آسیہ بی بی اور ہم ؟اللہ اکبر

(Babar Alyas, Chichawatni)
کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا​
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا​
وہ دن گئے جب کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے​
اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا​
سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں​
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا​
سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو​
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا​
نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے، غزل میں تاریخِ بے حسی ہے​
جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے، وہ کل شریکِ نصاب ہو گا​

کی محمداﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
آسیہ اگر بے گناہ تھی تو تقریباً نو سال تک قید کیوں رکھا گیا اور اگر قصور وار تھی تو بری کیوں کر دیا گیا ؟کیا یہ ملک اسلامی نظریہ پر وجود میں نہیں آیا ؟کیا یہ کیس اتنا ہی کمزور تھا یا پہلے دن سے سننے والے, درج کرنے والے, گواہی دینے والے, سزا سنانے والے, تمام کے تمام پاکستان کے قانون سے بے خبر تھے یا پھر درست انداز میں اسکو دیکھ نہیں سکے ؟

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ نورین بی بی پنجاب کے ضلع ننکانہ کے ایک گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی تھیں جو لاہور سے تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔

2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے دوران مبینہ طور پر انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف 'تین توہین آمیز' کلمات کہے تھے۔

سوچنے کی بات کو یہ ہے ہم مسلمان آج کہاں کھڑے ہے اگر آسیہ مسیح مجرم تھی تو اتنے سالوں سے اس کے کیس کو لٹکایا کیو گیا اسے سزائے موت کیو نہی دی گئی سلمان تاثیر اور ممتاز قادری اس کیس میں دنیا سے چلے گئے ہمارا نظام اتنا کمزور کیو ہے تمام مسالک کے علماء کرام ستر سال سے حکمران جماعت کے اتحادی رہیے آج تک اسلام کے مطابق قانون کیو نافذ نہ ہو سکا کیا علما کرام کے مسلکی اختلافات زرا سوچے آج آسیہ مسیح کو رہائی مل گی .

استغاثہ کے مطابق اس واقعے کے چند روز بعد آسیہ بی بی نے عوامی طور پنچایت میں خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے معافی طلب کی۔

چند روز بعد آسیہ کو اِٹاں والی میں ان کے گھر سے ایک ہجوم نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد وہ پہلے شیخوپورہ اور پھر ملتان جیل میں قید رہیں۔

جون 2009 میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس میں توہینِ رسالت کے قانون 295 سی کے تحت الزام لگایا گیا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف 'تین توہین آمیز' کلمات کہے تھے۔

اس مقدمے کے مدعی ننکانہ صاحب کی مسجد کے امام قاری محمد سالم تھے۔

2010 میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنا دی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

آسیہ بی بی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کر دی۔

آسیہ بی بی نے جنوری 2015 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف درخواست پر ابتدائی سماعت جولائی 2015 میں شروع کی اور ان کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپیل پر حتمی فیصلہ تک سزا پر عمل درآمد روک دیا۔

اس کا اصل زمہ دار کون سوال چھوڑ رہا ہو جواب ضرور دیجئے ہونا تو ئے چاہیے تھا جس دن ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی اس دن ہی آسیہ مسیح کو سزائے موت دی جانی چاہیے تھی لیکن ہمارے اندرونی اختلافات آڑے اجاتے ہے نظام کی درستگی اسلام کی حرمت کاش مسلمان علماء کرام اس دن ڈٹ جاتے جس دن مساجد میں جمعہ کے خطبات اور ازاں کے لئے ایک سپیکر کی آزادی ملی لیکن کیا کہنے علماء کرام کے اپنے زاتی مفادات کے لئے انہوں نے ہمیشہ اسلام کی قربانی دی جب بھی حکمرانوں نے اسلام کے منافی کام کیا ان علماء کرام نے حکمرانوں کا بھر پور تحفظ کیا جیسا کہ ختم نبوت ترمیم بل زرا سوچے ہم مسلمان احتجاج کس وجہ سے کر رہیے ہے آسیہ مسیح گستاخ رسول تھی وہ رہا ہوگی لیکن چند دن کا احتجاج اور اپنے رب سے ہم جنت کے طلب گار کیا ہم مسلمان اس احتجاج کا حق رکھتے ہے ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے ممتاز قادری کو اپنے ہاتھوں موت کے منہ میں دھکیلا آج کروڑوں کا لنگر ممتاز قادری کے دربار سے کرپشن کی نظر اب فیصلہ کرے اصل مجرم کون ہم یا بیرونی قوتیں یا سب حکمران یا سپریم کورٹ.......

وکلا کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب سپریم کورٹ نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت کسی مقدمے کی سماعت کی ہو۔

اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان نے مقدمے کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ چونکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی سماعت کر چکے ہیں اور یہ مقدمہ بھی اس سے کسی حد تک منسلک ہے اس لیے وہ اس کی سماعت نہیں کر سکتے۔

آٹھ اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی تین گھنٹے طویل سماعت کی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

31 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر آسیہ بی بی کے خلاف کیس خارج کرنے اور ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد
قانونی ماہرین کے مطابق آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کی بنیاد چار وجوہات پر ہے:
ایف آئی آر درج کرنے میں دیر جس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں
گواہان کے بیانات میں عدم مطابقت
آسیہ بی بی کے غیر عدالتی اعترافِ جرم پر انحصار
عدالتوں کی جانب سے آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت اور ان کے ماحول کے تناظر کو نظر انداز کرنا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90839 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
31 Oct, 2018 Views: 875

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