چینی قونصیلٹ حملے پر سیاست ۔۔۔!!

(جاوید صدیقی‎, Karachi)

راجہ ڈاہر کے ذہنی اور عملی نقوش ابھی تک سندھ کے اشرافیہ سے نہ مٹ پائے، محمد بن قاسم کی لازوال، بے مثال، با کردار شخصیت نے بھی انہیں نہ بدلا، ڈاکہ ، لوٹ مار، حق تلفی کے منفی رویئے ان کے خون کے جراثیم میں رچ بس گئے ہیں،سندھ وہ عظیم دھرتی ہے جہاں قلندر ہیں، ابدال ہیں، قطب ہیں، ولی کامل بھی ہیں لیکن شاہ عبد اللطیف کی روحانیت اور الہامی کلام بھی نہ بدل سکے، روح کو تازگی پانے والے نیک اعمال کو بھی چندسندھ کے سیاسی جماعت، سیاسی حکمرانوں نے اپنے ناپاک ذہن، ناپاک اجسام سے غلیظ کردیا ہے، طہارت،معطر، پاکیزگی شاید اب ان چند دنیا پرست اشرافیہ کی سمجھ سے بالا تر ہوگئی ہے، اسی دھرتی پر ایسے ایسے سیاسی خاندان، مذہبی خاندان بھی موجود ہیں جن کی روحانی اور جسمانی خدمات کی مثال نہیں ملتی جو اللہ اور اس کے حبیب محمد ﷺ سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے ہیں جو تعصب، عصبیت، نفرت سے کوسوں دور ہیں ،ان کے نزدیک وہی عمل اور وہی زندگی عظیم ہے جو قرآن نے ہمیں تعلیم دی ہے، ساٹھ اور ستر کے درمیان کی دھائی سے سندھ میں بدلتی سیاسی تبدیلی نے اس سر زمین سے محبت، اخوت، بھائی چارگی کو سمیٹ کر دفن کردیا، کہیں زبان کے تعصب نے تو کہیں عصبیت کے جہنم نے اس دھرتی کو خون و آگ میں دکھیلے رکھا، کہیں کوٹہ سسٹم کے تحت حق تلفی کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھ کر اہلیت و قابلیت کا جنازہ نکالا گیا تو کہیں اس سرزمین میں قوموں میں بٹوارہ کرواکر دشمنانان پاکستان کو تقویت بخشی بحرکیف خون و آگ اور نفرت کے پھیلاؤ کا خاتمہ ناگزیر ہوگیا، سندھ دھرتی کے بچاؤ کیلئے پاک فوج کا کردار مثالی رہا ہے ، پاک فوج نے اپنے ذیلی ادارے رینجرز کے ذریعے پاکستان مخالف منفی سیاسی جماعتوں کے سر نوچ ڈالے، نفرت کی ہوا دینے والوں کا محاسبہ کرکے ان کے تمام منفی عزائم کو خاک میں ملاویا، سندھ کی آباد گاری، خوشحالی اور ترقی کیلئے پلان تیار کیلئے گئے ہیں جن میں کرپشن کا خاتمہ، لوٹ مار اور سیاسی مداخلت کو جذ سے اکھاڑ پھیکنا شامل ہے ، سپریم کورٹ نے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئینی حقوق کے تحت سندھ کو بھی جعلی سیاسی رہنماؤں سے چھٹکارا دلانا ہے ، سندھ اور پاکستانی عوام کو ان کے درمیان آستین کےسانپوں کو بے نقاب بھی کرنا ہے اس بابت کافی حد تک ہوم ورک کیا جاچکا ہے،معزز قارئین ۔۔!! ہمارے سینئرز صحافی حضرات کا کہنا ہے کہ جب جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے تب تب سیاسی بھرتیوں کی بھرمار ہوجاتی ہے یہی نہیں بلکہ نوکریاں گویا سبزی مندی کی طرح بولیاں لگتی ہیں اور فروخت کی جاتی ہیں، ان کے مطابق ہر دورمیں پی پی پی کے وزرا نے چند نام نہاد صحافی کو خرید کر اپنے منفی مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں گویاایک جانب بھرتیوں میں کرپشن دوسری جانب نام نہاد صحافیوں کے ضمیرکو خرید کر صحافت کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ چند روز پہلے سندھ کی اشرفیہ کی ایک بد تترین مثال ،بد ترین سازش بے نقاب ہوچکی ہے اس پر مزید لکھنے سے قبل مین اپنے قارئین کے عمل میں وہ تحریر ضرور پیش کرنا چاہتا ہوں جو شوشل میڈیا میں پھیل چکی ہیں۔وہ کچھ اس طرح سے تحریرہیں ۔۔۔!!دیمک لگاہواکھوکھلا نظام،کھوکھلےحکمران وسرکاری حکام اور بالکل اسی طرح کھوکھلی عوام۔ بس دیکھتےرہیئےان ریاکارمداریوں کو اور انکےیہ تماشے کہ کب یہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کےبغیرکیسے اورکب کامیاب ہوتے ہیں اور اب پڑھیےاصل حقیقت۔۔صبح چائنیزقونصیلٹ پر فرسٹ پوزیشن پرتعینات پرائیوٹ سیکورٹی گارڈ جس نےسینےپہ گولیاں کھا لیں مگربھاگابھی نہیں اوربیرئیربھی نہیں کھولا جسکی وجہ سے مزید بھاری جانی نقصان نہیں ھوا،اسوقت یہ گارڈ جسکا نام محمد جمن کھلوڑو ہے جناح اسپتال میں بے یارو مدد گار پڑاہے، ابھی تک کوئی سماجی یا حکومتی یا سیاسی شخصیت ملنے آئی،نہ ہی بھڑکیاں مارنےوپیسےکوسجدہ ریز،جھوٹ کوسچ اور سچ کوجھوٹ بنانے والی دجالی میڈیانےپوچھا، اس میسج کوشیئرکریں، تاکہ اس گارڈ کی داد رسی ہو سکے۔خاتون پولیس افیسر آپریشن ختم ہونےکےبعد موقع واردات پہ پہنچی لیکن چونکہ وہ ایک آفیسرہونےکےساتھ ساتھ خاتون بھی تھیں اسلئے میڈیانےانکو اور ساتھ سیاسی ہیروکاروپ دھارنےوالےواوڈا کو ہی اجاگر کیا۔۔۔

