ٹرمپ کی دھمکی ، سعودیہ کا جواب۔۔تعلقات میں نیا موڑ!!!

(Asif Khurshid, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شمار اان حکمرانوں میں ہوتا ہے جو عالمی تعلقات کو جذبات کی بجائے زمینی حقائق اور جدید رجحانات کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ان کی قیادت میں سعودی عرب ایک ایسے نظریے کو شکست دینے میں مصروف ہے جس نے کئی دہائیوں سے اس ریاست کا احاطہ کیا ہوا تھا ۔اس نظریے کے مطابق سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی ریاست ہے جو دنیا کے موجودہ حالات سے بے خبر قدامت پسندی کے رجحانات میں گری ہوئی ہے یہی نہیں بلکہ سعودی عرب پر سب سے بڑا الزام دنیا میں قدامت پسندی کا فروغ جبکہ بعض جارح ریاستوں کی جانب سے دہشت گردی پھیلانے کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ملک کی بھاگ دوڑ ایسے وقت میں سنبھالی جب مختلف ماہرین معاشی بحران کی خبر دے رہے تھے ۔سعودی عرب کی معیشت کا انحصار تیل کی پیداوار پر ہے تاہم اس وقت دنیا میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باعث سعودی عر ب کوایک سال میں ہی ایک سو ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔اس موقع پر سعودی عرب میں ملکی سرمایہ کاروں اوار بیرونی سرمایہ کاروں میں خاصی بے چینی بھی پائی جارہی تھی ۔ تاہم دنیا کے بدلتے ہوئے رجحانات سے واقفیت رکھنے والے ولی عہد نے ان حالات کا بھانپتے ہوئے فوری طور پر اقتصادی پالیسی 2030کا اعلان کیا ۔اس پالیسی کے تحت ملک میں نج کاری کے شعبہ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس پالیسی کے تحت تعلیم ، صحت عامہ ، شہری ترقی ، اسلامی بنیاد، سیاحت ، ثقافت و تفریح ، صحت مند زندگی ، خاندانی زندگی کے فروغ اور بچوں کی کردار سازی ، جدید سماجی بہبود، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی ، خواتین کو بااختیار بنانے ، اقتصادی شہروں میں اکنامک زون کے قیام کے علاوہ سعودی شناخت پر فخر اور اس کی اسلامی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا گیا ۔ اس اقتصادی پالیسی نے نہ صرف سعودی عرب کی گرتی ہوئی معیشت کو بھی پھر سے جدت اور ترقی کے راستے پر گامزن کر دیا بلکہ مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاروں کا بھی اعتماد بحال کیا ۔ سعودی عرب میں کرپشن کے سدباب کے لیے سعودی ولی عہد نے بلا تفریق کارروائی کی حتی کہ شاہی خاندان سے وابستہ افراد بھی اگر اس برائی میں ملوث ملے تو ان کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ۔ کرپشن کے خلاف ان اقدامات کی وجہ سے عام شہریوں کا بھی حکومت اور بالخصوص شاہی خاندان پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے سے لے کر سینما گھروں کی اجازت تک محمد بن سلمان نے سخت فیصلے کیے جس سے عالمی سطح پر اس پراپیگنڈے کو ختم کرنے میں مدد ملی جس کے مطابق سعودی عرب کو قدامت پسند اور انتہا پسند ریاست کے طور پر جانا جاتا تھا تاہم اس کے باجود محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی اسلامی شناخت میں فرق نہیں آنے دیا ۔مسلم ممالک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے بننے والے 40سے زائد اسلامی ممالک کے عسکری اتحادکے لیے بھی محمد بن سلمان کی خدمات قابل تعریف ہیں ۔ محمد بن سلمان مسلمانوں کے ساتھ لگے لفظ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے بھی کوشاں نظر آتے ہیں ۔محمد بن سلمان کے انقلابی اقدامات کا مغربی میڈیا بھی معترف رہا ہے یہی وجہ ہے کہ رواں سال کے شروع میں ان کے امریکہ و یورپ کے دوروں کے دوران وہ مغربی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔عالمی میڈیا میں انہیں ایک روشن خیال اور انقلابی نوجوان رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔

