چیف جسٹس اور چیئرمین نیب کرپٹ سفارتکاروں پر نظر رَکھیں

(Syed Fawad Ali Shah, )

وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی ٹیم آج کل بہت بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے ، اُنہوں نے نواز دورحکومت میں عیاشیاں کرنے والے کئی بیوروکریٹس کو کھڈے لائن لگا دیا ہے مگر تاحال کرپٹ سفارت کار یا وزارت خارجہ کے کسی افسر کے خلاف ایکشن نہ لیا، وزیراعظم اور چیئرمین نیب کو کرپٹ ڈی ایم جی، او ایم جی اور سابق حکومتوں میں رہنے والی سیاسی شخصیات تو نظر آتی ہیں مگر کبھی اُن کی نظر فارن سروس کے کسی کرپٹ افسر پر نہیں پڑی۔جی ہاں میرا اشارہ ایسے کرپٹ سفارتکاروں کی طرف ہے جو بیرون ممالک میں تعینات ہو کر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ پاکستانی عوام کے خادم ہیں اور اُن کو تارکین وطن کی خدمت کے لیئے تعینات کیا گیا ہے نہ کہ اُن کا خون چوسنے کے لیئے۔ تھائی لینڈ کی جیلوں میں قید کئی پاکستانی حکومت کی طرف سے مدد کی منظر ہے مگر تھائی لینڈ کا کرپٹ سفارتی عملہ مدد تو دور کی بات کسی کا ٹیلی فون تک بھی اُٹھانے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا، تمام سفارت کاردن بھر تقریبات ، وی وی آئی پیز کی خدمت اور مال کمانے کے چکروں میں مصروف رہتے ہیں ، مگر کسی نے تاحال یہ نہ سوچا کہ تھائی لینڈ کی جیلوں کا چکر لگا کر وہاں قید پاکستانیوں کی خبر لی جائے ۔ گزشتہ روز راقم کو تھائی لینڈ کی چتوچک سنٹرل جیل سے علی اُمید ، ہارون پرویز بھٹی اور ساموت پارکن سنٹرل جیل سے عامر مغل اور حسن زریاب نامی پاکستانی قیدیوں کا خط موصول ہوا جس میں اُنہوں نے لکھا کہ مذکورہ جیل میں ہمیں خارش اور دیگر جلدی امراض کا سامنا ہے ، جیل حکام کی جانب سے ہمیں ادویات تک نہیں دی جاتیں اور نہ ہی صاف حلال خوراک دی جاتی ہے ، پاکستانی قیدیوں کے مطابق جیل حکام قیدیوں پر بلاوجہ تشدد کرتے ہیں یا پھر سزاوار چکی میں بند کر دیتے ہیں ، جس کے متعلق ہم نے کئی بار بینکا ک میں قائم پاکستانی سفارت خانے کو خطوط بھی لکھے مگر سفارت خانے کا عملہ اب تک تھائی لینڈ کی حکومت سے ہمارے لیئے بات تک نہ کر سکا کہ کم اَز کم ہمیں بنیادی سہولیات تو دی جا سکیں۔ قیدیوں نے خط میں یہ بھی لکھا کہ گزشتہ ماہ سفارت خانے کا ایک کلرک ہماری ملاقات کے لیئے آیا اور ہم سے دس دس ہزارتھائی باتھ( جو تھائی کرنسی ہے ) کے پیپر پر دستخط کروا کر ہم کو جیل میں ایک ایک ہزار تھائی باتھ فی کس تھما کر واپس چلا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تھائی لینڈ میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد اور قونصلر عامر نوید حسین اپنی تعیناتی کے دوران کبھی کسی جیل کا دورہ نہ کر سکے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو نواز دور حکومت میں مذکورہ عہدوں پر تعینات کیا گیاتھا اور یہاں تعینات ہو کر اُنہوں نے تارکین وطن کا خون چوسنا شروع کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ پاکستانی سفارت خانے میں تعینات ویزہ قونصلر کرنل امجد امین تمام پاکستانی تارکین وطن کی مدد کیا کرتے تھے مگر اُن کے تبادلے کے بعد تارکین وطن خود کو یتیم سمجھتے ہیں۔ تھائی لینڈ کی جیلوں میں قید پاکستانیوں نے اپنے خط کے ذریعے اُن کی آواز چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار تک پہنچانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ کو ہدایت جاری کریں کہ تھائی لینڈ میں تعینات کرپٹ سفارت کاروں کو تبدیل کرکے اُن کی جگہ عوام کی خدمت اور اچھی شہرت رکھنے والے افراد کو تعینات کیا جائے ۔ تھائی لینڈ میں سفارت کاروں کے ڈیم فنڈ میں بھی گھپلے کرنے کی اطلاعات ملی ہیں کیونکہ جتنی رقم ڈیم فنڈ کی مد میں پاکستانی سفارت خانے کو ملی اُس میں سے بھی گھپلا کرکے اپنی جیبیں بھری گئیں۔ دوسری جانب ملائشیاء میں رہنے والے تارکین وطن پاکستانیوں نے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ڈاکٹر التماش جنجوعہ اور ڈپٹی چیف قونصلر میاں عاطف کی تعریف کی ہے اور اُن کی جانب سے عوام کی خدمت اوراعلیٰ کارکردگی کو سراہا ہے۔مگر پاکستانی ہائی کمشنر نفیس ذکریا کے بارے میں بتایا کہ وہ ملائشیاء میں کام کرتے ہوئے تھک چکے ہیں اس لیئے کسی پاکستانی تارکین وطن نے اُن کا منہ تک نہ دیکھا اور نہ ہی وہ کسی کی درخواست یا ٹیلی فون کال کا جواب دیتے ہیں ۔ تارکین وطن کا کہنا ہے کہ نفیس ذکریا کواب آرام کی ضرورت ہے اور اُنہیں اب وزارتِ خارجہ اسلام آباد میں کسی اچھے عہدے پر تعینات کیا جائے تاکہ وہ وہاں مزے سے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ فارن آفس اسلام آباد میں ساؤتھ ایسٹ ایشیاء کے ڈائریکٹر کو جب کسی سفارت کار کے متعلق انکوائری حوالہ کی جائے تووہ بھی سستی سے کام لیتے ہوئے معاملہ دبانے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ اُن کے کامنرز بچ جائیں ، سفارت خانے دیارِ غیر میں تارکین وطن کے لیئے ماں باپ جیسی حیثیت رکھتے ہیں مگر جب یہی سفارت کار کرپشن کرنے لگیں تو پاکستان اور پاکستانی عوام کا اﷲ ہی حافظ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین نیب کو دیگر بیورو کریٹس کی طرح اُن تمام کرپٹ پاکستانی سفارت کاروں کا بھی احتساب کرنا ہو گا جو نواز دور حکومت سے بیرون ممالک میں تعینات ہو کر پاکستانی عوام کا خون چوس رہے ہیں ۔اب ضروری نہیں کہ ہر کرپشن کا نوٹس لے کر چیف جسٹس میاں نثار ہی حکومت کو ہدایت جاری کریں گے، وفاقی وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بیرون ملک سفارت کاروں کی کارستانیوں کے خلاف ایکشن لیں ۔ کیونکہ ناقص سفارت کاری کی وجہ سے ہمارا ملک بہت بدنام ہو چکا ہے اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ اب کوئی ہمیں بھیک بھی دینے کو تیار نہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Fawad Ali Shah

Read More Articles by Syed Fawad Ali Shah: 80 Articles with 42956 views »
i am a humble person... View More
16 Oct, 2018 Views: 694

Comments

آپ کی رائے