دوسری تحریر یوں شوشل میڈیا پر ہے۔۔۔!! سارا نیوز فیڈ س سہائے عزیز تالپور سے سجا ہوا ہے۔ اچھی بات ہے، خواتین اور بچیوں کی حوصلہ افزائی اسی طرح کرنی چاہیے۔ پر یہ بھی حقیقت ہے کہ خاتون کہانی ختم ہونے کے بعد قونصلیٹ پہنچی تھیں اور کسی مقابلے میں شریک نہیں تھیں۔ جو دو شہید ہونے والے چھوٹے پولیس اہلکار اصل ہیرو تھے، ان کا نام بھی کسی کو پتہ نہیں ہے۔ بہرحال محترمہ کا فوٹو شوٹ بہت عمدہ ہے۔ ایک بلٹ پروف جیکٹ پہنا دیتے تو اور حقیقی بھی لگتا۔ رہے نام اللہ کا"وردی والوں میں بھی طبقاتی درجہ بندی رکھتا ہے میڈیا اور سماج۔ جو دو سپاہی مرے ان کے نام بھی کسی کو پتہ نہیں۔ جو SSP واقعہ کے بعد پہنچیں ان کی Branding کی جارہی ہے۔ ہماری ہیرو ورشپ بھی جعلی ہے اور فیمینزم بھی اور نیشنلزم بھی۔۔۔۔سب طبقاتی ہیں۔ تیسری تحریر یوں شوشل میڈیا پر ہے۔۔۔!! نوجوان خاتون پولیس افیسر نے پستول ہاتھ میں پکڑ کر بغیر چلائے بہادری کی مثال قائم کرگئی،لیکن گیٹ پر کھڑے غریب پولیس کانسٹیبلز جو خون میں لت پت ہوکر جام شہادت نوش کی وہ نہ تو بہادر ٹھرے اور نہ انہوں نے کوئی مثال قائم کردی،آج سوشل میڈیا پر اور میڈیا پر صرف اسی خاتون کی تصویر اپکو نظر ائے گی اور جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ قصہ پارینہ بن گئے، افسوس سندھ پولیس کےاعلی افسران کا کارنامہ 23 NOVEMBER 2018کو کلفٹن کے علاقےمیں چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے میں IG Sindh اور اعلی پولیس افسران نے حملے کو ناکام کرنے والے اور اس حملے میں شہید ہونے والے دو(معمولی) پولیس اہلکاروں کی فرض شناسی اور بہادری سے لڑنے والے حملہ آور کو جہنم وصال کرنے والے پولیس فورس کا سر بلند کرنے والے اور شہادت کا مرتبہ حاصل کرنے والوں کو نظرانداز کرکے ایک نوجوان لیڈی PSP Asp کلفٹن ساہائے عزیز (تالپور) کو واقعہ کا ہیرو بنادیا گیا اور تو اورمیڈیا اور سندھ سرکار نے بھی میڈم تالپور کو PQM میڈل سے نوازنے کی سفارش کردی یہاں میں تمام پولیس افسروں کو اور سندھ سرکار کو یہ یاد دلادوں کے پاکستان اور سندھ کی تاریخ کا یہ پہلا دہشتگردی کا حملہ ہیں جسکو صرف پولیس اہلکاروں نے ناکام کیا ہیں ورنہ ہر بار رینجرز والے یا آرمی والے ہی آپریشن کرتے ہیں پولیس افسران کو تو ان اہلکاروں کا احسان مند ہونا چاہئے کے انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بغیر کسی رینجرز اور آرمی کی مدد حاصل کیے