کشمیر کا جوان گرم لہو

(Sami Ullah Malik, )

مقبوضہ کشمیرمیں متعصب بھارتی جنتاکی ظالم فوج اورجدوجہدآزادی کے متوالوں کے درمیان مسلح تصادم کے بعد اس مقام پر مظاہرین کی ہلاکتیں کچھ عرصے سے ایک معمول سا بنتی جا رہی ہیں۔ ان واقعات میں عموما محصور مجاہدین کو بچانے کے لیے لوگ جائے تصادم کے قریب جا کر سینہ تانے مقامی نوجوان پہنچ جاتے ہیں جس کے جواب میں بھارتی سفاک فوج کے اہلکاربلاتامل فائرنگ کرکے موقع پرمجاہدین کے ساتھ ہی کئی مظاہرین کوبھی شہیدکردیتے ہیں۔ دراصل مقبوضہ کشمیر میں 2016 سے مقبول رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعدیہ سلسلہ دن بدن تیزہوتاجارہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق تصادم کے قریب مظاہروں کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر وہاں بم رکھا تھا،جونہی مقامی افرادوہاں پہنچے تووہاں مکان کے باہر پہلے سے نصب دھماکہ خیز موادنے نوجوانوں کی جان لے لی جبکہ مقابلے میں شہیدہونے والے تینوں مجاہدین کاتعلق کولگام اور اننت ناگ سے تھا جس سے اب بھارت کے علاوہ دنیابھر میں یہ خبرجنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہے کہ اب تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کثیرتعداد بھی جدوجہدآزدی کشمیرمیں حصہ لیکرمتعصب بھارت کے اس پروپیگنڈے کوغلط ثابت کردیا ہے کہ جدوجہدآزدی کشمیرمیں بیرونی سرمایہ اورکم پڑھے لکھے افراد ہیں۔اب ایک دفعہ پھرجنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں مسلح تصادم کے دوران تین مقامی مجاہدین آزادی شہیدہو گئے مگر اس موقعے پر ہونے والی سات شہری ہلاکتوں کی نوعیت بھارتی فوج کی نئی سازش کے تحت ہوئی ہیں۔

ابھی کل کی بات ہے کہ کپوارہ کی لولاب ویلی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ منان وانی کوقریب سے جاننے والے بھی حیران ہوگئے جب انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی پروگرام ادھورا چھوڑ کرگذشتہ برس جنوری میں سوشل میڈیا پراعلان کردیا کہ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ منان وانی کاآبائی ضلع کپوارہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہونے کے باعث فوجیوں سے بھراہواہے۔ منان سائنس کے طالب علم تھے لیکن تاریخ،مذاہب اورسیاسی مزاحمت سے متعلق بھی وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ وہ اپنے مضامین میں امریکی شہری حقوق کے رہنما میلکم ایکس اوردیگر سیاہ فام مزاحمتی رہنماں کے حوالے دیاکرتے تھے۔ پی ایچ ڈی میں منان وانی کی تحقیق کاموضوع اپنے آبائی قصبہ لولاب کی ارضیاتی خصوصیات سے متعلق تھا۔منان وانی مسلح گروپ میں شمولیت سے قبل تقریروتحریرمیں کافی سرگرم تھے۔وہ سٹوڈنٹ اکٹیوزم میں پیش پیش تھے۔منان کے کی طویل مضامین کی اشاعت پرمقبوضہ کشمیر کی مقامی نیوز ایجنسی کرنٹ نیوز سروس کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج ہوااورسروس کی ویب سائٹ سے منان کا مضمون بھی ہٹایا گیا۔چندسال قبل منان کوبھوپال یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس کے دوران بہترین مقالہ کیلئےایوارڈدیاگیاتھااورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ نہایت خالص خیالات پر مبنی تحقیق کے قائل تھے۔منان نے ہتھیاروں کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں حاصل کی تھی لیکن ان کے دانشورانہ قد کی وجہ سے انہیں حزب میں کمانڈر کی حیثیت سے شامل کیا گیا،اس طرح منان بھی اس طویل فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جس میں ایسے متعدداعلی تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کو ادھورا چھوڑ کر بندوق تھام لی۔

