کیا صفر المظفر نحوست کا مہینہ ہے……؟

(مولانا احتشام الحسن, )

صفر کا معنی:۔اسلامی و قمری سال کا دوسرا مہینہ ’’ صفرالمظفر‘‘ہے۔ علامہ ابن منظور رحمہ اﷲ نے لسان العرب میں اور صاحب ’’معجم الوسیط‘‘ نے’’صفر‘‘ کا معنی ’’خالی‘‘ سے کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ:’’ اس مہینے میں عرب لوگوں کے گھر خالی رہتے تھے، کیوں کہ چار مہینوں (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب)میں مذہبی طور پر ان کو جنگ اور لڑائی نہ کرنے اور مذہبی عبادت انجام دینے کا بہ طور خاص پابند کیا گیا تھا۔محرم کا مہینہ گزرتے ہی اس جنگجو قوم کے لیے مسلسل تین مہینوں کی یہ پابندی ختم ہوجاتی تھی، لہٰذا وہ لوگ جنگ، لڑائی اور سفر میں چل دیتے تھے، اسی وجہ سے ان کے گھر خالی ہوتے تھے۔اس کے علاوہ اور بھی وجوہات کتب میں مذکور ہیں۔

صفر کے ساتھ مظفر کہنے کی وجہ:عام طور پر صفر کے ساتھ’’ مظفر‘‘(کام یابی) یا ’’خیر‘‘ کا لفظ لگایا جاتاہے۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ:’’زمانۂ جاہلیت میں صفر کے مہینے کو چوں کہ منحوس مہینہ سمجھا جاتا تھا اور آج بھی اس مہینے کو بہت سے لوگ منحوس اور آسمان سے بلائیں اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھتے ہیں۔اسی وجہ سے اس مہینے میں خوشی کی بہت سی چیزوں(مثلاً شادی بیاہ وغیرہ کی تقریبات)کو معیوب سمجھتے ہیں؛ جب کہ اسلامی اعتبار سے اس مہینہ سے کوئی نحوست وابستہ نہیں ہے۔اسی وجہ سے احادیث مبارکہ میں اس مہینہ کے ساتھ نحوست وابستہ ہونے کی تردید کی گئی ہے۔اس لیے صفر کے ساتھ ’’مظفر‘‘ یا ’’خیر‘‘ کا لفظ لگا کر ’’صفر المظفر‘‘ یا ’’صفر الخیر‘‘ کہا جاتا ہے، تاکہ اسے منحوس اور شر و آفت والا مہینہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے کام یابی اورخیر کا مہینہ سمجھا جائے۔‘‘(ماہ صفر اور توہُّم پرستی از مفتی محمد رضوان:۹) ۔

ماہ صفر کی ماضی اور حال کی کچھ خرافات:زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا صفر کے متعلق یہ گمان تھاکہ :اس ماہ میں بکثرت مصیبتیں ، آفتیں نازل ہوتی ہیں اور یہ مہینہ نحوست ، پریشانیوں اور مصائب والاہے ، نیز اہل عرب صفر کا مہینہ آنے سے بد فالی بھی لیا کرتے تھے ۔بعض اہل علم عرب کا یہ گمان تھا کہ صفر سے مراد وہ سانپ ہے جو انسان کے پیٹ میں ہوتا ہے اور بھوک کی حالت میں انسان کو ڈستا اور کاٹتا ہے، چنانچہ بھوک کی حالت میں جو تکلیف ہوتی ہے وہ اسی کے ڈسنے سے ہوتی ہے ۔ بعض اہل عرب کا یہ نظریہ تھا کہ صفر سے مراد پیٹ کا وہ مرض یادرد ہے جو بھوک کی حالت میں اٹھتا اور بھڑکتا یا جوش مارتا ہے اور جس کے پیٹ میں ہوتا ہے بسا اوقات اس کو جان سے بھی مار دیتا ہے اور نیز اہل عرب اس کو خارش کے مرض والے سے بھی زیادہ متعدی مرض سمجھتے تھے ۔ بعض کے نزدیک صفر ان کیڑوں کو کہتے ہیں جو جگر اور پسلیوں کے سرے میں پیدا ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے انسان کا رنگ بالکل پیلا ہوجاتا ہے ( جس کو طب کی زبان میں یرقان کہا جاتاہے ) اور بسا اوقات یہ مرض انسانی موت کا سبب بن جاتاہے ۔