حملہ ناکام کر دیا لیکن PSP افسران کی اپنے ماتحت ملازمین کے ساتھ نا انصافی کی حد ہیں کے ان کو کسی نے تعارف کے قابل بھی نہیں سمجھ Asp کلفٹن ساہائے عزیز صاحبہ کی آپریشن کے دوران بنائی گی تصویر بھی دو دن سے ہر TV چینلز پر دیکھی دی جا رہی اور ان اہلکاروں کا کو ذکر بھی نہیں ہیں میڈم کو لیڈی کمانڈر کا خطاب بھی دیا گیا ہیں لیکن کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہیں ASP کلفٹن کی چینی قونصلیٹ پر حملے کے وقت ہاتھ میں پستول پکڑ ے اور پولیس اہلکار وں کے ساتھ قونصلیٹ میں داخل ہونے والی تمام تصویر اصل میں چینی قونصلیٹ کی ہے ہی نہیں بلکہ یہ تمام تصویر میڈم کی حیدرآباد پوسٹینگ کے دوران حیات نامی اسکول میں اہلکار وں کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف مشق کی ہیں جو کے سنہ 2016 کی ہیں جو میڈم کے اپنے Facebook pageپر تاریخ اور وقت کے ساتھ موجود ہیں جو ایک سندھی اخبار نے شائع کی تھی مجھے میڈم ساہائے عزیز سے کو تکلیف یا شکایت نہیں ہیں میڈم ایک بہادر اور قابل عزت افسر ہیں مجھے افسوس اپنے محکمہ کے اعلی افسران جو بہت ایماندار بنے کا ناٹک کرتے ہیں ان پر ہیں مجھے ان سے پوچھنا یہ تھا کے شہید ہونے کسی حملہ میں معزود ہونے یا زخمی ہونے کے بعد اپنی دادرسی کے لیے ہم اہلکاروں کا لیڈ یز ہونا ضروری ہے یا پھر PSP ہونا شرط ہیںجو اہلکار مجھ سے اتفاق رکھتے ھو وہ اسے ضرور شیئر کرے شکریہ دعا میں یاد رکھیں آپ کا اپنا گم نام سپاہی۔چوتھی تحریر یوں شوشل میڈیا پر ہے۔۔۔۔!!چین قونصلیٹ پر حملے کے واقعہ کا اصل ہیرو “جمن کلہورو “ ۔جمن کا نام تو سنہرے حروف میں لکھا جانا چائیے جس نے ایک پرائیوٹ کپنی کا گارڈ ہونے کے باوجود نہ صرف دہشتگردوں کو مزید قونصلیٹ میں آگے بڑھنے سے روکے رکھا بلکہ قونصلیٹ میں موجود پندرہ سے بیس بندوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا ۔۔۔ ‏چائنیز قونصیلٹ پر پہلی پوزیشن پر تعینات بہادر پرائیوٹ سیکورٹی گارڈ جمن کلہوڑو جناح اسپتال میں بے یارو مددگار پڑا ہے۔یہ وہ گارڈُتھا جس نے گولیاں کھا کر بھی گیٹ نہیں کھولا اور لوگوں کی جانیں بچائیں،اور پانچویں تحریر یوں شوشل میڈیا پر ہے۔۔!!چینی قونصل خانے کی حفاظت کی خاطر جان دینے والے پاکستانی پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے چینی اہلکاروں کی جانب سے اسلام آباد میں عطیات اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔

