محبت لازمی کرنا۔۔ علی احمد کیانی کا شعری محموعہ

(MIAN ASHRAF ASMI ADVOCATE, Lahore)

انسانی فطرت ہے کہ وہ محبت خلوص اور وفا کی تلاش میں رہتی ہے۔ لیکن خالق نے کچھ ہستیاں اِس جہان میں ایسی بھی پید اکی ہوتی ہیں جو خود سراپا محبت و خلوص ہوتی ہیں۔ایسے لوگ معاشرئے کا وہ حساس طبقہ ہوتے ہیں جن کا وجود معاشرئے کے لیے اس قدر قیمتی ہوتا ہے کہ ان کے دم سے خیر وبرکت کی خوشبوئیں خزاں رتوں میں بھی ہر سو پھیلی ہوتی ہیں یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا حساس دل معاشرئے کے ہر ہر فرد کی تکلیف پر دُکھی ہوجاتا ہے حتی کہ کائنات کی ہر شے سے اُنھیں اُنس ہوتا ہے۔ ایسا صرف اِس لیے ہوتا ہے کہ ایسی ہستیاں اِس دُنیا میں فقط محبت کرنے اور محبت کو برہوتری دینے کے لیے پیدا ہوئی ہوتی ہیں۔ گویا اُن کا مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے محبت لازمی کرنا۔

محبت لازمی کرنا جواں جذبوں کے امین، ہر سُو وفا ء کی خوشبو سے معاشرئے کو مہکانے والے جناب علی احمد کیانی کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ہے۔ برادرم علی احمد کیانی کی شاعری اپنے اندر خوداری کا لمس سموئے ہوئے ہے۔فن کوئی بھی ہو ۔ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو وہ انسانی جذبات و خیالات کا عکاس ہوتا ہے۔علی احمدکیانی کا علم وسیع ہے اِس کا اظہار اُن کے مشاہدئے کی قوت ِ پرواز ہے۔زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے واقفیت اور دُکھی دلوں کی ترجمانی علی احمد کیانی کی شاعری کا وصف ہے۔
رہزنوں سے علی بچ گیا تھا مگر
رہبروں سے لٹا دیکھتے دیکھتے

متزکرہ بالا شعر میں جناب علی احمد کیانی نے جس انداز میں معاشرئے کی بے ثباتیوں کا تذکرہ کیا ہے یقینی طورپر اِنکی یہ غزل جس کے شعر کا ذکر کیا گیا ہے اپنے اندر وسیع معنی سموئے ہوئی ہے۔اُنھوں نے جس انداز میں رہزن اور راہبر کے معاشرتی رویوں کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علی احمد کیانی راہبری کے بھیس میں راہزنی کی پہچان رکھتے ہیں اور اُن کے اندر کا حساس انسان معاشرئے کی اِس انداز میں مذمت کرتا ہوا دیکھائی دیتا ہے کہ جہاں سے محبت کی فروانی ہونی چاہیے وہاں نفرتیں پنپ رہی ہیں۔
ملاحظہ فرمائیں علی احمد کا اسلوب کہ
جل گیا تن بدن میرا
غم کہ آتش فشاں سے گزرا ہوں
عشق نے پر لگا دئیے مجھ کو
آج میں آسمان سے گزرا ہوں

ایک طرف علی احمد کیانی دکھوں اور یاسیت سے لڑتے ہوئے دیکھائی دیتا ہے اور دوسری جانب اپنے عشق کی پرواز میں اِس قدر بلندیوں پر ہے کہ آسمان بھی اُسے اپنے پاؤں تلے محسوس ہوتا ہے۔ یقینی طور پر علی احمد کیانی نے جس طرح کے الفاط اپنی شاعری میں استعمال کیے ہیں یہ الفاظ بناوٹی نہیں ہیں بلکہ علی احمد کیانی کا ایک حرف ایک ایک لفظ اپنے اندر جذبوں کا طوفان لیے ہوئے ہے۔ علی احمد کیانی کی شاعر ی کا یہ وصف ہے کہ امید کی روشنی سے منور ہے علی احمد کیانی کے ہاں منزل تک رسائی حاصل کرنے کے کے لیے سب کچھ لُٹا دینے کا جذبہ بدرجہ اُتم موجود ہے۔علی احمد کیانی نہایت معیاری اور منفرد غزل کہتے ہیں۔علی احمد کیانی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں نہایت نفیس انسان ہیں۔علی احمدکیانی نے نبی پاکﷺ کی خدمت اقدس میں نعتیں بھی لکھی ہیں۔

زیر نظر شعری مجموعے میں بہت خوبصور ت نعت شامل ہے۔نبی پاکﷺ سے محبت کے نصا ب کی حلاوتوں سے اویس قرنیؒ، بلال حبشیؒ امر ہوگئے۔ آپ ﷺ کے عشق کا فیضان ہی انسان کو خالق کے ساتھ تعلق کے استوار کا کرنے کا سبب بنتا ہے۔یہ عشق رسول ﷺ ہی ہے جس نے کربلا کی تپتی ریت پر امام عالی مقام حضرت امام حسینؒ اور اُن کے ساتھیوں کو شہادت کے نا قابل فراموش جذبے کی تمازت سے سرفراز کیا۔عشق رسولﷺکے بغیر ابوجہل کا پیروکار تو بنا جاسکتا ہے لیکن نبی پاکﷺ کی شفاعت کا حقدار نہیں۔عشق رسول ﷺ ابوبکر ؓ ، عمرؓ، عثمانؓ ، علیؓ کی زندگیوں میں انقلاب کا سبب بنا۔میلاد مصطفےٰ ﷺ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ انسانیت کو شرف انسانیت سے ہمکنار کرنے والے کی آمد پر ربِ کائنات کا شُکربجا لایا جائے۔جس طرح اﷲ پاک کو جو مانتا ہے یا نہیں مانتا اﷲ پاک اُس کا بھی خالق و مالک ہے۔اِسی طرح نبی پاک ﷺ تمام انسانیت کے لیے رحمت ہیں۔ رحمتوں کے عظیم پیکر نبی پاکﷺ کی آمد کے دن کو اپنے لیے عید شمار نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے۔عشق رسول ﷺ کی شمع کا فیضان ہے یہ کہ پوری کائنات میں ہرلمحہ اﷲ پاک کی ربوبیت کے لیے اعلان اذان کی صورت میں ہورہا ہے کوئی اور دین ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔عشق رسول ﷺ ہی خالق اور مخلوق کی تعلق کی بنیاد ہے۔علی احمد نے بھی اپنے نبی پاکﷺ کی شان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
سیرت بھی حسین ان کی، صورت بھی حسین ان کی
کردار بلند ان کا ، اطوار حسین تر ہیں
صدیق ؓ، عمر ؓ ، عثمان ؓ، یا شیر خدا ؓ ہیں وہ
سرکار دو عالمﷺ کے، سب یار حسین تر ہیں

اﷲ پاک سے دُعا ہے کہ جناب علی احمد کیانی اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 219444 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
23 Nov, 2018 Views: 655

Comments

آپ کی رائے