ٹرمپ کی دھمکی پروزیر اعظم کا دوٹوک جواب ،قومی جذبات کی ترجمانی

(Mehr Iqbal Anjum, )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قربانیاں ایک بار پھر نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر ہرزہ سرائی کرتے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا پاکستانی حکام کو پتہ تھا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی۔ پاکستان کو سالانہ 3.1 ارب ڈالر دیتے رہے۔ اب پاکستان امریکہ کیلئے کچھ نہیں کر رہا اس لئے امداد بند کر دی۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چند ہزار امریکیوں کے بدلے امریکا نے لاکھوں افراد کو ہلاک کردیا، لاکھوں زخمی اور معذور جبکہ ہزاروں گرفتار ہوئے، امریکا کی جنگجوانہ پالیسی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا اور یہاں شدت پسندی بڑھی، بالخصوص افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے نہ صرف قبائلی علاقوں میں ٹھکانے بنائے بلکہ شہری علاقوں میں بھی کھل کر موت کا کھیل کھیلا۔ امریکہ کو اب اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ اب ان کا سابقہ ایک بدلے ہوئے پاکستان سے ہے یہ وہ پاکستان نہیں جسے امریکہ جب بھی چاہتا اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرکے چھوڑ دیا کرتا تھا۔ یہ وہ پاکستان بھی نہیں جس کی قیادت اگر تم ہمارے ساتھ نہیں تو دشمنوں کے ساتھ ہو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار ہو قسم کی دھمکی پر مصلحت کی ردا اوڑھ لیا کرتا تھا۔ گو کہ پاکستان سیاسی' معاشی اور اقتصادی مسائل کا بدستور شکار ہے لیکن اب یہ مجبوریاں ہمارے پیروں کی بیڑیاں نہیں بن سکتیں اور قوم ان بیڑوں کو توڑنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ ان حالات میں اب امریکہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ترنگ میں آکر نتائج و عواقب دیکھے بغیر دھمکی دینے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ کو وقعت دیتا ہے یا پھر ایک ایسے ملک جس کی اب بھی امریکہ کو ضرورت ہے سے تعلقات خراب کرنے کی راہ اختیار کرتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ٹرمپ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہاکہ آپ(امریکی صدر) کو تاریخی حقائق یاد کرانیکی ضرورت ہے ، دہشتگردی کیخلاف آپکی جنگ میں کافی نقصان اٹھا چکے ہیں ،اب وہی کرینگے جو ہمارے مفاد میں ہوگا۔ ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق الزامات کے معاملے پر ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے ، نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں اس کا ساتھ دیا اور 75 ہزار جانیں قربان کیں۔اس جنگ میں ہمارا123 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا،لیکن امریکہ نے صرف 20 ارب ڈالر امداد دی۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہمارے قبائلی علاقے تباہ اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ،اس جنگ نے عام پاکستانیوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ، اس کے باوجود بھی ہم نے امریکہ کو مفت زمینی اورفضائی سہولت مہیا کی، کیا مسٹرٹرمپ کسی ایسے اتحادی کا نام بتاسکتے ہیں جس نے یہ قربانیاں دی ہوں۔ پاکستان کوقربانی کا بکرا بنانے کے بجائے امریکہ اپنی ناکامی کا سنجیدگی سے جائزہ لے کہ ایک لاکھ 40 ہزارنیٹو اہلکاروں ،اڑھائی لاکھ افغان فوج اور ایک کھرب ڈالر سے زائد خرچ کرنے کے باوجودکیوں افغانستا ن میں طالبان آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔ پیر کی رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب امریکی صدر نے مزید دو ٹویٹ کیے۔جس میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ کو اسامہ بن لادن کو بہت پہلے ہی پکڑ لینا چاہیے تھا، نائن الیون حملے سے پہلے ہی میں نے اپنی کتاب میں اسامہ کی نشاندہی کردی تھی، صدر بل کلنٹن اسامہ بن لادن کے معاملے میں چوک گئے ،ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالر دیئے لیکن انہوں نے نہیں بتایا کہ اسامہ ان کے ہاں رہ رہاہے۔امریکی صدر نے ایک بار پھر امداد بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ٹویٹ میں کہا کہ اب مزید اربوں ڈالر پاکستان کو نہیں دیں گے ، پاکستان نے ہمارے پیسے لے کر بھی ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، اسامہ بن لادن اس کی بڑی مثال ہے جبکہ افغانستان دوسری مثال ہے۔