بیکن ہاؤس اور ایجوکیٹرز سکول سسٹم

(ملک صداقت فرحان, لاہور)

رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے کہ "علم حاصل کرنا (ہر مرد اور عورت) پر فرض ہے"

دنیاۓ تعلیم میں شرافت اور ذہانت کی بہت اہمیت ہے۔ لیکن بعض لوگوں کوشرافت سےنفرت ہوچکی ہے۔ میں دنیابھرکی بات نہیں کرونگا بلکہ میں صرف اپنے وطن عزیز پاکستان کی بات کرونگاجی ہاں اس وطن عزیزپاکستان کی جس کوہم نےکلمۂ طیبہ کےنام پرحاصل کیاجی ہاں جی اس وطن عزیزپاکستان کی میں بات کررہاہوں جس کولوگوں کی اکثریت مدینہ ثانی کےنام سےبھی جانتی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں سےپاکستان کا وجودبحیثیت مسلم ریاست برداشت ناہوسکا توانہوں نےاس کوتباہ کرنےکی ٹھانی اورپاکستان کومختلف طریقوں سےبرباد کرنےکی کوششیں شروع کیں جس میں سےایک کوشش بیکن ہاٶس اوراس کےپراجیکٹ ایجوکیٹرسکول سسٹم کی شکل میں جاری ہے۔پاکستان میں ویسےتو بہت سےتعلیمی ادارےہیں جوکہ تعلیم کوایک زیورسمجھتےہیں اور اسے امانت سمجھ کرلوگوں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتےہیں۔ لیکن بیکن ہاٶس اورایجوکیٹرسکول سسٹم ان تمام تعلیمی اداروں سےالگ ہے جی ہاں یہ سکول سسٹم تعلیم کوزیورنہیں بلکہ دین اسلام اورتمام معززرشتوں سےآزادی حاصل کرنےکاایک ہتھیارسمجھتاہے دوسرےلفظوں میں اگرایسی آزادی کوسیکولرزم کانام دیاجاۓتوکچھ غلط ناہوگا۔ بیکن ہاٶس سکول سسٹم پاکستان کےعلاوہ دنیاکہ دیگرممالک مثلا یوناٸیٹڈکنگڈم،فلپاٸن،بیلجیم،یوناٸیٹڈعرب امارات،امان،تھاٸی لینڈاورملاٸیشیا میں بھی سرگرم عمل ہے۔ میں باقی ممالک کی بات نہیں کرونگا بلکہ میں صرف اپنےپیارےوطن عزیزپاکستان کی بات کرونگا۔بیکن ہاٶس اور ایجوکیٹر سکول سسٹم ایسی درساگاہوں کامجموعہ ہے جس کےگیٹوں پرتعلم کےپردےلٹکتےہیں لیکن اندرسے فحاشی اورعریانی کے اڈےہوتےہیں۔اس سکول سسٹم کی ابتدا پاکستان کی مشہورو معروف سیاسی شخصیت خورشیدمحمود قصوری نےسن 1975میں لاہورسےکی۔ اس سکول کی چیٸرپرسن موصوف کی اہلیہ نسرین محمودقصوری صاحبہ ہیں۔ اس سکول سسٹم کی شاخیں پاکستان کےتمام چھوٹے بڑے شہروں میں موجودہیں۔ بیکن ہاٶس سکول سسٹم میں 280000 بچے اپنا مستقبل برباد کر رہےہیں۔ یہ پاکستان کاتیسرابڑامہنگاسکول ہے جس کی ماہانہ فیس 37000 ہزارروپےہے۔ اس سکول سسٹم کانصاب اسلام،پاکستان اورپاک آرمی مخالف ہے۔سکول سسٹم میں پڑھاٸی جانےوالی چوتھی اورپانچویں کی پاک سٹڈی میں جموں ومقبوضہ کشمیراورگلگت کو انڈیا کاحصہ دکھایاگیاہے اس کےعلاوہ 2012میں سی پیک سےمنسلک تمام علاقے انڈیاکاحصہ ظاہر کیےگٸے۔ ایجوکیٹراوربیکن ہاٶس سکول سسٹم میں انڈیاکی نیوسلک روٹ کمپنی کی انویسٹ منٹ کاانکشاف ہواہے جس کامالک پراگ سیکسینہ ہےاس کےعلاوہ امریکہ کےانٹرنیشنل فنانشل ادارے آٸی ایف سی کی ایک پریس ریلیزسےمعلوم ہواہےکہ اس نے نےسکول سسٹم میں دس ملین ڈالرانویسٹ کیےاوراس نےیہ سرمایہ کاری تب کی جب یہ ادارہ بہت چھوٹاتھا۔