منان وانی کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ موجودہ قدغنوں سے ہی نہیں بلکہ کشمیر سے متعلق تاریخ کو فراموش کروانے کی سرکاری کوششوں پر نالاں تھے۔ان میں سے ایک مضمون میں منان لکھتے ہیں: کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی نگرانی کرنے کیلئےجاسوس معمورکیے گئے ہیں، طلبا کیلئےاظہار رائے پرپابندی ہے اوران کے بھی پیچھے جاسوس لگے ہیں، پوری آبادی محصور ہے، قوانین بنائے جاتے ہیں تاکہ سرکاری ملازمین حکومت کی پالیسیوں پرتنقید نہ کرسکیں، اس ساری صورتحال پروہ لوگ کیاکہیں گے جوسمجھتے ہیں کہ جموں کشمیربھارت کا حصہ ہے۔منان وانی کی ہلاکت کے بعدمقبوضہ کشمیرمیں وہ سب نہیں ہواجو دو سال قبل برہان وانی کی ہلاکت کے بعدہواتھا۔ برہان کی ہلاکت نے وہاں احتجاج، مسلح مزاحمت اور مظاہروں کی نئی تحریک چھیڑ دی تھی لیکن منان کی ہلاکت پرنہ صرف ہندنوازحلقے پریشان ہیں بلکہ سیکورٹی اداروں کے بعض افسروں کوبھی خدشہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بغاوت کی لہر پیدا ہوسکتی ہے۔بھارتی خفیہ پولیس کے ایک افسرکے مطابق:منان وانی کی ہلاکت کے بعد منان کی شخصیت اوران کانصابی ریکارڈتعلیمی اداروں میں بغاوت کے بیچ بوئے گاجو ہمارے لئے تشویش کی بات ہے۔مقبوضہ کشمیرکی جدوجہدآزادی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شمولیت آخرکس بات کاپتہ دے رہی ہے،اس کوجاننے کیلئے کسی ایسی سائنس کی قطعی ضرورت نہیں۔

دنیابھرمیں طلباء اپنے وطن کے علاوہ دوسرے ملکوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیرکے طلباء پاکستان میں حصول تعلیم کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔پاکستان کی تعلیمی اداروں تک رسائی نہ ہونے کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری طلباء مختلف بھارتی ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں جانے کیلئے مجبورہیں جبکہ مودی سرکارکے دورمیں تعلیمی اداروں میں بھی خطرناک حدتک ہندوفرقہ وارانہ سوچ کارفرماہوچکی ہے جس کے باعث کئی سال سے کشمیری طلباء کومحض مسلمان اورکشمیری ہونے کی پاداش میں تشددکانشانہ بنایاجارہاہے۔گزشتہ دنوں بھارتی ریاست ہریانہ کے دارلحکومت چندی گڑھ کے ایک کالج میں کشمیری طلباء کوگرفتارکرلیا گیا،اس سے قبل بھارتی پنجاب کے ضلع موہالی میں کشمیری طلباءپرجان لیواحملے ہوئے اوراب بھارت کی ایک اورریاست اترپردیش (یوپی)کے گریٹرنوائیڈامیں شاروایونیورسٹی میں زیرتعلیم کشمیری طلباء پرقاتلانہ حملے کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیرکے عوام کوبھارتی ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے تحفظ کے حوالے سے شدیدخدشات لاحق ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے جوطلباء بہ امرمجبوری بھارت کی مختلف ریاستوں کے کالجوں میں پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے گئے ہوئے ہیں ان کے والدین ٹیوشن فیس اورطعام ورہائش کی مدمیں لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔اگردیکھاجائے توبھارتی ریاستوں میں قائم کئی پروفیشنل کالجز وہ ہیں جو کشمیری طلباء سے حاصل کی جانے والی لاکھوں کی فیس کی وجہ سے ہی چل رہے ہیں۔ایک طرف کشمیری طلباء کالجزانتظامیہ کولاکھوں روپے فیس کی مدمیں ادا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجودان کالجزمیں کشمیری طلباء کوکسی بھی قسم کاتحفظ فراہم نہیں کیاجارہا، سوال یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھارت کے کسی بھی کونے میں کشمیری طلباء محفوظ نہیں توپھروہ بھارت کے تعلیمی اداروں کارخ کیوں کرتے ہیں؟دنیاکے ہرطالب علم کی طرح کشمیرکے طلباء بھی اپنی ذہانت ومتانت کوآزمانے کیلئے تعلیمی میدان میں آگے بڑھناچاہتے ہیں۔کشمیرپرچونکہ متعصب بھارت کاجابرانہ قبضہ ہے اوربھارتی منصوبوں میں سے ایک سازش یہ بھی ہے کہ کشمیری طلباء کی صلاحیتیں بیکارکردی جائیں اورانہیں زندگی کے ہرمیدان میں آگے بڑھنے سے روک دیاجائے اورذہنی طورپرانہیں پسماندہ رکھاجائے۔ان مکروہ وناپاک عزائم کے تحت سرینگرمیں صرف چند ایک پروفیشنل اورٹیکنیکل ادارے موجود ہیں۔طلباء کی تعدادکے مطابق سے یہ ناکافی ہیں جبکہ پرائیویٹ سیکٹرمیں اس وقت سرینگرمیں صرف ایک انجیئرنگ کالج چل رہاہے اس لئے کشمیری طلباء کے سامنے اپنی تعلیمی تشنگی علم بجھانے کیلئے صرف دوراستے ہیں کہ وہ پاکستان جائیں اورزیورتعلیم سے آراستہ ہوں یاپھربھارتی تعلیمی اداروں میں داخلہ لیکراپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔ جہاں تک کشمیری طلباء کاپاکستان جانے کامعاملہ ہے یہ ان کیلئے مشکل ترین مرحلہ ہے،اوّل انہیں پاکستان جانے کیلئے پاسپورٹ چاہئے جبکہ پاسپورٹ کاحصول ان کیلئے ناممکن ہے کیونکہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں کشمیری طلباء کے حصول پاسپورٹ کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔حصول پاسپورٹ کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی توثیق کشمیری طلباء کیلئے لازم قرار دے دی گئی ہے اورسو میں سے بمشکل کہیں ایک کشمیری پاسپورٹ کااہل قرار پاتاہے جبکہ باقی تمام افرادکوجان بوجھ کرانکار کردیا جاتاہے۔بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے ان کی رپورٹ میں لکھاجاتا ہے کہ وہ کشمیرمیں جاری تحریک آزادی کی سرگرمیوں میں بالواسطہ یابلاواسطہ ملوث ہیں ۔بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی اس طرح کی رپورٹ آنے پر حصول پاسپورٹ کیلئے کشمیری طلباء کی تگ ودوختم ہوجاتی ہے۔کشمیری طلباء کی سومیں سے کسی ایک کو پاسپورٹ کااہل قراردے بھی دیا جائے اوراگروہ پاکستان کے کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے کی خواہش کااظہارکردے تویہ اس کیلئے ناقابل معافی جرم اوروبال جان بن جاتاہے کیونکہ چھٹیوں کے دوران جب بھی وہ سرینگرجاتے ہیں توسب سے پہلے امرتسر کے ''اٹاری بارڈر''پرانہیں بھارتی ایجنسیاں مختلف عذر تراش کرگھنٹوں انہیں تفتیش کے نام پرذلیل ورسواکرتی ہیں اورانہیں انتہائی بیہودہ ولغوسوالات پوچھ پوچھ کرذہنی اذیت سے دوچارکیاجاتاہے۔اس کے بعدجب یہ طلباء اپنے گھروں کوپہنچ جاتے ہیں توبھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ان کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے والدین اوردیگرعزیزواقارب کاعرصۂ حیات تنگ کردیاجاتاہے۔اس قدرناروا سلوک کے بعد اوراس اذیت سے بچنے کیلئے بالآخروہ پاکستان میں حصول تعلیم کیلئے آنے سے گریزکرتے ہیں اس لئے پاسپورٹ کے حصول اوردیگرنارواسلوک سے بچنے کیلئے انہیں مجبوراً بھارت کی مختلف ریاستوں کے تعلیمی اداروں کارخ کرناپڑتاہے لیکن لمحہ فکریہ ہے کہ مودی سرکارکے تعصب کی بنیادپران تعلیمی اداروں میں انہیں تشدداورہندوانہ بربریت کانشانہ بنایاجارہا ہے ۔