پاکستان بھی ایسے ممالک میں سے ایک تھا جو امریکہ سے پیسے لیتے تھے لیکن بدلے میں انہوں نے کچھ نہیں دیا،یہ سب اب ختم ہوگیا۔وزیر خاجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا سے محاذ آرائی نہیں چاہتے لیکن ان کا ریکارڈ درست کرنا ضروری ہے، امریکا کو پاکستان کی قربانیوں کا پتہ ہے لیکن اعتراف نہیں کرتا، امریکی صدر کی جانب سے ایسی باتیں پہلی مرتبہ نہیں کی گئیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہمیں جانی اور مالی نقصان ہوا، دنیا دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی کاوشوں کی معترف ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون نہ کرتے تو امریکا کو مزید نقصان ہوتا۔ پاکستان کے مفادات ہماری ترجیح ہیں، ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسی مرتب کی جائے گی، پچھلی حکومت میں ملک کا کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا، وزیر خارجہ کے نہ ہونے سے جو نقصان ہوا اس کا ازالہ کر رہے ہیں۔ تعلقات آگے بڑھانا دونوں ملکوں کی ضرورت ہے، دنیا پاکستان کی قربانیاں کا اعتراف کر رہی ہے، امریکا کی مالی امداد کا اعتراف کرتے ہیں لیکن ہمارا جانی نقصان کہیں زیادہ ہے۔ ماضی کی تلخیوں میں الجھنا امریکا اور پاکستان کے مفاد میں نہیں، ایک دوسرے کیساتھ مل کر آگے بڑھنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے، میری رائے میں ہمیں الجھنا نہیں بلکہ آگے بڑھنا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ داخلی سیاست کی وجہ سے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی صدر کا بیان کہ پاکستان نے امریکا کیلئے کچھ نہیں کیا اس لئے امداد بند کردی احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے، سابق حکمرانوں نے امریکی خوشامد کے لیے پاکستان کو نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جھونک دیا اورصرف چند لاکھ ڈالرزکیلئے ڈرون حملوں کی اجازت دی، لیکن امریکا پھر بھی ہمیں اپنی امداد کے طعنے دے رہا ہے جو ملکی اداروں اور سویلین حکمرانوں کی پالیسیوں کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ امریکا اور نیٹو کی فوجیں گزشتہ 16 برس سے افغانستان میں آگ اور بارود کی بارش کرنے کے باوجود مسلسل ناکامیوں اور ہزیمت سے دوچار ہیں، ایک طرف امریکا پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے تو دوسری طرف خفیہ طور پر طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغان جنگ سے جان چھڑانے کی کوششیں کررہا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے امداد بند اور پاکستان کیخلاف شکوک وشبہات کا بیان احسان فراموشی، حکمرانوں کی غلط اور مفاد پرستانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ نائن الیون کے خود ساختہ حادثے کے بعد امریکا اور طاغوتی قوتوں نے افغانستان میں اسلامی حکومت ختم، لاکھوں لوگوں کو ہجرت پر مجبور اور معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا جبکہ پاکستان میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کی شہادت کے باوجود امریکی صدر کا حالیہ بیان قابل مذمت ہے۔امریکا کی وجہ سے پاکستان بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہے، پاکستان میں خودکش حملے اور افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات امریکا کی وجہ سے ہورہے ہیں لیکن ٹرمپ کا گلہ پاکستان سے ہے۔ امریکا پچھلے ڈیڑھ عشرے سے افغانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکرا رہا ہے لیکن اسے ابھی تک کامیابی نہیں ملی، پاکستان نے دہشت گردوں کو پناہ نہیں دی، امریکا دہشت گردوں کا سرخیل اور پشتی بان ہے۔ پاکستان نے 70 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی اس لیے نہیں دی کہ امریکا کا صدر ہمیں دھمکیاں دے گا اور دنیا ہماری قربانیوں کو فراموش کردے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehr Iqbal Anjum

Read More Articles by Mehr Iqbal Anjum: 30 Articles with 10571 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2018 Views: 359

Comments

آپ کی رائے