توکل کیا ھے اور ہم دور کیوں ؟

(Babar Alyas, Chichawatni)

اللہ مالک الملک پر توکل کے سبب ہی رزق حاصل کیا جاتا ہے۔ توکل لفظ وکل سے نکلا ہے جس کے معانی ہیں خود کو سپر د کر دینا، یا مکمل بھروسہ کرنا۔ میری حقیررائے میں توکل کسی مولوی صاحب سے سیکھنے کی بجائے معصوم بچوں سے سیکھیں۔ مشاہدہ کیا ہے کہ جب کسی بچے کو کوئی غیر انسان گود میں لینا چاہیے تو وہ ڈر کر روتا ہے، شور رمچاتا ہے مگر جب اس بچے کو اس کا باپ گود میں لے کر ہوا میں کئی فٹ اونچا اچھالتا ہے وہ ڈرنے کی بجائے خوشی سے قلقاریاں مارتا ہے اور اکثر دوبارہ اچھالنے کی فرمائش بھی کرتا ہے۔ میرے خیال میں وہ معصوم بچہ جانتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے اس کا باپ اسے زمین پر گرنے نہیں دے گا۔ اس بچے کا یہ اعتماد اور بھروسہ اپنے باپ پر اس کا توکل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ علمائے امت کو جزائے خیر عطافرمائیں کہ انہوں نے توکل کے معنی و مفہوم کو خوب وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ مثال کے طور پر امام غزالی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ توکل بندے کے اظہار عجز اور جس پر توکل کیا گیا ہے مکمل بھروسے کا نام ہے۔ اسی طرح مولا علی قاری رحمتہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر کماحقہ توکل کا مفہوم بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ تم اس بات کو یقینی طو ر پر جان لو کہ درحقیقت ہر کام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہیں۔ کائنا ت میں جو کچھ بھی ہے تخلیق و رز ق عطا کرنا یا محروم رکھنا، ضرر، نفع افلاس و تنگی، بیماری و صحت اور موت و زندگی غرض یہ کہ ہر چیز فقط اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ علامہ منادی ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر کما حقہ ہو توکل کا مفہوم یہ ہے کہ تم اس بات کو یقینی طور پر جان لو کہ در حقیقت ہر کام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہیں۔ توکل علی اللہ رزق کا سبب ہے۔حضرت عمر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسا کہ اُن پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس پلٹتے ہیں۔ جس نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا اللہ تعالیٰ تنہا ہی اس کے لیے کافی ہے، ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے کہ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے وہ اس کو کافی ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرنے والا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا ہوا ہے۔ ترمذی شریف کی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بدو دیہاتی کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو کھونٹنے سے نہیں باندھا اور کھلا چھوڑ دیا، آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ کیوں نہیں باندھا؟ بدو نے جواب دیا کہ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں آپ ﷺ نے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلے اونٹ کو کھونٹے سے باندھو اور پھراللہ پر توکل کرو۔ توکل سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ اپنے حصے کا کام ہی نہ کیا جائے جس طرح ایمان کے ساتھ عمل لازم ہے، بالکل اسی طرح توکل کے ساتھ تدبیر بھی ضروری ہے۔ شاید کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب توکل کرنے والے کو ضرور رزق ملتا ہے تو ہم حصولِ رزق کی خاطر جدو جہد اور محنت و مشقت کیوں کریں، کیوں نہ ہم مزے سے بیٹھے رہیں کہ توکل کی وجہ سے ہم پر آسمان سے رزق نے خود ہی نازل ہو جانا ہے۔ ایسا کہنے کی نوبت تب آتی ہے جب انسان حقیقت سے دور ہو تا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر کما حقہ ہو اعتماد کرنے والوں کو ان پرندوں سے تشبیہ دی ہے جو صبح سویرے خالی پیٹ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پیٹ بھر کر واپس اپنے گھونسلوں کی طرف پلٹتے ہیں۔ حالانکہ ان پرندوں کی دکانیں، فیکٹریاں، ملازمتیں یا کھیت جن پر وہ رزق کے حصول میں اعتماد کرتے ہوں کچھ نہیں ہوتا ہے۔ طلب رز ق کی صحیح کوشش میں ان کا کلی اعتماد صرف ایک اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ امام احمد ؒ فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں یہ بات تو نہیں کہ حصول رزق کے لیے کوشش نہ کی جائے بلکہ وہ تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رزق حاصل کرنے کے لیے جدو جہد کی جائے اور جس بات کی تاکید حدیث شریف میں کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کے آنے جانے اور سعی و کوشش کے پس منظر میں یہ یقین ہو کے ہر طرح کی خیر صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو وہ ضرور اس طرح خیرو برکات اور رزق حاصل کرکے پلٹیں جس طرح کہ سرِ شام پرندے رزق حاصل کرے پلٹتے ہیں۔ چنانچہ امام احمد ؒ سے ایک شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو اپنے گھر یا مسجد میں بیٹے کہتا ہے کہ میں تو کچھ کام نہ کروں گا میرا رزق خود میرے پاس آئے گا، آپ نے فرمایا یہ شخص علم سے کورا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا! اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے سائے کے نیچے رکھا ہے۔ امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ توکل کے بارے میں یہ سمجھنا کہ اس سے مراد حصولِ رزق کے لیے جسمانی کاوش اور دماغی سوچ و بچار چھوڑ کر پھٹے پرانے چیتھڑوں کی طرح زمین پر گرے رہنا اور ردی گوشت کی طرح تخت پر پڑے رہنا ہے تو احمقانہ سوچ ہے۔ ایسا کرنا شریعت میں حرام ہے۔ توکل کرنے والوں کی اسلام میں تعریف کی گئی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ حرام کا ارتکاب کرنے والے شریعت کی نگاہ میں قابلِ تعریف قرار دیئے جائیں۔ توکل کا اثر بندے کی اس کوشش سے ظاہر ہوتا ہے جو مقاصد کے حصول کی خاطر کرتا ہے۔ امام ابو قاسم قشیری فرماتے ہیں کہ توکل کی جگہ دل ہے اور جب بندے کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ رزق اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اگر تنگ دستی آئی تو تقدیر الٰہی سے آسانی ہو جائے گی تو ان کی عنایت و نوازش سے تو پھر ظاہری حرکت توکل کے منافی نہیں۔ اسی حوالے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا قول زریں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ دل کو اللہ کے لیے مخصوص رکھ اور ہاتھ پاؤں (اعضاء) سے بال بچوں کے لیے رزق کما یہی فلاح کا راستہ ہے۔ میرے دوستو! اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت ہی توکل کی بنیاد ہے۔اسباب اختیار رکرنا اور اپنے طور پر تمام لوازمات پر عمل کرنا نیز توحید میں راسخ ہو نا توکل کی حقیقت ہے۔ جبکہ توحید بغیر توکل کے مکمل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ پر حسنِ ظن رکھنا بھی توکل کی بنیاد ہے انسان کو اللہ تعالیٰ پر حسنِ ظن ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی تدیبر ہی میرے لیے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کی مذمت کی ہے کہ جو خالق کے متعلق بُرے گمان رکھتے ہیں۔ سورہ فتح کی آیت نمبر 6 جس کا ترجمہ ہے کہ ”اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سز ا دے گا جو اللہ تعالیٰ کے متعلق بُرے گمان رکھتے ہیں“ اس لیے توکل کو دل سے جوڑا گیا ہے۔ کہ یہ خالص دل کا معاملہ ہے جسے ناپا نہیں جا سکتا۔ اس کے بارے میں حضرت جنید بغدادی ؒ کا قول ہے کہ توحید دل کا قول ہے جبکہ توکل دل کا عمل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح فرمایا ہے کہ توکل صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہونا چاہیے۔ کیونکہ جس پر توکل کیا جائے اس کے اندر کچھ صفات ہونی چاہیں۔ قرآن پاک ان صفات کو بیان کرتا ہے اور سورہ مزمل آیت نمبر 9میں ذکر ہے کہ وہ مشرق اور مغرب کا مالک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں لہذا اسی کو وکیل بنا لو۔ اسی طرح سورہ فرقان آیت نمبر 58میں ارشاد ہے کہ ”اے محمد ﷺ اس معبود پر توکل کرو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں“ اسی طرح سورہ الشعرا آیت نمبر 217میں ذکر ہے کہ اس زبردست اور رحیم پر توکل کرو جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو۔ چنانچہ ان آیات سے معلوم ہو اہے کہ جس پر توکل کیا جائے وہ مشرق و مغرب کا مالک ہو، وہ زندہ ہو، اسے کبھی موت نہ آتی ہو، وہ ہر وقت ہمیں دیکھ رہا ہواور جو اس صفات سے عاری ہو اس پر توکل ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ توکل دراصل ایمان کی علامت ہے۔ جس طرح کہ سورہ الماہدہ آیت نمبر 23میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اللہ پر توکل کرو اور اگر تم مومن ہو“۔ ان تمام باتوں کے بعد جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ توکل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے بس میں کچھ ہے وہ کرے تمام اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ پر توکل کرے نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، آپ ﷺ نے پندرہ سال کی محنت کی اور عمر بھر کی جمع پونجی میدان بدر میں پیش کر دی اور پھر اللہ پر توکل کیا اس توکل کا کیا نتیجہ تھا یاد کروجب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ یہ تمہارے کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے بیشک اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جو دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئیں گے، اسی آن تمہارا رب پانچ ہزار صاحب ِ نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا(سورہ العمران آیت نمبر 124-125)۔ میدان ِ اُحد میں جب مشرکین مدینہ پرچڑھ دوڑے تو اس وقت بھی آپ ﷺ نے فرمایا حسبنااللہ وہ نعیم الوکیل۔ اور میرے دوستو! سیدنا ابراہیم ؑ کو آگ میں جھونکاگیا تو حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایااے ابراہیم ؑ کیا تمہیں مدد کی ضرورت ہے؟ حضرت ابراہیم ؑ نے جواب دیا مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں، ہاں اللہ تعالیٰ کی مدد کی بہر حال ضرورت ہے۔ میرے لیے اللہ کافی اور وہی بہترین کارساز ہے۔ اسی توکل کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اے آگ ٹھنڈی ہو جا سلامتی کے ساتھ ابراہیم ؑ پر، اے اللہ کے بندو! ہمیشہ یاد رکھو کہ کوئی خیر اور بھلائی بغیر تدیبر کے اختیار کئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ معبود برحق سے مدد مانگے بغیر اور اس پر کامل بھروسہ اور اعتماد رکھے بغیر تمہاری کوئی مراد پوری ہو نہیں سکتی۔ تم اپنی کوشش میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم اللہ کی قوت و طاقت کا دامن مضبوطی تھام نہیں لیتے، یاد رکھو جس نے اللہ تعالیٰ پر توکل جما لیا اللہ اس کے لیے کافی و شافی ہے۔ جس نے اس سے مدد مانگی اور اسی کا دامن گیر ہوا اس نے اپنا دین اور دنیا دونوں کو سنوار لیا۔ اللہ پھر بھروسہ رکھتے ہوئے نیکی کی راہ قدم بڑھاتے چلو دیکھ لینا تمہاری اندھیری رات کا روش سویرا بہت جلد طلوع ہوگا۔ بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے مت بیٹھو کیونکہ یہ اپاہجوں کا رستہ ہے اور اس راستے پر چلنے والے ضرور ہی اپاہج بن کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ پاک سے دُعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ کو دین محمد ﷺ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 256 Articles with 91243 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
17 Oct, 2018 Views: 458

Comments

آپ کی رائے