صبح خیزی اور نسل نو

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: مریم صدیقی، کراچی
قدرت نے کس مربوط و متوازن انداز سے نظام کائنات کو مرتب کیا ہے ہر شے اپنے محور اور وقت کے تابع ہے۔ اﷲ تبارک و تعالی کا منظم کردہ یہ نظامِ کائنات ہمیں زندگی میں نظم و ضبط کا درس دیتا ہے۔ ہر کام کا وقت مقررہ پر انجام دیا جانا ہی اس کائنات کا حقیقی حسن ہے۔ اگر سورج اپنے مقررہ وقت پر طلوع یا غروب نہ ہو تو نظام زندگی کے ساتھ ساتھ نظام کائنات بھی درہم برہم ہوجائے۔ اﷲ تعالی نے انسانی فطرت کو بھی اسی نظام کے تابع بنایا ہے۔ انسانوں کے لیے دن کا وقت کام کاج اور دیگر مصروفیات کے لیے اور رات پرسکون نیند کے لیے مختص ہے لیکن افسوس دور جدید میں سوشل میڈیا نے جہاں ہمیں بے شمار معاشرتی و اخلاقی برائیوں میں مبتلا کر رکھا ہے اسی میں سے ایک عادت بد دیر رات تک جاگنا اور دن چڑھے تک سوتے رہنا بھی ہے۔ بکثرت سوشل میڈیا کے استعمال نے ہماری نوجوان نسل کی زندگی کے نظام کو قدرتی نظام کے برعکس بنا دیا ہے۔

اس قانون فطرت کے خلاف عمل کرنے والے نہ صرف دنیاوی طور پر سراسر نقصان میں رہتے ہیں بلکہ کئی ذہنی و جسمانی امراض کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ صبح سویرے جاگنے کے نہ صرف طبی طور پر بے شمار فوائد ہیں بلکہ اﷲ تعالی نے صبح کے وقت میں بے شمار برکتیں رکھی ہیں۔

صبح خیزی کے فوائد: اﷲ تبارک و تعالی نے انسان کو جہاں لاتعداد نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے ایک سورج بھی ہے۔ جس سے انسان بے شمار فوائد حاصل کرتا ہے جس میں وٹامن ڈی کا حصول بھی شامل ہے۔ صبح کے وقت میں انسان سورج کی شعاعوں سے وٹامن ڈی حاصل کرتا ہے۔ جب صبح سویرے اٹھ کر سورج کی روشنی میں جاتے ہیں اور جلد کو الٹرا وائیلٹ شعاعیں ملتی ہیں تو جلد میں سے ایک مرکب نیٹرک اکسائیڈ خارج ہوتا ہے جس سے بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ سورج کی کرنوں سے جسم میں خون کے سفید خلیات کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے مدافعتی نظام بھی طاقت ور ہوتا ہے۔

نماز کی ادائیگی: صبح سویرے اٹھنے سے ہم وقت کی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرسکتے ہیں۔ صبح کے وقت تلاوت قرآن کی عادت بنالیں تو سارا دن اﷲ کی رحمتوں کے سائے میں گزرے گا اوردیگر ذکر و اذکار کے لیے بھی وافر مقدار میں وقت مل جائے گا۔

دماغ کا تیز ہونا:رات کو جلدی سونے سے جسم کی ساری تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے اور صبح سویرے جاگنے سے انسان کا ذہن فریش ہوتا ہے۔ طلبا کے لیے یہ پڑھائی کا بہترین وقت ہے۔ اس وقت جو کچھ یاد کیا جائے وہ انسان زندگی بھر نہیں بھولتا۔ جب کہ وہ لوگ جورات دیر تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں ان کا دماغ مکمل طور پر سکون حاصل نہیں کرپاتا اور وہ ڈپریشن کے ساتھ ساتھ دیگر نفسیاتی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ورزش کرنا:صبح سویرے اٹھ کر تازہ ہوا میں، پرندوں کی چہچہاہٹ، پھولوں کی خوشبو اور طلوع ہوتے سورج کے نظاروں کے ساتھ ورزش یا کم از کم بیس سے چالیس منٹ چہل قدمی کرلی جائے تو سارا دن تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ تیز تیز چلنے سے جب پسینہ بہتا ہے اور سانس پھولتی ہے تو تازہ آکسیجن پھیپھڑوں میں جاتی ہے۔ تازہ ہوا انسانی پھیپھڑوں کے لیے بے حد مفید ہے۔ صبح کے وقت فضا ٹریفک کے شور اور آلودگی سے پاک ہوتی ہے اس لیے اس وقت آکسیجن وافر مقدار میں ملتی ہے۔

