میں تو قوم کی تقدیر بدل رہا تھا پھر مجھے کیوں نکالا

(Aslam Lodhi, Lahore)
نواز شریف کا دور ‘ عمران خان کے موجودہ دور سے 100 درجے بہتر تھا

میاں محمد نوازشریف 2013ء کے الیکشن میں واضح اکثریت سے جیت کر برسراقتدار آئے تو اس وقت پاکستان نہ صرف مالی طور پر دیوالیہ پن کے قریب تھا بلکہ زبردست مہنگائی اور بجلی کی شہروں میں 16 گھنٹے اور دیہاتوں میں 18گھنٹے بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری تھی شیڈول کے علاوہ بھی کئی کئی دن تک بجلی کا بند رہنا ایک معمول بن چکا تھا ۔ ڈالر جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں 55 روپے تھا وہ ایک سو سے اوپر جاچکا تھا ‘پٹرول کی قیمت پر اس قدر پے درپے ٹیکسزکانفاذ کیا تو مشرف دور میں 55 روپے فی لٹر فروخت ہونے والا پٹرول پیپلز پارٹی کی عوام دوست پالیسیوں کی بدولت 110روپے تک جاپہنچا ۔ہر سرکاری محکمے میں کرپشن انتہا ء کو پہنچ چکی تھی ۔عالمی سروے کے مطابق پاکستان کرپشن ‘ رشوت خوری اور اقربا پروری کے اعتبار سے دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہوچکا تھا ۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ تباہی کے دھانے پر تھی ‘ سرمایہ کار اپنا کاروبار سمیٹ کر بنگلہ دیش اور دوبئی جاچکے تھے ۔

اولڈ ایج بینیفٹ اور حج وزات بھی کرپشن سے محفوظ نہ رہی ۔ ان اداروں کو جی بھر کے لوٹا گیا حتی کہ پیپلز پارٹی کے ہی دور میں پاکستانی حاجیوں کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس شہروں کے فٹ پاتھوں پر سونا پڑا ۔سعودیہ کے حج وزیر نے چیف جسٹس ‘ افتخار محمدچودھری کو خط لکھ کر پاکستانی حاجیوں کی حالت زار کی جانب توجہ دلائی ۔پیپلز پارٹی کے جیالے وزیروں اور دیگر سرکردہ افراد کی کرپشن کی کہانیوں کی ایک لمبی فہرست اس وقت کے اخبارات میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

ان حالات میں نواز شریف نے اقتدار سنبھالا اور پاکستان کو اپنی بہترین پالیسیوں کی بدولت اس قدر معاشی استحکام بخشا کہ ایک وقت یہ بھی آیا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 25 ار ب ڈالر تک جا پہنچے ‘ہماری سٹاک مارکیٹ دنیا کی پانچ ترقی یافتہ سٹا ک مارکیٹوں میں شمار ہونے لگی ‘پٹرول کی قیمتیں 110 روپے سے کم ہوکر 68 روپے تک محدود ہوچکی ‘ ڈالر کی پرواز کو 105تک روک لیا گیا ‘ آئی ایم ایف کو ہمیشہ کے لیے فارغ کردیاگیا ۔لاہور سے ملتان ‘ ملتان سے سکھر ‘ سکھر سے حیدر آباد اور کراچی تک نئے موٹروے کی تعمیر شروع ہوچکی تھی ‘ لاہور‘ سیالکوٹ براستہ کھاریاں میرپور ‘ سے ایک موٹروے کی تعمیر مظفر آباد آزادکشمیر تک جاری تھی ‘برہان سے براستہ حویلیاں ‘ تھاکوٹ تک موٹروے زیر تکمیل تھا ۔اوکاڑہ ‘ ساہی وال اور چیچہ وطنی کو لاہور کراچی موٹروے کے ساتھ منسلک کر نے کی منصوبہ بندی کا آغاز ہو چکا تھا۔فیصل آباد سے عبدالحکیم تک موٹروے مکمل ہوگیا ۔

