انسان اور مشین

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: انصر محمود
ایک سادہ سے پیچ کس سے لے کرجدیدترین کمپیوٹرزتک آج تک جتنی بھی مشینیں ایجادہوئی ہیں،سب کی سب انسان کی سہولت اورفائدے کے لیے ہوئی ہیں۔یہ اوربات ہے کہ ہرسہولت کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرورچھین لیتی ہے۔مثال کے طورپرکیلکولیٹردورجدیدکی ایک بہترین سہولت ہے جس سے اعدادوشمارمیں بہت زیادہ مددملتی ہے۔مگرجب سے کیلکولیٹرآیاہے خصوصاً طلباء نے پہاڑے یادکرنے چھوڑدیے ہیں۔اسی طرح کمپیوٹرزکی کمپوزنگ کی وجہ سے خطاطی کافن ناپیدہوکررہ گیاہے۔انٹرنیٹ کی سہولت آجانے سے لوگ مطالعہ سے دورہوتے جارہے ہیں۔اسی طرح کی دیگربہت سی مثالیں موجودہیں۔

بات یہ نہیں کہ انسانی سہولت کے لیے ایجادات نہیں ہونی چاہیے بلکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ ہرچیزکواعتدال میں رہ کراستعمال کیاجائے توخرابی کااندیشہ جاتارہتاہے۔ضرورت اورعادت میں یہی توبنیادی فرق ہے کہ کام کے وقت ان مشینوں سے ضرورفائدہ اٹھائیں لیکن انھیں عادت نہ بنالیں۔انھی عادات کی بدولت آج کاانسان مشینوں کے اس دورمیں مشین ہی بن کر رہ گیاہے۔مادیت پسندی ،سہل پسندی اورایک مخصوص طرز ِ عمل کی بناپرہم آج مختلف جسمانی ،اخلاقی،روحانی اوردنیوی مسائل کاشکارہوچکے ہیں۔ہرکوئی وقت کی کمی ،اخراجات کی زیادتی اورکچھ نہ کرپانے کی شکایت کرتانظرآہے۔روزمرہ کی گہماگہمی میں ہم اتنے مصروف ہیں کہ پیسہ کمانے کی خاطراپنی صحت اوردیگر معاملات تباہ کربیٹھتے ہیں۔

پھراسی صحت کے دوبارہ حصول کے لیے یہی پیسہ پانی کی طرح بہادیتے ہیں۔یہ طرز ِ عمل کوئی اتنامعقول اورپسندیدہ نہیں ہوناچاہئے۔مشینیں انسان کی سہولت کے لیے ہیں نہ کہ سرپر سوارکرلینے کے لیے۔اس تمام ترخستہ حالی کاعلاج صرف اتناہے کہ آپ تھوڑاساوقت اپنی ذات کے لیے ضرورنکالیں۔اپنے دوستوں سے گپ شپ لگائیں۔اپنے بچوں کووقت دیں۔دیگرافراد ِ خانہ سے میل جول رکھیں ۔تھوڑی بہت معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لیں ۔اپنے تعلق داروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔مزیدیہ کہ کسی ضرورت مندکی چھوٹی سی ضرورت پوری کرکے دیکھیں۔سکون کی دولت سے آپ کااندربھرجائے گا۔

اپنے اردگرددیکھیں کہ کتنے لوگ آپ کی توجہ کے منتظررہتے ہیں اورآپ کے پاس ان کے لیے وقت نہیں ہوتا۔کسی پرسکون جگہ اکیلے بیٹھ کر آنکھیں بندکرلیں اورتمام معاملات کوذہن سے نکال دیں۔کیونکہ ہمارے ذہن الم غلم سوچوں،تفکرات،پراگندگی اورالجھنوں سے اس قدر بھرچکے ہیں کہ اب مزید کچھ سیکھنے سوچنے یابرداشت کرنے کی ہمت اورشعورتک ہم کھوچکے ہیں۔بہرحال جب آپ اسی خالی الذہنی کی کیفیت میں کچھ دیر رہیں گے توآپ پر انکشاف ہوگاکہ سکون محض آپ سے اتناہی دورہے جتناکہ آپ اس مشق سے۔جوں جوں مادہ پرستی اور ہوس پرستی بڑھتی جارہی ہے اورجیسے جیسے شیطانی علوم اورمکروفریب کا دوردورا ہوتاجارہاہے۔بالکل اسی طرح کچھ مثبت طاقتیں بھی ہیں جوکائنات کاتوازن برقراررکھنے کی ذمے دارانہ کوششیں کررہی ہیں۔

تھوڑاسا وقت نکال کر اچھے لوگوں کی صحبت میں گزاریں۔جوکمیاں اورخامیاں آپ دوسروں میں دیکھتے ہیں انھیں اپنے اندر تلاش کریں اوردوسروں کی جوخوبیاں آپ کو متاثرکرتی ہیں انھیں اپنی ذات میں پیداکرلیں ۔چند ہی دنوں میں آپ خود کو پرسکون،پسندیدہ اورمتوازن شخصیت کا مالک پائیں گے۔اخلاقیات اورروحانیت آج کے اس پرُفتن دورمیں بھی وہم،بے خوابی،اعصابی بیماریوں اوردیگرالجھنوں کاشافی علاج ہے۔بس ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ تھوڑاساوقت ضرورنکالیں۔کائنات کی رنگینیوں اورفطرت کی حناء بندیوں سے اپناقلبی اورروحانی تعلق پیداکریں۔یقین مانیے خوشی اورسکون آپ سے دورنہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 499994 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2018 Views: 431

Comments

آپ کی رائے