معزز قارئین ۔۔۔!! مجھے فون کرکے صحافی دوستوں نے بتایا کہ سہائے عزیز تالپور پاکستان پیپلز پارٹی کے معروف رہنما منور تالپور جن کا تعلق میرپورخاص سندھ سے ہے ان کی رشتہ دار ہیں اور انھوں نے مزید بتایا کہ منور تالپور فریال تالپور کے شوہر اور آصف علی زرداری کے بہنوئی ہیں مزید برآں یہ بھی انکشاف کیا کہ محترمہ سہائے عزیز تالپور کیونکہ پیپلز پارٹی کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اسی بابت ان کا تقرر بھی سیاسی اور مراعتی بنیاد پر کیا گیا تھا اور صحافی دوست نے یہ بھی آشکار کیا کہ دنیا کو دکھانے کیلئے امتحان میں بٹھایا اور اچھے نمبر سے پاس کیا اور انٹرویو میں بھی کامیابی دلائی گئی ؟؟؟نام ہی کافی ہے ؟؟؟

معزز قارئین ۔۔۔!!عوامی کے ایک برے طبقے ،سول سوسائٹی کی جانب سے بھی خبر ملتی رہتی ہے کہ ان کے مشاہدے اور تجربے کے مطابق یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ سندھ کی اشرفیہ اور نوکر شاہی طبقہ اکثریت لحاظ سے کرپٹ اور بدعنوانی میں ملوث پائے جاتے ہیں،خاص کر سندھ سیکریٹریٹ اندھیر نگری چوپٹ راج کے محاورے پر پورا اترتا ہے ، سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ کبھی حکومت وقت یا سپریم کورٹ بیک وقت مکمل سندھ سیکریٹریٹ کا سرچ کریں اور مکمل ریکارڈ کا احاطہ جب کریں گے تو انہیں سوائے کرپشن کے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ ان کے مطابق مالی معاملات ہوں یا تقرری یا پھر تبادلے کی مد میں ریکارڈ میں بے ضابظگیاں بھری پڑی ہیں، آخر کار کب تک میرٹ کا جنازہ سندھ کے اشرفیہ اور نوکرشاہی طبقہ نکالتا رہے گا کب سندھ کی ترقی ،خوشحالی کیلئے یہاں کے ذہین، قابل، اہل نوجوانوں کا میرٹ ٹیسٹ کے ذریعے انتخاب کا سلسلہ شروع کیا جائیگا، کب تک غریب اور اہل نوجوان ان کے در کی ٹھوکریں کھاتے پھریں گے ، سندھ سیکریٹریٹ مین میرٹ بنیاد پر تقرریاں کیوں نہیں کی جاتی کیا آئین میں میرٹ پر تقرریوں پر پابندی ہے یہی وجہ ہے کہ چینی قونصلیٹ میں بھی سیاسی حملہ کیئے گئے اور مستحق کے حق تلفیاں کی گئیں اسی لیئے کہ وہ کسی سیاسی خاندان کا حصہ نہیں !! افسوس صد افسوس ، کب تک انصاف کی دھجیاں بکھیرتے رہوگے، کب تک بے شرمی ، بے حیائی ، بے غیرتی کی زندگی گزارتے رہو گے، تم میں گر شرم ہو تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو، کسی غریب کا حق کھا کر کندھے اونچے کرتے ہو، اللہ تمہیں ہدایت بخشے بصورت تم سے سندھ کو آزادی بخشے، عمران خان نیا پاکستان کا خواب دکھاتے ہیں کیا سندھ پاکستان میں نہیں،تو پھر کیونکر سیاسی اے ایس پی خاتون کو زبردستی ایوارڈ و انعام سے نوازنے کی ناکام کوششیں کی جارہیں ہیںاور تو اور اس مد میں پاکستانی میڈیا نے جس قدر شرم ناک کردار ادا کیا وہ اس پروفیشنل ازم پر سوالیہ نشان بن گیا ہے ، سینئر صحافی کہ رہے ہیں کہ جب سے الیکٹرونک میڈیا آیا ہے صحافت آسمان پر اڑچکی ہے کیونکہ صحافت کا پہلا سبق ہی سچ و حق پر مبنی ہوت ہے جبکہ الیکٹرونک میڈیا بنا تحقیق جھوٹ پر مبنی بریکنگ کرنا شروع کردیتا ہے اس میں اس کی ذاتی خواہشات، ذاتی مفادات شامل ہوتے ہیں ایسے میڈیا کو صحافت کا نام نہیں دینا چاہیئے اور اسے صحافت سے ہی دور رکھنا چاہیئے بشرط کہ اس یقین پر کہ خبر کو خبر کی تحقیق کے بعد نشر کیا جائے، بشرط کہ خبر میں سچ اور حق کو غالب رکھا جائے، بشرط کہ اعتدال اور حکمت و دانائی کو نہ چھوڑا جائے ،اللہ سندھ کے اشرفیہ، نوکرشاہی طبقے میں دانستہ غیر دانستہ کوتاہیوں کو دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں سندھ کی ترقی کیلئے میرٹ کو ترجیح دینے کی ہمت پیدا کرےآمین ثما آمین ۔۔پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی‎

Read More Articles by جاوید صدیقی‎: 308 Articles with 159918 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2018 Views: 402

Comments

آپ کی رائے