گولڑہ شریف سے مری اور مری سے مظفر آباد کی بلند پہاڑی چوٹیوں پر ریل کی پٹٹری بچھانے اور ٹرین سروس شروع کرنے کے منصوبے پر کام جاری تھا ‘پشاور سے کراچی اور پشاور سے گوادر تک ڈبل ریلوے ٹریک بچھانے ‘ تیز رفتار ٹرینیں چلانے ‘ تمام ریلوے پھاٹک کی جگہ فلائی اوورز تعمیر کرنے ‘ ریلوے کے رنننگ سسٹم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا کام تیزی سے کام جاری تھا ۔

بلوچستان میں ایک ہزار کلومیٹر سٹرکیں تعمیر ہوچکی ‘ گوادر سے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کا بذریعہ سڑک رابطہ بحال ہوچکا تھا ‘تین ایٹمی بجلی گھر ‘ کوئلے سے چلنے والے چار بجلی گھر ‘ گیس اور پانی سے بجلی پیدا کرنے والے چھ منصوبے تیزی سے اپنی تکمیل کی جانب گامزن تھے ۔

سٹنڈرڈ اینڈ پورز جیسے بین الاقوامی معاشی ادارے نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کرکے منفی بی سے سٹیبل بی کردی تھی ‘پاکستان کے معاشی اشاریے اس بات کی نشاندھی کررہے تھے کہ اگر پاکستان اسی طرح ترقی کرتا رہا اور معاشی استحکام حاصل کرتا رہا تو2025ء میں پاکستان دنیا کے تیز رفتار ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہوجائے گا ۔
 
سی پیک کے تحت عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے 55 ارب ڈالر براہ راست اور 125ارب ڈالر مختلف معاہدوں کی صورت میں پاکستان میں سرمایہ کاری پر پیش رفت شروع ہوچکی تھی ۔خنجراب سے گوادر تک ایکسپریس وے اور موٹر وے کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری تھا ۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں آزادکشمیر سمیت صنعتی زون قائم کرنے پر کام تیزی سے جاری تھا ۔ملک بھر کے ٹیکنیکل ادارے سی پیک اوراس سے متعلقہ اداروں کے لیے تربیت یافتہ افراد کی فراہمی کے لیے ورکنگ اور کورسز شروع کرواچکے تھے ۔
 
ایک جانب سے تیز رفتار ترقی کا یہ سفر اور دوسری جانب پاکستان کو ترقی و خوشحالی کے ٹریک سے اتارنے کے لیے سازشوں کے جال بننا شروع ہوگئے تھے ‘ پاکستان کے  ممتاز فرزند اور مجدد طب حکیم محمد سعید اپنی کتاب "جاپان کی کہانی "میں فرماچکے تھے کہ یہودی لابی پاکستان میں اپنے پروردہ شخصیت "عمران خان"کو پرموٹ کرکے اقتدار میں لانا چاہتی ہے اس مقصد کے لیے پاکستانی میڈیا کو خرید لیا گیا ہے ۔جو عمران خان کی پرموشن اور وسیع پیمانے پر تشہیر کے فرائض انجام دے گا ۔ پھر سب نے دیکھا کہ عمران خان نے پہلے 2013کے الیکشن میں چار حلقے کھلوانے کامطالبہ کیا پھر ایک منظم احتجاجی تحریک شروع کی ۔اس تحریک میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری (جو شریف خاندان کے جانی دشمن بن چکے ہیں ) کو شیشے میں اتارا گیا ۔اس سازشی ٹولے کو تقویت دینے کے لیے شیخ رشید جیسے غیر سنجیدہ شخص کو بھی ساتھ ملالیا گیا ۔ق لیگ کی بدترین شکست کے بعد چودھری برداران کو بھی ساتھ ملاکر ایک ایسا طوفان برپا کرنے کی جستجو کی گئی جس کے تحت نواز شریف کو 2014ء ہی میں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا ۔ عوامی تحریک کے ایک رہنما خرم نواز گنڈا پور نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ نواز شریف کو اقتدار سے اتارنے کا پلان لندن میں تیار ہوا تھا اس منصوبے کے کردار عمران خان‘ شیخ رشید‘ ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران تھے ۔لندن پلان کے تحت عمران خان ‘ شیخ رشید ‘ چوہدری برادران اور ڈاکٹر طاہر القادری مشترکہ طور پر ایک ایسے دھرنے کا اہتمام کریں گے جو لاہور سے شروع ہوکر اسلام آباد ( وفاقی دارالحکومت ) تک جائے گا ۔ اس طرح وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کرکے پس پردہ رہنے والے طاقت ور عناصر کے اشتراک سے نواز شریف حکومت کو ختم کردیاجائے گا ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پانچ لاکھ افراد کو دھرنے میں لانا لازمی قرار دیاگیا تاکہ ائمپائر انگلی اٹھا سکے ۔
 
