متاعِ جاں‘ مصنفہ زینت کوثر لاکھانی۔ ایک مطالعہ

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

مَیں نے سب سے پہلے جو تحریر’ متاعِ جان‘ کی مصنفہ زینب لاکھانی کی کبھی پڑھی تھی وہ اردو زبان سے متعلق تھی۔ اس مختصر سی تحریر سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ مصنفہ اردو سے عشق رکھتی ہے،اسے اردو سے محبت ہے،پاکستان میں اردو زبان کی حالت زار پر اسے دلی دکھ اور افسوس ہے۔ یہ سوچ کچھ اپنی اپنی سی لگی۔ ہم تو پیدا اردو گھرانے میں ہوئے ، گھر کی زبان اردو، باہر کی زبان اردوہی تھی، پیلے اسکول اوراردو میڈیم نے ہمیں اردو تک محدود کردیااور ہم اردو کے ہی ہوکر رہ گئے۔ن کے انداز تحریر اور اردو سے تعلق نے خوشگوار احساسات پیدا کردیے تھے۔ زمانہ گزرگیا۔ گزشتہ دنوں سلسلہ پبلی کیشنز نے’ سلسلہ ‘کا ہمارا خاص نمبر شائع کر کے ہمیں ادیبوں ، شاعروں کی صف میں کھڑا کرنے کے ناکام کوشش کی، اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ہمیں سلسلہ کا سرپرست بھی بنا ڈالا ۔ سلسلہ ایک سہ ماہی ادبی جریدہ ہے جو شاعروں اورادیبوں کے گوشے اور خاص نمبر بھی عرصہ دراز سے شائع کر رہا ہے۔ سلسلہ کے چیف ایڈیٹر مرتضیٰ شریف صاحب نے زینت کوثر لاکھانی کی کتاب ’’متاعِ جاں ‘ ہمیں تھمائی اور کہا کہ متاعِ جاں پر کچھ لکھوں ۔ متاعِ جان اور اس کی مصنفہ کا نام دیکھ کر ہمیں اُن کی وہ مختصر تحریر یاد آگئی جوانہوں نے اردو کی محبت میں لکھی اور ہماری نظر سے گزر چکی تھی۔ مصنفہ اردو کی عاشق اور دوست ہیں ، اردو کا جو دوست ہے وہ ہمارا بھی دوست ہے۔ہمارا قلم تو یہی الفاظ لکھ سکتا ہے، ہم اسی زبان کے اسیر ہیں، ڈاکٹر رؤ ف پاریکھ نے اردو کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ہم اسی ظالم پر مرتے ہیں جو بڑی مظلوم ہے یعنی اردو‘‘۔تو جناب مرتے تو ہم بھی ہیں اسی اردو پر لیکن ہمارے نذدیک یہ مظلوم نہیں، بلکہ اس کا دامن بہت وسیع ہے ، جو چاہیں اس سے محبت کرے، اسے اپنائے یہ جواب میں محبت اور اپنائیت ہی دیتی ہے۔ چانچہ متاعِ جاں کی مصنفہ سے ہمارا بھی دوستی کا تعلق ٹہرا ،ہم نے مرتضیٰ صاحب سے اقرار کر لیا کہ بساط بھر کوشش کرکے کچھ لکھ دیں گے ہم زینت کوثر لاکھانی کی طرح اردو میں سند اامتیاز تو رکھتے نہیں، البتہ کچھ نہ کچھ لکھیں لیتے ہیں۔ یہ انہی کی خواہش کی تکمیل ہے۔ کتاب کے فلیپ پر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے بہت سچ لکھا کہ ’’زندگی کی تصویر اور زندگی کی تفسیر کے چند گوشے آپ کو زینت کوثر لاکھانی کی کتاب میں ملیں گے جن میں بہت ہی اہم اور بہت ہی نمایاں ان کی اردو سے محبت ہے‘‘۔

