داخلی اور خارجہ پالیسی کا روڈ میپ کیا ہے!

(Iftikhar Bhutta, )

تحریک انصاف کی حکومت تبدیلی کے نعرے پر انتخابات جیتنے کے بعد بر سر اقتدار آئی ہے آخر اس تبدیلی کے خدو خال کیا ہونگے ، جس میں داخلی معاملات ، دہشت گردی ،داخلی معاملات ، اور انتہا پسندی کے خاتمے معیشت کی بحالی کے حوالے سے روڈ میپ اہم ہے جبکہ خارجہ پالیسی کے امور کو طے کرنا بھی ضروری ہے حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے چند روز بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پانچ گھنٹے کا پاکستان کا دورہ کیاہمارے ذہین و فطین قادر الکلام شاہ محمود قریشی کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے شائد امریکہ کو فتح کر لیا گیا ہے ، امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے کوئی سخت لہجہ اختیار نہیں کیا گیا جبکہ تمام معاملات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد دوبارہ ملاقات پر اٹھا دیئے گئے ہیں تا ہم طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کرنے کا یاد دلایا گیا ہے، ایسا نہ کرنا پاکستان کے مفاد میں اچھا نہ ہوگا امریکی خارجہ کے دورہ سے قبل امریکی حکومت نے 30کروڑ ڈالر کے کولیشن سپورٹ فنڈ کو روک دیا تھا اس مسئلے پر دورہ کے دوران کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے امریکہ کو پاکستان سے شکائیت ہے کہ وہ حسب منشاء افغانستان کے معاملات میں تعاون نہیں کر رہا ہے جبکہ پاکستان کو شکوہ ہے امریکہ اس کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کر رہا ہے پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سنجیدہ کارروائیاں نہیں کر رہا ہے پاکستان خطے میں چین کا اسٹرائجیک پاٹنر اور اتحادی کیوں بن رہا ہے جبکہ پاکستان کو شکوہ ہے امریکہ ہندوستان کے گلے کیوں لگ رہا ہے زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ چند گھنٹے کے لئے دورے پر آئے اور افغانستان کے حوالے سے ڈائیلاگ کئے اور کوئی مشترکہ اعلامیہ نہیں جاری کیا گیا جبکہ ہندوستان میں جاری مشترکہ علامیہ کے مطابق امریکہ نے بھی ہندوستان کا ہمنواہ بن کر پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کی سر پرستی کا الزام تسلیم کیا ہے ماضی میں ہندوستان کی خواہش کے مطابق جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کو داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا اور کہا گیا ہےFATکے فورم پر ایک دوسرے سے تعاون کریں گے، اس کے علاوہ بھارت کی افغانستان کے حوالہ سے کردار کی تعریف کی گئی ہے اب یہ بتائیں جشن اور خوشی کس قدر درست ہے ۔

گزشتہ دنوں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی پاکستان کے دورے پر آئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دو طرفہ تعلقات اور عالمی امور پر بحث ہوئی غربت کے خاتمے اور روز گار کے مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کیا گیا حزب دستور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مہم میں قربانیوں کو سراہا گیا ،سی پیک کے حوالے سے گفتگو کی گئی اور اس کی تکمیل کے عمل میں تیزی لانے کا عندیہ دیا گیا چائینہ پاکستان راہدداری کو پاکستانی کی معاشی اور سماجی ترقی میں گیم چینجر کا نام دیا گیا مسلم لیگ اس راہداری کے حوالہ سے کام سہرا اپنے سر باندھتی ہے اس منصوبے کے تحت چند بجلی گھر اور سڑکیں تعمیر کی گئیں ہیں اس کے علاوہ چین کی مختلف شعبہ میں طویل المدت منصوبہ بندی ، سرمایہ کاری اور قرضہ جات شامل ہیں پاکستان میں ان منصوبہ جات کے لئے مشینری کی درآمدات سے زر مبادلہ پر خاصہ دباؤ ہے جس سے تجارتی خسارے میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں منصوبے کے معاہدے کے حوالہ سے بے پناہ سوال اٹھائیں ہیں جس کے مطابق اس معاہدے کی بعض شراعیت کو پبلک نہیں کیا گیا ہے جو کہ پاکستان کے مفادات میں نہیں ہے چینی کمپنیوں میں ٹھیکوں میں منافع کی شرح انتہائی بلند ہے جبکہ مقامی کمپنیوں کو بھی نقصان ہونے کا حدشہ ہے یاد رہے چین کے بینکوں اور کمپنیوں نے یہاں پر منافع کمانے کی خاطر سرمایہ کاری کی ہے مغربی معاشی ماہرین کہتے ہیں پاکستان پر معاشی دباؤ سی پیک کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ اپنی استطاعت سے زیادہ قرضے لے رہا ہے جس سے اس کو آئی ایم ایف جیسے اداروں سے قرضے لے کر چینی قرضے اتارنے پڑھ رہے ہیں اس ذرائع کے حوالے سے بیجنگ میں تحفظات پائے جاتے ہیں چین کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کو بیشتر منصوبے کم لاگت پر فراہم کیے ہیں چین کے چند منصوبہ جات شرح منافع اور شرائط پر سری لنکا بنگلہ دیش مینمیار اور انڈو نیشیا نے بھی سوالات اٹھائے ہیں سابق حکومت کے چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کا موجودہ حکومت نے جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے افواہوں کا بازا ر گرم ہے شائد سی پیک کے تحت بنائے جانے والے پراجیکٹس پر کام ایک سال کے لئے روک دیا جائے گا اور معاہدہ کی تجدید اور شرائط کے حوالے سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں اس کام سے چین کے بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور دنیا میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا حدشہ ہے سی پیک سے معیشت کے پہیہ میں تیز ی آنا ہے اس کو کارکردگی دکھانے کم از کم پانچ سال کا عرصہ درکار ہے نئی حکومت اور چین کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو چند ماہ لگ سکتے ہیں چین مزید سرمایہ کاری حاص طور پر صنعتیں لگانے میں حالات کو دیکھ کر ے گا ۔