آج کل بھی ماہ صفر کے متعلق عام لوگوں کے ذہن میں مختلف خیالات جمے ہوئے ہیں جیسے:شادی اور خوشی کی تقریبات سے پرہیز کیا جاتاہے۔مٹی کے برتن توڑے جاتے ہیں۔ یہ بھی گمان کیا جاتا ہے کہ جنات اور بلائیں آسمانوں سے نازل ہوتی ہیں۔شروع کے تیرہ دن سخت ہوتے ہیں۔ماہ صفر کو منحوس سمجھنے کی وجہ سے بعض گھرانوں میں اجتماعی قرآن خوانی کا اس لیے اہتمام کرایا جاتاہے تاکہ اس مہینہ کی بلاؤں اور آفتوں سے حفاظت رہے ۔ماہ صفر کے آخر ی بدھ کو ایک نماز بھی ادا کی جاتی ، جس کی ادائیگی کاایک مخصوص طریقہ یہ بیان کیا جاتاہے کہ ماہ صفر کے آخری بدھ دو رکعت نماز، چاشت کے وقت ،ا س طرح ادا کی جائے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد’’ قل اللھم مالک الملک ‘‘دو آیتیں پڑھیں اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد’’ قُلِ ادعُوا اﷲَ اَوِ ادعُوا الرحمن ‘‘دو آیتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجیں اور دعا کریں۔

ماہ صفر کو منحوس کہنے کی وجہ:اوپرگذر چکا ہے کہ ماہ صفر کو نحوست والا مہینہ سمجھا جاتا تھا اور آج بھی اسی طرح اسے منحوس ہی گردانا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دشمنان اسلام نے ماہ صفر کو منحوس باور کروانے کے لیے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف بہت سی جھوٹی روایات منسوب کیں۔لوگوں نے نادانی میں اسے حدیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سمجھ کر ماہ صفر کو منحوس سمجھنا شروع کردیا۔ ان ہی میں سے ایک من گھڑت حدیث یہ ہے :
’’مَنْ بَشَّرَنِیْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّۃِ ‘‘
ترجمہ:جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا ،میں اُسے جنت کی خوش خبری دوں گا۔اس حدیث پر ائمہ جرح و تعدیل نے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے۔دو حوالے پیش خدمت ہیں۔ ملا علی القاری رحمہ اﷲ فرماتے ہیں:
’’مَنْ بَشَّرَنِیْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّۃِ لَا أصْلَ لَہ‘‘
(الأسرار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ المعروف بالموضوعات الکبریٰ، حرف المیم، رقم الحدیث: 437،2/324،المکتب الإسلامی) اورعلامہ اسماعیل بن محمد العجلونی رحمہ اﷲ ملا علی قاری رحمہ اﷲ کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ:
’’مَنْ بَشَّرَنِیْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّۃِ ‘‘
قال القاری فی الموضوعات تبعاً للصغانی: لَا أصْلَ لَہ․ (کشف الخفاء و مزیل الإلباس، حرف المیم، رقم الحدیث:2418، 2/538،مکتبۃ العلم الحدیث )یعنی اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے مطلب یہ کہ یہ حدیث موضوع ہے۔
ماہ صفر کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان:۔ساری من گھڑت روایات کی تردید نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بالکل واضح ہے، جس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے علاوہ پائے جانے والے والے توہمات اور قیامت تک کے باطل نظریات کی تردیداور نفی فرما دی اور علیٰ الاِعلان ارشاد فرما دیا کہ:(اﷲ تعالی کے حکم کے بغیر) ایک شخص کی بیماری کے دوسرے کو (خود بخود)لگ جانے (کا عقیدہ) ، ماہِ صفر (میں نحوست ہونے کا عقیدہ) اور ایک مخصوص پرندے کی بد شگونی (کا عقیدہ) سب بے حقیقت باتیں ہیں۔ملاحظہ ہو:
’’عَنْ أبی ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰہُ عنہ قال
قال النبیُّﷺ لا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا ھَامَۃَ‘‘
(صحیح البخاری،کتابُ الطِّب،بابُ الھامۃ، رقم الحدیث: 5770، المکتبۃ السلفیۃ) مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں اس قسم کے فاسد و باطل خیالات و نظریات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، ایسے نظریات و عقائد کو سرکارِدو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے پاوں تلے روند چکے ہیں۔
اسی طرح ماہ صفر کو منحوس کہنا در اصل زمانہ کو برا بھلا کہنا ہے۔جب کہ حدیث قدسی میں آیاہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’قال عز و جل یؤذینی ابن آدم یسب الدھر و أنا الدھر بیدی الأمر أقلب اللیل و النھار‘‘
(صحیح مسلم:رقم الحدیث:۴۴۵۲)ترجمہ:اﷲ عز وجل فرماتے ہیں کہ بنی آدم مجھے ایذا دیتا ہے(یعنی میری شان کے خلاف بات کہتا ہے اور وہ اس طرح)کہ وہ زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے،حالانکہ زمانہ میں ہوں(یعنی زمانہ میرے تابع اور ماتحت ہے)میرے قبضۂ قدرت میں تمام حالات اور زمانے ہیں ، میں ہی رات و دن کو پلٹتا(اور کم زیادہ کرتا)ہوں۔