اس سازش کو ایک نئے پہلو سے دیکھنے کے لیے بزرگ سیاست دان جاوید ہاشمی (جو 2014ء کے دھرنے کے موقع پر تحریک انصاف کے صدر تھے ) بغاوت کے بعد ان کی گفتگو کو یہاں درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں -;

سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے عمران خان کی جانب سے خود کو پاگل قرار دینے پر چیئرمین تحریک انصاف کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہاہے کہ میرااور عمران خان کے دماغ کا ٹیسٹ ہونا چاہیے،اگر پاگل خانے کی رپورٹ آگئی تو قوم کی عمران خان سے جان چھوٹ جائے گی،عام انتخابات کے نتائج سے عمران خان شدیدمایوس تھے، 2014کے دھرنے کا سکرپٹ لکھاہواتھا، ایک ایک قدم پر گائیڈ کیا جارہا تھا، فوج کے غیر مطمئن عناصر کپتان کے ذریعے تباہی لاناچاہتے تھے وہ ہر حال میں راحیل شریف کو بھی ناکام کرنا چاہتے تھے ،عمران خان نے مجھ سے کہا تھاکہ تصدق جیلانی چلے جائیں گے اور ناصر الملک آجائیں گے جس کے بعد اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی، 90دن کے اندر الیکشن کرائے جائیں گے، حکومت سپریم کورٹ کے پاس ہوگی اور پھر ہم جیتیں گے اور کس نے جیتنا ہے، عمران خان کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا تھاکہ ایسا نہیں ہوسکتا ، جہانگیر ترین سے امپائرکی انگلی نہ اٹھنے کی وجہ پوچھی توانہوں نے کہا ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم پورا نہیں کرسکے تو امپائر کیسے آگے آئے گا؟، قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا ہوا ہے، اس کی تحقیقات کیلئے کمیشن بننا چاہیے۔
 
ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ عمران خان کے بیان سے بہت تکلیف ہوئی، وہ غیر مناسب باتیں کرتے ہیں ، عمران خان 65سال کے ہیں اورمیں 67سال کاہوں-میڈیکل بورڈبنناچاہیے جو عمران خان کا دماغی توازن دیکھے اور میرا بھی۔ عمران خان اور میرا ڈوپ ٹیسٹ بھی کرالیا جائے، سچ سامنے آجائے گا، اس ٹیسٹ میں مجھے تو 100میں سے 100نمبر ملیں گے۔ جاوید ہاشمی نے عمران خان کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان میرے سوالات کا جواب دیں۔
 
جاوید ہاشمی نے عمران خان کے بیانات کے رد عمل میں 2014 میں دیئے جانے والے دھرنے کی اندرونی باتیں بھی بتادیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان 2013کے انتخابات میں ووٹ نہ ملنے پر مایوس تھے، میں آج یہ باتیں کررہا ہوں تو ان کی پارٹی کے تمام لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ عمران خان نے کتنا بڑا جھوٹ بولا۔ جاوید ہاشمی نے دعویٰ کیا کہ ممبرز نے ہم سے پوچھا کہ کیا پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے؟ اس وقت پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی تھے، میرے سامنے انہوں نے پارلیمانی پارٹی کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان شائد یہ سوچ رہے تھے کہ انتخابات میں انہوں نے دنیا فتح کرلینی ہے لہٰذا نتیجہ دیکھ کر وہ مایوس ہوئے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ الیکشن سے قبل مجھ سے پوچھا گیا کہ کتنی نشستیں مل جائیں گی تو میں نے کہا کہ 40یا زیادہ سے زیادہ 45، تحریک انصاف کو 37سیٹیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ جب زیادہ نشستیں نہیں ملیں تو پھر مایوس ہوکر پوری قوم کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیا گیا۔