مصنفہ نے اپنی رودادِ غم بلکہ شعبۂ تعلیم سے وابستہ اساتذہ کی فریاد خوبصور انداز میں لکھی ، اردو کے حوالے سے اس کی اہمیت بھی بیان کرتی رہیں، اردو کی ترقی اور فروغ میں حائل مسائل و مشکلات کا بیان بھی ہوتا رہا ، حکام بالا پر تیر و نشتر بھی برساتی رہیں، انہیں اس بات کا احساس دلاتی رہیں کہ ملک میں اردو کو قومی زبان بنانے میں ہمارے دشمن نہیں بلکہ ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں۔ وہ معیار تعلیم کی خستہ حالی کا بھی بیان کرتی ہیں اس کی اصلاح کے لیے مفید مشورے بھی دیتی جاتی ہیں۔ ایک استاد کی حیثیت سے انہوں نے جن مسائل کا سامنا کیا، جو مشکلات انہیں پیش آئیں ، جو خامیاں انہوں نے محسوس کیں ان کا بے باکی سے اظہار کر کے انہوں نے اپنا فرض پورا کردیا۔ آغا نور محمد پٹھان نے درست لکھا کہ ’یہ صوتیات، لفظیات ، لسانیات اورادبیات کے موضوع پر یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے پڑھنے کے لیے بار بار جی چاہتا ہے‘۔

زینت کوثر لاکھانی اردو میں سند اامتیاز رکھتی ہیں، چنانچہ اردو کے الفاظ اور جملوں پر ان کی گرفت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ کسی جگہ بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اردو کے مشکل الفاظ کا استعمال کر کے روب ڈالنے کی سعی کر رہی ہیں۔ ہر بات سہل انداز سے، آسان زبان میں کہہ ڈالی ہے۔ انداز بیان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا انداز بیان نہ ہی اور ہے نہ ہی بور، ہمارے اندازِ تحریر میں کوئی اچھوتی اور نرالی طرز یا بات نہیں ہے بس جیسی ہماری باتیں ہیں ویسی ہی ہماری تحریر ہے‘‘۔ سچ لکھا اور سچ کے سوا کچھ اور نہ لکھا۔ ایسا ہی ہے کہ وہ مصنفہ کی تحریر میں شائستگی ہے، شستگی ہے، خوش آہنگی ہے، خوش ذوقی ہے، رعنائی ہے، قرینہ ہے اور سلیقہ ہے۔کتاب میں جابجا اشعار کا استعمال کیا گیا ہے۔ انداز بیان کے حوالے سے ایک شعر تحریر کیا ہے ؂
تبسم ہے لبو پراور نگاہوں میں شرارت ہے
سنا ہے لوگ کہتے ہیں یہی عادت تمہاری ہے

متاعِ جان متفرق تحریروں کا مجموعہ ہے۔ جو مصنفہ کے معلم کی حیثیت سے تقرر کے مراحل سے شروع ہوتا ہے، بیچ میں اردو کی باتیں آجاتی ہیں، نفاذ اردو کی تفصیل اور اس کا نوحہ ہے کہ اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود اردو کا بہ حیثیت قومی زبان نفاذ ممکن نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’تاریخ کہتی ہے ’’اردو‘‘ نے پاکستان بنایا ... مگر پاکستان اردو کا نا بن سکا....بات درست کہی ایسا ہی ہوا کہ پاکستان کے لیے جو نعرہ قیام پاکستان کے وقت فضاء میں گونج رہا تھا کہ ’’لے کر رہیں گے پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان ‘‘ اردو زبان میں ہی لگ رہا تھا۔ کتاب کا اختتام ایک ڈرامہ پر ہوتا ہے جس میں مدعی پسرِ قوم ہے، ملزم فخرِ قوم ہے ، عدالت میں کاروائی میں اردو میڈیم کی باز گست سنائی دیتی ہے۔ ڈرامہ کا دوسرا منظر جب شروع ہوتا ہے ملزمہ’’ اردو ‘‘ کو دکھا یا گیا ہے جو سفید ریشمی لباس میں ایک خوبصورت اور باوقار خاتون ، چال انتہائی سبک و آہستہ لیکن تمکنت کے ساتھ... ہمراہ کچھ جوان اور کچھ معمر خواتین و حضرات جنہوں نے اپنے ہاتھ میں کتب و رسائل و اخبارات اور دوسرے ہاتھ سے اردو کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ اردو اپنے اس لاؤ لشکر کے ساتھ کمرہ عدالت میں داخل ہوتی ہے ۔ سامعین و حاضرین سمیت تمام وکلا ء اور جج نشستون سے کھڑے ہوجاتے ہیں۔تسلیمات و آداب کا شور بلند ہوتا ہے ..نوجوان طلبہ اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے حیرت سے اردو کودیکھتے ہیں‘‘۔ اردو عدالت کو بتاتی ہے کہ جناب والا آج میرانام ’’اردو‘‘ اور میری عرفیت ’’قومی زبان ‘‘ ہے ۔ اس طرح اردو کا مقدمہ خوبصورت انداز سے پیش کیا گیا ہے۔