صفر المظفر کے کچھ تاریخی واقعات:۔اگر صفر المظفر واقعی نحوست ولا مہینہ ہوتا تو صفر المظفر کے تاریخی اوراق اچھے اور خیر کے کاموں سے خالی ہوتے اور نہ ہی اس میں کسی نیک اور بزرگ شخصیت کا انتقال ہوتا۔جب کہ تاریخی اوراق بول بول کر اس باطل نظریے کی تردید کر رہے ہیں۔چند واقعات ملاحظہ ہوں: ماہ صفر ۲ ؁ھ میں حضور پاکﷺ نے اپنی لخت جگر، جنت کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح سیدناعلی کرم اﷲ وجہ سے فرمایا۔ماہ صفر۶؁ھ میں حضرت ثمامہ بن اثال حنف رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبل فرمایا۔ ماہ صفر ۱۱؁ھ میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک شام پر قابض رومیوں کے مقابلے کے لیے حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کی امارت میں ایک لشکر تشکیل دیا۔ماہ صفر ۱۶ ؁ھ میں کسریٰ کا قصر ابیض فتح ہوا۔ماہ صفر ۳۸ ؁ھ میں محمد بن ابی بکر رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے۔ماہ صفر ۵۲ ؁ھ میں حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ماہ صفر ۹۹ ؁ھ میں حضرت عمربن عبد العزیز رحمہ کی خلافت قائم ہوئی۔

کرنے کے کام:
مذکورہ بالا باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مہینہ میں ہونے والی خرافات اور توہّمات سے خود کو بچائیں۔اسی طرح اس مہینہ میں خوشی کی تقریبات کے منعقد کرنے میں کوئی عار اور عیب نہ سمجھیں اور نہ بد فالی لیتے ہوئے اسے ترک کریں۔اسی طرح دیگر مسلمان بھائی جو ان باطل نظریات کے حامل ہوں ان کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں سمجھائیں،تاکہ ان کی آخرت بھی سنور جائے۔

تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ علم نجوم کا سیکھنا اور اسے حاصل کرنا ہرزمانے میں براسمجھا گیا ہے ۔نبی الرحمت حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!
’’جب تقدیر کا ذکر ہونے لگے تو خاموشی اختیار کرو۔جب ستاروں کا ذکر ہونے لگے تو خاموشی اختیار کرو۔جب میرے صحابہ ؓ کاذکر ہونے لگے تو بھی خاموشی اختیار کرو ‘‘۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مولانا احتشام الحسن

Read More Articles by مولانا احتشام الحسن: 17 Articles with 9721 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Oct, 2018 Views: 502

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