عالمی یوم آفات

(Ata Ur Rehman Chohan, Islamabad)

عالمی یوم آفات منانے کا آغاز اقوام متحدہ نے 1989 میں کیا۔ اس کا مقصد قدرتی آفات میں نقصانات کو کم سے کم کرنے کی حکمت عملی وضع کرنا تھا۔ اس سلسلے میں 18 مارچ 2015 کو جاپان کے شہر سدائی میں عالمی ماہرین کے منعقدہ اجلاس میں آفات سے بچاو کا پندرہ سالہ منصوبہ بنایا گیا۔ جس نے سات نکاتی سفارشات تیار کیں۔ ان سفارشات میں مرحلہ وار اقدامات کے ذریعے آفات کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی ، شرح اموات میں کمی، معاشی نقصانات میں کمی، بنیادی سہولیات بالخصوص تعلیم اور صحت کے اداروں کا بچاو، آفات کے نقصانات میں ترقی یافتہ ممالک کے تعاون سے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا اور آفات کے بارے میں بروقت اطلاعات کا نظام وضع کرنا شامل ہے۔

اس سال عالمی یوم آفات کو معاشی نقصانات کو کم کرنے کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے ہاں آفات میں زلزلے، سیلاب اور خشک سالی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ آفت ہمیشہ اچانک رونما ہوتی ہے، جس کی وجہ سے عوام کی زندگی درم بھرم ہوجاتی ہے۔ آفات سے بچاو کی تدابیر نہ جاننے کی وجہ سے آفت سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا بدنظمی اور لاعلمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلا مرحلہ تو یہ ہے کہ عوام کو ذہنی طور پر تیار رکھا جائے کہ آفات زندگی کا حصہ ہیں، جنہوں نے کبھی نہ کبھی انسانی معاشرے کو اپنی زد میں لینا ہوتا ہے ۔ہر وقت دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں کوئی نہ کوئی آفت آئی رہتی ہے۔ آفات کو روکا تو نہیں جاسکتا تاہم ان سے نمٹنے کے طریقے سیکھ کر بچاو کی تدابیر کی جاسکتی ہیں۔ آفات میں سب سے زیادہ نقصان حوصلہ ہارنے سے ہوتا ہے۔ جب تک انسان کے اعصاب کام کرتے رہتے ہیں وہ بچاو کی تدابیریں اختیار کرتا رہتا ہے۔ جوں ہی انسانی اعصاب جواب دے جائیں اس کے اندر مزاحمت اور بچاو کی امید ختم ہوجاتی ہے تو وہ بے بسی کے تصورات میں ڈوب کر خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دیتا ہے۔عالمی اعداد وشمار سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ قدرتی آفات سے زیادہ نقصان انسانوں کی بدنظمی اور بے احتیاطیوں سے رونما ہوتے ہیں۔ اس لیے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ عوام الناس کو آفات ، آفات کے بچاو کی تدبیروں اور دنیا کے مختلف ممالک میں اختیار کیے گئے طریقوں سے آگاہی دی جائے۔ یہ کام حکومت سرکاری اداروں، غیر سرکاری سماجی تنظیموں کے ذریعے انجام دے سکتی ہے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آفات سے بچاو کے مضموں کو پرائمری سے سیکنڈری سطح پر نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے۔ سرکاری ، غیر سرکاری تعلیمی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ پرائمری جماعتوں سے ہی طلبہ و طالبات کو صحت مند رہنے، مشکل حالات باالخصوص ہنگامی حالات میں خود کو بچانے، دوسروں کی مددکرنے، ابتدائی طبی امداد دینے اور انسانوں کے حوصلے بلند رکھنے کی تربیت کا اہتمام کریں۔

اس سال کا موضوع معاشی نقصانات کو کم کرنے سے متعلق ہے۔انسانی جان بچانے کے بعد معیشت دوسرا اہم پہلو ہے، جس کا انسانی زندگی کو قائم رکھنے میں بنیادی کردار ہے۔معیشت میں فصلیں، مال مویشی،کارخانے،کاروباری ادارے اور کاروباری مراکز شامل ہیں۔ ہمارے ہاں جن علاقوں میں زلزے، سیلاب اور خشک سالی کے زیادہ خطرات ہیں ان میں باالخصوص اور پورے ملک میں باالعموم اسی طرح کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ آفات کی صورت میں کم سے کم معاشی نقصان ہو۔ فصلوں کو سیلابی پانی سے بچانے کے لیے حفاظتی بند بنانے، زیر کاشت رقبوں میں پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام کرنا تاکہ سیلاب کی صورت میں پانی کے اخراج کا مناسب انتظام ہو اور فصل کا کم سے کم نقصان ہو۔ املاک کا نقصان بھی براہ راست معیشت پر بوجھ بنتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ گھروں، کاروباری اداروں، عوامی بہبود اور ضرورت کی تمام املاک کی تعمیر ممکنہ آفات سے بچاو کی جملہ ضرورتوں کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے۔ اس کے لیے سرکاری سطح پر عمارتوں کی تعمیر کیلیے ضابطہ کی تیاری اور موثر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ عوام کو اس بارے میں پوری اور مسلسل آگاہی دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ناقص تعمیرات کے ذریعے اپنے مستقبل کو خطرات سے دوچار نہ کریں۔

معاشی نقصانات کو کم کرنے کے لیے سب زیادہ جس پہلو کی ضرورت ہے وہ خود اعتمادی اور خودانحصاری ہے۔ کسی بھی آفت کی زد میں آنے والے فرد اور معاشرے کو دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے قوت بازو پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسروں پر تکیہ کرنے والے کبھی اپنے پاوں پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ جب یہ طے کرلیا جائے کہ ہم نے اپنے نقصان کا ازالہ خود کرنا ہے تب ہی یہ ممکن ہے۔ بیرونی تعاون اور امداد ثانوی بلکہ امکانی سطح پر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جس قوم یا فرد کا تکیہ دوسروں کے تعاون اور امداد پر ہوگا وہ کبھی اپنے پاوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔ جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کاروباری اداروں کے مالکان نے ایٹمی تباہی کے بعد عمارتوں کی تعمیر کا انتظار کیے بغیر کھلے آسمان تلے اپنی مصنوعات کی تیاری شروع کردی تھی۔

13 اکتوبر کا دن پوری دنیا میں آفات سے بچاو کے دن طور پر منایا جارہا ہے۔ ہمیں اس دن کی مناسب سے کم ازکم ہر فرد تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ہنگامی حالات اور آفات کی صورت میں ہم نقصانات کو کیسے کم کرسکتے ہیں اور مشکل حالات میں کیا کیا تدابیریں اختیار کرکے اپنی جان اور املاک کو بچا سکتے ہیں اور دوسروں کی مدد کیسے کرسکتے ہیں۔ آج کے دن ہمیں یہ بھی عہد کرنا ہوگا کہ ہم نے اپنی دنیا خود بنانی ہے، کسی کا انتظار کیے بغیر ہم اپنے مستقبل کی تعمیر آج، ابھی اور اسی وقت شروع کرنی ہے۔ جو قوم یہ عزم کرلے وہ بڑے سے بڑے خطرات میں بلند حوصلے کے ساتھ زندہ رہنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہے اور آفات کے بعد نئی زندگی شروع کرنے کی ہمت باندھ لیتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 127 Articles with 66736 views »
عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More
12 Oct, 2018 Views: 411

Comments

آپ کی رائے