مشت غبار میں زندگی ( پہلی قسط)

(Mona Shehzad., Calgary)

"مشت غبار میری زندگی، تیری زندگی "۔
وہ ٹکٹکی باندھے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی، باہر شدید طوفان آیا ہوا تھا، پچھلے لان میں لگے تنو مند درخت اس شدت سے جھول رہے تھے کہ لگتا تھا شاید آج گر ہی جائنگے ۔بارش کی بوندیں اس کو بھگو رہی تھیں ۔ سرد ہوا کمرے میں چکراتی پھر رہی تھی، وہ ایک سنگی مجسمے کی طرح موسم کی سختیوں سے بے نیاز کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں کسی ایک غیر مرئی نقطے پر جمی ہوئی تھیں ۔ اس کے اوپر لگتا تھا ایک ہی موسم رک گیا تھا، ہجر کا موسم ،فراق کا موسم ،انتظار کا موسم۔
بارش کے قطرے اس کے صبیح چہرے کو چومتے ہوئے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے تھے ۔
"کوئی نصیب والا ہوگا، جس کے آنگن کا یہ" چاند" ہوگا۔"
سامنے ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ چیخا:
ظالمو ! چپ کرو کیوں اس برہا کی ماری کے زخم کریدتے ہو؟
ارے اس کو غور سے دیکھو، یہ چاند کی کرنوں سے بنا سراپا، یہ لمبی گھنی ذلفیں جیسے کالی رات جس میں مسافر اپنا رستہ بھول جائیں ۔یہ ستارہ آنکھیں، جس کو دیکھیں اس کو اپنا غلام بنا لیں، یہ دودھ میں گھلی رنگت، یہ قندھاری انار سے رخسار، یہ غزال جیسی چال سب بے کار ہے اگر مطاہر جیسے ناقدرے سے واسطہ پڑھ جائے۔
سرکش ہوا نے سرگوشی کی :
تم لوگوں نے کبھی اس حسینہ کو ہنستے سنا ہے؟ اب تو زمانے ہوگے میں اس نقرئی ہنسی کو ترس گئی ۔روز اس امید پر ہم اس در پر آتے ہیں کہ شاید ہم اس کی نقرئی ہنسی سن سکیں ۔"
ہوا، بارش، کمرے کی چیزیں سب اس ماہنور کے بارے میں باتوں میں مصروف تھیں، مگر وہ ان سب باتوں سے بے نیاز خاموش سنگ مرمر کے مجسمے کی طرح استاداں تھی۔رات تو اب اس کی سہیلی تھی۔ وہ پچھلے تین سالوں میں رات بھر کب سوئی تھی،اس کو یاد نہیں تھا۔ رات بھی اس کی سہیلی بن کر خوش تھی، اب اس کی تنہائی بانٹنے والا ایک حسین ساتھی جو اس کو مل گیا تھا۔ مطیبہ اب رات کی نئی سہیلی تھی۔مطیبہ کے لب ہلے، ہوا،بارش، رات، کمرے کی تمام اشیاء نے کان لگا دئے۔
مطیبہ ہولے ہولے مونا شہزاد کی نظم دہرا رہی تھی۔
رات میری اک سہیلی۔۔۔
میری طرح وہ اک پہیلی۔۔۔
ہم دونوں جگنوؤں کے تعاقب میں دیوانہ وار دوڑتیں۔۔۔
پھر تهک کر شبنم زدہ گهاس پر گر پڑتیں۔۔۔
آسمان کے ستارے گنتیں۔۔
چاند سے آنکھ مچولی کهیلتیں ۔۔
صبح کاذب کے دهندلکے میں۔۔
اک دوسرے کو گلے لگا کر وداع کرتیں ۔
پهر ملنے کے وعدے پر ۔۔
ہم دونوں اک دوجے سے جدا ہوتیں،
رات میری اک سہیلی۔
رات کی آنکھیں بھر آئیں، طوفان کا دل پھٹنے لگا، دور سے پو پھٹ رہی تھی ۔طوفان کا نالہ رک گیا تھا۔ باہر لان میں درختوں کی ٹوٹی ٹہنیاں بکھری پڑی تھیں ۔پھولوں کے لاشے کچلے پڑے تھے ۔مطیبہ تھکے تھکے انداز میں باتھ روم کی طرف چل پڑی۔ایک اور برہا کی رات گزر چکی تھی ۔