بھارتی ریاستوں ہریانہ،پنجاب،دہلی ،راجستھان اوریوپی کے تعلیمی اداروں میں گزشتہ برسوں کے دوران کشمیری طلباء کے ساتھ جوواقعات پیش آئے ،اس کے پس منظرمیں یہ عیاں ہے کہ ان تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کشمیری طلباء کوتحفظ فراہم کرنے میں نہ صرف ناکام ہیں بلکہ اس معاملے میں کوئی دلچسپی کااظہارکرنے سے بھی گریزکی پالیسی جاری ہے۔ کچھ روزقبل پولیس اورمسلح ہندوغنڈے چندی گڑھ کے ایک کالج میں زیرتعلیم طلباء کے کمروں میں گھس گئے اورہراساں کرنے کے بعدانہیں گرفتارکرلیاجس پرکشمیری طلباء نے احتجاج کیا۔افسوس اس بات کاہے کہ پولیس اس واقعے سے صاف مکرگئی کہ ان کی گرفتاریوں اورتشددمیں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ چندی گڑھ میں جب دوسرے کشمیری طلباء قریبی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ لکھوانے کیلئے گئے توپولیس نے رپورٹ لکھنے کی بجائے انہیں گرفتارکرنے سے انکارکردیاالبتہ اتناضرورکہاکہ طلباء کی گمشدگی کے متعلق رپورٹ درج کریں گے۔حیرت یہ ہے کہ کشمیری طلباء کوبھارتی ریاستوں کی پولیس انہیں گرفتارکرکے لیجاتی ہے لیکن پولیس اس گرفتاری سے انکارکردیتی ہے اورپولیس لاعلمی کااظہارکرکے کہتی ہے کہ ہمیں نہیں پتہ کہ ان کوکس ایجنسی نے گرفتارکیاہے۔