2014ء کے دھرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مخدوم ہاشمی نے کہا کہ میں راحیل شریف سے کہہ رہا تھا کہ آپ چند عناصر کا کورٹ مارشل کریں، آپ چیف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جہانگیر ترین سے بھی پوچھا کہ آپ کا انگلی اٹھانے والا امپائر کیوں نہیں آرہا تو انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ سے زیادہ 36 ہزار بندے جمع کرسکے ہیں وہ بھی طاہرالقادری کے بندوں کو ملا کر، ہم نے وعدہ کیا تھا کہ کم سے کم 5 لاکھ افراد جمع کریں گے۔ جاوید ہاشمی کے مطابق جہانگیر ترین نے کہا تھاکہ ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم پورا نہیں کرسکے تو امپائر کیسے آگے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے ایک ایک قدم پر گائیڈ کیا جارہا تھا، سکرپٹ لکھا ہوا تھا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ جس بات پر میں نے استعفیٰ دیا وہ یہ تھی کہ ایک جج صاحب نے سپریم کورٹ کی چھٹیاں منسوخ کردیں، وکلا اور ججوں سے پوچھیں کہ کیوں چھٹیاں منسوخ کی گئیں، ایسا کیا عذاب آگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ہونے کے بعد میں نے اپنی نشست سے استعفیٰ دیا۔

جاوید ہاشمی نے بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنانی چاہیے لیکن میں نے کہا کہ میں آپ کی اس بات سے متفق نہیں، یہ بات واپس لیں ورنہ میں آپ کے ساتھ نہیں چل سکتا اور اس کے بعد میں ملتان آگیا تھا۔ایک اور موقع پر مجھے کہا گیا کہ راحیل شریف ضامن بن گئے ہیں لیکن میں نہیں مانا اور ہسپتال میں داخل ہوگیا، میں چاہتا تھا کہ میں ان کو ایکسپوز نہ کروں ان کو روکوں۔

ماڈل ٹاؤن سانحے کے حوالے سے جاوید ہاشمی نے کہا کہ عمران خان نے اس مسئلے پر مجھ سے کوئی بات نہیں کی، جب ہمارا کارواں اسلام آباد پہنچ گیا تو جو اسکرپٹ لکھنے والے تھے، انہوں نے لکھا کہ طاہر القادری صاحب پارلیمنٹ کی طرف بیٹھیں گے، آپ لوگ پیچھے کی طرف بیٹھیں گے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ میں نے سوال اٹھایا کہ یہ کون کہہ رہا ہے، کون فرما رہا ہے؟ لیکن اسکرپٹ یہی تھا تاہم عمران خان یہ کہتے تھے کہ طاہر القادری پہلے جاکر اسمبلیوں پر قبضہ کریں گے اور پیچھے سے ہم جاکر کرسیوں پر بیٹھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں میرے سامنے ہوتی تھیں، میں انہیں روکتا تھا۔ عمران خان کو بتایا گیا تھا کہ نواز شریف استعفے پر دستخط نہیں کریں گے۔جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا کہ اس وقت ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگیا تھا، آرمی کے اندر بھی اس طرح کے لوگ نکل آئے تھے، عدلیہ میں بھی اور سیاستدان بھی استعمال ہورہے تھے یا استعمال کیے جارہے تھے، لہذا میں اسے بہت بڑی سازش کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے ججز کی چھٹیاں منسوخ کیں تو مجھے پتہ تھا کہ یہ آخری آئٹم ہے کیوں کہ ان جرنیلوں نے عمران خان سے کہا تھا کہ نواز شریف استعفے پر دستخط نہیں کریں گے۔
 
جاوید ہاشمی نے مزید بتایا کہ جرنیلوں نے عمران خان سے کہا کہ پہلے بھی جب جنرل محمود وزیراعظم ہاؤس گئے تھے 1999 میں اور کہا تھا کہ آپ اس خط پر دستخط کریں تو نواز شریف نے پوچھا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا تھا کہ یہ آپ کا استعفیٰ ہے اور اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا حکم ہے، میاں صاحب نے کہا کہ اگر میں نہ کروں تو؟ یہ سن کر جنرل محمود نے ریوالور نکالا، میاں صاحب نے پوچھا کہ آپ مجھے مار دیں گے؟ اس نے کہا ہاں مار دوں گا، میاں صاحب نے کہا پھر ماردیں لیکن اس نے نہیں مارا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ میاں نواز شریف کی جو کہانی ہے یہ عمران خان کو جنرل راشد قریشی کے بندے کی جانب سے بتائی گئی تھی لہذا یہ دوسرا منصوبہ تھا کہ سپریم کورٹ سے ہی سب کچھ کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میری اس بات کی تصدیق گزشتہ روز معین الدین حیدر نے کی ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں بھی جوڈیشل مارشل لا کا سوچا گیا تھا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا ہوا ہے، اس کی تحقیقات کے لیے کمیشن بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ عمران خان میرے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کی بھی جرات نہیں رکھتے۔
 
