بھٹیارن کا عشق

(Mona Shehzad, Calgary)

میرا بھوک کے مارے برا حال تھا، میں نے جھنجھلا کر سوچا یہ گاڑی کو بھی آج ہی خراب ہونا تھا۔میرے سر پر جون کا تپتا سورج اپنا غیض و غضب برسا رہا تھا، بھوک اور پیاس نے میری حالت بری کردی تھی ۔میں لاہور کی اس طویل سڑک پر موجود اس وقت واحد ذی روح تھی،ایسا لگتا تھا میں کسی اور نگری میں آگئی ہوں ۔ میرے پاؤں ہیل والے جوتوں کے باعث دکھ رہے تھے، میں دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوس رہی تھی کہ آج میں نے کیوں اتنی اونچی ہیل والے جوتے پہن لیے تھے۔میں نے اردگرد دیکھا اور حیرت سے سوچا :
"یہ داتا کی نگری آج خالی کیسے ہوگئی۔"
اردگرد کے درختوں پر کوئی بھی پرندے بھی نظر نہیں آرہے تھے۔مجھے شدت سے تنہائی کا احساس ہوا۔ایسے لگ رہا تھا کہ میں دنیا بھر میں اکیلی ہوں،میرا دل تنہائی کے اس احساس سے بوجھل ہو اٹھا۔
میں تھکے قدموں سے چل رہی تھی۔لو کے تھپیڑے میرے سانسوں کو دہکا رہے تھے ۔اچانک مجھے دو درختوں کے سائے میں بیٹھی ایک بٹھیارن اور ایک ملنگ نظر آئے مجھے زندگی میں پہلی بار اس کہاوت پر یقین آیا کہ انسان معاشرتی حیوان ہے۔مجھے اپنے علاوہ ان زی روحوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ،میں ان کے قریب پہنچی تو دیکھا بھٹیارن نے اپنی بڑی سی کڑاہی کے نیچے کوئلہ اور لکڑی جلائی ہوئی تھی،کچا دھواں اس کی آنکھوں میں مرچوں کی طرح چبھ رہا تھا،اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا مگر وہ اپنی دھن میں مگن چنے اور گندم بھونتی جارہی تھی۔اس کے پاس دو پانی کے مٹی کے مٹکے پڑے تھے،ایک مٹکہ خالی تھا،جب کے دوسرے مٹکے پر مٹی کی طشتری پڑئی ہوئی تھی اور اس کے اوپر مٹی کا پیالہ اوندھا پڑا ہوا تھا،اس کے پاس ہی ملنگ بیٹھا چنے کھا رہا تھا،اس کی جٹاوں میں ریت چمک رہی تھی،اس کے چوغے پر بے شمار رنگ برنگے کپڑوں کے رفو لگے ہوئے تھے،اس کی گردن میں رنگ برنگی مالائیں تھیں، وہ ملنگ اس دنیا سے بے خبر نظر آرہا تھا، اس آتش دوپہر کا کوئی اثر اس کے چہرے پر نظر نہیں آرہا تھا ۔میرے دل میں ناگواری کی لہر دوڑ گئی ،میں نے سوچا :
"یہ ضرور کوئی چرسی ،بھنگی ہے۔"