نئی حکومت کی معاشی حکمت عملی کیا ہو گی یہ ابھی طے کرنا ہے حکومت پاکستان میں کم ہوتے ہوئے آبی مسائل کیلئے نئے ڈیم ذخیرہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کیلئے عوام سے چندہ دینے کی اپیل کی ہے دیا میر باشا ڈیم کے قیام کا اعلان صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں پیش کیا گیا اور اس کا کئی بار افتتاح ہوا نواز شریف حکومت نے منصوبے کیلئے ایک سو بیس ارب روپے رکھے تھے ، ڈیموں کو چندوں سے بلکہ مختلف مالیاتی اور مختلف کنسورسٹم کی امداد اور قرضہ جات سے تعمیر کیا جاتا ہے موجودہ تناظر میں عالمی سطح پر بڑے ڈیم بنانے کا رجحان کم ہو گیا ہے حکومت پاکستان کیلئے ڈیم کی تعمیر نے سب سے زیادہ رکاوٹ مختلف عالمی اداروں کی طرف سے قرضہ جات کی عدم فراہمی رہی ہے گزشتہ سال پاکستان نے کوشش کی تھی کہ سی پیک کے دیگر منصوبوں کی طرف باشا ڈیم کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے مگر چینی کمپنی کی سخت شرائط کی وجہ سے اس خیال کو طرک کر دیا گیا تھا اس فنڈ کے تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کوئی ایسا ڈیم جس کی لاگت 18سے20ارب ڈالر ہو اور تعمیر کا دورانیہ دس سال سے زیادہ ہو کیا چندے سے بن سکتا ہے اس فنڈ کے حصول کیلئے اپیل نے نواز شریف کی اسکیم قرض اتارو اور ملک سنواروں کی یاد دلائی ہے چندے کے علاوہ اگر حکومت پاکستان ڈیم بانڈ جاری کرنے اور بینکوں کے ساتھ فنانشل منصوبہ بنا سکتی ہے عوام سے چندے کی اپیل کرنا جذباتی لگتا ہے نہ کوئی سنجیدہ مشورہ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے معاملات چلتے رہیں گے کرپشن کے خاتمے اور مجرموں کے احتساب کیلئے عدالتیں اور ادارے فائلیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں تحریک انصاف کی معاشی میدان میں بہتر کارکردگی سے اس کی مقبولیت کا گراف بلند ہوگا پاکستان کو فی الحال فوری طور پر 9ارب ڈالر کی ضرورت ہے مگر آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے ساتھ اس کا ملنا مشکل ہے اگر قرضہ حاصل کر لیا جاتا ہے تو اس میں سے سابق اقساط کی ادائیگی کرنا ہوگی اور نہ ہی آئی ایم ایف اتنی بڑی رقم یک دم فراہم کر سکتا ہے اس قرضہ جاتی ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے عالمی اداروں سے PRO-FILINGکی درخواست کی جا سکتی ہے جس سے مراد قرضوں کی ادائیگی کیلئے نیا شیڈول تیار کرنا ہے اگر پاکستان چین سعودی عرب ، اسلامک ترقیاتی بینک اور دوسرے نان آئی ایم ایف اداروں سے قرض حاصل کر کے اپنے تجارتی خسارے کو 12.5بلین ڈالر سے لے آتا ہے مگر پھر بھی اس کو 6ارب ڈالر سابق قرضہ ادا کرنا ہے اس حوالے سے آئندہ کالم تفصیل کے ساتھ لکھوں گا موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کی حکومت کیلئے خارجہ پالیسی، داخلی ، معاشی صورتحال قرضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ تجارتی عدم توازن ادائیگی غربت بے روز گاری، تعلیم اور صحت کے مسائل ہیں قرضہ جاتی بحران اور غربت کے خاتمہ کیلئے طویل المدتی پلان کی ضرورت ہے معاشی مسائل پر سابق حکومتوں کو کوسنے کی بجائے نئے مثبت فیصلے کرنے اور معاشی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے سیاسی اسکرپٹ مکمل ہو چکا ہے اب قومی پیدا ور کو بڑھائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Iftikhar Bhutta

Read More Articles by Iftikhar Bhutta: 7 Articles with 3203 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Oct, 2018 Views: 447

Comments

آپ کی رائے