جِتنی مِلے تھوڑی لگے

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

میں گاڑی چلا رہا تھا ۔ فاصلہ لمحوں میں سمٹ رہا تھا اور رات کا اندھیرا آہستہ آہستہ چِمٹ رہا تھا ۔ منزل قریب آتی جا رہی تھی ۔ نہ جانے وہ منزل تھی بھی یا سفر کے دوران کچھ دیر کا پڑاؤ تھا ۔

ریڈیو پر گانا چل رہا تھا جس کے بول کچھ یوں ہیں ۔

جتنی بھی وہ مِلتی جاۓ اُتنی لگے تھوڑی تھوڑی ۔۔!

یہاں "وہ " سے مُراد کچھ بھی ہو سکتا ہے جو شاعر کے زہن میں ہو گا یا ہو گی یا شائد کوئ پینے کا مشروب ہو سکتا ہے جو شاعر کی اپنی سوچ یا اُس نے معاوضہ لے کر لکھوانے والے کی کمرشل بھوک کو مٹایا ہو مگر میرے اوپر راز کُھلتے چلے گئے اور سراب دھُلتے چلے گئے ۔
میرے تحتُ الشعور نے مُجھے "وہ " کا مطلب "محبت " بتایا ، جو

جتنی بھی مِلتی جاۓ
اُتنی لگے تھوڑی تھوڑی ۔۔۔!

حامد کو بھی یہی محسوس ہو رہا ہے۔ جب اُس نے سانولی کو پہلی مرتبہ دیکھا تو کوئ خاص کشش محسوس نہ ہوئ تھی۔ وہ خاموش طبیعت اور سنجیدہ سی لڑکی تھی ۔
حامد کی پہلی نظر نے تو کام نہ کیا مگر وہ اُس کے کام شوق سے کرتی تھی ۔حامد کو پتہ ہی نہ چلا کہ پہلی نظر کے بجاۓ کونسی نظر نے کام دکھانا شروع کر دیا جو اُس کی طرف آہستہ آہستہ التفات بڑھتا چلا گیا اور وہ محبت کی سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا ۔

ریسٹورنٹ میں وہ روز تھوڑی دیر کے لئے جاتا اور دیر تک بیٹھا رہتا ۔ سانولی بھی بار بار پوچھنے آتی کہ کچھ چاہیے ؟
حامد کہتا چاۓ ٹھنڈی ہو گئ ہے۔
وہ مُسکرا کر پوچھتی
گرم چاہیے؟
حامد صرف مُسکرا دیتا
اور وہ خاموشی کو رضامندی سمجھ کر دوسرا کپ لے آتی جو وہ آہستہ آہستہ پیتا جاتا اور چاۓ سے اُٹھتا خوبصورت دھُواں اُس کی آنکھوں میں چڑھتا جاتا جس میں سانولی کی نمکین رنگت اور محبت کی مٹھاس شامل ہوتی ۔

سانولی کے سانولے ہاتھوں کی سانولی چاۓ پینے کے دوران ایک جھلک سانولی کی آنکھوں پر جا پڑتی تو پھر اُسے کچھ ہوش نہ رہتا کہ وہ کیا پی رہا ہے ؟
بس اتنا ہی زہن میں رہتا کہ

جتنی بھی ملتی جاۓ اُتنی لگے تھوڑی تھوڑی ۔۔۔

وہ دھواں اُسے سانولی کے جسم سے اُٹھتا محسوس ہوتا جو شائد محبت کا دھُواں ہو ۔

ریسٹورنٹ میں مہدی حسن کی گای غزل چل رہی ہے

دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے ۔

حامد سوچ رہا ہے کہ چاۓ تو وہ سب کو پیش کرتی ہے اور گرم ہی پیش کرتی ہے مگر گرمائش کیا صرف مُجھے محسوس ہوتی ہے ؟
کیا یہ محبت کی گرمائش ہے ؟

محبت مجازی ہو یا حقیقی انسان سے ہو یا خُدا سے تھوڑی ہی لگتی ہے ۔
وہ والدین سے مِلے یا دوست سے ، مرد سے مِلے یا عورت سے ، جتنی ملے تھوڑی ہی لگتی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91631 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Oct, 2018 Views: 220

Comments

آپ کی رائے