میری خود پسندی مور کی طرح پر پھیلا کر میرے من آنگن میں ناچنے لگی ،میں نے دل میں سوچا:
"ان گندے ،چھوٹے لوگوں کے پاس رکنا مناسب ہے"۔مگر میری ہمت جواب دے چکی تھی ،میں نے فورا پاوں جوتوں سے آزاد کیے اور بھٹیارن کے پاس پہنچ کر اپنے برینڈڈ مہنگے کپڑوں کی پروا کیے بغیر میں زمین پر بیٹھ گئی۔وہ بھٹیارن چنے بھوننے میں مصروف تھی ۔اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا اور مسکرا کر بولی:
بڑی دیر کیتی مہربان آندے آندے۔۔۔
میں کنفیوز سی ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگی ،اس نے نرمی سے پوچھا:
پانی پیے گی بی بی؟
میں نے اثبات میں سر ہلایا ،اس نے گھڑے سے مٹی کے پیالے میں پانی ڈال کر پیش کیا ،پھر ایک دم بولی:
"بی بی ! بھٹیارن دا جھوٹا برتن ہے ،پھر بھی پئے گی۔"
میرے زہن میں ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض آگئے،مگر میری پیاس، میرے خوف کے آگے جیت گئی۔میں نے بسم اللہ پڑھ کر پانی پی لیا،وہ پیالہ شاید آب حیات کا تھا،یا شاید زندگی میں پہلی دفعہ بسم اللہ پڑھ کر پانی پینے کا اثر تھا،یا اس بھٹیارن کی جھوٹن درحقیقت آب حیات تھی، مجھے آج ایسا محسوس ہوا کہ میری برسوں کی پیاس درحقیقت آج بھجی ہو، بھٹیارن نے میرے آگے بھنے ہوئے چنے اور گندم کے دانے رکھ دئے۔مجھے پتا نہیں کتنے سالوں بعد آج ایسا زائقہ میسر ہوا تھا۔ بڑے بڑے فائیو اسٹار ہوٹلز کے بوفوں کو یہ چنے مات کررہے تھے،میں نے پوچھا :
کتنے پیسے؟
بھٹیارن قہقہہ لگا کر ہنسی ،میں نے آج تک کسی کو اتنے دل سے ہنستے نہیں دیکھا تھا،اس نے اپنی آنکھوں میں آئے پانی کو صاف کیا اور بولی:
بی بی تو مجھے کیا دے سکتی ہے؟
وہ مسکرائی اور بولی:
"سچے سائیںاں ! نے کسی کارن سے تجھے آج مجھ نمانی بھٹیارن کا مہمان کیا ہے۔ ہم مہمان کو کچھ دے کر رخصت کرتے ہیں، اس سے کچھ لیتے نہیں ہیں ۔"
میرے دل کا چور بولا:۔
"کہیں یہ کوئی اٹھائی گیرنی تو نہیں ہے ،جو اس ویران دوپہر میں مجھے اپنی لچھے دار باتوں سے لوٹنا چاہتی ہے۔"
میں نے غیر محسوس انداز میں اپنے پرس پر گرفت مضبوط کی۔اسی وقت ملنگ پر حال طاری ہوگیا ،وہ اٹھ کر اس شکن دوپہر میں ناچنے لگا،وہ ناچتا جاتا اور گاتا جاتا۔
کُوک فقیرا کُوک !

