بنیادی تعلیم سے محروم بچے

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

وطن عزیز پاکستان کی آبادی اکیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے آبادی میں تیزی سے اضافہ کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ تعلیم اور بنیادی سہولتوں سے محروم رہنے والے بچوں کی بڑھتی تعداد لمحہ فکریہ ہے تعلیم سے محروم رہنے والے بچوں کے بارے حالیہ شائع ہونے والی رپورٹ آج کے کالم "سانچ "کا موضوع ہے ،قارئین کرام !انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کے دوکروڑ پچیس لاکھ بچے سکول کی تعلیم سے محروم ہیں جس میں زیادہ تر لڑکیاں شامل ہیں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ سرکاری سکولوں کی کمی ہے لڑکوں کے اکیس فیصد کے مقابلے میں بتیس فیصد لڑکیاں پرائمری سکول سے محروم ہیں صرف تیرہ فیصد لڑکیاں نویں جماعت تک تعلیم حاصل کر رہی ہیں رپورٹ کے مطابق ملکی مجموعی پیداوار کا دواعشاریہ آٹھ فیصد سے کم تعلیم پر خرچ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی بہت بڑی تعداد سکول کی تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش میں سب سے بڑی رکاوٹ سکولوں کی تعداد کا کم ہونابھی شامل ہے ،سابقہ حکومتوں کی جانب سے مفت اور لازمی تعلیم کی آئینی ذمہ داری بھر پور طریقہ سے پوری نہ کرناتعلیم حاصل کرنے کے خواہاں بچوں کی راہ میں مشکلات کا سبب بنی ،پرائیویٹ سکولوں کی بھاری فیسوں کا بوجھ بھی والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھوانے میں ایک رکاوٹ ہے ،لڑکوں کی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ جسمانی سزاؤں ،سکولوں کی کمی ،فیسوں اور دیگر اخراجات کا بھی رپورٹ میں ذکر موجود ہے ۔قارئین کرام ! وطن عزیز پاکستان کو آزاد ہوئے اکہتر سال بیت گئے اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں آج بھی دوکروڑ پچیس لاکھ سے زائد بچوں کا بنیادی تعلیم سے محروم رہنا لمحہ فکریہ ہے معصوم اور غریب گھرانوں کے بچے اپنے بنیادی حق تعلیم سے محروم رہ جانے کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ہمارے معاشرہ میں امیر وغریب کے درمیان واضح فرق نظر آتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں امیروں کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ نظام تعلیم اور نصاب موجود ہے اگر دیکھا جائے تو سابقہ حکومتوں کی مسلسل ناکام پالیسیوں کی بدولت امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے اکہتر سال میں کسی بھی حکومت کو اپنی تعلیمی پالیسیاں صحیح طریقے سے لاگو کرنے کے مواقع کم دیے گئے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان میں نہ مانو اور تنقید برائے تنقید کا سلسلہ پہلے دن سے شروع ہوکر حکومت گرانے تک جاری رہتا ہے جسکی وجہ سے کسی بھی حکومت کو آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے مفت اور لازمی بنیادی تعلیم کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا موقع کم ہی ملا آج ہمیں شہروں میں کسی حد تک سرکاری تعلیمی ادارے بہتر حالت میں نظر آتے ہیں لیکن دور دراز علاقوں کے بچوں کے لیے سکولوں کی تعداد بہت کم ہونے کے ساتھ ساتھ معیار تعلیم بھی مناسب نہ ہے پنجاب میں سابقہ دور میں میاں شہباز شریف نے کسی حد تک شہروں اور اس سے ملحقہ چکوک میں سرکاری سکولوں کی حالت بہتر کرنے کی جانب بھر پور توجہ دی لیکن دور دراز علاقوں کے سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کی وجہ سے تعلیم کے حصول کے لیے آنے والے بچوں کو مناسب اور معیاری تعلیم دینے سے قاصر ہیں گزشتہ چند سال میں پنجاب میں اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیوں کے باوجود اُنکا دوردراز علاقوں میں جاکر پڑھانا مسئلہ بنا رہا جسکی وجہ سے مکمل یکسوئی سے اساتذہ نے بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے اپنی ٹرانسفر اپنے قریبی علاقوں کے سکولوں میں کروانے پر توجہ مرکوز رکھی یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے بچوں کا بنیادی تعلیم حاصل نہ کر سکنے میں ایک اہم کردار بعض اساتذہ کا بھی ہے جو سخت جسمانی سزاؤں کوتربیت کا حصہ سمجھتے ہیں جسکی وجہ سے بچے سکولوں سے باغی ہو کر تعلیم کو خیر آبادکہ جاتے ہیں ایک غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے صرف دو کروڑ نوے لاکھ بچے سکول جا رہے ہیں۔ سکول جانے والے بچوں میں زیادہ تر سرکاری اداروں میں پڑھ رہے ہیں ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو دینی مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں جبکہ پرائیویٹ اداروں میں بچوں کی اچھی خاصی تعداد بھی اس میں شامل ہے جبکہ ملک میں دوکروڑ پچیس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے یہ دو کروڑپچیس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے بلکہ دوکانوں ، ورکشاپوں ،ٹی اسٹالوں ، فیکٹریوں ، اینٹوں کے بھٹوں پر مشقت کرتے دیکھے جا سکتے ہیں ، ان بچوں کا بچپن چھیننے میں ہم سب کا کردار ہے ماناکہ غربت کی وجہ سے بہت سے والدین بچوں کو سکول نہیں بھیجتے اور اپنے ساتھ محنت مزدوری پر لگا لیتے ہیں کسی بھی اسلامی مملکت میں حکومت وقت کی یہ آئینی ذمہ داری ہوتی ہے کہ مستحق اور غریب کے بچوں کے لیے تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے مناسب روزگار کا بھی انتظام کرے پاکستان میں دیہی اور شہری علاقوں میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے والوں میں واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے جسکی بے شمار وجوہات میں سے چند ایک کا ذکر سانچ کے قارئین کی نظر کرتا ہوں پہلا واضح فرق کو جو دیکھنے کو ملتا ہے وہ لڑکے اور لڑکی کی تعلیم ہے اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں میں ابھی بھی لڑکی کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی دیہاتوں میں چوبیس فیصد بچوں کی ماؤں نے پرائمری تک پڑھا ہوتا ہے جبکہ شہروں میں ساٹھ فیصد ماؤں نے بنیادی تعلیم حاصل کررکھی ہوتی ہے ،دوسری سب سے بڑی وجہ دور دراز علاقوں کے سکولوں میں مناسب سہولیات کی عدم فراہمی خاص طور پر اساتذہ کا وہاں نہ پہنچنا ،گھوسٹ سکول بھی تعلیم حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں وطن عزیز میں جنوبی پنجاب ،بلوچستان ، سندھ کے دور دراز علاقوں کے سکولوں کا کاغذوں میں ذکر موجود ہے لیکن افسوس زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں آئے روز اخبارات میں گھوسٹ سکولوں کے بارے خبریں گردش ہی نہیں کرتیں بلکہ حقیقت میں بھی ایسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے ،دیہاتوں میں اکثر ایسے سکول بھی ہیں جہاں بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے وہاں کی عمارت زمیندار یا جاگیر دارمویشیوں کے استعمال میں لا رہے ہوتے ہیں موجودہ حکومت کے منتخب وزیرا عظم عمران خان نے اپنے انتخابی منشور میں تعلیمی شعبہ کی حالت زار کو بہتر کرنے کے لیے اہم اقدامات کا ذکر بارہا کیا تھا خاص طور پر اعلی تعلیم کے لیے وزیر اعظم اور گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیاں بنانے کا اعلان ہوتا رہا اب جبکہ عمران خان کی حکومت کو بنے سو دن ہونے کو ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت عوام کو تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بنیادی تعلیم اورایک نصاب فراہم کر سکنے کے وعدوں کو پورا کر سکے گی ٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 129 Articles with 66845 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Nov, 2018 Views: 577

Comments

آپ کی رائے