کشمیری طلباء کااحتجاج کسی نے نہیں سنااوراگرسنابھی ہوگاتوکوئی اس طرف دھیان ہی نہیں دیتا کیونکہ آج تک ایسی درجنوں وارداتیں رونماہورہی ہیں جب کشمیری طلباء کوغندوں نے مارا پیٹایاان کوپولیس نے بلاوجہ گرفتارکرلیاچنانچہ اس واقعے سے پنجاب اورہریانہ کے کالجوں میں زیرتعلیم طلباء کے والدین لازمی طورپرفکرمندہوگئے کیونکہ ان کومعلوم ہے کہ بھارتی ریاستوں میں کشمیری طلباء کے ساتھ کیاکچھ کیاجاتاہے۔طلباء کے والدین کاکہنا ہے کہ وہ صرف طالب علم ہیں اوراگران کاکوئی قصورہے توصرف یہ کہ وہ کشمیری ہیں کیونکہ خاص طورپرپنجاب اورہریانہ میں کشمیری طلباء پرحملوں میں روزبروزاضافہ ہورہاہے۔اسی طرح چندروزپیشترموہالی میں غنڈے ایک کالج کے ہاسٹل میں گھس گئے اورکشمیری طلباء کی شدیدپٹائی کی متعددطلباء زخمی ہوئے ،اس واقعے کے بعدکشمیری طلباء کوگرفتارکرنے کادوسراواقعہ رونماہواجس میں کشمیریوں پر ہندوغنڈوں کے متعدد حملوں کے بارے میں شدیدغم وغصہ کا اظہارکیاجارہاہے۔جوطلباء بیرون ریاست حصول تعلیم کیلئے جاتے ہیں،وہ کالج انتظامیہ کولاکھوں روپے فیس کی مد میں اداکرتےہیں ،وہ حکومت سے بھیک نہیں مانگتے ،ان کے رحم وکرم پرنہیں ہوتے،اس لئے ان تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کہ یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان طلباء کوہرقیمت پرتحفظ فراہم کرے۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاستوں کےمتعددپروفیشنل کالج کشمیری طلباء کی فیس پرچلتے ہیں ورنہ وہ کب کے بندہوچکے ہوتے۔

بھارت میں یہ ظلم وبربریت ایک پرانااوردیرینہ روگ ہے،تشدداورظلم کے یہ بھیانک اورشرمناک واقعات ایک عرصے سے جاری ہیں لیکن مودی سرکارکے دورمیں ان میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے جس کی پشت پناہی مقامی بی جے پی کے رہنماء کررہے ہیں۔دہلی سے دوگھنٹے کی مسافت پر میرٹھ شہرمیں سوامی ودیکانندسوبھارتی یونیورسٹی میں2014ء کے پاک بھارت کے مابین کرکٹ میچ میں مبینہ طورپرچندکشمیری طلباء کے پاکستان کی حمائت کرنے کے بعد67کشمیری طلباء کو نکال دیاگیاتھااورحیرت تواس بات پرہے کہ ان طلباء میں وہ بھی شامل تھے جواس واقعے کے دوران یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق تعطیلات پرگئے ہوئے تھے۔ان طلباء کے خلاف بغاوت کے مقدمات بھی درج کیے گئے تھے جوبعدازاں مقدمے کے کمزور پہلو اورعدم ثبوت کی بناء کے تحت واپس لینے پڑے۔

اسی طرح دہلی کے نواح میں واقع شاروایونیورسٹی میں کشمیری طلباء کے کرکٹ میچ کے دوران پاکستان کی حمائت کرنے پرتنازعہ ہواجس میں بعض کشمیری طلباء کے خلاف تادیبی کاروائی بھی کی گئی ۔ہندوطلباء بھارتی ٹیم کی شکست پرمشتعل ہوگئے تھے اورمعصوم کشمیری طلباء کودہشت گردقراردیکر انہیں یونیورسٹی سے نکال دینے کامطالبہ کیاجس پرکشمیری طلباء نے احتجاج کیاجس پرہندوغنڈوں کے بہیمانہ تشددکاشکارہوئے۔ جب بھارت کے تعلیمی اداروں میں نوجوان کشمیری طلباء کے ساتھ ایسانارواسلوک جاری رہے گاتویقینا تعلیم یافتہ نوجوان برہان وانی اورمنان وانی کے نقش قدم پرچلناہی باعث سعادت سمجھے گااورکولگام جیسے واقعات کے بعدمزیدنوجوانوں کے اس یقین میں اضافہ ہوگیاہے کہ ان تمام مسائل کاحل ماسوائے مکمل آزادی کے اورکچھ نہیں!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 455 Articles with 140093 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2018 Views: 247

Comments

آپ کی رائے