تے کوئی بھیت اندر دا کڈھ
مندڑا بول نا بول،تے جِیبھ اپنڑی نُوں وڈھ
کُوک فقیرا کُوک !
تیری کُوک دی اُچڑی شان
ایس کُوک دی چرکھی گھُمدے، ست زِمیاں تے اسمان
کُوک فقیرا کُوک !
تے ایس کُوک اِچ ہو کے گُم!!
آ مار مُکائیےمیں نُوں فیر جپیئے تُم ای تُم
کُوک فقیرا کُوک !
وے تیری کُوک دے پکے رنگ!!
رنگ ہِک ھکلاّ چاڑھ دے،مینُوں کعبہ لگے جھنگ!
کُوک فقیرا کُوک !
کالا چور بُکل دا مار
اکھیں سُرمہ صِدق حُسینی، تے ہتھ حیدر دی تلوار
کُوک فقیرا کُوک !
تیری کُوک مِلائے یار
گھڑا پکا دے یقین دا،میں لگ ونجاں اُس پار
کُوک فقیرا کُوک !
تیری کُوک جیہا کوئی ناہیں
جوشہرعشق دے جاپہونچن، مینوں پا دے اوہناں راہیں
کُوک فقیرا کُوک
تیری کُوک دے ساوے باگ
تیرے ہتھ پھُلاں دے ٹوکرے،تیریاں سوچاں صاف گُلاب
کُوک فقیرا کُوک!
تیرے سب توں وکھرے گِیت
ایہہ بانگاں پچھلے پہر دیئاں، پیئیاں گُونجن من مسِیت
کُوک فقیرا کُوک
جے آج ہووے یار وصال
پیرِیں ساویاں جھانجھراں بنھ کے،میں پاواں انت دھمال۔(کلام :شہزاد احمد اعوان )۔
اس کے پیروں میں گھنگرو بندھے ہوئے تھے، وہ اس زوروں کا ناچا کہ اس کے پاوں لہولہان ہوگے تھے،پوری کائنات ملنگ کے ساتھ رقص میں تھی میرے ذہن میں یک دم آیا کیا میرا ناچی ہوگی ،جو یہ ملنگ ناچ گیا ہے۔مجھے مٹی پر اس کے خون کے قطرے گرتے عجب سے محسوس یوئے۔ملنگ کی دھمال اور کلام نے میری من کی کھڑکیاں وا کردیں۔مجھے ایسا لگا جیسے میں غلاف کعبہ پکڑ کر کھڑی ہوں ،میں نے آنکھیں جھپکیں تو میں بھٹیارن کے پاس ہی بیٹھی تھی ،بھٹیارن مجھ سے بے خبر اپنے کام میں مگن تھی۔میں نے اسے رشک سے تکا اور سوچا:
یہ بھٹیارن اتنی مطمئن کیسے ہے۔؟
ابھی میں اپنے سوال کے پیچ و خم میں ہی گم تھی کہ بھٹیارن نے اپنے آگے خالی مٹکا رکھا،ایک ہاتھ سے چمٹا پکڑ کر بجایا اور مٹکے پر تھاپ دے کر لے اٹھائی۔
الف ۔الله چمبے دی بوٹی،میرے من وچ مرشد لائی ھو ۔
نفی اثبات دا پانی مِلیا،ہر رَگے ہر جائی ھو ۔
اندر بوٹی مُشک مچایا،جاں پُھلاّں تے آئی ھو ۔
جیوے مرشد کامل باہو ،جیں ایہہ بوٹی لائی ھو ۔
میری آنکھیں تحیر سے پھیل گئیں، مجھے اپنے سوال کا مل گیا تھا، میرے دل کو القا ہوا؛
"میں تو تمھاری شہ رگ سے بھی قریب ہوں ۔"
بھٹیارن نے آنکھیں کھولیں اور ہنس کر بولی:
بی بی ! چمبے دی بوٹی کیوں نہیں لب دی تینوں؟
میرا پورا رواں رواں کانپ اٹھا، میری آنکھوں میں سمندر کی طغیانی تھی۔ایک بھٹیارن نے مجھے آئینہ دکھا دیا تھا،ایک بھٹیارن رب کے پیار کی بوٹی اپنے من میں لگانے میں کامیاب ہوگئی تھی،ایک ملنگ اللہ کی بارگاہ میں منظور نظر ہوگیا تھا۔ اور میں ایک پڑھی لکھی دنیادار کامیاب عورت آج تک خالی ہاتھ سراب کے پیچھے بھاگتی پھر رہی تھی ۔میں اپنے جوتے ہاتھ میں لے کر چل پڑی، میرے پیر گرم تارکول کی سڑک پر جھلس رہے تھے، مگر پیروں کی تکلیف سے زیادہ میری روح جان کنی کے عالم میں چیخ رہی تھی ۔میں نے اتنی عمر کس بے مصرف دوڑ میں بتا دی تھی؟ ۔میں سود و زیاں کے حساب میں مصروف تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی کا ہارن دے کر مجھے متوجہ کیا، میں نے چونک کر اسے دیکھا پھر مڑ کر دیکھا،پوری سڑک خالی تھی دور دور تک بھٹیارن کا یا ملنگ کا نام و نشان تک نہ تھا۔میں بجھے ہوئے دل سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔گاڑی میں اے سی چل رہا تھا،مگر میری روح جھلس رہی تھی۔میری آنکھوں سے دو آنسو نکلے میں آہستہ سے بڑبڑائی :
"ہائے بھٹیارن جیت گئی، کاش میں بھی بھٹیارن ہوتی۔"
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175622 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
28 Nov, 2018 Views: 819

Comments

آپ کی رائے