حس و فکر سے آزاد قوم

(Ansar Usmani, Karachi)

اگر آپ تین عوامی دائرے بنا لیں تو آپ ان میں سے کسی ایک دائرے میں بیٹھے ہوں گے۔پہلے دائرے میں وہ لوگ ہیں جنہیں کچھ پتا نہیں ہوگا کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔یہ صبح گھر سے روزی روٹی کمانے نکلتے ہیں ،سارا دن ہڈیاں توڑتے ہیں اور شام کو پراگندہ کپڑوں کے ساتھ بغیر نہائے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ اگلے دن اسی حالت میں دوبارہ کام پہ چلے جاتے ہیں ۔ان کووزیر اعظم کے نام کے علاوہ کسی کانام ومنصب معلوم نہیں ہوتا ۔یہ لوگ بجلی جانے ، گیس کی لوڈ شیٹنگ ہونے ، سڑکوں ،نالوں فلائی اووروں کی ٹوٹ پھوٹ کا کوڑاوزیر اعظم کے گلے میں ڈالتے ہیں ۔یہ لوگ دال ،چینی ،ماچس ،نمک ،آٹے کی قیمت بڑھانے پربھی وزیر اعظم کو گالیاں دیتے ہیں۔ باقی مملکت میں کیا کچھ ہورہاہے ،کون دفاع کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہے۔ کس کے ذمہ داخلہ و خارجہ کی بھاری ڈیوٹی عائد ہوتی ہے، اس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔یہ ملک میں ہر چیز کا کرتا دھرتا وزیر اعظم کو سمجھتے ہیں اوریہ لوگ آپ کو ملک کے ہر صوبے میں اکثریت کے ساتھ مل جائیں گے۔آپ ملک کے اس اَن پڑھ طبقے کو عالمی تنازعات ،اسٹاک ایکسچینج کے اتار چڑھاؤ، ملکی معیشت کی زبوں حالی ، عالمی مالیاتی اداروں کی سازشیں بتائیں گے تو یہ لوگ آپ کو آئن اسٹائن سمجھ کر عقیدت سے آپ کے ہاتھ چوم لیں گے ۔اور اگر آپ ان سے یہ بات کریں کہ امریکہ نے ملک پر مالی یلغار کردی ہے، اس نے اپنے ماتحت اداروں کوپاکستانی امداد دینے سے روک دیا ہے اور وہ مخصوص شرطوں پر قرضہ دینے کی بات کررہا ہے تو یہ کہیں گے بادشاہ (عموماََ ایسے لوگ وزیر اعظم کو بادشاہ کہتے ہیں ) جانے اور امریکہ جانے۔بادشاہ نے کرتوت ہی ایسے کیے ہیں۔بڑا شوق تھا جلسے جلوس نکالنے ،کرسی کا ،اب اس کا اﷲ ہی حافظ ہے ۔پھریہ سگریٹ جلاکر ،نسوار لگاکر آپ کے پاس سے اٹھ جائیں گے اورکبھی آپ کے پاس نہیں بھٹکیں گے ۔کیوں؟کیوں کہ ان کی نظر میں آپ ان کے معاشی دگرگوں حالات کی نہیں بلکہ ملکی وفاداری کی بات کرتے ہیں ۔ان کی خود غرضی سے آپ ملک میں ناخواندگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔غربت کی شرح کا تعین کرسکتے ہیں۔یہ لاشعوری اس حد تک جا پہنچی ہے جس کا یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔

دوسرے دائرے میں وہ لوگ ہیں جو خود ساختہ دانش ور ہیں۔آپ انہیں چلتا پھرتا فساد کہ سکتے ہیں ۔ان کا ’’سور س آف انفارمیشن ‘‘ گوگل، سوشل میڈیا ہوتا ہے۔یہ ہر جگہ تخیلات کے گھوڑے دوڑاتے نظر آتے ہیں ۔ان کو نہ ملک سے محبت ہوتی ہے اور نہ یہ مقصد آزادی کے غم میں ڈوبے ہوتے ہیں۔یہ کسی بھی مسئلے پر بغیر تحقیق کے لمبی تقریریں کریں گے ۔یہ لوگ مذہبی لوگوں کو دین کے ڈاکو،نظریاتی لوگوں کو مفاد پرست، سیاست دانوں کو کرسی اقتدار کے بھوکے ،سیاسی کارکنوں کو اندھے جگنو کہیں گے ۔یہ مسجد میں امام صاحب کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھیں گے اور مسجد کے باہر اسی امام کو گالیاں دیں گے۔یہ مسلکی باتوں میں اِدھر کی اُدھر ماریں گے ، سیاسی آثار ورموز ایسے بیان کریں گے کہ ان سے بڑا ملک کا خیر خواہ کوئی نہیں ۔یہ صاف ستھری سڑک کو پان کی پیک سے لال کریں گے ،پکی سڑکوں ،پختہ گلیوں کو ادھیڑ کر رکھ دیں گے اور ایساکرنا وہ اپنا حق سمجھیں گے۔ جب ان سے اس توڑ پھوڑ کی پوچھ گچھ کی جائے اور یہ کہا جائے کہ یہ آپ مہذب شہری ہونے والا کام نہیں کررہے تو یہ سینہ تان کر کہیں گے ہم نے کون سا غیر مہذب کام کیا ہے ۔یہ لوگ بھی آپ کو ہوٹلوں ، چبوتروں ، دکانوں ، شاپنگ مالوں ،مارکیٹوں میں مل جائیں گے ۔یہ دوغلے پن میں پی ایچ ڈی ہولڈر ہوتے ہیں۔آپ ان سے کسی بھی مسئلے پربات کرنے کی حماقت مت کیجیئے گاورنہ آپ کا نام ملک کے غداروں اورغیر مسلموں کی لسٹ میں لکھ کر ساری زندگی تجدید کلمہ کراتے رہیں گے۔

تیسرے دائرے میں وہ لوگ ہیں جو معتدل تعلیم یافتہ ہیں۔یہ مزاج کے پختہ ہوتے ہیں اور فوری ردعمل کو غلط سمجھتے ہیں۔یہ سیاسی ،مذہبی ،مسلکی ،معاشی ،معاشرتی مسئلوں کا کچرا کسی اور پر نہیں ڈالتے، بلکہ یہ خود اس کا حل تلاش کرلیتے ہیں ۔یہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوں اس سے محبت کرتے ہیں اور اس ملک کی معاشی ،جغرافیائی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔یہ اس ملک کے آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہیں اوریہ تنقید میں بھی اصلاح کا پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔یہ سیاسی ،مذہبی ،مسلکی تنقیدوں سے باز رہتے ہیں ۔انہیں آپ ایک وژن پر چلتا دیکھیں گے۔ ان کے رویوں میں نرمی ،گفتگو میں شائستگی اور لہجوں میں الفت کا وزن محسوس کریں گے۔ آپ انہیں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود علم جھاڑ نہیں پائیں گے۔ایسے لوگ سادہ ہوتے ہیں یا بہت زیادہ چلاک ہوتے ہیں۔یہ اصول پسند ہوتے ہیں اور انہیں آپ زندگی میں کسی نہ کسی مشن پر کاربند دیکھیں گے۔یہ ہر چیز کو اس کی ضرورت کے مطابق کرتے ہیں۔یہ کسی اور پہ کی جانے والی طعن وتشنیع کو اپنے اندر محسوس کرکے راہ راست تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔اس دائرے میں اب چند لوگ رہ گئے ہیں اور ہمیں اس میں نئی کھیپ کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ ہمارے معاشرے کا دقیق مشاہدہ حیران کن ہے کہ دنیا میں ناخواندگی کی ریس میں ہم سب سے آگے ہیں۔تعلیمی ادارے بھوت بنگلہ بن گئے اورہم طبقوں، مسلکی ،مذہبی جھمیلوں میں کھو گئے۔ریاست کے خدوخال مٹ گئے ۔اب ایک ملک ہے ،اس میں رہنے والے بے حس و بے فکر انسان ہیں ۔اور بس۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ansar Usmani

Read More Articles by Ansar Usmani: 98 Articles with 46661 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2018 Views: 413

Comments

آپ کی رائے