دستور العمل برائے اساتذہ کے عنوان سے ابراہم لنکن کے انگریزی خط کا آزاد اردو ترجمہ خلقِ مدارس کے لیے شامل ہے جو 21 نکات پر مشتمل ہے ۔ اس میں اساتذہ طلبہ کو کس طرح اور کیا کیا پڑھائیں ، کیا کیا سکھائیں، کیا نہ سکھائیں درج ہے ۔ حسد کے بارے میں کچھ اس طرح تحریر کیا گیا ہے کہ ’اے استاد محترم میرے بچے کو حسد اور جلن سے اجتناب کر نا سکھائیں۔ دوسروں کی کامیابی ، خوبی یا بڑائی پر خوش ہونا سکھائیں یہ صفت سکھانا بہت مشکل ہے کیونکہ انسانی فطرت بہت جلد حسد اور جلن کا شکار ہوجاتی ہے لیکن آپ کوشش ضرور کریں لیکن کوئی دوسرا اگر میرے بچے کی کسی خوبی سے حسد کرنے لگے تو اسے حوصلہ دیں ؂
گر حسد کسی کو تجھ سے ہوتی ہے یہ تیری خوبی
جو تو نہ خوب ہوتا ، تو وہ کیوں حسود ہوتا

جرمنی کی ایک کہاوت ہے کہ سچی خوشی وہ کمینی خوشی ہے جو ہمیں ان لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر حاصل ہوتی ہے جن سے ہم حسد کرتے ہیں ۔ اس لیے اسے بتائیں کہ حسد سے بچنے کے لیے آسان طریقہ یہی ہے کہ دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہوجاؤ۔ کسی کی خوبی یا خوشی کو تم اپنے حسد کی بنا پر پامال نہیں کرسکتے‘۔

کتاب کا حرف حرف ، سطر سطر پڑھنے کے قابل ہے، اردو سے محبت رکھنے والوں کے لیے تو یہ کتاب بہت ہی لطف جاں ہے۔ مصنفہ نے از خود کتاب کے بارے لکھا ’زیر نظر تصنیف ہمارے علم، تجربہ اور مشاہدہ کا نچوڑ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارا علم کتابی، تجربہ معروضی اور مشاہدہ سطحی ہے۔ اس کتابی علم ، معروضی تجربہ اور سطحی مشاہدہ کا سبب یہ ہے کہ ہم جہاں سے گزرے سرسری اور جلدی میں گزرے۔ ایسی صورت میں جو کچھ ہاتھ آسکتا ہے ۔ اس کا بیشترحصہ کئی اُدباء اور شعراء کا مرہونِ منت ہے اگر ہم ہر جملے وار ہر شعر کے نیچے اس کے ادیب یا شاعر کا نام لکھتے تو تحریر خاصی طویل ہوجاتی اور بیان کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا‘۔ پرکشش موضوع خوبصورت تحریر متاعِ جاں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 659002 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
03 Dec, 2018 Views: 659

Comments

آپ کی رائے