اقبال کا نظریہ نسواں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: صدف نایاب
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
واہ واہ! زارا نے اپنے اپ کو آئینہ میں دیکھتے ہوے یہ شعر پڑھا اور پھر خود ہی دادا دینے لگی۔’’ بالکل ماڈل لگ رہی ہوں‘‘، زارا شیشہ کے سامنے کھڑی خود کلامی کر رہی تھی کہ اتنے میں زارا کی بڑی بہن عالیہ آگئی۔ ’’کیا بات ہے بھئی اقبال کے شعر کیوں پڑھے جارہے ہیں‘‘؟ عالیہ نے شیشے کے سامنے کھڑی زارا سے پوچھا۔’’ آپی آپ کو تو پتا ہے کہ مجھے ماڈل بننے کا کتنا شوق ہے اور اقبال کا شعر تو میرے اوپر بالکل صحیح بیٹھتا ہے‘‘۔ ’’کیا تمھیں پتا ہے زارا کہ اقبال کا عورت کے بارے میں کیا نظریہ ہے‘‘؟ عالیہ نے سوالیہ نظروں سے زارا کو دیکھا۔ ’’ ارے آپی ان کا جو بھی نظریہ ہو مجھے اس سے کیا؟ میں تو بس ہواؤں میں اڑناجانتی ہوں۔ شہرت میرے قدم چومے، میرے اشتہار ہوں،ٹی وی پر صرف میرا جلوہ ہو،آہا! پیسوں کی ریل پیل ہو‘‘۔زارا مزے لیتے ہوے بولی۔

’’مگر زارا اسلام میں ان سب باتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔اﷲ نے عورت کو پردے میں رہنے کا حکم اسی وجہ سے دیا ہے کہ وہ چھپائے جانے کے قابل ہی ہے اور اقبال نے بھی ہمیشہ یہ ہی نظریہ دیا۔کیوں کہ مغرب میں عورت کو ایک وقت تھا کسی بھی قسم کے سیاسی،معاشی،مذہبی، اخلاقی اور تمدنی حقوق حاصل نہ تھے‘‘۔ ابھی عالیہ اپنی بات کر ہی رہی تھی کہ زارا بات کاٹتے ہوے بولی، ’’اوہو! آپی اپ بھی نا میرے اچھے بھلے خواب کو چکنا چور کرنے بیٹھ گئیں ہیں۔ جہاں تک مجھے پتا ہے اقبال کا بڑا ہی تنگ نظریہ تھا عورت کے حوالے سے اور وہ مردوں عورتوں کو مساویانہ حقوق دینے کے بھی قائل نہیں تھے اور ویسے بھی میں نے نہیں کرنا یہ جھاڑو پوچھا،میاں کی خدمتیں اور روتے بچوں کا پالنا یہ سب میں نہیں کروں گی۔ مجھے تو بس مس ورلڈ بننا ہے‘‘۔

زارا جس چیز کو تم آزادی کہہ رہی ہو اور اقبال کی تنگ نظری وہ اصل میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کے اڈے ہیں۔ مغرب میں عورت کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہ تھا اس لیے آزادی نسواں کے نام سے تحریک چلائی گئی اور پھر عورت کو آزادی کے نام پر بالکل عریاں کر کے لاکھڑا کیا۔ جب کہ اقبال ماں کی تکریم،بیٹی کو باعث برکت اور بیوی کو امور خانہ داری کی ملکہ قرار دیتے ہیں۔عورت بھی آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے مگر اپنے دائرے میں رہ کر۔فطری طور پر بھی تم دیکھو، عورت باہر جا کر پیسہ بھی کمائے پھر گھرآکربچے بھی پالے تو کیا یہ عورت کے لیے دوہری مشقت نہیں؟ جب کہ مرد امور خانہ داری سے بری الذمہ رہے۔ یہ کیسی آزادی ہے؟ یہ صرف عورت کو ورغلانے کے طریقے ہیں،عالیہ نے کہا
’’بالکل ٹھیک کہا عالیہ‘‘ ،ابو جو نجانے کب کمرے میں آئے۔ دونوں کی گفتگو سن کر کہا،’’ہم لوگ آج نو نومبر کو یوم اقبال تو بہت خوشی خوشی مناتے ہیں مگر ان کے اصل پیغام سے بالکل نالاں ہیں۔اقبال دقیانوسی نہ تھے۔اچھا چلوکھانا لگ گیا ہے اس موضوع پر پھر بات کریں گے‘‘۔ ایک دن زارا کی اردو کی ٹیچر نے آنے والے یوم اقبال پر روشنی ڈالی۔ جس پر زارا نے اپنی ٹیچر سے بھی یہ ہی سوال کیا۔ ’’کہ اقبال عورت کو آزادی دینے کے بالکل حق میں نہیں تھے‘‘۔زارا کی میڈم نے اپنی بات شروع کرتے ہوے کہا،’’آپ سب اس بات کو یوں سمجھ سکتی ہیں کہ اگر آپ میں سے کوئی لڑکی کھلے بالوں،تنگ،چھوٹے اور جھلکنے والے کپڑے پہن کر کہیں بھی آتی جاتی ہے۔تو کیا یہ منظر دنیا والوں کے لیے دعوت نظارہ نہیں ہے‘‘ ؟اس بات پر کلاس میں بیٹھی سب طالبات نے اثبات میں سر ہلایا۔ میڈم نرگس بولیں ،’’یعنی آپ سب اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہیں، کیونکہ اگر آپ خود بھی کسی لڑکی کو یا لڑکے کو اوٹ پٹانگ حلیے میں دیکھتی ہیں تو اپ بھی اپنی نظروں اور اپنے دماغ میں آنے والے اچھے،برے یا ناگوار خیالات کو کنڑول نہیں کر پاتیں‘‘۔
اس بات پر زارا پھر اٹھ کر بولی ’’مگر مس یہ تو ہر ایک کی اپنی مرضی اور پھر اقبال کے دور میں ایک الگ وطن کے مطالبے کی وجہ سے ان کے نظریات ایسے تھے۔جب عورت کی عزت غیروں کے ہاتھوں محفوظ نہیں تھی۔ مگر آج ہم آزاد ہیں۔ اپنے ملک میں جو چاہے کر سکتے ہیں،ہمیں تحفظ حاصل ہے‘‘، زارا کی اس بات پر سب لڑکیاں بہت خوش ہوئیں۔ میڈم نرگس پھر سے گویا ہوئیں’’دیکھو بیٹیوں!اقبال کا نظریہ صرف اس وقت کی عورتوں ک لیے نہ تھا بلکہ پوری دنیا کی عورتوں کے لیے ایک پیغام تھا۔