جدید دور میں کرہ ارضی پر موجود ممالک کے تعلقات مفادات کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ تاریخ اور عالمی تعلقات کا ایک عام طالب علم بھی اس کلیہ سے وافق ہے کہ جدید دنیا میں ترجیح ملکی بقاء ، قومی مفادات اور سیکورٹی کوہی حاصل ہے ۔ولی عہد محمد بن سلمان بھی اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے سخت اورغیر حقیقی بیان پر محمد بن سلمان نے جذبات کی بجائے اسے قومی مفادات کے پیرائے میں دیکھا ۔ امریکہ و سعودی عرب کے تعلقات بھی انہی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں ۔سعودی عرب امریکہ کے ساتھ تعلقات کا یہ دور آٹھویں صدی میں داخل ہو چکا ہے ۔ ان تعلقات میں بنیادی نکتہ تیل کی فراہمی کے بدلے سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ امریکہ صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم اور ابتدائی پالیسیوں کے دوران ہی یہ بات ثابت کر چکے تھے کہ وہ سعودی عرب اور مسلمان دشمن ذہن رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے سعودی عرب کو دفاعی اسلحہ فراہم کرنے کے حوالہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا حالیہ بیان بھی ان کی اسی سوچ کو ظاہر کرتا ہے تاہم اس کے باوجود امریکی صدر بننے کے بعد ٹرمپ نے اپنے پہلے دورے کے لیے سعودی عرب کا ہی انتخاب کیا ۔ بعض مخالف ممالک کی جانب سے اگرچہ اس دورے کو شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا اور اس دورے کے دوران ہونے والے دفاعی معاہدوں پر بھی تنقید کی گئی تاہم یہ بات بڑی واضح ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کا بنیادی نکتہ ہی سعودی عرب کو دفاعی ضروریات فراہم کرنا ہے جس کی وہ قیمت ادا کرتا ہے۔ ان تعلقات میں اتار چڑھاؤ بھی آتا رہاہے ۔ تعلقات میں کچھ بگاڑ سابق صدر اوباما کے دور میں بھی دیکھنے میں آیا۔2015میں امریکہ کے ایران کے ساتھ معاہدے کو سعودی عرب نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا کیونکہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ایران ہی کو خطرہ سمجھتا ہے جس کی بڑی وجہ ایران کی سعودی عرب مخالف پالیسیاں ہیں ۔ستمبر 2016میں بھی امریکہ تعلقات میں اس وقت بگاڑ دیکھنے میں آیا جب امریکی کانگریس میں ایک بل پاس کیا گیا جس کے مطابق سعودی عرب پر امریکی شہری مقدمہ کر سکتے ہیں ۔2008میں باراک اوباما نے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی ۔اس سے قبل 1987میں بھی امریکہ نے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات کافی حد تک بگڑ گئے تھے ۔ اس کے باوجودونوں ممالک اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کومستقل بنادوں پر ختم کرنا ممکن نہیں۔

جہاں تک سوال امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ان کے بغیر دو ہفتوں تک زندہ نہیں رہ سکتا تو یہ بیان زمینی حقائق کی روشنی میں سراسر غیر حقیقی مفروضہ پر مبنی ہے ۔تاہم اس بیان کی ایک بڑی وجہ سعودی عرب کا پاکستان کی طرف حد سے ذیادہ جھکاؤ بھی ہو سکتا ہے ۔گزشتہ دنوں پاکستانی وزیر اعظم کی قیادت میں سعودی عرب کے دورے کے دوان کئی دوطرفہ معاہدوں پر رضامندی ظاہر کی گئی جن میں سب سے اہم پاک چین اقتصادی راہداری میں سعودی عرب کی شرکت اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں آئل ریفائنری کے قیام کے لیے سرمایہ کاری ہے ۔ امریکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے روزاول سے مخالفت کرتا آرہا ہے تو اسے سعودی عرب کا اس میں حصہ دار بننا کیسے منظور ہو سکتا ہے لہٰذا تجزیہ نگار ٹرمپ کے اس بیان کو ایک تنبیہ کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ البتہ یہ بیان سعود ی عرب کے لیے کئی نئے دروازے کھول سکتا ہے ۔پاک چین اقتصادی راہداری میں شراکت کے ذریعے سعودی عرب چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بھی استحکام پیدا کر سکتا ہے ۔ سعودی عرب کی شمولیت کے موقع پر ایرانی سفیر کا مثبت بیان بھی حوصلہ افزاء ہے اگر ایران مشرق وسطیٰ میں اپنی جارحیت کی پالیسی پر نظر ثانی کرکے اس ترک کر دے تو شاید سعودی عرب کو بھی امریکہ سے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو ۔پاکستان کا کردار اس حوالہ سے خاصا اہم ہو سکتا ہے ۔پاکستان میں نئی قیادت سابق آرمی چیف راحیل شریف سے مل کر اس پالیسی کوکامیاب کروانے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران بھی تعاون کرے ۔ اگر یہ تعلقات مثبت رخ اختیار کر لیں تو اسلامی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے جس کا سہرا لازمی طور پر پاکستان کے سر سجے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khurshid

Read More Articles by Asif Khurshid: 87 Articles with 33509 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Oct, 2018 Views: 498

Comments

آپ کی رائے