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات 2013 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان مسلم لیگ(ن)کی وفاقی حکومت خلاف دارالحکومت اسلام آباد میں 126 روز تک دھرنا دیا تھا،جسے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ختم کردیا گیا تھا، اس دھرنے کے وقت جاوید ہاشمی ان کی پارٹی میں شامل تھے۔ دوران دھرنا یہ اطلاعات آئی تھیں کہ جاوید ہاشمی فوج کے بطور ثالث کردار ادا کرنے کے معاملے پر پارٹی قیادت سے ناراض ہو کر اسلام آباد سے ملتان روانہ ہوگئے۔ بعد میں جاوید ہاشمی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پارٹی کے تمام فیصلے میری مشاورت سے ہوئے، فوج کے پاس عمران خان کے جانے کے فیصلے میں میری رائے شامل تھی، میڈیا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔
.....................
جاوید ہاشمی کے علاوہ چودھری شجاعت احمد بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ 2014کے دھرنے میں پارلیمنٹ پر قبضے کا پلان تھا ، جوڈیشل مارشل لاء کے پلان کا علم نہیں ۔

یہ شواہد اس بات کا ثبوت ہے کہ نواز شریف کی حکومت کے خاتمے اور پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے سے روکنے کے لیے کس کس نہج پر سازشوں کے جال بنے گئے اور کس کس نے اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ بہرکیف 2014ء کے دھرنے سے بچنے کے بعد امید تھی کہ عمران خان چند سال خاموشی سے نواز شریف کو حکومت کرنے دیں گے کیونکہ عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے ہی چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہوا تھااور سی پیک پروجیکٹ کی لاچنگ میں ایک ڈیڑھ سال کی تاخیر ہوئی تھی ۔
 
اپریل 2016ء میں پانامہ لیکس کا دنیا بھر میں چرچا ہوا ۔ عمران خان جو پہلے ہی کسی بہانے کی تلاش میں تھے انہیں ایک اور شوشہ ہاتھ آگیا انہوں نے نہ صرف شہر شہر جلسے کیے بلکہ کبھی پاکستان کو بندکرنے کی دھمکی دی تو کبھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو جام کرنے کا اعلان کیا ۔ وہ مسلسل ایک ہی تکرار کررہے تھے کہ نوازشریف کی چوری پکڑی گئی ہے حالانکہ پانامہ کیس میں نواز شریف کانام نہیں تھا ‘ ان کے بیٹوں کے نام تھے ‘ پھر بھی عمران خان نواز شریف کو ہر جلسے میں چور کہہ کر پکارتے رہے اور تلاشی دینے کا واشگاف اعلان کرتے تھے ۔ وہ اس تسلسل سے یہ کام کررہے تھے کہ پاکستانی قوم کا بڑا حصہ نواز شریف کو (کرپٹ نہ ہونے کے باوجود بھی ) چور سمجھنے لگا ۔ ایک طرف عمران خان کی شعلہ بیانی تو دوسری جانب نواز شریف کی تحمل مزاجی عروج پر تھی ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جب عمران خان کو اسلام آباد بند کرنے سے روکا گیا تو عمران خان نے عدالت عالیہ کی بھی توہین شروع کردی جس پر متعلقہ جج بہت خفا ہوئے ۔ الیکشن کمیشن میں فنڈنگ کیس کی سماعت کئی سال تک چلتی رہی لیکن عمران خان نے الیکشن کمیشن کو مطمئن کرنے کی بجائے اس پر تعصب پھیلانے کا الزام لگا دیا ۔
 