چاہے آج ہم آزاد ہیں ،مگر بیٹا عورت نے اپنی ناموس کی حفاظت ہر دور میں کرنی ہے۔ ہم اﷲ کی مرضی سے زندگی گزارنے آئے ہیں۔ جب بھی ہم سوشل میڈیا پربے پردہ عورتوں کا ہجوم دیکھتے ہیں تو دل کٹ کر رہ جاتا ہے اور یہ ہی وہ تعلیم ہے جو آج ہمارے معاشرے میں مرد و عورت کو دی جارہی ہے۔ جس کا نتیجہ سواے عصمتوں کے لٹنے یا زندگیاں برباد کرنے والے خوفناک نتائج کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ مردوں میں بے راہ روی کا بڑھتا ہوا رجحان چاروں طرف پھیلے فحاشی کے جال کی بدولت ہی پروان چڑھا ہے۔جس کی وجہ سے وہ ملک و قوم کے لیے کیا اپنے لیے بھی کچھ کرنے کے قابل نہیں رہے‘‘۔

میڈم نرگس کی باتیں زارا کے دل کو چھو رہیں تھیں اسے لگ رہ تھا کہ آج تک وہ جس لباس میں گھومتی رہی اصل میں وہ گناہ کبیرہ کی طرف دعوت تھی۔ ابھی وہ انہی خیالات میں گم تھی کہ اس کی ایک کلاس فیلو نے اٹھ کر میڈم سے سوال کیا’’ مس پھر اس کا حل کیا ہے؟ عورتیں اس میں اپنا کیا کردار ادا کر سکتی ہیں‘‘؟’’ہاں بینش بیٹا تم نے بہت ہی اچھا سوال کیا اقبال کہتے ہیں،’’عورت کا سب سے عظیم روپ ماں ہے ۔ جو نسلوں کو سنوار سکتی ہے یا بگاڑ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اقبال نے عورت کی تعلیم پر بہت زور دیا۔ مگر وہ تعلیم جس سے مقصد زندگی یعنی اﷲ کی پہچان ہوتی ہو‘‘۔

’’اس کا مطلب یہ ہوا مس کے عورت کی اصلاح پورے معاشرے کی اصلاح ہے۔ عورت کی حیا ہی مرد کی نظر میں بھی شرم پیدا کرے گی‘‘۔ بالکل ٹھیک کہا زارا آپ نے مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ٓاپ اقبال کے نظریہ نسواں سے شعوری طور پر ہم آہنگ ہو گئیں۔اس دن زارا جب گھر پہنچی تو زارا کے ابو نے کہا بیٹا میں اس دن بات کرنا ہی بھول گیا۔ تب زارا بولی جی ابو مگر اب یہ وہ زارا نہیں،میں ماڈل نہیں بلکہ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا جیسی بنوں گی۔ جو حقیقت میں ہم سب کے لیے رول ماڈل ہیں اور اقبال نے بھی یہ ہی فرمایا تھا ان کے لیے کہ وہ مثالی خاتون تھیں جو چکی پیستے ہوئے بھی قران پڑھتی رہتی تھیں ۔ جس کی برکتوں سے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ اور حسین رضی اﷲ عنہ جیسے جنت کے شہزادوں نے پرورش پائی۔
مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادراں را اسؤہ کامل بتول
زارا کی بات سن کر سب بہت خوش ہوے اور اﷲ کا شکر بجا لائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519534 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2018 Views: 340

Comments

آپ کی رائے