گلگت بلتستان ائینی حقوق سے محروم کیوں؟

(Ashraf Ahmed, )

میں نہ صحافی ہوں اور نہ ہی کالم نگار! میں اپنے آفس میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ گلگت بلتستان پر قدرت کس قدر مہربان ہے۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اس علاقے کو اس قدر خوبصورت بنایا ہے کہ اس میں برف پوش پہاڑوں کے سلسلے، دلکش و حسین وادیاں، سریلی آواز سے بہتے ندی اور جھر نے، خوبصورت جھیلیں اور سب سے بڑھ کر اس علاقے کے پر کشش ترین ثقافت کے علمبردار لوگ جو اپنی سادگی اور قناعت پسندی سے پو ری دنیا میں اپنا ایک مقا م ر کھتی ہے۔ اگر پہاڑوں کی با ت کی جائے تو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے۔ٹو، مشہ بروم اور کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے، وادیوں کی بات کی جائے تو شگر ویلی، کھرمنگ ویلی، ہنزہ ویلی، چھوربٹ ویلی، کاندے ویلی، سلترو ویلی و غیرہ و غیرہ، جھیلوں کی بات کی جائے شنگیریلا ، سدپارہ ، عطا آباد جھیل و غیرہ و غیرہ جو خدا کی قدرت سے بھر پور ہیں۔ اگر لوگوں کی بات کی جائے تو دنیا کی سادہ ترین، پر خلوص، محب وطن اور انسان دوست لوگ یہاں بستے ہیں۔ اگر میں اس علاقے کی خوبصورتی بیان کرتے جا وں تو مجھے امیدہے کہ کاغذ ختم ہوجائیں گے لیکن اس علا قے کی تعریف مکمل نہیں گی۔ میرا موضوع سخن یہاں اس علاقے کی حسن و جمال نہیں ، بلکہ اس علاقے کی پسما ندگی ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد آزاد ہونے والا یہ علاقہ ہر دور میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی عدم استحکا م اور عدم توجہ کا سبب بنا ر ہا۔ اور یہی و جہ ہے کہ ہمیں ٓاج تک صوبائی خو د مختاری نہ مل سکا۔

(شہید) ذوالفقا ر علی بھٹو نے اپنی دور حکومت میں راجاگیریت سے آزادی دلا کر اس علا قے کے عوام پر احسان کیا اس کے علاوہ جتنے بھی اقتدار کے خواہش رکھنے والوں نے اس علاقے کی سادہ لوح لوگوں کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں سے صرف اور صرف اپنی مفاد حاصل کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کی۔ مجھے ان حکمرانوں سے کو ئی شکایت نہیں ہے لیکن شکا یت ہے تو اپنے خطے کی عوام سے ہے جو آزادی کے 70سال گزرنے کے باوجود ابھی تک خرگو ش کی نیند سو رہے ہیں، مجھے شکایت ہے اس علاقے کے نمائندوں سے جو سیاسی، سماجی، معاشی اور معا شرتی سوجھ بوجھ رکھنے کے باوجود ا پنے حقوق کے لیے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے ۔ کیو نکہ یہ حقیقت ہے جو قوم اپنی حالت خو د نہیں بدلتی اسے کسی اور کی بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ا گر پورے گلگت بلتستان کے شہر شہر، گاؤں گاؤں، گلی گلی اور کوچہ کوچہ گھومیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس علاقے کے عوام اس وطن عزیز پاکستان سے کتنی محبت کرتی ہے ہر طرف سے یک زبان یہ آواز سنے کو ملیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں ہمیں یہ وطن عزیز اپنی جان سے زیادہ پیارا اور ہم اس کے لیے جان نچھاور کرنے والے ہیں لیکن ان تمام کے خو بیوں کے باوجود اس علاقے کے لوگو ں کو صوبائی خودمختاری کے لیے کیوں ترس رہے ہیں اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس علاقے کے عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ 70سال گزرنے کے باوجود حکمران کیوں آئینی کمٹیاں بنائی جا رہی ہے؟ یہ تما م گلگت بلتستان کے با شعور، سنجیدہ اور پڑھے لکھے عوام کو سو چنے پر مجبور کر تی ہے کہ پاکستان چائینہ ا اقتصادی راہداری میں تمام صوبوں کے وزراء اعلٰیٰ اپنی اپنی تحفظات لے کر اسلام آباد میں حکومت وقت سے گل مل بیٹھے تھے لیکن ہما رے کو ئی نمائندگی کر نے والا نہیں تھا۔ میری جناب حفیظ الرحٰمن صاحب سے التجا ہے کہ خدا کے لیے اس علاقے کے عوام کو حقیقت سے اگاہ کیاجائے کیا سی پیک (CPEC) کمیٹی میں ہماری نمائندگی کی ضرورت نہیں ہے یا گورنمنٹ ہماری تحفظا ت پہلے ہی دور کر چکے ہیں۔کیو نکہ گلگت بلتستان کے عوام نے بھاری ا کثریت سے آپ اور آپ کی پارٹی کو 2015کے الیکشن میں کامیاب کروایا۔ ہمیں ابہا م میں نہ رکھا جائے ۔ گلگت بلتستان کو صوبائی حقو ق دلانے کی بات پر کشمیریوں کو بھی یاد اگیا ہے کہ گلگت بلتستان ان کا حصہ ہے۔ اگر واقعی کشمیری قیادت یہی سمجھتی ہے تو یہ گلگت بلتستان کے عوام کی حقوق پر قابض کیوں تھے؟ میرا لکھنے کا صرف اور صرف مقصد ااس علا قے کے عوام کی آواز اقتدار کی ایوانوں تک پہنچانا اور اس علاقے کے عوام سے یہ سوال کرنا ہے کہ آخر ہم کب جاگیں گے اور کب تک اس طرح کی شش و پنج میں رہیں گے؟

ہم موجودہ حکومت سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح صرف اور صرف سیاسی نعرہ بازی اور کھوکھلے وعدوں کے علاوہ یہاں کے عوام کی پسماندگی دور کرنے اور انہیں اپنی حقوق جو ہر پاکستانی کو میسر ہے دینے میں اہم کردار ادا کریں۔ میں جناب وزیراعظم عمران خان صاحب کی طرف توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کے ائینی حقوق پر خاص توجہ دی جا ئے ۔ خدارا آپ بھی ماضی کی حکمرانوں کی طرح ہمیں وعدوں کی میٹھی گولیاں کھلانے کے بجائے اس علاقے کے عوا م کو صوبائی حقوق کو دیا جائے۔ تا کہ اس خطے کے لوگ عام پاکستانیوں کی طرح اپنی ز ندگی گزار سکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ashraf Ahmed

Read More Articles by Ashraf Ahmed: 6 Articles with 4041 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2018 Views: 275

Comments

آپ کی رائے