیہ کے لیے نئی گاڑی، امپورٹڈ ماڈل، ڈیوٹی فری سہولتیں اور سرکاری استعمال کی گاڑیاں معمول کی بات ہیں۔ جن کے پاس پہلے ہی کئی گاڑیاں ہیں، انہیں مزید سہولتیں دی جاتی ہیں، اور جن کے پاس ایک بھی نہیں، وہ بس دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

پٹرول صرف ایک ایندھن نہیں، بلکہ مہنگائی کی جڑ ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ سبزی، دودھ، کرایہ، ادویات، سب کچھ۔ ایک موٹر سائیکل سوار کے لیے دفتر جانا بھی ایک سوچا سمجھا فیصلہ بن جاتا ہے۔ لیکن اشرافیہ کے لیے سرکاری گاڑیاں، فری فیول، الاو¿نس اور ڈرائیور دستیاب ہیں۔ قیمت بڑھے یا کم ہو، ان کی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے۔

اپنا گھر ہونا اب ایک حق نہیں، ایک مشکل خواب بن چکا ہے۔ زمین کی قیمتیں، تعمیراتی اخراجات، ٹیکس اور دیگر فیسوں نے عام آدمی کو ہمیشہ کے لیے کرائے کے مکان کا مکین بنا دیا ہے۔ دوسری طرف مخصوص طبقات کو سرکاری زمین، کم قیمت پلاٹس اور ہاو¿سنگ اسکیموں میں ترجیح دی جاتی ہے۔ پراپرٹی سرمایہ کاری بن چکی ہے، جبکہ عام شہری چھت کی تلاش میں دربدر ہے۔

بیماری انسان سے اجازت نہیں لیتی، مگر علاج اب پیسے دیکھ کر ہوتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی کمی، لمبی قطاریں اور دواو¿ں کا فقدان عام آدمی کو نجی اسپتالوں کی طرف دھکیلتا ہے، جہاں علاج کے اخراجات کئی ماہ کی تنخواہ کے برابر ہوتے ہیں۔ اشرافیہ کے لیے وی آئی پی وارڈ، فوری سہولت، اور بیرون ملک علاج عام بات ہے۔ یہاں زندگی کی قیمت بھی طبقے کے مطابق طے ہوتی ہے، اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔

سفر چاہے روزگار کے لیے ہو، تعلیم کے لیے یا علاج کے لیے، اب ایک آزمائش بن چکا ہے۔ بسوں کے کرائے، ٹرین کے ٹکٹ اور ہوائی سفر عام شہری کے لیے مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے۔ جبکہ اشرافیہ کے لیے پروٹوکول، فری ٹکٹ، بزنس کلاس اور سرکاری انتظامات دستیاب ہیں۔ ایک طرف عوام دھکے کھا رہی ہے، دوسری طرف راستے بند کر کے قافلے گزرتے ہیں۔

یہ سات چیزیں جب تک عام آدمی کی پہنچ میں نہیں ہوں گی، تبدیلی محض ایک نعرہ رہے گی۔ حقیقی انصاف تب ہو گا جب ریاست عوام کو مرکز بنائے گی، مراعات کا غلط استعمال روکے گی، اور قانون سب کے لیے برابر ہو گا۔ یہ مسئلہ صرف مہنگائی کا نہیں، بلکہ اعتماد کا ہے۔ عوام اس وقت مایوس ہوتی ہے جب وہ دیکھتی ہے کہ قربانی ہمیشہ اسی سے مانگی جاتی ہے، اور فائدہ ہمیشہ طاقتور کو پہنچتا ہے۔ جب یہ سات بنیادی سہولتیں عام شہری کے لیے واقعی قابلِ حصول ہوں گی، تب ہی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ملک میں انصاف ہے، اور یہی وہ دن ہو گا جب تبدیلی نعرہ نہیں، حقیقت بنے گی۔

#TwoPakistans
#EconomicInjustice
#EliteVsPublic
#CostOfLivingCrisis
#SocialJustice
#Inequality
#PublicRights

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 919 Articles with 728810 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More