بیکن ہاٶس اورایجوکیٹرسکول سسٹم میں انگریزی پرخاص توجہ دی جاتی ہےیہی وجہ ہےکہ بچےاردوصحیح سےبول نہیں سکتےکیونکہ انہیں اردو صحیح معنوں میں پڑھاٸی ہی نہیں جاتی۔عربی اوراسلامیات کونصاب سےعلیحدہ کردیاگیا۔ بچیوں کونامکمل لباس پہناکرماڈلنگ کرواٸی جاتی ہے۔انگلش پوٸمزایسےپڑھاٸی جاتی ہیں جیسے گرجاگھرمیں عیساٸی گاگاکرباٸبل پڑھ رہےہوں۔ ہم جنس پرستی کی ترویج کا ماحول پیدا کیاجارہاہے۔ ڈانسنگ کلاسزلگاٸی جاتی ہیں جس میں قوم کےمعماروں کوانڈین میوزک پرنچوایاجاتاہے۔ میں نےسوشل میڈیاپرپہلی باربیکن ہاٶس اور ایجوکیٹر سکول سسٹم کانام اس وقت سناجب کچھ طالبات نےخون آلودہ پیڈزدیواروں پرچسپاں کیےاورآزادی کےنعرےلگاتےہوٸے یہ مطالبہ کیاکہ ہمیں آزادی دی جاۓ ناجانے یہ طالبات کس قسم کی آزادی چاہتی ہیں۔ شاٸیدجانورسےبدترزندگی گزارنےکوازادی سمجھتی ہیں۔ ناجانےکس قسم کی تعلیم دی جارہی ہے بیکن ہاٶس اورایجوکیٹرسکول سسٹم میں نیوجنریشن کو؟کچھ سمجھ نہیں آتی۔ سکول سسٹم کےذریعے دین اسلام سےنیوجنریشن کودورکیاجارہاہے۔ سکول سسٹم کےزیراہتمام ہونےوالےمختلف پروگرامزمیں باقاعدہ ڈانس کاسیشن رکھاجاتاہےاورڈانس بھی ایساکہ دیکھ کر آنکھ روۓاورشرافت شرماۓاللہ کی پناہ۔ اس سکول سسٹم کےایک پیپرمیں سوال پوچھاگیاکہ پاکستان انڈیاسے 65 اور 71 کی جنگ کیوں ہارا؟ "حالانکہ پاکستان 1965 کی جنگ کافاتح ہے" پھربچوں کوبتایاگیاکہ پاکستان انڈیاسے 65 اور 71 کی جنگ پاک آرمی کی وجہ سےہارا۔اب آپ خودہی اندازہ لگالیجیےکہ کیا سکھایاجارہاہےبچوں کو۔ پچھلےدنوں میں نےایک بھاٸی کی تحریرپڑھی انہوں نےلکھاکہ میں نےاپنےبچوں کوبیکن ہاٶس سکول سسٹم میں داخل کروایاکچھ عرصےبعدمیں نےبچوں سےکہاکہ بیٹامجھےقومی ترانہ سناٶجوآپ کوصبح اسمبلی میں پڑھایاجاتا ہےتوبچے کہنےلگےکہ ہمیں قومی ترانہ نہیں بلکہ دعاپڑھاٸی جاتی ہے انہوں نےدعاکابتایااوردعاپڑھنےکاانداز بھی بتایایہ سن کرمیرےرونگھٹےکھڑےہوگٸےکہ وہ دعاباٸبل سےملتی جلتی تھی اورعیساٸیوں کےطرزپرپڑھاٸی جاتی تھی اس کےبعدسےمیں نےاپنےبچوں کوبیکن ہاٶس سکول سےہٹاکردوسرےسکول میں داخل کروایا۔ یہ سکول سسٹم دراصل امریکہ اورانڈیاسےفنڈنگ نیوجنریشن کوتعلیم دینےاورشعورسکھانےکےلیےنہیں بلکہ بربادکرنےکےلیےلےرہاہے۔ اس سکول سسٹم کےذریعےبچوں کوسرعام جانوربنایاجارہاہےتاکہ وہ انڈیااورامریکہ کےاشارے پرخاموشی سےچلتےجاٸیں۔ میں اپنی تحریرکےتوسط سےپاکستان میں رہنے والے ان تمام والدین سے یہ گزراش کرناچاہوں گاکہ اپنےبچوں کوکفارکی دنیاکاغلام مت بناٸیں۔ دین اسلام سےدورمت کریں۔ اپنےبچوں کوبیکن ہاٶس اورایجوکیٹرسکول سسٹم جیسےفحاشی وعریانی کےاڈوں سےنکال کراس سکول میں ڈالیں جہاں پرفحاشی نام کی کوٸی گندگی ناہو۔
اسلام زندہ آباد
پاکستان پاٸندہ آباد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ملک صداقت فرحان

Read More Articles by ملک صداقت فرحان: 138 Articles with 44438 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Oct, 2018 Views: 1415

Comments

آپ کی رائے