صبح ورزش یا چہل قدمی کرنے کی عادت اپنالینے سے جسم اور دماغ کے پھٹے مضبوط ہوتے ہیں۔ چہل قدمی سے کولیسٹرول، موٹاپا جیسی کئی بیماریوں سے حفاظت ممکن ہے۔ برطانیہ میں لوگوں کو ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ ورزش کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ صبح سویرے ورزش کو معمول بنا لینے والے افراد بہت کم بیمار ہوتے ہیں۔

تمام کام مقررہ وقت پر مکمل ہوجانا: صبح جلد اٹھنے سے دن میں تمام کام اپنے وقت پر انجام دیے جاسکتے ہیں۔ جب طبیعت میں سستی اور بوجھل پن نہیں ہوگا تو تمام کام وقت سے پہلے مکمل ہوجائیں گے اور یوں ہم کچھ نہ کچھ وقت گھروالوں کو بھی دے سکیں گے۔ کام وقت پر مکمل ہونے کے باعث ہمارے کام کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔

ناشتہ:صبح کا ناشتہ ازحد ضروری ہے، یہ سارا دن جسم کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ بہترین اور صحت افزا ناشتہ کرنے سے سارا دن جسم تھکاوٹ اور سستی کا شکار نہیں ہوتا۔ جو لوگ دیر سے سوکر اٹھتے ہیں اکثر و بیشتر وہ لوگ ناشتہ نہیں کرپاتے یا جو جلدی اٹھ کر بھی ناشتہ نہیں کرتے تو جلدی اکتاہٹ اور بے زاری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ آہستہ آہستی ان کا جسم کمزوریوں اور بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔
جلد تروتازہ ہونا:صبح اٹھنے سے نہ صرف جسم تروتازہ رہتا ہے بلکہ جلد بھی صاف شفاف اور نکھر جاتی ہے۔نیند پوری ہونے کے سبب چہرے پر تازگی رہتی ہے اور چہرہ ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے۔ صبح کے وقت گیلی گھاس پر چلنے سے آنکھوں کی بینائی تیز ہوتی ہے۔

طبیعت میں چڑچڑا پن نہ ہونا: انسان چڑچڑے پن کا شکار تھکاوٹ یا نیند پوری نہ کرنے کے سبب ہوتا ہے۔ اگر ہم رات کو جلدی سوجائیں تو صبح تک ہماری نیند مکمل ہوجائے گی۔ ڈاکٹرز کے مطابق انسانی جسم کے لیے آٹھ گھنٹے کی نیند اسے دن بھر ایکٹو رکھنے کے لیے کافی ہے۔ نیند پوری ہوگی تو تھکاوٹ نہیں ہوگی بلکہ زیادہ تیزی سے اور کم وقت میں کام مکمل ہوجائیں گے۔ اس طرح طبیعت کا چڑچڑاپن، غصہ اور سستی بھی دور ہوجائیں گے۔

دیر تک جاگنے کے نقصانات: جس طرح صبح خیزی کے بے شمار فوائد ہیں وہیں رات بھر جاگنے یا رات کو دیر سے سونے کے کئی نقصانات بھی ہیں۔ کچھ نقصانات وہ ہیں جو ہمارے علم میں ہیں جیسے رات کو دیر سے سونے کے باعث صبح اسکول، کالج یا آفس کے لیے دیر ہوجانا، کام کا وقت پر مکمل نہ ہونا، طبیعت میں چڑچڑا پن کا پیدا ہوجانا، ڈپریشن کا شکار ہوجانا، نمازوں کی ادائیگی میں تاخیر یا نمازوں کا قضا ہوجانا اور کچھ نقصان طبی طور پر ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے علم میں آتے جائیں گے جیسے بینائی میں کمی، آنکھوں کے گرد حلقے، موٹاپا، چہرے کا مرجھانا، پٹھوں کا کمزور ہونا وغیرہ۔

ہمارا جسم ایک مشین کی مانند ہے، اس کا فیول مکمل پرسکون نیند اور بہترین غذا ہے ۔ ان دونوں کی کمی ہمارے اعضاء کی کاردکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ صحت مند رہنے کے لیے صبح سویرے اٹھنے کی عادت کو اپنائیے کہ اس میں اسلامی، طبی اور معاشرتی لحاظ سے بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517798 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Oct, 2018 Views: 789

Comments

آپ کی رائے