مہاجر پرندوں کوخوش آمدید کہنا محال

(Waqar Ahmed Awan, )

پاکستان میں جہاں معاشرتی تبدیلیاں بڑی تعداد میں انسانوں کی نقل مکانی اور مہاجرت کا سبب بن رہی ہیں، وہیں قدرتی ماحول میں تغیر اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی تباہی دور دراز کے علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے مختلف نسلوں کے پرندوں کی آمد میں کمی کا باعث بھی بن رہی ہیں ۔اس کا ایک ثبوت یہ کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں فطری طور پر مختلف موسموں میں مہاجرت کر کے وہاں محدود مدت کے لئے قیام کرنے والے ایسے پرندوں کی آمد میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔صوبائی دارالحکومت پشاوراور اس کے نواح میں ہمیشہ ہی سے ہزاروں میل دور سے نقل مکانی کر کے آنے والے مختلف رنگوں اور قسموں کے پرندوں کی محدود عرصے کے لئے پسندیدہ قیام گاہ رہا ہے۔ لیکن اب اس علاقے کی یہ حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔اس کا سبب خاص طور پر تیز رفتار کمرشلائزیشن بھی ہے اوراس کے ارد گرد کے علاقے میں ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ قدرتی ماحولیاتی نظام بھی۔ ماضی میں پشاور اور اس کا نواحی علاقہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے پرندوں کاعارضی مسکن ہوا کرتا تھا، جو سردیوں کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں بھی اس خطے کا رخ کرتے تھے۔اس عمل میں ان پرندوں کی اپنے ماحول کے حوالے سے عمومی طور پر بہت حساس فطرت بھی اہم کردار کرتی تھی اور پشاورکے علاقے میں پائے جانے والے وہ قدرتی حیاتیاتی نظام یا بائیو سسٹمز بھی جو اب یا تو ناپید ہوتے جا رہے ہیں یا اپنی پہلے جیسی اصلی حالت میں نہیں ہیں۔یادرہے کہ پشاور میں عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے،پشاور کے ایک رہائشی نے پشاور کے علاقے میں پرندوں کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے بتایا : یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ اب پشاور اور اس کے ارد گرد کے ماحول میں زیادہ پرندے نظر نہیں آتے۔ وہ ماضی میں اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثرپشاور کے دریاؤں پر جایا کرتے تھے کہ وہاں اس دریاؤں کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جو بات سب سے زیادہ متاثرکن ہوتی تھی، وہ وہاں موجود مختلف اقسام کے پرندے ہوتے تھے وہ کہتے ہیں: اب یہ پرندے بہت تھوڑی تعداد میں ہوتے ہیں اور بالعموم کسی اور جگہ دیکھنے میں نہیں آتے۔ اس لئے حکومت کو ان پرندوں کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کرنا چاہئیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑجاتاہے کہ اول تو ان پرندوں نے نا مواُفق ماحول کے باعث نقل مکانی ترک کردی ہے اور جو پاکستان کے مختلف علاقوں کا رخ کرتے بھی ہیں، وہ شکاریوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ حیاتیاتی تنوع سے ہی اس کرہ ارض کا ماحول ایک خاص توازن میں رہتا ہے،کئی ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں عام شہریوں کے لئے داخلی سلامتی کو یقینی بنانا اورغربت، مہنگائی، بے روزگاری اور مختلف بیماریوں پر قابو پا سکنا حکومت کے لئے بڑے مسائل ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں قدرتی اِیکو سسٹمز کا تحفظ اور پاکستان کو نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لئے مسلسل پر کشش بنائے رکھنے کی کوششیں سیاسی اور معاشرتی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتیں۔مستقبل میں کسی بھی معاشرے میں دیرپا ترقی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ وہاں تحفظ ماحولیات کس حد تک کیا جاتا ہے، اور کوئی بھی معاشرہ اپنے ہاں حیاتیاتی تنوع کو درپیش خطرات کا مقابلہ کتنی سنجیدگی سے کر رہا ہے۔ اس حقیقت کا اطلاق ظاہر ہے کہ پاکستان پر بھی ہوتا ہے، جہاں ابھی تک اس بارے میں اجتماعی شعور کی کمی ہے۔یادرہے کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ میں انتباہ کیا تھا کہ قدرتی حیات اور حیاتیاتی نظاموں کو پہنچنے والے ان نقصانات کے سبب انسانوں کو اب تک میسر بہت سی سہولیات آئندہ ختم ہو جائیں گی۔اس کے علاوہ انسانوں کی سرگرمیاں قدرتی حیاتیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔قدرت کا وہ نظام جس کی مدد سے زمین پر پائی جانے والی حیاتیاتی اقسام اب تک محفوظ رہیں، انسانی سرگرمیوں کے باعث اب تیزی سے زوال کا شکار ہے۔ مثال کے طور ایمیزون کے جنگلات سے لے کر ساحلی مرجان یا مونگے کی چٹانوں تک قدرت کے یہ انمول تحفے بہت جلد ناپید ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام UNEP نے اپنی ایک رپورٹ میں انتباہ کیاتھا کہ قدرتی حیات اور حیاتیاتی نظاموں کو پہنچنے والے ان نقصانات کے سبب انسانوں کو اب تک میسر بہت سی سہولیات آئندہ ختم ہو جائیں گی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ Ecosystem یا ماحولیاتی نظام، جن کا شمار قدرتی حیات کا تحفظ کرنے والی ماحولیاتی اکائیوں میں ہوتا ہے مستقبل میں اس حد تک تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں کہ انہیں دوبارہ ان کی اصلی حالت میں لانا ناممکن ہو جائے گا۔اس کے علاوہ آبی حیاتیات کی مختلف اقسام بھی تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کے کنوینشن کے ادارے UNEP کے مطابق بڑے بڑے جنگلات ماحولیاتی تغیِر کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں۔ جگہ جگہ جنگلوں میں خشکی کی وجہ سے آگ بھڑک رہی ہے تو کہیں جنگل کٹائی کے ذریعے ختم کئے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی تبدیلیاں عالمی اور علاقائی سطح پر بارشوں میں کمی اور حیوانی اور نباتاتی اقسام کے معدوم ہو جانے کا سبب بن رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے زمین پر پائے جانے والے قدرتی ذخائر، حیوانات اور جنگلات سمیت زیر آب ذخائر کی صورتحال کے بارے میں بھی ہر چار سال بعد ایک رپورٹ شائع کی جاتی ہے۔ ایسی تازہ ترین رپورٹ سے اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ پانی اور خشکی دونوں جگہ پائی جانے والی حیاتیاتی اقسام تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہیں اور کرہ ارض پر پائے جانے والے پودوں کی مختلف اقسام کے ایک چوتھائی حصے کے نیست و نابود ہو جانے کے خطرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اس رپورٹ میں کہی گئی ایک امید افزا بات یہ ہے کہ ہجرت کرنے والے اور بہت نایاب پرندوں کی 31 مختلف اقسام کو گزشتہ ایک صدی میں باقاعدہ طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ ان میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پرواز کرنے والے بہت سے پرندے بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت 6.8 بلین کی آبادی والی دنیا سن 2050 تک قریب نو بلین انسانوں کا گھر ہو گی، اور اسی لئے کرہ ارض پر موجود حیوانی اور نباتاتی اقسام کے تنوع اور ان کے قدرتی ذخائر کو محفوظ کرنے کی جتنی اشد ضرورت آج ہے، اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waqar Ahmed Awan

Read More Articles by Waqar Ahmed Awan: 65 Articles with 26279 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2018 Views: 293

Comments

آپ کی رائے