آلودہ سوچ، آلودہ ماحول!

(Syed Areeb Bin Naseem, Karachi)

آج کے اس جدید دور میں انسان تیزی سے سائینسی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ مگر اس افرا تفری کی دوڑ میں وہ ان بنیادی چیزوں سے محروم ہوتا جارہا ہے جو ایک معاشرے کیلئے مفید ہے۔ ایک طرف تو سائنسی ایجادات نے انسان کی زندگی ماضی کے مقابلے میں کافی آسان اور بلند کردیا ہے دوسری جانب ایسی ایسی مشکلات سے دوچار کردیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر تحریر کے عنوان پر غور کیا جائے تو انسان نے ترقی تو حاصل کی لیکن انسانی ترقی نے اس کے اپنے ماحول کو تباہ کن اثرات سے مرتب کر دیا۔ ترقی کا انحصار انسانی سوچ پر ہوتا ہے اور اگر سوچ ہی آلودہ ہوگی تو اس کے اثرات معاشرے میں اور ارد گرد کے ماحول پر بھی ہوں گے۔ آج انسان ترقی کی راہ میں اس قدر مشغول ہے کہ وہ ان بنیادی چیزوں سے دوری اختیار کر بیٹھا ہے جو معاشرے اور ماحول کے لئے بہت مفید ہیں۔ جس میں ماحولیاتی آلودگی کا خیال رکھنے کو اپنی ذمےداری سمجھتا، شجرکاری کرنا اور اپنے کوڑے کو اپنی ذمےداری سمجھنا شامل ہیں۔

ہر والدین کو اس بات کا پابند ہونا چاہئے کہ وہ ابتدا سے ہی اپنے بچے کے اندر ایسی عادتیں پیدا کریں جس سے انفرادی فائدہ بھی حاصل ہو اور اجتماعی فائدہ بھی۔ شجرکاری کی عادت ان میں ایک بہترین عادت ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ آج کے والدین فقط اپنے بچے کو مغربی تہذیب اور تعلیم کی ریس میں دوڑانے کے علاوہ وہ بنیادی چیزیں جو ماحول اور سوچ دونوں کے لئے مفید ہیں بتانے سے قاصر ہیں۔ تحقیق کے مطابق کم عمری میں جو عادت بچے میں پیدا ہوجائے تو وہ تاحیات رہتی ہے۔ اگر والدین شجرکاری جیسی روشنی سے اپنے بچے کو ابتدا سے ہی روشناس کریں تو ایک بہترین معاشرہ تخلیق ہوگا۔ مگر یاد رہے شجرکاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی بھی پودے یا درخت بغیر سوچے سمجھے لگا دیۓ جائیں۔ ہر علاقے، زمین شہر یا ملک کی زمین مختلف ہوتی ہے جس میں اس زمین پر لگنے والے مخصوص پودے یا درخت ہی لگائے جائیں تو بہتر ہے۔ اگر جگہ کی تحقیق کئے بغیر شجر کاری کردی جائے تو وہ بہت بڑے بڑے نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر نیم اور گل مہر کراچی کی زمین کے لئے مفید ہیں۔ ماضی میں درختوں کے غلط انتخاب کی وجہ سے ہی شہر کراچی کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور شدید گرمی کی وجوہات میں کثیر تعداد میں غلط درختوں کا لگایا جانا ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

اگر آپ کراچی کے شہری ہیں تو آپ کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ کراچی میں روز تقریبا 12 ہزار ٹن کچرا نکلتا ہے اور بلدیاتی ادارے محدود وسائل کے پیش نظر صرف اس کا 45 فیصد کچرا ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔

یہ ہی وجہ کراچی شہر کچرے کے ڈھیر کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس تباہی کے ہم خود کتنے ذمہ دار ہیں؟ جہاں پر کھانا کچرا وہی پھینک دینا، پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال، ساحل سمندر کے گرد کچرے کا ڈھیر لگانا ہماری روز مرہ کی عادت ہو گئی ہے۔ ماضی میں بڑے بزرگ کہا کرتے تھے کہ اچھی عادتیں اپناتے ہوئے یہ نا دیکھو وہ عادت کس کی ہے، بس اس کو اپنا لو۔ آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف مغربی تہذیب کا راج ہے، ان ہی ثقافت کا ناچ ہے مگر ہم نے ایک بھی عادت وہ نہیں اپنائی جو ہمارے لئے فائدہ مند ہو۔ ہم مغرب کی ہر فضول ترین خصلتیں اپنانے میں تو سرفہرست ہیں مگر ہم یہ سیکھنے کو تیار نہیں کے ان کا بچہ بچہ اپنے کچرے کو، گندگی کو اور کوڑے کو اپنی ذمےداری سمجھتا ہے۔ وہ کچرا پھینکنے کے لئے سڑک کے بجائے کوڑے دان کا استعمال کرتا ہے، اپنے ملک کی، اپنے شہر کی دیواروں اور سڑکوں کو صاف ستھرا رکھنے کا پابند ہوتا ہے اور اس کو اپنی ذمےداری سمجھتا ہے۔ وہ اپنے سمندر کو متاثر نہیں کرتا، اپنا کچرا اپنے ساتھ واپس لیکر آتا ہے، پلاسٹک کے بجائے کپڑے کی تھیلی استعمال کرتا ہے۔ اپنے کچرے کو استعمال میں لانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور کچرے کو بلا وجہ آگ نہ لگا کر ماحول کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس تباہی کی ایک حد تک ذمےدار حکومت بھی ہے، اگر آپ 90 کے ٹیلیویژن کے سنہری دور سے گزرے ہیں تو آپ کو یاد ہوگا ایک ایسے ایسے پروگرام نشر کئے جاتے تھے جس سے بچوں کو بہت آگاہی ملتی تھی، اخبارات، ٹیلیویژن اور خاص طور پر بچوں کی نصابی کتابوں میں '' میرا کوڑا میری ذمےداری''، '' مجھے استعمال کریں'' اور '' آو درخت لگائے'' وغیرہ وغیرہ جیسے موضوعات کسی ہیرے جواہرات سے کم نہیں تھے۔ مگر آج کا میڈیا ہمارے معاشرے میں جو ہو رہا ہے وہ دیکھانے میں مصروف ہے جبکہ اس کا اصل مقصد ایک اچھا معاشرہ کیسا ہونا چاہئے یہ دیکھانے کا ہونا چاہئے۔

ایسے تو ماحولیاتی آلودگی کی سینکڑوں وجوہات ہیں اور ان کے سینکڑوں حل، مگر جن دو مسائل کو میں زیر بحث رکھا ہے وہ ہر خاص اور عام کی زندگی سے وابستہ ہے اور اس کا حل نکالنا بھی بے حد آسان ہے۔ اس تحریر کا مقصد والدین، اساتذہ اور طلبہ کو ان کی چند وہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا جن سے وہ گمراہ ہیں۔ اگر ہر شخص صرف گھر کے سامنے کے حصے کو صاف کرنے پر مامور ہوجائے اور اس کو اپنا فرض سمجھ لے تو ایک دن گلی، گلی سے شہر اور شہر سے پورا ملک صاف ستھرا ہوجائے گا۔ اپنے ملک کو اپنا گھر سمجھے اور کبھی یہ نا پوچھے کہ اس ملک نے آپ کو کیا دیا بلکہ اپنے آپ سے سوال کرتے رہیں کہ آپ نے اپنے ملک کو کیا دیا؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Areeb Bin Naseem

Read More Articles by Syed Areeb Bin Naseem: 2 Articles with 913 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Nov, 2018 Views: 410

Comments

آپ کی رائے