کیا جرسی گائے حرام ہے ؟

(Maqbool Ahmed, Saudi Arab)

اس وقت پوری دنیا میں بلکہ اکثر ممالک کے اکثرصوبوں میں جرسی گائے پائی جاتی ہے ، باقاعدہ اس کے فارم چلتے ہیں اور افزائش نسل کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں ۔
یہ گائے اپنی رنگت اور ہیئت میں عام گایوں سے مختلف ہوتی ہے ، اس کے بدن پہ سفید یا سیاہ یا سرخ قسم کی بودیں ہوتی ہیں ۔ جرسی گائے کی طرف لوگوں کا میلان اس وجہ سے ہوا کہ یہ دوھاری ہے اور بڑے مہنگے داموں میں بکتی ہے۔
جرسی گائے کے متعلق لوگوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ خنزیر(سور) کے نطفے سے پیدا ہوتی ہے اور وہ اسی کے مشابہ چھوٹے قدوقامت اور پتلی ٹانگوں والی ہوتی ہے، حالانکہ تحقیق سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ دیسی اور ولایتی نرومادہ کے اختلاط سے جرسی گائے جنم لیتی ہے اس طورپر کہ ایک نسل کے بیل کا نطفہ لیکر دوسری نسل کی گائے کے رحم میں بذریعہ انجکشن ڈالا جاتا ہے اس سے جو مادہ بچہ پیدا ہوتا ہے اسے جرسی گائے کہتے ہیں ۔ اس اختلاط کی وجہ یہ بنی کہ حیوانات کے ماہرین نے مختلف ممالک کی نسلوں کے گایوں اور بیلوں پراختلاط نطفہ کا تجربہ کیا تو اس کے ذریعہ پیداشدہ گائے میں دودھ کی کثرت پائی گئی ۔ اگر اس اختلاط سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو پھر یہ عمل تسلسل اختیار نہ کرتا۔ بہرکیف ! جرسی گائے کی افزائش میں خنزیرکا مادہ شامل نہیں ہے بلکہ یہ گائے اور بیل کی ہی مختلف نسلوں میں آپسی اختلاط کا نتیجہ ہےیہی وجہ ہے کہ بعض علاقوں میں اسے دوغلی گائے بھی کہتے ہیں ۔آپ ہندوپاک کے جرسی گائے فارم میں جاکر اس بات کی تحقیق بھی کرسکتے ہیں کہ کیا یہ لوگ جرسی گائے کی افزائش نسل میں خنزیر کا نطفہ شامل کرتے ہیں ؟ یا اس بابت لوگوں میں محض غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے؟۔
قصہ مختصر یہ کہ جرسی گائے گا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اس کی قربانی یا عقیقہ دینے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ قربانی سے اس لئے بچنا چاہئے کہ یہ مخلوط نسل ہے اور اللہ تعالی نے قرآن میں صرف آٹھ جانوروں کی قربانی کا ذکر کیا ہے ۔ اس عدد سے جس طرح بھینس خارج ہے اسی طرح جرسی گائے بھی خارج مانی جائے ۔ اور عقیقہ کے لئے بڑے جانور کا ثبوت نہیں ہے اس وجہ سے عقیقہ بھی نہیں دے سکتے ۔
نیچے چند فتاوے بھی شامل کرتا ہوں تاکہ عوام کو زیادہ اعتماد ہوسکے ۔
1- جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم ) بنارس کا فتوی :
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:جرسی گائے حلال ہے یا حرام؟
الجواب بعون اللہ الوھاب وھو الموفق للصواب:
جرسی گائے ، گائے ہی کی جنس ہے اور گائے حلال ہے۔ لہذا یہ بھی حلال ہے۔ حرمت کی جو بات کہی جاتی ہے وہ تحقیق کے خلاف ہے۔
دارالإفتاء جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم) بنارس
2- دارالعلوم دیوبند الہند کا فتوی :
یہ سوال جرسی گائے کے بارے میں ہے۔ (۱)کیا اس کی قربانی ہوسکتی ہے؟ (۲)کیا ہم اس گائے کا دودھ پی سکتے ہیں؟ (۳)کیا یہ سور کی نسل سے تعلق رکھتی ہے؟ جرسی گائے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 2387=2142/ د
جیسا کہ ہم نے سنا ہے کہ جرسی گائے میں چونکہ بیل کا نطفہ بذریعہ انجکشن گائے کے رحم میں پہنچایا جاتا ہے اور اس سے بچے کی ولادت ہوتی ہے،تو اُسے گائے کا بچہ کہا جائے گا، اور اس کا کھانا اور دودھ پینا حلال ہوگا البتہ قربانی جو ایک عظیم عبادت ہے، اس میں ایسا جانور ذبح کرنا چاہیے جس میں کسی قسم کا شبہ نہ ہو جب غیرمشتبہ جانور بآسانی دستیاب ہوسکتے ہیں تواس قسم کے جانور ذبح نہ کرنے میں احتیاط ہے، اسی عبادت کو بلا مجبوری مشتبہ بنانا درست نہیں۔ اور اس گائے کا سور کی نسل سے تعلق رکھنے کے بارے میں ہمیں علم نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
3-دارالعلوم وقف دیوبند کا فتوی :
جرسی گائے اسے کہتے ہیں کہ جسکے جسم پر سفید-سیاہ یا پھر سرخ رنگ کے چھینٹ ہوتے ہیں تو ایسی گائے کے دودھ کا پینا یا پھر اسکے گوشت کا کهانا کیسا ہے ؟کیوں کہ ایسی گائے کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس گائے کے نسل کا تعلق خنزیر سے ہے۔
Ref. No. 1008 Alif
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔جب صورت و غذا کے اعتبار سے وہ گائے ہے تو اس کا دودھ اور گوشت استعمال کرنا جائز ہے۔ لان المعتبر فی الحل والحرمۃ الام فیما تولد من ماکول وغیرماکول۔ (کذا فی الشامی) واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء، دارالعلوم وقف دیوبند

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqbool Ahmed

Read More Articles by Maqbool Ahmed: 302 Articles with 166160 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2018 Views: 522

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