نماز پڑھ کر وہ خاموشی سے کچن میں آگئی ۔ اس نے چائے کا پانی چولہے پر رکھا، ناشتے کی تیاری میں مصروف ہوگئی ۔یہ مطیبہ کی پچھلے تین سال سے روٹین تھی۔ کبھی کبھی اس کو لگتا کہ اس سے کوئی گناہ کبیرہ کسی وقت میں سرزد ہوا ہے جس کی سزا اس کو مل رہی ہے۔ تین سال پہلے مطیبہ نے ہاوس جاب ختم کیا تو اس کے والدین کو اس کی زمہ داری سے سبکدوش ہونے کا خیال آیا۔مطاہر کا رشتہ آیا تو اس کے والدین نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ مطاہر انجینئر تھا، مختصر گھرانا، کنیڈین نیشنلٹی ، صاحب جائیداد ، وجیہہ و شکیل تھا، غرض ہر لحاظ سے وہ پرفیکٹ تھا۔ مطیبہ کی سکھیاں اسے چھیڑتیں، تو وہ بہت فخر محسوس کرتی۔اکثر وہ اپنا عکس دیکھ کر فخر سے گردن تنا کر سوچتی:
"مطاہر میری جیسی حسین بیوی پاکر تو پاگل ہوجائے گا۔میرے ناز اٹھائے گا۔"
مطیبہ کو ہمیشہ سے abroad جانے کا جنون تھا۔ وہ بچپن سے منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئی تھی۔ ۔وہ اپنے والدین کی اکلوتی، لاڈلی اولاد تھی۔ اس کے منہ سے نکلی ہر بات پر عمل کرنا اس کے والدین کا نصب العین تھا۔ مطیبہ ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں اپنے والدین کے ساتھ بیرون ملک گزارتی تھی۔ وہ ایک خوبصورت، ذہین و فطین لڑکی تھی۔ اس کے کئی رشتے اس کے ملنے والوں اور کلاس فیلوز کی طرف سے آئے تھے۔ مگر اس کے والدین کو مطاہر کا رشتہ ہر لحاظ سے مناسب لگا۔ چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کیا ہوتا ہے اس کا تجربہ مطیبہ کو اپنی شادی کے دوران ہوا، مطیبہ کی شادی شہر میں ہونے والی شاندار شادیوں میں سے ایک تھی۔شہر کے تمام معززین اس کی شادی میں شریک تھے۔ دلہا دلہن کو دیکھ کر لوگوں نے چاند اور سورج کی جوڑی قرار دیا ۔اس کے والدین نے اس کو ایسا جہیز دیا تھا کہ پورے شہر میں دھوم مچ گئی تھی، مطیبہ کے زیورات دیکھ دیکھ کر لڑکیاں بالیاں تو رشک کررہی تھیں ، بڑی عمر کی خواتین بھی اس کی خوش قسمتی پر حیران سی تھیں ۔ سسرال کی طرف سے آنے والی بری اور زیورات بھی سونے پر سہاگہ تھے۔ مطیبہ کے سسر نے شادی کے تحفے کے طور پر اس کے نام ڈیفنس کا بنگلہ کردیا تھا۔ تمام خواتین دل ہی دل میں خواہش کررہی تھیں کہ مطیبہ جیسا نصیب اللہ ان کی بیٹیوں کو بھی دے۔ کاتب تقدیر کھڑا مسکرا رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔
"ارے نادان خاکی مخلوق کیا جواہرات اور زر کا انبار بیٹی کے اچھے نصیب کی ضمانت ہے۔ "
مطیبہ آنے والے وقت سے بے خبر اپنے خوبصورت مستقبل کے خواب دیکھ رہی تھی ۔اسے لگ رہا تھا اس نے آج پوری دنیا مسخر کرلی تھی ۔
وداع ہوکر مطیبہ سیدھی پی سی بھوربن گئی ۔اس کے ساس ،سسر نے ان کے لئے وہاں ہنی مون سوئٹ بک کروایا ہوا تھا۔ مطیبہ کو مطاہر کی کزنز نے سجے ہوئے کمرے میں بٹھایا۔ کمرے کی فضا مدہوش کن تھی۔ مطیبہ کا دل آج دھڑک دھڑک کر پاگل ہورہا تھا۔ اس نے سامنے دیوار پر لگے قد آدم آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ انگوری رنگ کے نیٹ کے شرارے میں ملبوس، نو لکھا ہار پہنے ، سنگھار کئے وہ واقعی بہت حسین لگ رہی تھی ۔ اس کا لہنگا ہی مبلغ پانچ لاکھ روپے کا تھا۔ماہر بیوٹیشن نے اس کا سنگھار کر کے اس کے حسن کو مزید قاتل بنا دیا تھا۔ اس کو اپنے اوپر پیار آرہا تھا۔ اس نے لجا کر سوچا:
"آج مطاہر میری تعریف کس کس طرح کرینگے۔ ضرور اپنے نصیب پر نازاں ہونگے کہ میرا جیسا جیون ساتھی ان کو نصیب ہوا ہے۔"
اچانک اس کے خیالات کا سلسلہ دروازہ کھلنے سے ٹوٹ گیا۔ مطاہر کے قدموں کی آواز سے مطیبہ کا دل ڈول رہا تھا۔اس کی آنکھیں آنے والے حسین وقت کے سپنے بن رہی تھیں ۔ مطیبہ نے فرط جزبات سے آنکھیں بند کرلیں۔ اس کی سانسیں دہک رہی تھیں ۔کمرے میں کافی دیر خاموشی چھائی رہی۔ مطیبہ اپنے دل کی دھڑکن سن سکتی تھی ۔اچانک مطاہر کی آواز کمرے میں گونجی:
"میں بہت تھک گیا ہو تم بھی کپڑے بدلو اور آرام کرو۔"
مطیبہ نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا ،مطاہر کب کی آف وہائٹ شیروانی بدل چکا تھا ۔اب وہ ایک casual night suit میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔اس کے چہرے سے کوفت ٹپک رہی تھی ۔مطیبہ ششدر سے اسے دیکھتی رہی۔یہ وہ سہاگ رات تو نہیں تھی۔جس کے ارمان اس نے اپنے دل میں بسائے تھے۔اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، مگر اس نے پلکیں جھپک کر آنسوؤں کی باڑ کو روکا، وہ بستر سے اٹھی تو اس کے کنگن اور پازیب بج اٹھی۔ اس نے باتھ روم میں جاکر دروازہ بند کیا اور منہ پر ہاتھ رکھ کر سسک سسک کر رو پڑی، یہ تو وہ زندگی نہیں تھی جس کا خواب اس نے دیکھا تھا۔ اس نے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا۔ اس کا عکس اس کو دیکھ کر مسکرایا اور منہ چڑا کر بولا:
مطیبہ تیرا روپ تو کسی کام کا نہیں ہے۔آج تو اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی ہار گئی ہے ۔"
مطیبہ نے جلدی جلدی زیور اتارنا شروع کردیا ۔آج وہ اپنے آپ سے ہار گئی تھی ۔
یہ تو وہ حسین سپنوں کی رات نہیں تھی، جس کے اس نے سپنے دیکھے تھے۔ سادہ کاٹن کا جوڑا پہن کر اس نے اپنے عکس کو شیشے میں دیکھا۔ اس کا عکس مسکرایا اور بولا:
مطیبہ یہ تیرا رنگ و روپ کس کام کا ہے؟
تیرا پیا تو پہلی رات ہی تجھے دھتکار رہا ہے؟۔
مطیبہ ہولے سے بولی:
"وہ تھکے ہوئے ہیں، شاید میرے آرام کا خیال بھی ان کے ذہن میں ہے۔"
اس کا عکس قہقہہ لگا کر ہنسا، اس کے عکس کی آنکھوں میں پانی آگیا، وہ بولا:
"پگلی! یہ تسلی تو کسے دے رہی ہے۔ارمانوں کی رات ہو ،سجی ہوئی سیج ہو، آپ کے نکاحی ہوئی منکوحہ سامنے ہو تو ایسا کون سا کافر ہے جو سو جاتا ہے کیونکہ وہ تھکا ہوا ہے۔"
مطیبہ نے اپنے عکس کو ڈپٹا اور بولی:
"ایسا کچھ نہیں ہے، تم بات کا بتنگڑ بنا رہی ہو۔"
مطیبہ کا عکس مسکرایا اور بولا:
"برہا کی آگ میں جل جل خاک ہوئے گوری۔۔۔
یہ تیرا روپ رنگ،سولہ سنگھار ۔ ۔۔ ۔۔۔گیا سب بیکار
کیونکہ سجن تو ہے تجھ سے بیزار ۔۔۔
اب کرئے گی تو کون سے جتن کہ ۔۔۔۔کھل جائیں اس کے دل کے بند کواڑ۔
کیا جیت پائے گی تو اس کٹھور کا پیار؟
مطاہر کے دل کا دروازہ کیوں مطیبہ کے لیے بند تھا اس حقیقت سے پردہ اگلی قسط میں ہی اٹھ سکے گا ۔
(باقی آئندہ )۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175033 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
28 Nov, 2018 Views: 781

Comments

آپ کی رائے