سونیا (١٢)

(Hukhan, Karachi)

نہ کوئی سپنا ہوا اپنا
نہ کوئی ملال نہ ہی کوئی جمال
زندگی یوں اداس سی
جیسے ٹوٹا ہو ہر سپنا

راغب نے گھر کے پھٹےہوئے میلے سے پردے کو دیکھا،،،اس کے چہرے پر دکھ کی لکیر نے
اپنا نشان ڈالا اور غائب ہوگئی۔

ماں نے راغب کو دیکھا تو اک بھرپور سانس لی،جیسے اسکا سانس اٹکا ہوراغب ذرا سا مسکرایا
مگر اس کی ہمت جواب دے گئی،،،ماں غالب کہاں ہے؟؟
ماں دکھ سے بولی،،بیٹا وہ کب سے بالٹی میں پانی بھرنےکی کوشش کررہا ہے،،راغب جلدی سے
ٹوٹے پھوٹے بنا چھت کے غسل خانے کی طرف دوڑا،،،ساتھ ساتھ وہ بولتا گیا،،،،،

ماں کتنی دفعہ کہا ہے،،اگر اسے چوٹ لگ گئی وہ ویسے ہی ادھورا ہے اور مشکل میں پڑ جائے
گا،،،اس نے پولیو زدہ چودہ سالہ بھائی کو گود میں اٹھاکر لکڑی کی پیڑھی پر بیٹھا دیا،،،،یار،،،!!کتنا
بھاری ہوا جارہا ہے،،،کم کھایا کر،،،!!!

غالب نے نظریں اٹھاکر راغب کو دیکھا،،بھاری،،،یا،،،بوجھ بنتا جارہا ہوں؟؟،،،راغب نے اس کیطرف
دیکھا نہیں،،،مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاکر بولا،،،اگر بوجھ ہوتا تو کب کا باہر کونے میں ،،،
پھینک آتا،،،!

غالب نے دکھی لہجے میں کہا،،بھائی،،راغب نے غالب کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا،غالب
نظریں نیچی کرکے بولا،،مجھے چوک پر بیٹھا جایا کرو،،میری معذوری دیکھ کر لوگ کچھ نہ کچھ
دے ہی جایا کریں گے۔زندگی تو آسان ہوتی نہیں ،،،موت ذرا آسان ہوجائے گی،،،!!

راغب کے چہرے پر اک طوفان آکر گزر گیا،،،وہ غالب کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا،،،دیکھ بیٹا،،،!!!
میں نے کیا نہیں کیا،،،پڑھ بھی لیا،،،ہمت بھی بہت ہے،،،بہت کچھ سنتا ہوں،،،سہتا ہوں،،،مگر
اف نہیں کرتا،،،مکان جیسا بھی ہے اپنا ہی ہے،،،روٹی بھی مل ہی جاتی ہے،،،تیرا علاج صحیح،،
سے نہیں کروا پاتا،،،نوکری اچھی نہیں ملتی ورنہ آج تجھے یہ نہ کہنا پڑتا،،،

ہمت سے کام لو،،،یا پھر میرے مرنے کا انتظار کرو،،،پھر جو مرضی کرنا،،،اتنا دکھ کوئی نہیں دیتا،،
جتنا دکھی تو کردیتا ہے،،،مجھے مہلت دو،،،میں ضرور تمہیں خوش رکھنے کی ہمت رکھتا ہوں
پیٹ بھر اناج چھت ماں سب تو ہے نا،،،اللہ کی طرف سے آزمائش ہے،،،ایسی باتیں کرے گا ،،،تو
میری ہمت ٹوٹ جائے گی،،،!!

ماں نے آگے بڑھ کر راغب کو کھانا کھانے کو کہا،،،زور سے بولی،،،چھوڑ اسے پاگل ہوگیا ہے،،،کیا
بولنا ہے،،،کیا نہیں اتنی عقل کہاں،،،

راغب نے ماں کو دیکھا،،،نہیں ماں،،،میں کمزور ہوں،،،پر ابھی زندہ ہوں،،،
غالب کی آواز آئی،،،بھائی نہا لیا اٹھا لو،،،غالب نے مسکرا کر سر ہلایا،،،آتا ہوں میری جان کے ٹوٹے،،


کچھ دے ہی دو
روٹی کے ٹکڑے
جگر کے ٹکڑوں کے لیے
کچھ دے ہی دو
چیٹھڑے ہی سہی
تن ڈھانپنے کے لیے
کچھ دے ہی دو
دور چلو جینے کے لیے
نا سہی
درد کم کرنے کے لیے
کچھ دے ہی دو عزت
اب خدا کے لیے
کچھ دے ہی دو
زمین درگور ہونے کے لیے (hukhan)

(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 882890 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Oct, 2018 Views: 1586

Comments

آپ کی رائے
rulaana mna hay dost
By: sohail memon, karachi on Oct, 22 2018
Reply Reply
0 Like
bhut khubh
By: rahi, karachi on Oct, 22 2018
Reply Reply
0 Like