جب حالات حد سے زیادہ خراب ہونے لگے تو شیخ رشید ‘عمران خان ‘ جماعت اسلامی کی جانب سے پانامہ لیکس کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے پیش کردیا ۔پاکستان کی تاریخ میں پانامہ کیس اس اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جائے گا کہ اس کیس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف کانام شامل نہ ہونے کے باوجود انہیں وزارت عظمی کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا بلکہ کئی پشتوں کا حساب اور منی ٹریل مانگ کر نواز شریف کو بے بس کردیا ۔جبکہ عمران خان خود تسلیم کرچکے ہیں کہ انہوں نے ٹیکس بچانے کی خاطر آف شور کمپنی بنائی تھی ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف کو پانامہ کی آڑ میں اقامہ رکھنے پر وزارت عظمی کے لیے نااہل کردیا گیا بلکہ دس سال قید با مشقت بھی نیب عدالت کی جانب سے دے دی گئی اور 66 دن اڈیالہ جیل میں رہنے کے بعد انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہائی ملی۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف نے کرپشن کہاں کی اور کتنا پیسہ لوٹا اس کے بارے میں جے آئی ٹی رپورٹ سمیت نیب عدالت کے فیصلے میں بھی کچھ ذکر موجودنہیں تھا بلکہ نیب عدالت نے سزا دینے والے فیصلے میں لکھا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان پر کرپشن کاالزام ثابت نہیں ہوسکا ۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہوسکا تو پھر سزا کیوں دی گئی ۔ اس بارے میں تمام ادارے خاموش ہیں ۔

تاریخ کے اس اہم ترین مقدمے کی سماعت سات ماہ تک جاری رہی۔ "پانامہ کیس" کا ابتدائی آغاز 4 نومبر 2016ء کو سپریم کورٹ میں ہوا تھا جبکہ حتمی فیصلہ 28 جولائی 2017ء بروز جمعہ کو دوپہر بارہ بج کر دس منٹ پر سنایا گیا ۔ اس فیصلے کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد ٗ جسٹس اعجاز افضل ٗ جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے متفقہ طور پر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کونااہل قرار دے دیا ۔عدالتی فیصلے میں مزید کہاگیا کہ نواز شریف فوری طور پر وزارت عظمی کاعہدہ چھوڑ دیں ۔ عدالت عظمی نے حکم دیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب ) چھ ہفتوں میں جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز ٗ حسین نواز ٗصاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی ریفرنس دائرکرے ۔جس کا حتمی فیصلہ چھ ماہ کے اندر اندر ہونا چاہیئے ۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف کی صدارت میں اعلی سطح مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پانامہ کیس کے فیصلے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ وزیر اعظم کی نااہلی کے باوجود جمہوری عمل کو جاری رکھاجائے گا ۔ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستانی عوام کا 63 فیصد حصہ نواز شریف اور 39 فیصد حصہ عمران کو پسند کرتا ہے جبکہ ناپسندیدہ شخصیات میں سب سے پہلے نمبرپر ڈاکٹر طاہر القادری شامل ہیں جنہیں پاکستان کی 79 فیصد عوام ناپسندکرتی ہے۔وہ اشتہاری مجرم قرار پانے کے باوجود عوام کے اعصاب پر اب بھی سوار ہیں ۔اسی دہشت گردی کی عدالت سے عمران خان کو بھی اشتہاری ملزم قرار دیاجاچکا ہے لیکن وہ بھی قانون کی گرفت سے آزاد اپنی من مانیاں کرتے دکھائی دیتے رہے اور قانون بھیگی بلی بن کر خاموش نظر آتا رہا۔ گویا یہ دونوں شخصیات قانون سے بالاتر دکھائی دیں ۔عمران خان تو عدالت میں پیش ہوکر نجات پاچکے ہیں لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری آج بھی اشتہاری ملزم کی حیثیت سے کینیڈا سے پاکستان آتے ہیں ‘ طوفان مچاتے ہیں ‘ چیختے چلاتے ہیں اور شریف برادران کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کالہو شریف بردارن کے سر ڈالنے کی حتی المقدور کوشش کرکے ایک بار پھر کینیڈا لوٹ جاتے ہیں ۔

