پاکستان ٹیلی وژن کی چون ویں سالگرہ

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

موجودہ دور میں وطن عزیز پاکستان میں عوام کو سستی ترین اور معیاری تفریح کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے کا واحد زریعہ ٹیلی وژن ہے ٹی وی پر خبریں، تجزیاتی پروگرام، ڈرامے، ٹاک شوز، کھیل،ڈاکیو مینٹری اور اسی طرح کے کئی پروگرام نشر ہوتے ہیں ،اکیس نومبر کو دنیا بھر میں ٹیلی وژن کا عالمی دن منایا جاتا ہے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام یہ دن منانے کابنیادی مقصد دنیا کو ٹیلی وژن کی اہمیت اور اسکا استعمال کرنے والوں میں شعور کی بیداری ہے انیس سو چھیانوے میں منعقد ہونے والے عالمی انٹرنیشنل فورم کی یاد میں یہ دن منانے کا سلسلہ باقاعدہ طور پر اکیس نومبر انیس سو ستانوے سے شروع ہوا پاکستان ٹیلی وژن کی نشریات کا با قاعدہ آغاز چھبیس نومبر اُنیس سو چونسٹھ کو لاہور سے ہوا تاریخی حوالے کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے جاپان کی ایک فرم نپن الیکٹرک کمپنی کے تعاون سے لاہور اور ڈھاکہ(مشرقی پاکستان ) میں ٹیلی ویژن اسٹیشن قائم کیے چھبیس نومبر اُنیس سو چونسٹھ کو لاہور اورپچیس دسمبر اُنیس سو چونسٹھ کو ڈھاکہ میں ٹیلی ویژن اسٹیشن قائم ہوئے ان دونوں اسٹیشن پر شروع میں روزانہ تین گھنٹے کی نشریات کی جاتی تھیں اور سوموار کو پی ٹی وی کی نشریات نہیں ہوتی تھیں۔لاہور اسٹیشن کا افتتاح اس وقت کے صدرجنرل ایوب خان نے کیا اور پہلی اناؤنسمنٹ معروف کمپیئر طارق عزیز نے کی پہلے کیمرا مین انیس احمد تھے اور پہلا گانا طفیل نیازی نے امیر حیدری کی ترتیب دی گئی موسیقی میں گایا ۔پاکستان ٹیلی وژن کو انیس سو بہتر میں ایک علیحدہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا جو کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت کے ساتھ ہے اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اِس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا انیس سو چھترمیں پاکستان ٹیلی وژن کی نشریات کو رنگین کر دیا گیا پہلا رنگین ڈرامہ پھول والوں کی سیر تھا ،پاکستان ٹیلی وژن کے آغاز میں نثار حسین، اسلم اظہر، بختیار احمد ،محمد نثار حسین، ذکا درانی،جمیل آفریدی،،طارق عزیز،شہنشاہ نواب، فضل کمال، مختار صدیقی، قوی خان، آغا ناصر، آغا بشیر، شہزاد خلیل، فرح سیر، کمال احمد رضوی، محمد رفیع خاور(ننھا)، مہ رخ نیازی، کنول نصیر،عون محمد رضوی، قمر چودھری، نذیر حسینی، سمیعہ ناز، روحی بانو،ریحانہ صدیقی،عبیداﷲ بیگ ، شیریں پاشا، قریش پور، ناظم الدین اور ظہیر بھٹی ،ڈرامہ نگاروں میں اشفاق احمد ،حسینہ معین ، مستنصر حسین تارڑ،منو بھائی ،بانو قدسیہ ،فاطمہ ثریا بجیا ،انور مقصود ،کمال احمد رضوی ،حمید کاشمیری ،شوکت صدیقی ،تاج حیدر ،امجد اسلام امجد ،فارق ضمیر ،انتظار حسین ،یونس جاوید ،اطہر شاہ خاں ،ذوالقرنین حیدر ،انور سجاد ، اصغر ندیم سید، نور الہٰدی شاہ ، عبد القادر جونیجو، عطاالحق قاسمی، ڈاکٹر ڈینس آئزک ، فضل حسین صمیم اور یونس جاوید،عبد القادر جونیجو جیسی شخصیات کا ذکر انتہائی اہم ہے جنھوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے پروگراموں کو عوام میں مقبول ترین بنایا،سانچ کے قارئین کرام ! انیس سواسی کی دہائی کے آخر اور نوے کی دہائی میں اپنے بچپن کی بات کروں تو سمندر ،وارث ،ان کہی ،ففٹی ففٹی ،الف نون ،اندھیرا اجالا ،سونا چاندی ،نیلام گھر (طارق عزیز شو)،خواجہ اینڈ سن ،اساوری ،تنہائیاں ،دھوپ کنارے ،آنگن ٹیڑھا ،دھواں ،انکل سرگم ،سارے دوست ہمارے ،کلیاں اور طویل دورانیہ کے ڈراموں نے جہاں اُس وقت مقبولت کے ریکارڈ قائم کیے وہیں یہ آج بھی تیس ،پنتیس برس بعد بھی عوام میں پسندیدگی میں ایک الگ پہچان رکھتے ہیں آج چون برس بعد پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کی جانب سے پی ٹی وی ہوم ،پی ٹی وی نیوز،پی ٹی وی نیشنل ،پی ٹی وی سپورٹس ،پی ٹی وی بولان ،پی ٹی وی آزادکشمیر ،پی ٹی وی گلوبل چینلز کی نشریات دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں ،تعلیم کے فروغ میں بھی اس کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروگراموں کے علاوہ ورچوئل یونیورسٹی پاکستان جو مواصلاتی ذرائع سے تعلیم دینے والی یونیورسٹی ہے کے تحت 4 ٹی وی اسٹیشن کام کر رہے ہیں،پاکستان ٹیلی وژن کی سالگرہ کے حوالہ سے ایک تقریب جو ہر سال میرے شہراوکاڑہ میں بڑے پر وقار انداز میں منعقد کی جاتی ہے اسکا ذکر سانچ کے قارئین کرام سے کرتا چلوں امسال اس تقریب کو منعقد کرنے کا سہرا سینئر الیکٹرانک میڈیاکیمرہ مین طارق مجید مغل اور مغل برادر زکو جاتا ہے پاکستان ٹیلی وژن کی چون ویں سالگرہ کی تقریب میں معروف کمپیئر پروفیسر ریاض خان ، سنٹرل صدر آل پی ٹی وی ایمپلائز اینڈ ورکرز راحیل آصف خان ،جنرل سیکرٹری عاصم نذیر بھٹی ،قاری خالد ،تحریک انصاف کی رہنما شازیہ احمد ،غلام مصطفی مغلجی ،احتشام جمیل شامی ،شہباز ساجد و دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ٹی وی پرساری پاکستانی قوم کا حق ہے ،پاکستان ٹیلی ویژن نے فن و ادب اورخاص طور پر ڈرامے کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ، امن ہو یا جنگ قوم کی بھر پور ترجمانی کی، موجودہ حکومت نے سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں سے ہٹ کر پاکستان ٹیلی وژن پر اپوزیشن کی خبروں کو بھی مساوی وقت دینے کی پالیسی اپنائی ہے جوکہ قابل تعریف ہے مقررین نے کہا کہ چھبیس نومبر انیس سو چونسٹھ کو لاہور ٹیلی ویژن اسٹیشن سے شروع ہونے والی نشریات نے جلد ہی عوام کی توجہ حاصل کی اگرچہ یہ ٹی وی اسٹیشن شروع میں روزانہ تین گھنٹے کی نشریات کا اہتمام کرتا تھا جبکہ سوموار کو ٹی وی کی نشریات بھی نہیں ہوتی تھیں۔آج پاکستان ٹیلی وژن کے پانچوں مراکز لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سے ڈرامے، ٹاک شوز، اسپورٹس پروگرام، موسیقی اور بچوں کے پروگراموں سمیت کئی رنگارنگ پروگرام چوبیس گھنٹے پیش کیے جا رہے ہیں موجودہ دور میں سو زائد پرائیویٹ چینلز کی موجودگی میں بھی پاکستانیوں کی ستر فیصد سے زائد آبادی پی ٹی وی کے پروگرامز کو پسند کرتی ہے اس موقع پر کالم نگار صابر مغل، سلمان احمدقریشی،محمد مظہررشید چودھری،سینئر صحافیوں محمد اسلم پراچہ ،شیخ اظہر ،عابد حسین مغل،پروفیسر حامد ،معروف آرٹسٹ اصغر مغل ، شعراء قمر حجازی ،اکرم دانش،عمران حسینی، ماجد امبر،سماجی شخصیت عزیز سلیم ،طارق نوید ،شفیق بھٹی ،ارشد جاوید ،چودھری عرفان اعجاز و دیگر نے سالگرہ کا کیک کاٹا،تقریب میں صحافی تنظیموں کے عہدیداران کی کثیر تعداد نے شرکت کی تقریب کے اختتام پر ضلع بھر میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں شیلڈ اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے ٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 129 Articles with 66736 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 768

Comments

آپ کی رائے