کہنے کا مقصد یہ کہ نواز شریف کی وہ حکومت جسے پوری دنیا میں معاشی اعتبار سے مستحکم ‘ تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت قرار دیاگیا تھا جس کی دعوت پر چین ‘ روس ‘ ترکی ‘ ایران ‘ جرمنی ‘ انگلینڈ ‘ فرانس سمیت وسطی ایشیائی ریاستیں سی پیک پروجیکٹ سے منسلک ہونے کی خواہش کا اظہار کررہی تھیں ۔نواز شریف جسے بین الاقوامی لیڈر کااعزاز حاصل تھا جسے ایکو کانفرنس کا سربراہ منتخب کرلیاگیا تھا ‘اس نواز شریف کو بالاخر عمران خان اور ان کے حواریوں نے نہ صرف اقتدار سے الگ کیا بلکہ لکھے جانے والے سکرپٹ کے عین مطابق انہیں اڈیالہ جیل میں دس سال قید بامشقت کی سزابھی سنا کر بند کردیاگیا تھا ۔66 دن قید میں رہنے کے بعد اسلام آبادہائی کورٹ کی جانب سے جزوی ضمانت ہوئی ۔اب ایک بار پھر نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں ضمانت کے خلاف اپیل کی جاچکی ہے اور سپریم کورٹ نے نیب کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے 6 نومبر 2018ء کو سماعت شروع کرنے کااعلان کردیا ہے ۔ نیب کی اس اپیل کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا ۔ اس کے علاوہ العزیزریفرنس کی سماعت الگ سے نیب عدالت میں جاری ہے ۔گویا نواز شریف اور ان کے خاندان کو بیک وقت تین مختلف عدالتوں میں مقدمات کا سامنا ہے ۔شہباز شریف جنہیں نواز شریف کا بہترین جانشین قرار دیاجاتا ہے اورانہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر بطور خاص پنجاب اور لاہور کی ترقی کو جو چار چاندلگائے ۔دشمن بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے بلکہ دنیا بھر میں شہباز شیڈ کا ذکر فخریہ انداز میں کیاجاتا ہے لیکن وہی شہباز شریف ‘ نیب نے بلا کر اچانک گرفتار کرلیا اور اب تک ایک مہینے سے زائد عرصہ ہوچکا ہے کہ وہ نیب کی قید بھگت رہے ہیں ‘ جب بھی جسمانی ریمانڈ کی تاریخ ختم ہوتی ہے تو نیب کی جانب سے ایک بار پھر نیب عدالت سے مزید ریمانڈ کی درخواست پیش کردی جاتی ہے ‘ جس پر نیب عدالت ایک بار پھر جسمانی ریمانڈ پر شہباز شریف کو نیب کے حوالے کردیتی ہے ۔ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز ‘ سلمان شہباز کو نیب نے آمدنی سے زائد اثاثوں کے الزام میں طلب کررکھا ہے ۔یہ سب کچھ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دانستہ اور غیر دانستہ تمام عدالتوں میں صرف اور صرف شریف برادران اور مسلم لیگی رہنماؤں کا احتساب اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کا سلسلہ دراز سے دراز ہوتا جارہا ہے اس کے برعکس عمران خان پر سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے ‘ علیم خان ‘ چوہدری برادران پر کتنے ہی الزامات ہیں کسی ایک کو بھی نیب اب تک گرفتار نہیں کرسکی ۔وہ تمام کے تمام حکومتی عہدوں پر فائز زندگی انجوائے کررہے ہیں ۔ یہ سب کچھ کیا ہے ۔صاف نظر آتا ہے کہ یہ لیگی رہنماؤں اور شریف برادارن کو کسی بات کی سزا دی جارہی ہے تاکہ وہ عمران حکومت کے خلاف کسی تحریک کا حصہ نہ بن سکیں ۔

یہ سب کچھ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا لیکن ایک بات کی کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ عمران خان کی زبان سے جو الفاظ نکلتے رہے ‘ نتائج بھی اسی انداز سے برآمد ہوتے رہے ۔انہوں نے کہا تھاکہ اس بار نواز شریف جدہ نہیں جائے گا اڈیالہ جیل اس کاٹھکانہ بنے گا ۔ سو فیصد ایسے ہی ہوا ۔ اب یہی دعوے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کرتے نظر آتے ہیں ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جہاں بھی نوازشریف کے خلاف سکرپٹ لکھا جاتاہے ‘ سکرپٹ لکھنے والوں میں عمران خان اور شیخ رشید بھی شامل ہوتے ہیں۔
 
اب عمران خان وزارت عظمی کی اس کرسی پر براجمان ہوچکے ہیں جس پر بیٹھنے کے لیے وہ مدت دراز سے بے چین دکھائی دیتے تھے ۔اڑھائی ماہ کے دوران ابھی تک وہ کوئی بھی اہم کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے ‘ کابینہ کے اجلاس ہوتے ہیں ‘ فیصلے ہوتے ہیں جن کااعلان فواد چودھری بہت دھوم دھڑکے سے کرتے ہیں پھر وہ اعلانات کسی فائل میں جمع ہوجاتے ہیں ۔آج ہی کے اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں محکمہ شماریات کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مہنگائی گزشتہ چار سال کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔مرغی کاگوشت ‘ انڈے ‘سگریٹ ‘صابن ‘ ڈرائی فروٹس ‘ سبزیاں ‘ مصالحہ جات سمیت اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں حددرجہ اضافہ ہوچکا ہے ۔ وزیر خزانہ اسد عمر جو اقتدار حاصل کرنے سے پہلے کہا کرتے تھے کہ پٹرول کی قیمت میں بے شمار ٹیکس شامل ہیں ان ٹیکسوں کو منہا کرکے ہم عوام کو نہایت سستے داموں پٹرول فراہم کریں گے انہوں نے پٹرول کی قیمت 100 روپے تک پہنچا دی ہے ۔ڈالر 125 سے یکدم 135 تک جاپہنچا اور چند لمحوں میں ہی 900 ارب کا واجب الادا قرضوں میں اضافہ ہوگیا ۔ خزانہ خالی کی تکرار جاری ہے لیکن وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج بھرتی کی جارہی ہے ۔ پنجاب میں بھی ہاف سنچری تک وزراء کی تعداد پہنچ چکی ۔ سوئی گیس اور بجلی کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ہوچکا ۔عوام تو پہلے ہی مہنگائی سے تنگ تھے اس پر نیا پاکستان بنانے والوں نے اپنی غلط پالیسیوں کا بوجھ بھی عوام پر ڈال کر قبر کا رستہ دکھا دیا ۔

آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے تناظر میں یہی پٹرول 150 سے 250 روپے لیٹر فروخت ہوا ۔ پورا ملک جام تھا ‘ تمام راستے بلاک تھے سڑکوں اور راستوں پر لاٹھی بردار مولوی حضرات براجمان تھے ۔ ایسے عناصر کو سڑکوں سے ہٹانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ غائب تھی ۔عمران خان دھمکیاں دے کر چین جا پہنچے اور پیچھے کٹھ پتلی وزیر اعلی پنجاب کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ ریاست کی رٹ کو للکارنے والوں کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے ۔ عوام پریشان تھی ‘اشیائے خورد ونوش اور سبزیوں کی قلت پیدا ہوگئی ‘ پٹرول پمپوں پر پٹرول دستیاب نہیں تھا جو بعد میں بلیک میں فروخت ہوا ۔ چند دنوں میں ہی یہ ثابت ہوگیا کہ عمران خان اور اس کے ساتھی انتظامی طور پر نااہل ہیں ۔ ان کے اندر وہ صلاحیت نہیں جو ایک ایٹمی ملک پاکستان کے حکمران میں ہونی چاہیئے ۔

قصہ مختصر یہ تحریک انصاف کا وہ نیا پاکستان تھا جسے بنانے کے لیے عمران خان اور اس ساتھی بے چین تھے ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ نہ عمران خان میں حکومت کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ انکی ٹیم کے کوئی ممبر اس قابل ہے کہ ملک کی باگ ڈور سنبھال سکے ۔ نواز شریف نے اس ملک کو سنوارا ۔پھر بھی اداروں سے اندرون خانہ ملی بھگت کرکے ‘ سازشوں کے جال ہر سطح پر بن کے انہوں نے ایسا طوفان کھڑا کیا کہ نواز شریف وزارت عظمی سے نااہل ہوگئے اور اقتداران لوگوں کی جھولی میں جاگرا ۔ یا گرا دیا گیا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 561 Articles with 282184 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2018 Views: 323

Comments

آپ کی رائے